پی ٹی آئی حکومت کے ضمنی انتخابات ہارنے کی ہیٹ ٹریک مکمل ہو گئی ہے اور خوشاب کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا ہے۔ گویا تین صوبوں یعنی کے پی، سندھ اور پھر پنجاب کے عوام نے وزیر اعظم عمران خان کی تبدیلوں پر پانی پھیر دیا۔ یہ پاکستان کی واحد پارٹی ہے جس کے مقدر میں ہی شکست لکھی جا چکی ہے۔ اس کو باہر سے دشمنوں کی ضرورت نہیں، خود اپنے ہی وزراء، مشیران کی اکثریت سپورٹر اور سلیکٹڈ افراد پر مشتمل ہے۔ جب شیخ رشید ٹرینوں کے حادثات روکنے میں ناکام ہو گئے تو ان کو وزارت داخلہ کا حساس محکمہ دے ڈالا۔ پھر قوم نے دیکھا انہوں نے باہر نکل کر چھکے چوکے لگانا شروع کر دیے اور تحریک لبیک پاکستان کے نو عمر سربراہ کو گرفتار کر کے ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دے ڈالا جب اس کے کارکن ہر صوبے میں سڑکوں پر نکل آئے تو رینجرز اور فوج کی مدد سے ان احتجاجی مظاہروں پر قابو پایا گیا مگر اس حساس معاملے کی نزاکت کا اندازہ نہ کیا گیا اور مطالبات کا کچھ حصہ مان لیا اور چند سو کارکنوں کو رہا کر دیا مگر اس کے سربراہ کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔ قوم رمضان المبارک کے بعد وہی تماشہ دوبارہ دیکھے گی بلکہ اس سے بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔ گھر بیٹھے بیٹھے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جب اکتا گئیں تو عوامی دوروں کا پروگرام بنایا اور پہلے ہی دن وہ سیالکوٹ کی ایک پرہجوم مارکیٹ میں ایک خاتون بیوروکریٹ سے اس بری طرح الجھیں کہ زبان کا توازن ہی بگڑ گیا پھر سامنے بھی خاتون تھیں اپنی سبکی برداشت نہ کر سکیں‘ وہ بھی بڑبڑاتی ان کو دل میں کوستی دور چلی گئیں۔
وزیراعظم نے اسلام آباد میں پروٹوکول کے بغیر اتوار بازار میں مہنگائی کا احوال جاننے کا فیصلہ کیا تو پروٹوکول والوں نے پہلے سے ہی عوام کو ہٹا کر مضحکہ خیز منظر بنا دیا۔ اس دورے کے حوالے سے ایک لطیفہ گردش کر رہا ہے جو کچھ یوں ہے‘ وزیر اعظم جب گوشت مارکیٹ پہنچے تو ایک اسٹال پر صفائی ستھرائی دیکھ کر بہت خوش ہو ئے، پھر مکالمے کچھ اس طرح ہوئے؛ وزیر اعظم نے شاباشی دیتے ہوئے فرمایا، گوشت تو بہت صاف ستھرا ہے‘ خوب بکتا ہوگا؟ قصائی نے کہا آج ابھی تک بونی بھی نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم نے پوچھا کیا وجہ ہے؟ قصائی نے کہا آپ کے دورہ کی وجہ سے خریداروں کو آج مارکیٹ کے اندر ہی نہیں آنے دیا گیا۔ وزیر اعظم نے فرمایا پھر مجھے 5 کلو گوشت دے دو۔ قصائی نے کہا سر میں آپ کو گوشت نہیں دے سکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کیوں؟ قصائی بولا آپ کی حفاظت کے لئے تمام چھریاں ہم سے لے لی گئی ہیں۔چلو بغیر کاٹے مجھے 5کلو گوشت دے دو، قصائی نے گھبرا کر کہا سر میں سیکورٹی انچارج ہوں‘ قصائی نہیں۔ وزیر اعظم نے غصہ سے کہا، اپنے انچارج کو بلائو۔ قصائی سر یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم کیوں نہیں ہو سکتا؟ قصائی، سر وہ سامنے والی دکان پر مچھلی فروش بن کر کھڑے ہیں۔ یار لوگ پی ٹی آئی کی حماقتوں کے روزانہ نئے نئے لطیفے سنا کر اپنا غم ہلکا کر رہے ہیں۔ ایک طرف پوری قوم کورونا سے سخت پریشان ہے تو دوسری طرف آئے دن کے لاک ڈائون ،اسمارٹ لاک ڈائون، رمضان اور عید کا کاروبار ختم ہونے سے حالات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ دھڑا دھڑ مارکیٹوں اور بازاروں کو جبری سیل کر کے معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ۔3 سال میں ان تبدیلیوں سے قوم بیزار ہو گئی ہے۔ کہیں پیرس اور لندن کی طرح عوام کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نہ نکل آئیں وہاں تو حکومت کچھ الائونسز بھی دے رہی ہے یہاں عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر جرمانے وصول کرنے یا رشوت لے کر مک مکا ہو رہا ہے۔ عوام کو آخر کب تک دبایا جاتا رہے گا، اسکولوں کی چھٹیاں ہیں، پڑھائی کے بغیر عوام فیسز کس طرح ادا کریں گے؟ مارکیٹیں جب بند ہوں گی تو اخراجات کون اٹھائے گا، آئے دن بینک اور دکانیں لٹ رہی ہیں۔ بھارت کے کورونا سے ڈرا کر پاکستانی عوام کو زبردستی ہفتوں اور اب مہینوں کے لاک ڈائون کی کہانی سنائی جا رہی ہے۔ خود حکومت الیکشن کی آڑ میں جلسے جلوس نکال رہی ہے جن پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں‘ رمضان کے احترام میں قوم خاموش ہے مگر عید کے بعد یہی تاجر، دکاندار، ٹھیلے والے اور انتظامیہ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے پر مجبور ہونگے۔ کورونا سے 22کروڑ عوام میں 15 ہزار اموات کا ہونا کیا حکومت کا کارنامہ ہے؟ نہیں، یہ صرف اور صرف ﷲ کی مدد ہے اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف افراتفری پھیلا کر قوم کو وحشت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔