اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے-----
او آئی سی اور اقوام متحدہ کا کردار سوالیہ نشان
تحریر----سیدہ تحسین عابدی
رمضان المبارک سےقبلہ اول پر اسرائیل کی مسجد میں لشکر کشی اور مسلمانوں کو عبادت کے دوران نشانہ بنانے کے واقعات شہادتیں اور مسلسل قتل عام ظلم و بربریت وحشت اور انسانیت سوز سلوک نے پوری انسانیت کو شرما دیا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ کھلی عصبیت پر فرانس اور اسلام دشمن ممالک کھل کر سامنے بھی آچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کا رویہ اور بے حسی، او آئی سی کا صرف مذمتی قراردادیں منظور کرنا اسلامی ممالک کا احتیاط پسندی کا مظاہرہ عالم اسلام کے لئے بھی سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعظم عمران خان بھی صرف زبانی باتوں کی حد تک احتجاج کی حد تک محدود نظر آتے ہیں۔ اب تک 300افراد شہید کئے جاچکے ہیں، جس میں بچے بزرگ، نوجوان اور خواتین بھی شامل ہیں۔ غزہ کے بعد اب اسرائیل لبنان پر بھی حملے کررہا ہے جہاں مذید شہادتیں ہوئی ہیں۔ سیکڑوں زخمی ہیں، عمارتیں تباہ اور فلسطین لہو لہو ہے۔ ہفتہ کے دن اسرائیل نے غزہ شہر میں جلہ ٹاور پرحملہ کرکے ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ ٹی وی کے دفاتر تباہ کردیئے۔ اس حملہ میں تیرہ منزلہ عمارت دیکھتے دیکھتے زمین بوس ہوگئی۔ یہی وہ ٹاور تھاجہاں سے الجزیرہ کے اینکر غزہ میں ہونے والی کارروائی کور کرتے تھے۔ اسرائیل کی بہیمانہ کارروائیاں ہنوز جاری ہیں۔ اس حملہ سے پہلے اسرائیل نے ایک مہاجر کیمپ پر فضائی حملہ کیا، جس میں دس نہتے اور بے گناہ شہری شہید کردیئے گئے۔ اس بات کی اب تک وضاحت نہیں کی گئی کہ مہاجر کیمپ پر حملہ کیوں کیا گیا لیکن یہ بات واضع ہے کہ مسلمانوں کی دشمنی میں اسرائیل اور اس کے حواری تمام حدیں پار کررہے ہیں۔ جلہ ٹاور پر حملہ کی وجہ حماس کی موجودگی ظاہر کی گئی جو حقیقت کے برخلاف اور حملے کا بہانہ تھی۔ عمارت میں موجود لوگوں کو صرف ایک گھنٹہ دیا گیا وہ عمارت خالی کردیں۔ ایک گھنٹہ گزرنے پر عمارت صحافیوں کی درخواست کے باوجودکہ کچھ اور وقت دیا جائے، اس عمارت کو زمین بوس کردیا گیا۔ میڈیا کے ہر فورم پر اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت اور اسے جنگی جرم قرار دیا گیا۔ پاکستان میں بھی میڈیا اور صحافی برادری نے فلسطینیوں سے یکجہتی کے علاوہ میڈیا سے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اسرائیل کی ان حرکات پر اقوام متحدہ، قانون بین الاقوامی اور تمام عالمی طاقتیں لب سی کر بیٹھی ہوئی ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایک گھنٹہ میں کس طرح ایک تیرہ منزلہ عمارت خالی کرائی جاسکتی ہے۔ یہاں بہت سے رہائشی اپارٹمنٹس ہیں جہاں بہت سارے لوگ رہائش پزیر تھے۔ اس ٹاور میں الجزیرہ ٹی وی ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور بہت سے میڈیا ہائوسز تھے۔ کئی صحافیوں کے کیمرے اور ضروریات کی چیزیں عمارت میں تھیں۔ اسرائیل کی اس مذموم حرکت پر آزادی صحافت پر بولنے والے بھی خاموش نظر آئے۔ یہی حرکت اگر کسی اور ملک نے کی ہوتی تو اب تک دنیا میں بھونچال آچکا ہوتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہودی لابی کے قبضے میں سارا میڈیا ہے۔ سب بڑے چینل یہودیوں کے پاس ہیں۔ سب اخبارات یہودی لابی کی ملکیت ہیں۔ اسلامی دنیا کی بے حسی عروج پر ہے ۔ اسلامی تنظیم اب تک کوئی خاص قرارداد سامنے نہیں لاسکی۔ سوال یہ ہے کہ اچانک اسرائیل یہ سب کیوں کررہا ہے ؟ اسرائیل نے اس حملے سے بہت سے مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔ پہلے نمبر پر اب دنیا کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ غزہ میں کیا ہورہا ہے ؟ اسرائیل نہتے فلسطینیوں خاص طور بچوں اور عورتوں پر کیا مظالم ڈھارہا ہے۔ مہاجر کیمپ پر حملے میں شہید ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔ جن کی عمریں چھ سال سے چودہ سال تھیں۔ اس حملے کے بعد اسرائیل نےالجزیرہ ٹی وی کو بتادیا ہے جہاں جہاں اس کے دفاتر ہیں اسرائیلی مظالم براہ راست نظر نہ آسکیں۔ اب بلڈنگ مالکان میڈیا کے افراد کو اپنی عمارت کرائے پر نہیں دیں گے، جس طرح جلہ ٹاور کی عمارت جو کسی کی عمر بھر کی پونجی تھی۔ لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بنادی گئی۔ اب غزہ میں ہونے والے ظلم سامنے آنے میں مشکلات ہونگیں۔ اسرائیل کو کھلی چھٹی ہے وہ جو دل چاہے کرے ۔ وہ اب دن دیہاڑے بمباری اور میزائل داغے گا۔ جنگ کتنے عرصے تک جاری رہیگی یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ غزہ میں اب تک پہلے بھی کئی جنگیں ہوچکی ہیں بہت خون بہ چکا ہے۔ نہ جانے کتنا خون اور بہنا ہے۔ فلسطینیوں کاخون رائیگا نہیں جائے گا ایک نہ ایک دن اسرائیل کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ آزادی صحافت پر حملے پر ساری دنیا کو آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ صحافت ، نسل ورنگ و زبان اور جغرافیائی حدوں سے بالاتر ہے۔ صحافت کا گلا گھوٹنا، سچ کی آواز کو دبنا نہیں چاہئے بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہونا چاہئے۔ اسرائیل کا صحافت پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ 2000سے اب تک اسرائیل 46فلسطینی صحافی کو شہید کرچکا ہے۔ اسرائیل کا غزہ پر موجودہ حملہ 10مئی کو شروع ہوا اور اب تک 300افراد شہید ہوچکے ہیں۔ جس میں 50سے زائد خواتین اور70سے زائد بچے شامل ہیں۔ 2000سے زائد زخمی ہیں۔ 15 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اب تک جنگ بندی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی بلکہ دائرہ کار لبنان تک جاپہنچا ہے۔ اسرائیل کی کابینہ کی میٹنگ میں جنگ بندی کی بابت کوئی بات نہیں کی گئی کیونکہ اسرائیل کے پیچھے قوتیں کھڑی ہیں جو امت مسلمہ کی دشمنی میں اندھی ہوچکی ہیں،۔اسرائیل کے ارادے جنگ ختم کرنے کے نہیں ہیں۔ وہ اس بار حماس کی طاقت کو مکمل طور پر ختم کردینا چاہتا ہے۔ اسرائیل اور حماس کا موازنہ ایسا ہی ہے جیسے بندوق اورغلیل کا۔ اسرائیل ایک بہت بڑی جنگی طاقت ہے۔ جس کا سامنا پورے عرب میں کوئی نہیں کرسکتا۔ 1979میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے بعد مصر نے اسرائیل کی بالادستی کو قبول کرلیا تھا۔ اب تقریبا ًسب عرب ممالک اسرائیل کی بالادستی کو قبول کرچکے ہیں۔ صرف پاکستان اور ایران دو ممالک ہیں جن کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ کشیدہ ہیں۔ ترکی جو ایک بڑی طاقت ہے ایک عرصے سے اسرائیل کےساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے لیکن موجودہ واقعات پر ترکی فلسطینیوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آیا ہےاور پاکستان کے ساتھ بھی کھڑا ہے۔ سلامتی کونسل امریکہ کی وجہ سے ایک بھی متفقہ قرارداد اسرائیل کے مظالم کے خلاف لانے میں ناکام ہے۔ فلسطین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک مسلح چور ہے جو ان کے گھر میں آچکا ہے اس نے ہمارے خاندان کے افراد کو ہراساں کیا ہے۔ اسرائیل نے1967کی جنگ میںمشرقی یروشلم پر قبضہ کیا اور بعد میں 1980میںسارے شہر کو اسرائیل میں ملا لیا۔ غزہ کی پٹی اب فلسطینی لوگوں کا ٹھکانہ ہے جس پر آئے دن اسرائیل فضائی حملے کرتا رہتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ عالمی ضمیر جاگتا ہے اور اسرائیل کی سفاکی اور جارحانہ پن کو لگام دیتا ہے جو فی الحال ناممکن نظر آتا ہے۔ او آئی سی کا کردار بھی شرمناک ہے جبکہ ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں۔ یہاں اگر ہم ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو وہ میدان میں اترتی تھیںاور اسلامی ممالک سمیت اپنی خارجہ پالیسی سے امریکہ تک پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ پیپلز پارٹی نے ہی جراٗت مندانہ موقف اختیار کیا ہے لیکن حکومت کی زبانی باتیں نہ کشمیر نہ فلسطین پر اثر انداز ہوسکیں۔ اس وقت پورے عالم اسلام کو ایک ہونے کی ضرورت ہے اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگایا جائے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کو حملوں سے روک کر اتحادی فوجیں فلسطین کی سرحدوں کی حفاظت کریں۔ ورنہ یہ سب عمل اسلام دشمن اور تعصب پر مبنی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گی۔