| |
Home Page
جمعرات 25 ربیع الاوّل 1439ھ 14 دسمبر2017ء
May 19, 2017 | 09:06 am

عالمی عدالت کا کل بھوشن پر فیصلے کا اردو ترجمہ ... حصہ دوم

Icj Judgement On Kulbhushan Yadav

Icj Judgement On Kulbhushan Yadav
10۔ جج کانکیڈو ٹرنڈیڈ نے اپنی متفقہ رائے کے آخری حصے پر آتے ہوئے بین الاقوامی قانون (پارٹ۔VII) کے جاری انسانی تاریخی عمل جیسا کہ خود ظاہر ہے خصوصاً قونصلر قانون میں موجود یادو کیس۔ 11۔ ان کے خیال میں بیسویں صدی کے آخری نصف میں عدالتی سوچ کا عظیم ورثہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین کا ارتقاء ہے۔ جج کانکیڈو ٹرنڈیڈ کے مطابق اس تخیل نے قونصلر تعلقات کا احاطہ کرنے والے متعلقہ امور میں فیصلہ کن طور پر مدد دی۔ بالآخر آئی سی جے نے آگاہی کا مظاہرہ کیا کہ موجودہ آرڈر میں تحفظ کے عبوری اقدامات کا اس جانب بجا اشارہ کرتے ہیں کہ اس کا مقصد ریاست اور کسی کو انفرادی طور پر تحفظ فراہم کرنا ہی ہے۔ جیسا کہ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 36 (1) (بی) کے تحت ظاہر ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک بار پھر سے آگے بڑھانے کے قابل ہے۔ آئی سی جے نے بالآخر تحفظ کے عبوری اقدامات سے آگاہی کا مظاہرہ کیا۔ جس کا بجا طور پر آرڈر میں اشارہ کیا گیا۔
جج بھنڈاری کا اعلان:جج بھنڈاری نے عبوری اقدامات کی نشاندہی کے لئے عدالت کے فیصلے سے اتفاق کیا۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ ان کا مؤقف بھی تفصیل کے ساتھ ریکارڈ پر آ جائے۔ یہ کیس انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال اُٹھاتا ہے۔ پاکستان میں عدالتی کارروائی کے دوران قونصلر دسترس سے انکار کیا گیا۔ مقدمہ کلبھوشن یادو کی سزائے موت پر ختم ہوا۔ اپنے ڈیکلریشن میں جج بھنڈاری نے بھارت کی درخواست سے متعلق حقائق اور عبوری اقدامات کے لئے درخواست سے شروع کیا۔ عبوری اقدامات کی نشاندہی کے لئے انہوں نے چار ضروریات پر بحث کی ہے۔ جہاں تک کیس کے حقائق کا تعلق ہے جج بھنڈاری نے ان غیریقینی ماحول اور حالات کواُجاگر کیا جب کلبھوشن یادو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ فریقین یادو کے مقام گرفتاری سے متفق نہیں ہیں کہ آیا انہیں پاکستان کے اندر یا باہر سے حراست میں لیا گیا۔ جج بھنڈاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے قونصلر رسائی کے حق سے متعلق فریقین میں سفارتی مکالمے اور بھارت کی جانب سے 13مراسلے بھیجے جانے کے باوجود پاکستان نے یادو پر الزامات یا اس کے خلاف عدالتی کارروائی سے بھارت کو آگاہ نہیں کیا۔ سزائے موت پر نظرثانی یا معافی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یادو نے اپنا یہ حق استعمال کیا جبکہ معلوم ہوا ہے کہ اس کی والدہ نے اپیل دائر کی ہے۔ جج بھنڈاری کا اس بات پر زور رہا کہ پاکستان کی جانب سے قونصلر درخواست سے انکار نے ایسی صورتحال پیدا کر دی جس میں بھارت کو کلبھوشن یادو پر الزامات اور پاکستان کی فوجی عدالت میں کارروائی کا کوئی براہ راست علم نہیں رہا۔ عبوری اقدامات سے متعلق ضروریات کا حل دینے سے قبل جج بھنڈاری نے 2008ء کے قونصلر دسترس سے متعلق پاک بھارت سمجھوتے کے کردار کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے عدالت سے اتفاق کیا کہ 2008ء کا سمجھوتہ کرنے کے بعد بادی النظر میں فریقین ویانا کنونشن کے تحت باہمی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے۔ اس کے برخلاف 2008ء کا سمجھوتہ قونصلر معاونت کے لئے باہمی ذمہ داریوں کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا 2008ء کا سمجھوتہ موجودہ کیس میں اس عدالت کے دائرہ کار کو خارج نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ بھارت نے صرف 2008ء کے سمجھوتے پر انحصار نہیں کیا بلکہ اس کا صرف یہ دعویٰ ہے کہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کی گئی۔ پاکستان اور نہ ہی بھارت نے آپشنل پروٹوکول پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ مزید یہ کہ تنازع ویانا کنونشن کی حدود میں آتا ہے کیونکہ قونصلر حقوق کی ضمانت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے مبینہ حقائق ویانا کنونشن کے تحت آتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے مبینہ طور پر اس سے انکار کیا۔ جج بھنڈاری کے مطابق بھارت کا دعویٰ میرٹ پر قرین قیاس ہے کیونکہ وہ اپنے ہی ملک کے باشندے کے لئے قونصلر رسائی مانگ رہا ہے۔ جسے کسی دوسرے ملک نے گرفتار کرکے سزا سنائی۔ ناقابل تلافی تعصب کے نمایاں اور حقیقی خطرے کے حوالے سے جج بھنڈاری نے سزائے موت کے اس موجودہ اور گزشتہ فیصلوں میں یکسانیت کا موازنہ کیا۔ عبوری اقدامات کے لئے درخواست اور میرٹ پر حقوق کے دعوے میں تعلق پر بھی جج بھنڈاری نے موجودہ اور گزشتہ سزائے موت کے کیسز میں تسلسل پر روشنی ڈالی۔ ان تمام کیسز میں عدالت نے ہمیشہ یہ نشاندہی کی کہ مدعا علیہ ریاست کو ایسے شخص جس کی قونصلر رسائی خطرے میں ہو اسے سزائے موت نہیں دینی چاہئے۔ لہٰذا جج بھنڈاری نے اتفاق کیا کہ یہی عبوری اقدامات موجودہ کیس میں بھی ہونے چاہئیں۔ آخر میں جج بھنڈاری کے مطابق عبوری اقدامات کے حوالے سے یہ ایک واضح کیس ہے کہ کلبھوشن یادو کو سزائے موت نہیں دی جانی چاہئے۔ حقائق کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ بھارت کو قونصلر رسائی کا حق نہ دینے سے کلبھوشن یادو کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔