• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی غوطہ خور کو قرون وسطیٰ کے صلیبی جنگجو کی تلوار مل گئی

مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی نوادرات کی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی غوطہ خور کو ایک ایسی قدیم تلوار ملی ہے، جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ قرون وسطیٰ کے کسی صلیبی جنگجو کے زیر استعمال تھی۔ایک میٹر لمبی یہ تلوار بحیرہ روم کے’’کیریمل‘‘ نامی ساحل پر ملی ہے۔ اس تلوار کے اوپر سمندری نباتات چپکی ہوئی تھیں۔ شولم کاٹزن نامی غوطہ خور شمالی اسرائیل میں ویک اینڈ پر بحیرہ روم میں غوطہ خوری کر رہا تھا، جب اس نے زیر سمندر یہ انوکھی تلوار دیکھی۔ اس نے فوری طور پر اس تلوار کو اٹھایا اور اسے حکومتی ماہرین کے حوالے کر دیا۔اسرائیلی نوادرات کی اتھارٹی کے ایک اہلکار نیر ڈسٹیلفیلڈ نے بتایا کہ یہ تلوار جسے کہ بہت اچھی حالت میں محفوظ کر لیا گیا ہے ،بہت خوبصورت اور نادر ہے اور بظاہر کسی صلیبی جنگجو کی لگتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسی نایاب چیز کا ملنا بہت حیرت انگیز ہے، یہ آپ کو نو سو سال ماضی کے سپہ سالاروں اور تلواروں کے دور میں لے جاتی ہے۔اس غوطہ خور کو ساحل پر قدرتی طور پر قائم ایک نیم دائرے سے تلوار کے علاوہ مٹی کے برتنوں سمیت کئی دیگر قدیم اشیاء بھی ملی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقام پرانے دور میں مسافروں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتاہو گا۔ اتھارٹی کے سمندری یونٹ کے ڈائریکٹر کوبی شروت نے کہا کہ پناہ گاہ کے طور پر کام کرنے والی یہ جگہ صدیوں تک مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے۔ اسرائیلی نوادرات کی اتھارٹی نے کہا کہ وہ جون سے اس جگہ کا معائنہ کر رہے ہیں لیکن ریت کی نقل و حرکت کے ساتھ قدیم اشیاء ظاہر اور غائب ہوتی رہتی ہیں۔تلوار کو عجائب گھر میں رکھنے سے پہلے مزید صاف کیا جائے گا اور اس کی اصل عمر جاننے کے لیے اس کا مزید تجزیہ بھی کیا جائے گا۔ کاٹزن، جنہوں نے اس نایاب تلوار کو حکام کے حوالے کیا، انہیں ایک اچھا شہری ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔

دل لگی سے مزید