آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرا ایک سادہ و معصوم سا کالم برادر عزیز سلیم صافی کی گرانی طبع کا باعث ہوا۔ صافی نے جوانی کے آتش مزاج لہجے میں ایک بھرپور کلام لکھ کر مجھ پر خصوصی طبع آزمائی کی۔ یہاں تک کہ ترک تعلق کا اعلان کردیا۔ ہم دونوں کے مشترکہ دوست میجرعامر اپنے والد گرامی شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیری کا قول سنایا کرتے ہیں کہ کسی سے تعلق توڑنے میں کم از کم اتنا عرصہ ضرور لگاؤ جتنا عرصہ وہ تعلق بنانے میں لگایا تھا۔ صافی صاحب ہی نے بتایا ہے کہ ہمارے باہمی تعلق کی عمر چودہ برس پر محیط ہے۔ سو میں تو خدانخواستہ تعلق توڑنے پہ بھی آیا تو چودہ برس کی منصوبہ بندی کروں گا۔ رمضان کے ان سعید دنوں اور ایمان افروز راتوں میں عزیزی صافی سے توتکار گناہ لگتا ہے۔ نبی کریم کی تلقین کے مطابق صرف اتنا عرض کررہا ہوں کہ ”میں روزے سے ہوں“۔ البتہ ایک منظوم عرضداشت ضیافت طبع کے لئے اپنے دیرینہ دوست کی نذر ہے۔
اے مرے دوست، اے مرے ہم دم
آج کس موج فکر میں تم نے
مجھ سے عاجز کے سینہ و دل پر
زہر آلود تیر برسائے
اتنی تلخی اور اس قدر غصہ؟
ایسی ناراضی، یہ غصب ناکی؟
ایسا بے درد، آتشیں لہجہ
ایسی بے مہر و بے وفا باتیں؟
وہ بھی رمضان کے مہینے میں!
جب کہ اللہ کی رحمتیں ہر سو
سائبانِ کریم کی صورت
بستیوں پر محیط ہوتی ہیں!
اور اس کی عنایتوں کی

ردا
سب گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے
جب کہ عفو و کرم کی ٹھنڈی ہوا
دل کے زخموں پر ہاتھ رکھتی ہے
اور سب تلخیوں کو پل بھر میں
رزقِ ایام رفتہ کرتی ہے
یہ تو وہ ماہِ وصل ہے جس میں
آہن و سنگ جیسے سینوں میں
رحمت و شفقت و محبت کے
لالہ و گل مہکنے لگتے ہیں
سال ہا سال سے جو روٹھے ہوں
وہ بھی سب بھول بھال جاتے ہیں
O
میں تو حیران ہوں مرے ہم دم
تم نے کس بات کا برا مانا
وہ تو اک سرسری حکایت تھی
ایک بے حد لطیف سی چٹکی
کچھ مزاح کیش سے اشارے تھے
کچھ شگفتہ مزاج سے جملے
کچھ فقط دوستانہ باتیں تھیں
کچھ ادیبانہ شوخ چشمی تھی
اور اگر کوئی بات ایسی تھی
جو تمہارے مزاجِ نازک پر
ناپسندیدہ اور گراں گزری
تو مری جان! مجھ سے کہہ دیتے
مجھ سے کوئی حجاب تھا تو پھر
میجر عامر کو ہی بتا دیتے
میں تمہارے حسین ماتھے کو
چوم کر، انکسار و الفت سے
معذرت کی سبیل کرلیتا
O
میں تو حیران ہوں مرے ہم دم
تم نے یہ لفظ کس طرح لکھے؟
تم تو برسوں سے ساتھ ہو میرے
اور یہ بات جانتے بھی ہو
میں نے تو ساری زندگی جاناں
کاٹ دی محنت و مشقت میں
اپنے غربت شعار ماضی کو
ایک پل بھولنے نہیں پایا
تنگ دستی کی سرد راتوں میں
اپنے فاقوں کو یاد رکھتا ہوں
تم کو معلوم ہے، تمہاری طرح
میں بھی خود ساز فرد ہوں جاناں
جو بھی پایا، خدا کی رحمت سے
اور دست ہنر کی محنت سے
زندگی کے کسی بھی موسم میں
کج کلاہوں کے سامنے لیکن
ایک بھی حرفِ آرزو جاناں
اپنے ہونٹوں تلک نہیں لایا
حکمرانوں کی بارگاہوں سے
قرب کی خواہشیں نہیں پالیں
اور سرکش ضرورتوں میں بھی
عزت نفس کے اثاثے کو
جان و دل سے عزیز رکھا ہے
قصرِ شاہی کی شاہ نشینوں میں
کوئی مائی کا لال ایسا نہیں
جو مری عصمت قلم کی متاع
چھین لے یا خرید لے مجھ سے
عہدِ حاضر کا کوئی مردِ شریف
کوئی عمران، کوئی زرداری
اپنے انبارِ مال و زر کے عوض
ایک بھی لفظ، ایک بھی شوشہ
میری تحریر کا خریدے تو
میں ہوں مردودِ بارگاہِ خدا
اور محرومِ رحمتِ نبوی
یار ہم بے نیاز لوگوں کو
بندگانِ ہوس سے کیا لینا
ہم جو لوح و قلم کے وارث ہیں
صاحبانِ حشم سے کیا لینا
O
اے مرے دوست، یار دیرینہ
ایسا اسلوب، اس قدر تلخی
ایسی بے گانگیِ رسم وفا
ایسا انداز زہر افشانی؟
اتنی لمبی رفاقتوں کو کوئی
ایسے یک لخت چھوڑ دیتا ہے؟
سال ہا سال کے تعلق کو
ایسے اک پل میں توڑ دیتا ہے؟
تم تو پشتون ہو جو مر کر بھی
رشتہٴ دوستی نباہتے ہیں
مانتا ہوں کہ ایک دنیا میں
تذکرے ہیں تری صحافت کے
تیرے کالم کی دھوم عالم میں
تیرے ”جرگے“ کے تذکرے ہر سو
تیری تحریر زینت اخبار
تیری تقریر رونق ٹی وی
تو کہ ہے دلبر جہاں پیارے
تو کہاں اور میں کہاں پیارے
میں تو چھوٹا سا اک قلم مزدور
ایک تنہا منش سا محنت کش
رزق روزی کے بندھنوں میں بندھا
محفلوں سے گریز پا رہنا
اپنی دنیا کے روز و شب میں مگن
لفظ و معنی سے کھیلتے رہنا
O
گو قلم میرے ہاتھ میں بھی ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
اور مری کارگاہِ فکر میں بھی
پیکر حرف و معنی ڈھلتے ہیں
دشمنِ قوم و ملک و دیں کے لئے
میں بھی خنجر بدست رہتا ہوں
اور گریبان نوچنے کا جنوں
میرے دست ہنر وری میں بھی ہے!
لیکن اے دوست! تم تو اپنے ہو
اور اپنوں سے رنجشیں کیسی؟
دوستوں سے عداوتیں کیسی؟
وہ بھی رمضان کے مہینے میں
جب کہ اللہ کی رحمتیں ہر سو
سائبانِ کریم کی صورت
بستیوں پر محیط ہوتی ہیں
O
سوچتا ہوں کہ کیا کہوں جاناں
اور کہوں بھی اگر تو کس سے کہوں؟
تم تو صافی ہو اور برسوں سے
تم سے اک رشتہ و تعلق ہے
میں تو اس فکر سے پریشاں ہوں
لب کشائی کروں تو کیسے کروں
اے مرے دوست، اے مرے ہم دم
تم بڑے نامور سہی لیکن
شاہسوار ہنر سہی لیکن
فاتح بحر و بر سہی لیکن
سوچتا ہوں تمہاری عمر عزیز
میرے بچوں کی عمر سے کم ہے
گرچہ طرز جواب آتا ہے
مجھ کو لیکن حجاب آتا ہے
O

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں