• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تائیوان کے مسئلے پر چین اور امریکا میں کشیدگی

واشنگٹن میں سی این این کی تقریب میں اخباری نمائندوں نے صدر جوبائیڈن سے پوچھا اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو امریکا کا کیا ردعمل ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکا کا یہ عزم ہے کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو امریکا اس کا دفاع کرے گا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔ امریکا قانون کے دائرے میں ہر طرح تائیوان کی مدد کرتا رہے گا۔ اگر اس پر فوجی حملہ ہوتا ہے تو صورت مختلف ہوجاتی ہے۔

صدر جوئیڈن کا کہنا تھا کہ روس، چین اور دیگر ممالک جانتے ہیں کہ ہم تاریخی طور پر طاقت ور ثابت ہوئے ہیں۔ ہماری دفاعی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ ہم ہر صورت حال کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ ہم چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتے۔ ہم چین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہمارے قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ اپنے نظریات میں کوئی تبدیلی کریں گے۔ ہم اپنی ذمہ داری امریکا تائیوان تعلقات ایکٹ کے مطابق پوری کریں گے۔ صدر بائیڈن نے زور دے کر کہا ہم یک طرفہ طور پر کسی بھی تبدیلی کی مخالفت کریں گے۔ صدر بائیڈن کے اس بیان کے فوری بعد چین کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ 

چین کی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان میں کہا کہ، امریکی صدر کو تائیوان کے مسئلے پر بات کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے، چین اس مسئلے پر کسی سمجھوتے کے لیے قطعی تیار نہیں، یہ ہمارا اہم اور حساس مسئلہ ہے چین کے معروف اخبار کے چیف ایڈیٹر نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ امریکی صدر جوئیڈن اور پینٹاگون کے کرتا دھرتائوں میں چین کے حالیہ ایک نہیں دو ہائپر سانک میزائلوں کے تجربات کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ صدر بائیڈن کے مقامی مشیروں کو سخت تشویش ہے کہ چین کا جدید ترین ہائپر سانک میزائل فزکس کے مروج اصولوں سے ہٹ کر ایجاد کیا گیا ہے۔ 

اس حوالے سے صدر بائیڈن سے نامہ نگار نے سوال کیا کہ کیا آپ چین کے جدید سپرسانک میزائل کے بارے میں فکر مند ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہاں رپورٹ کے مطابق ایسا ہے‘‘ تاہم چین نے فنانشل ٹائمز کی خبر کی تردید کی ہے۔ امریکا نے سفارتی ذرائع کے ذریے اپنی تشویش اور تحفظات چین کو پہنچا دیئے ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے اپنی خبر میں یہ بھی بتایا کہ پہلا تجربہ ماہ اگست میں کیا گیا تھا۔ 

اب دوسرا تجربہ کیا ہے؟ امریکی سینٹر اینگس کنگ نے اپنے بیان میں کہا کہ سپرسانک میزائل گیم چینجر ہے۔ اس سے چین کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔امریکا نے اپنے میزائل ڈیفنس سسٹم پر بڑی رقم خرچ کی ہے، وہ اپنے میزائل ڈیفنس سسٹم کو ٹرمپ کارڈ قرار دیتا ہے۔ سینٹر اینگس کنگ نے مزید کہا کہ اگر واقعی چین نے ہائپر سانک میزائل تیار کرلیا ہے تو پھر امریکا کا میزائل ڈیفنس سسٹم بیکار ہوجائے گا۔ 

گلوبل ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے لکھا کہ امریکا کی اشرافیہ اس خوش فہمی میں رہتی ہے کہ ہمارا ملک سب سے محفوظ ملک ہے۔ دفاعی طور پر سب سے زیادہ طاقتور ہے، مگر جب بھی امریکا کو دیوار سے لگایا گیا، سب اعصابی دبائو میں آجاتے ہیں۔ امریکی اشرافیہ کی خواہش ہوتی ہے کہ تمام ممالک امریکا کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں، اطاعت گزاری کریں۔ امریکا ہر طرح سے محفوظ رہے۔ گلوبل ٹائمز کے مطابق ایسی سیکورٹی دنیا میں موجود نہیں، مگر امریکیوں کو کون سمجھائے۔ 

گلوبل ٹائمز نے امریکی صدر بائیڈن پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ہوسکتا ہے کہ 78 سالہ امریکی صدر کی زبان پھسل گئی ہو ورنہ ایک بوڑھا شخص خواہ وہ امریکا کا صدر ہی کیوں نہ ہو ایک ارب چالیس کروڑ چینی عوام کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ چینی مبصرین کہتے ہیں صدر بائیڈن نے متضاد بات کی ہے ایک طرف وہ کہتے ہیں امریکا ہر صورت تائیوان کا دفاع کرے گا اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا پالیسی جاری رہے گی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ چینی وزرائے خارجہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ امریکا کو پرانی جاری پالیسی اور تین مشترکہ اعلامیوں پر عمل کرتے رہنا چاہئے۔ چین کے معاملات میں مداخلت نہ کرے، لیکن چین پالیسی جاری رکھے۔

چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی زبان پھسل گئی یا موڈ میں بیان دیا، جو بھی ہو چین کو امریکا کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے تیز کردینا چاہئے اور دو طرف تعلقات کو فروغ دینا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی تیاری جاری رکھنی چاہئے۔ اگر امریکا کی طرف سے کوئی مداخلت ہوتی ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

افغانستان سے انخلا کے بعد پریس کانفرنس میں امریکا نے اپنے اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا آرٹیکل بائیس بہت اہم ہے کہ اگر کسی نے ہمارے اتحادیوں میں سے کسی کے خلاف یا نیٹو اتحاد کے خلاف کوئی مداخلت کی تو امریکا اس کا دفاع کرے گا۔ اسی طرح جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کا بھی دفاع کرے گا۔ اس پریس کانفرنس کے فوری بعد وائٹ ہائوس کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز کے ذریعہ بتایا کہ امریکا کی تائیوان کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

عقابی نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا استدلال ہے کہ امریکا تائیوان تعلقات کے حوالے سے جو آرٹیکل 2001 میں صدر جارج بش کے دور میں وجود میں آیا تھا تب صدر جارج بش نے کہا تھا کہ ہم ہر طرح تائیوان کی مدد کریں گے، مگر تائیوان اپنا دفاع خود کرے گا۔ سی این این کے مطابق صدر بش یہ بات پہلے کہہ چکے ہیں کہ خواہ چین ہی حملہ کیوں نہ کرے مگر دفاع تائیوان کو کرنا ہوگا۔ اس کے بعد صدر بائیڈن پہلے صدر ہیں جویہ کہتے ہیں تائیوان کا دفاع امریکا کرے گا۔ 

شنگھائی یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈائیو ڈامنگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بھی بیان دیں مگر اس بیان کی امریکی کانگریس ہرگز تائید نہیں کرے گا۔ جیسا صدر بائیڈن نے کہا اس کی کانگریس حمایت نہیں کرے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکا اتھارہویں اور انیسویں صدی میں اندرونی خلفشار اور خانہ جنگی کے بعد اپنی سرحدوں کی طرف متوجہ ہوا تو جنوب میں میکسیکو کے ساتھ بعض اضلاع کے لیے جھڑپیں شروع ہوئیں۔ جنوبی امریکا یا لاطینی امریکا میں نو آبادیاتی استحصالی قوتوں یعنی اسپین، پرتگال کا زیادہ تسلط قائم ہوچکا تھا۔ 

میکسیکو کے ساتھ خاصی مدت تک امریکا کے سرحدی تنازعات چلتے رہے۔ بعدازاں لاطینی امریکا میں بھی امریکی مدالت رہی۔ درحقیقت امریکا کو جغرافیائی طور پر بیش تر عظیم سہولیات حاصل رہیں مگر بہت بڑا رقبہ دو بڑے سمندروں سے متصل ساحل مشرق میں بحر اوقیانوس شمال اور مغرب میں بحرالکاہل، الگ تھلگ جغرافیائی حیثیت، قدرتی معدنیات سے مالا مال، یہی وجہ تھی کہ سترہویں صدی میں جب صنعتی انقلاب نے امریکا کے دروازے پر دستک دی تو دیکھتے دیکھتے امریکا نے صنعتی اور تجارتی طور پر کئی سیڑھیاں پھلانگ ڈالیں اور دنیا میں اپنا نمایاں مقام بنالیا۔ 

یورپی ممالک کے ہزاروں تارکین وطن امریکا میں جابسے۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے یورپ میں اتھل پتھل شروع ہوگئی خاص طور پر جرمن، فرانس، برطانیہ میں جنگوں کا سلسلہ ہٹلر کی فسطائیت نے جرمن میں جو نسلی فساد برپا کیا اس کی وجہ سے ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ جرمن پریشان ہوکر امریکا ہجرت کرگئے۔ اس عرصے میں امریکا میں برین ڈرین عروج پر تھا یہاں تک کہ آئن اسٹائن جیسے سائنس دان، دانشور، مصنف، موسیقار، ماہرین اور دیگر اعلیٰ دفاع جرمنی سے امریکا ہجرت کرگئے۔ آج بھی معاشروں کا حساس اور سوچنے سمجنے والا طبقہ کسی بھی انتہاپسندی سے تنگ آکر دوسرے معاشروں میں ہجرت کرجاتا ہے۔

امریکا کو ہر شعبہ میں علم و دانش اور فنون لطیفہ کے ماہرین دستیاب ہوئے، جس سے امریکا نے مزید ترقی کی سیڑمیاں پھلانگ لیں۔ دوسری طرف یورپی ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، اسپین، اٹلی اور پرتگال وغیرہ نے اپنی اپنی نوآبادیات سے جو لوٹ کھسوٹ کرکے اپنے معاشرں کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کیا پھر یہی ممالک آپس میں دست و گریبان ہوگئے۔ اس صورت حال کا بھی امریکا کو فائدہ ہوا۔ 

پہلی عالمی جنگ پھر دوسری عالمی جنگوں نے یورپی ممالک کو شدید مسائل سے دوچار کردیا۔ دوسری عالمی جنگ نے دنیا کو جہاں سیاسی معاشی اور سماجی مصائب سے دوچار کیا وہاں عالمی سیاسی رنگ کو بھی بڑی حد تک تبدیل کردیا۔ برطانیہ کے معروف رہنما ونسٹن چرچل کے اصرار پر امریکا دوسری عالمی جنگ میں کود پڑا۔

دوسری عالمی جنگ جو چار سال سے زائد عرصے جاری رہی، تاریخ کی سب سے بڑی خون ریز تباہ کن جنگ کہلاتی ہے۔ اس جنگ میں جاپان نے بحرالکاہل جنوب مشرقی ایشیا میں بہت خون ریزی کی۔ جرمنی، اٹلی اور ان کے حواری یورپ میں پسپا ہورہے تھے، مگر جاپان جنگ لڑتا برما تک پہنچ چکا تھا، کسی طور قابو نہیں آرہا تھا۔ امریکا پرل ہاربر پر ہونے والی تباہی کو کبھی نہیں بھول سکتا تھا اس کے علاوہ جاپانی قوم جس انداز سے جنگ لڑرہی تھی یہ انداز سب کے لئے پریشان کن تھا۔ امریکا نے جاپان کے دو جزائر پر ایٹم بم گراکر جو تباہی پھیلائی اس سے نہ صرف جاپان بلکہ دنیا دم بخود رہ گئی۔ جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے۔ 

امریکی جنرل آرتھر جس کے پاس جاپان کی کمان تھی اس نے جاپانی رہنمائوں سے پوچھا، جاپان یہ جنگ کیوں لڑرہا تھا تو جاپانی رہنمائوں کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ یہ تمام تفصیل امریکی جنرل میک آرتھر نے اپنی کتاب میں تحریر کی ہے اور پھر امریکا نے ایک پالیسی کے تحت جاپان سے اشتراک کیا جس کا دونوں ممالک کو فائدہ حاصل ہوا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی منظر پر دو سپر طاقتیں ابھریں، امریکا اور سویت یونین، ایسے میں امریکا نے عالمی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے اپنی سیاسی بساط بچھائی جس میں امریکا نے مذاکرات کی میز اور جنگ کا میدان دونوں آپشن ساتھ ساتھ رکھے۔ ایسے میں امریکا کی عالمی سیاست میں دخل اندازی بڑھ گئی۔ 

خاص طور پر نوے کی دہائی سے سرد جنگ کے اختتام کے بعد امریکا نے جو بھی شدت پسند کاروائیاں کیں ان میں عراق پر حملے کا کوئی جواز نہ تھا مگر امریکا نے جس عجلت، شدت اور جارحیت سے عراق پر حملہ کیا اور صدر صدام حسین کو جس بربریت سے ہلاک کیا وہ ایک بدترین اور انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ امریکا کے سنجیدہ حلقوں میں اس مسئلے پر سخت بحث و مباحث ہوئے اور اس تمام واقعہ کو امریکا کی بڑی غلطی قرار دیا۔ 

مگر اب چین سامنے ہے۔ امریکا کو پوری سنجیدگی، گہرائی اور جاری عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سوچنا ہوگا کہ چین نے اب جو ون چائنا پالیسی پر اصرار شروع کردیا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ یہ ہے کہ چین نے ستر سال سے زائد عرصہ اس لئے گزار دیا کہ چین سے پہلے تائیوان سیاست اور جمہوری اقدار کا لوہا منوا چکا تھا، چار ایشن ٹائیگرز میں سرفہرست تھا۔ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر ڈیڑھ سے دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ 

امریکا یورپی ممالک تائیوان کو چین کا درجہ دے کر اس کو سلامتی کونسل کا ممبر بناچکے تھے جبکہ چین اقوام متحدہ سے باہر تھا۔ تائیوان اپنے خطے میں سب سے زیادہ خوشحال تھا اس کا سالانہ جی ڈی پی 33 ہزار ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ صنعتی اور تجارتی طور پر بہت مستحکم ہوچکا تھا۔ تائیوان کا تعلیمی اوسط 92 فیصد سے زائد ہے معیاری اعلیٰ تعلیمی ادارے، معیاری جدید ہسپتال اور زندگی کی تمام جدید سہولیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد ممالک تائیوان کو تسلیم کرتے ہیں۔

چین آج ایک سپر پاور ہے۔ اس کی دفاعی عسکری قوت تائیوان سے کئی گنا بڑی ہے۔ صرف چین کی بری فوج کی تعداد بائیس لاکھ سے زائد ہے۔ چین کی کیونسٹ پارٹی جس ایجنڈے پر کام کررہی ہے اس میں سرفہرست ایک نکتہ تائیوان کا چین سے الحاق ہے، تاکہ ون چائنا پالیسی انجام کو پہنچے اور صرف چین کا نام رہے۔ اس کے علاوہ تائیوان کماکر دینے والا بیٹا ثابت ہوگا نہ کہ چین پر بوجھ بنے گا۔ 

دوسرا پہلو یہ ہے کہ تائیوان کے الحاق سے خلیج تائیوان میں اس کے دوستوں کی آمدورفت کا سلسلہ تھم جائے گا اور اس پورے سمندری خطہ پر صرف چین ہی چین ہوگا۔ اس طرح کے دیگر فائدے بھی چین کو تائیوان سے الحاق کے بعد حاصل ہوسکتے ہیں۔ تائیوان کی آبادی دو کروڑ پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ رقبہ 36 ہزار مربع کلو میٹر ہے، مذاہب میں بدھ مت کے ماننے والے چالیس فیصد، تاوازم کے ماننے والے 35 فیصد، مذہب کو نہ ماننے والے بیس فیصد اور باقی متفرق ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے گزشتہ دنوں جو بیانات دیئے وہ نہایت چونکا دینے اور غور طلب تھے، جس میں انہوں نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو پیغام دیا تھا کہ چین کسی کے دبائو میں نہیں آئے گا، اگر کوئی ملک چین کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا ہے تو وہ یہ بات دل سے نکال دے چین کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔ ورنہ نتائج کچھ بھی ہوسکتے ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے جس آسانی سے تائیوان کے دفاع کی بات کردی یہ چین کے لئے کھلی دھمکی کے مترادف ہے۔ چینی صدر نے گزشتہ دنوں جو کچھ کہا وہ بہت اہم ہے۔ ان کے بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ اس میں بہت کچھ عیاں ہے اور بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ اس کے علاوہ چند دن قبل چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی معنی خیز ہے۔ وائٹ ہائوس کو اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

تائیوان کی صدر تسائی وین نے چین کے صدر کے بیان کے فوری بعدکہا کہ تائیوان کسی قیمت پر بھی چین کے سامنے نہیں جھکے گا ہمارے غیور عوام آخری گولی تک چین کا مقابلہ کریں گے۔ تائیوان کی صدر نے مزید کہا تائیوان ایک حقیقت ہے، ایک طرف کمیونسٹ چین ہے اور دوسری جانب قوم پرست، جمہوریت پسند اور خودمختار تائیوان ہے۔ چین کو اس انمٹ حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے، اس میں سب کی فلاح ہے۔تائیوان کی فضائی حدود اور سمندری حدود کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔ 

واضح رہے کہ حال ہی میں ڈیڑھ سو کے قریب چین لڑاکا طیاروں نے فضائی حدود اور چین بحری جہازوں نے سمندری حدود کی خلاف ورزیاں کیں۔ اس ضمن میں تائیوان نے چین سے سخت احتجاج کیا اور اس عمل کی شدید مذمت کی۔ علاقے کے ممالک فلپائن اور ویتنام نے ان خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ مبصرین کی آراء ہے کہ اس طرح کے تشویشناک عمل کی وجہ سے خطے کا امن مخدوش ہوچکا ہے، اگر کسی جانب سے کوئی غلطی ہوگی تو اس کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا ہوگا۔ تائیوان کی صورت حال اور چین کے سخت روئیے سے اطراف کے تمام ممالک کو شدید تشویش ہے۔

صدارتی محل سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں تائیوان کے اطراف جاری صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تائیوان ایک آزاد خودمختار ملک ہے، اس کے بیش تر ممالک سے سفارتی تعلقات قائم ہیں، پچاس سے زائد بین الاقوامی تنظیموں اور فورمز کا رکن ہے۔ اس کی باقاعدہ فوج، آزاد کرنسی، آزاد معیشت ہے۔ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا پابند ہے۔ تائیوان میں مختلف ممالک کے سفارت خانے دفاتر موجود ہیں۔

اس کا قومی ترانہ اور قومی پرچم دنیا بھر میں اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔ تائیوان کا آزاد اسٹیشن برسوں سے قائم ہے۔ ان حقائق کو چین نظرانداز کررہا ہے اور تائیون پر الزام لگا رہا ہے کہ وہ تاریخی حقائق کو نظرانداز کررہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے تائیوان کے اسی اعلامیہ کو یکسر رد کرتے ہوئے اپنا موقف دہرایا کہ تائیوان قدرتی جغرافیائی اور تاریخی طور پر چین کا حصہ تھا۔ چین علیحدگی پسندوں کو رد کرتا ہے اور تائیوان کا چین سے الحاق چاہتا ہے۔

تشویشناک مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف چین کے صدر شی جن پنگ کا بیان کہ تائیوان ہمارا حصہ ہے اور اسی کا چین سے الحاق چاہتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر بائیڈن کا بیان کہ اگر تائیوان پر حملہ ہوا تو امریکا اس کا دفاع کرے گا اور تیسری جانب تائیوان کی صدر تسائی وین کا بیان کہ تائیوان کسی قیمت پر چین کے آگے نہیں جھکے گا اور تائیوان کے غیور عوام آخری گولی تک اپنی مادر وطن کا دفاع کریں گے۔ اس سے صورت حال کی نزاکت اور اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے نیوی کے جہاز جاپان کے ا طراف چکر لگارہے ہیں۔ ان بحری جہازوں نے جاپان میں امریکی فوجی اڈے کی نگرانی کا کام سنبھالا ہوا ہے، جس سے صورت حال مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ جیسا کہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بہت جلد جاپانی وزیراعظم امریکی صدر سے خطے کی صورت حال پر بات کریں گے۔ بتایا جارہا ہے کہ جلد ہی روس اور چین مشرق اور جنوبی بحیرہ چین میں فوجی مشقیں شروع کرنے والے ہیں۔

اس تمام منظر نامہ میں امریکی اور چینی میزائلوں کے حالیہ تجربات بھی تشویش کا باعث ہے۔ امریکا اور چین اس مسئلے پر ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہر رہے ہیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ چین نے اگست کے مہینے میں ہائپر سانک میزائل کا تجربہ کیا تھا، جو اپنے ہدف سے تین کلو میٹر دور گرا، تاہم چین نے حال ہی دوسرا کامیاب تجربہ کرلیا ہے اور امریکی میزائل سے بہتر میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے،کہا جاتا ہے کہ چین دفاعی طور پر امریکا سے آگے آگیا ہے۔ اس طرح چین کا پلہ بھاری ہوگیا ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر بالفرض امریکا اور چین کے مابین تصادم ہوتا ہے تو اس میں چین امریکا کو بھاری پڑسکتا ہے۔ 

ایسے میں تشویشناک اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ مسئلہ اہم یہ نہیں ہے کہ چین نے آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار میزائل تیار کرلیا ہے یا امریکا اور روس نے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں مزید جدید ہتھیار شامل کرلئے ہیں اب کون کس پر بھاری پڑے گا۔ جنگ کی صورت میں کس کی فتح ہوگی، کس کو شکست کا منہ دیکھنا ہوگا؟ جاری صورت حال میں غیر اعلانیہ طور پر روس چین کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑا ہوگیا ہے جیسا کہ بتایا جارہا ہے کہ روس اور چین کے بحری لڑاکا جہاز مسلسل جاپان کے قریب سمندر میں چکر لگارہے ہیں اور امریکی فوجی اڈے کی نگرانی کررہے ہیں۔ 

چین کے ساتھ آئندہ حالات میں روس اعلانیہ طور پر کھڑا ہوگا، جبکہ شمالی کوریا بھی غیر اعلانیہ طور پر مگر کھلم کھلا طور پر چین کا اتحادی ہے اس کے چین کے چند اتحادی جنوبی امریکا اور افریقہ میں موجود ہیں جو وقت آنے پر چین کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔ ان دونوں براعظموں میں چین کی سرمایہ کاری 1.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس طرح چین کا بڑا اتحاد بننے کے پورے امکانات ہیں۔ 

جبکہ دوسری جانب امریکا ہے اس کے ساتھ نیٹو اتحاد کے ممالک مثلاً برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، ہالینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، آسڑیلیا اور بھارت ممکنہ طور پر اتحادی بن سکتے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں جانب طاقت کا توازن انیس بیس ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطی میں سعودب عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت وغیرہ اپنا وزن امریکا کے پلڑے میں ڈال سکتے ہیں۔ ایران کا معاملہ ذرا حساس ہے مگر یہ طے ہے کہ ایران ان حالات میں امریکا کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ مشرقی یورپ کے ممالک اور دیگر ممالک کسی کی طرفداری کرسکتے ہیں یا پھر غیرجانبدار رہنا پسند کرسکتے ہیں۔

موجودہ معاشی حالات کورونا وائرس کی تباہیاں بہت سے ممالک کو ہلکان کرچکی ہیں۔اگر ان دونوں اتحادیوں کا تصادم ہوجاتا ہے تو ذرا اندازہ لگائیں کہ کتنے بم پٹھیں گے۔ راکٹ اور میزائل چلیں گے، کتنی بمباری ہوگی، کتنے شہر، گائوں، دیہات تباہ ہوںگے، سمندروں کا پانی کتنا چھلکے گا، کتنے پہاڑ دھواں دھواں ہوجائیں گے اور ایسے میں انسانیت کہاں اور کس حال میں ہوگی۔ اس بھیانک صورت حال کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

ایک بہت اہم ترین اور خوفناک مسئلہ ماحولیات کا، موسمی تغیرات کا اور آلودگی کا ہے، جس کی وجہ سے یہ کرہ ارض پہلے ہی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔اس صورت میں جنگ کی تباہ کاریاں کیا یہ کرہ ارض برداشت کرسکے گی، کیا انسانیت اتنے خوفناک سانحات برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ یہ اہم سوالات ہیں، اس کے علاوہ دیگر بے شمار ضمنی سوالات کا جواب نہ چینی صدر کے پاس ہے نہ امریکی صدر کے پاس ہے، نہ تائیوان کی صدر کے پاس ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے تو پھر ایسا قدم اٹھانے کی دھمکی کیوں دی جائے یا خوفناک عمل کرنے کے بارے میں کیوں سوچا جائے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔