• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں ظہرانوں،عشائیوں،غیر اعلانیہ رابطوں کی گہما گہمی

اسلام آباد(فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی)پاکستان پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کی خبریں، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کیساتھ ملکر قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے اور اسی طرح کی ہم آہنگی کے دیگر دعوئوں میں کہاں تک صداقت ہے اس کا عملی مظاہرہ 11 نومبر جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر ہوگا جو حکومت کیلئے بھی بڑی آزمائش سے کم نہیں ، حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 30بل منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ بل ہر صورت میں منظور کرا لیں گے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے قانون سازی کے عمل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہوا ہے، ان دعوئوں کے تناظر میں منگل کو اسلام آباد میں سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیاں پورے عروج پر رہیں۔

مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو جنہوں نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال لئے ہیں ،کےعشائیوں،ظہرانوں اور مختلف مقامات پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ رابطوں مشاورت اور حکمت عملی وضع کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے جبکہ حکومت بھی اپوزیشن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وفاقی دارالحکومت میں ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ مشترکہ اجلاس میں بلوں کی منظوری اور حمایت حاصل کرنے کیلئے حکومتی اور دیگر بااثر شخصیات اپوزیشن کے بعض ارکان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی ’’ترغیبی اور تنبیہی‘‘ کوششوں میں مصروف ہیں کہ مشترکہ اجلاس میں ہونے والی مبینہ طور پر متنازع قانون سازی کے مرحلے پر وہ اجلاس میں شرکت نہ کریں تاکہ بلوں کی منظوری کو حمایتی ارکان کی زیادہ سے زیادہ برتری سے منظور کرایا جا سکے۔ 

اس کیساتھ ساتھ حکومت نے اپنے بعض ارکان کے علاوہ بالخصوص اتحادی جماعتوں کیلئے ریڈ الرٹ بھی جاری کیا ہے کہ مشترکہ اجلاس کے موقع پر کسی بھی رکن اسمبلی کی غیر موجودگی کا کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔

وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود منگل کو قومی اسمبلی اجلاس میں کارروائی کے دوران بلوں کی منظوری کے ایک مرحلے پر حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد زیادہ تھی ، مشترکہ اجلاس سے پہلے یہ صورتحال یقیناً حکومت کیلئے الارمنگ سمجھی جائیگی ۔

دریں اثنا منگل کی شب شہباز شریف کی جانب سے دیئے گئے عشائیے جس میں بلاول بھٹو بھی شریک تھے ،میں ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد غیر معمولی طور پر زیر بحث رہی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں جماعت اسلامی کے ایک ایک رکن بھی عشائیے میں شریک تھے۔ 

دوسری طرف پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ ایک طرف اپنی پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کے حوالے سے مسلسل بیانات دے رہے ہیں اور اس ضمن میں اپوزیشن کے بعض رہنمائوں سے رابطے کا عندیہ بھی دیا ہے پھر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمائوں کے مابین اہم ایشوز پر ہم آہنگی اور پارلیمانی ایوانوں میں حکومت کیخلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق رائے کی خبریں اس امر کی غمازی کر رہی ہیں کہ خورشید شاہ بھی پی ڈی ایم میں اپنی جماعت کی واپسی کے حوالے سے جو بیانات دے رہے ہیں انہیں پارٹی کی آشیر باد حاصل ہے۔

اہم خبریں سے مزید