• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعظم سواتی کیس، سماعت 16 نومبر تک ملتوی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعظم سواتی کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کر دی۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی الیکشن کمیشن پہنچے، اس موقع پر ان کے ہمراہ قائدِ ایوان سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم، اعجاز چوہدری، دنیش کمار، شبلی فراز، فدا محمد خان، فیصل چوہدری، محسن عزیز، مرزا آفریدی، منظور کاکڑ، لال چند اور شہباز گل بھی تھے۔

دورانِ سماعت اعظم سواتی اور ان کے وکیل علی ظفر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ اعظم سواتی کی حمایت کے لیے آئے ہوئے تمام پی ٹی آئی ارکان بھی ڈائس پر آ گئے۔

دورانِ سماعت ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ سب اپنی نشستوں پر بیٹھیں، اعظم سواتی کو 2 نوٹس دیئے گئے ہیں۔

اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ مجھے ابھی معلوم ہوا کہ 2 نوٹس ہیں، ہمیں دوسرا نوٹس نہیں ملا، آپ ہمیں دوسرے نوٹس کی بھی کاپی دے دیں، میں جواب جمع کرا دوں گا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کے جونیئر وکیل گزشتہ سماعت میں آئے تھے۔

ممبرکمیشن نثار درانی نے کہا کہ اس پر چارج فریم ہوتا ہے، اگلی سماعت میں چارج فریم کریں گے، اگلی تاریخ چارج فریم کے لیے ہو گی۔

علی ظفر نے کہا کہ قانون کے مطابق پہلے شوکاز نوٹس پر فیصلہ کرنا ہے۔

نثار درانی نے کہا کہ آپ جواب دے دیں، ہم اسی دن چارج فریم کرنے کی تاریخ رکھ لیں گے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ شوکاز نوٹس کا جواب اور چارج ایک ہی دن رکھنے سے الگ تاثر جائے گا، ایسا تاثر جائے گا کہ آپ نے پہلے چارج فریم کرنے کا سوچ رکھا تھا۔

ممبر الیکشن کمیشن شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ تاثر تو پہلے بھی کئی طرح کے گئے ہیں۔

ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ اچھے یا برے تاثر سے ہم پہلے کبھی متاثر نہیں ہوئے، کہاں لکھا ہے کہ شوکاز کا جواب دینے کے بعد چارج فریم ہو گا؟

علی ظفر نے کہا کہ مجھے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا وقت چاہیئے پھر آپ اس پر میری بحث سن لیں۔

ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ کو جواب دینے کا موقع دیا گیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ جواب جمع کرانے کا موقع دیں۔

ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ آپ کی بات مان لیتے ہیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعظم سواتی کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وزیرِ ریلوے سینیٹر اعظم سواتی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن پر برس پڑے تھے۔

اعظم سواتی نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی کرتا رہا ہے، اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں، یہ ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنے کا باعث اور ضامن ہے۔

اعظم سواتی کے الزامات پر قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس سے الیکشن کمیشن کے ارکان نے واک آؤٹ کیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وفاقی وزیرِ ریلوے اعظم سواتی کو شوکاز جاری کر دیا تھا جس میں انہیں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید