• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے الفاظ جن کے ایک سے زیادہ معانی ہو ذو معنی الفاظ کہلاتے ہیں۔ کلام میں ایسے الفاظ کے استعمال سے معنی پہلو داری پیدا ہوتی ہے اور اسے ایک کمال سمجھا جاتا ہے۔ اشعار میں ایسے الفاظ کا استعمال صنعت تجنیس کہلاتا ہے۔ ذیل میں ایسے الفاظ درج کئے جاتے ہیں:

٭… کان

(۱) سننے کا عضو (۲) معدنیات نکالنے کی جگہ

٭…من

(۱) دل، جی، قلب، خاطر، مرضی

(۲) وزن کی ایک اکائی، چالیس سیر

٭…مالٹا

(۱) ایک ملک کا نام

(۲) پھل

٭…دام

(۱) پھندا، جال

(۲) قیمت، مول، نرخ، بھاؤ

٭…بیل

(۱) کسی دوسرے پودے کے سہارے چڑھنے والا پودا جیسے کدو

(۲) چوپایہ، گائے کا نر

٭…ہار

(۱) گلے کا زیور

(۲) شکست

٭…عالم

(۱) حال

(۲) دنیا، جہان

٭…سونا

(۱) زرد رنگ کی ایک قیمتی دھات، زر، طلا

(۲) جاگنے کا متضاد، نیند لینا

٭…پھل

(۱) چھری، چاقو یا کسی اور آلے کی دھار

(۲) میوہ، ثمر

٭…رام

(۱) فرمانبردار، مطیع، زیر اثر

(۲) پرمیشور، پرسرام اور رام چندر جی کا لقب

٭…سنگ

(۱) پتھر

(۲) رفاقت، صحبت، ہمراہی

٭…مانگ

(۱)طلب، ضرورت، حاجت

(۲) سر کے بالوں کے بیچ نکالی جانے والی سیدھی لکیر

٭…لالہ

(۱) ایک قسم کا سرخ پھول

(۲) معزز ہندؤں کا خطاب، بنیا

٭…شام

(۱) رات کا ابتدائی وقت

(۲) ملک کا نام

٭…پروانہ

(۱) پتنگا

(۲) شاہی فرمان، حکم شاہی، اجازت نامہ

( عبیرہ فاطمہ)