• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی کونسلوں کو غیرقانونی تارکین وطن بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری سونپنے کا منصوبہ،فرانس نے گشت کی تجویز مستردکردی

راچڈیل (ہارون مرزا)سمندری راستے سے برطانیہ پر غیر قانونی تارکین کی یلغار کے تسلسل پر کونسلوں کو مہاجرین بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری دینے کے منصوبے پر سوچ بچار شروع کر دیا گیا۔ منصوبے کے تحت مستقبل قریب میں کونسلز کو کہا جائے گاکہ وہ تارکین وطن بچوں کو نگہداشت کے نظام میں لائیں ۔کینٹ کاؤنٹی کونسل پر انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے رضاکارانہ اسکیم کی بنیاد پر غیر ساتھی تارکین وطن بچوں کو پہلے برطانیہ میں منتقل کیا گیا تھا لیکن اب 200 سے زیادہ کونسلوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ تارکین وطن بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داری اٹھائیں۔ سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کی طر ف سے سمندری راستے سے برطانیہ آنے والےغیرقانونی تارکین وطن کو روکنے کیلئے جہاں موثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے وہیں تارکین وطن کی دیکھ بھال پر آ نے والے اخراجات کا دبائو کم کرنے کے لئے کونسلوں کو ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں ۔کینٹ کاؤنٹی کونسل کے ٹوری لیڈر راجر گوئف نے ایک ٹی وی پروگرام میں اس منصوبے کا خیر مقدم کیا لیکن نیو کاسل کاؤنٹی کونسل کے لیبر لیڈر نک فوربس نے اس منصوبے کو ایک کند ٹول قرار دیا جو ہر کونسل کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔مسٹر گوئف نے کہا کہ 247 نوجوان ہماری دیکھ بھال میں آئے ہم نے 150 کو دوسری کونسلوں میں منتقل کیاہمارے پاس پچھلے سال اور اس سال کے شروع میں دو مواقع آئے ہیں جب ہم نے اشارہ کیا تھا کہ ہم نوجوانوں کو نہیں لے سکتے کیونکہ ہم اس وقت محفوظ اور موثر دیکھ بھال فراہم کرنے کے قابل نہیں تھے ۔نیو کاسل کاؤنٹی کونسل کے لیبر لیڈر مسٹر فوربس نے انکشاف کیا کہ مقامی اتھارٹی نے حال ہی میں تقریباً 27 تارکین وطن بچوں کو لیا ہے ہم نے اصل میں اتفاق کیا تھا کہ ہم چھ بچے لیں گے پھر ہم نے مزید دس کی ذمہ داری لی ہم نے کینٹ سے 16 لیے ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس سات افراد ایسے ہیں جو بالغوں کے طور پر پہنچے لیکن جب انکی عمر کا اندازہ لگایا گیا تو وہ بچے نکلے ہم نے گزشتہ سال میں 27 افراد کی ذمہ داری لی اور ہمیں ایسا کرنے پر فخر اور خوشی ہے یہ ہماری قومی ذمہ داری کا حصہ ہے مگریہ بوجھ کچھ مخصوص کونسلوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔ مسٹر فوربس نے کہا کہ کونسلوں کو مہاجر بچوں کو لے جانے پر مجبور کرناٹھیک نہیں مگر کچھ کونسلوں کی اپنی برادریوں میں بچوں کی دیکھ بھال کے اعلیٰ درجے موجود ہیں۔کچھ کونسلوں کو سماجی کارکنوں کو تلاش کرنے میں حقیقی چیلنجز ہوتے ہیںمیرے خیال میں اصل میں جو ہوا ہے وہ الٹا ہے۔ ہم نے ایسی کونسلیں دیکھی ہیں جن کے پاس سسٹم میں چند بچے ہیں جو مزید لینے کی پیشکش کرتے ہیں اوریہ سیاسی مرضی کا معاملہ ہے۔دوسری جانب فرانس نے غیرقانونی تارکین وطن کی نقل وحمل روکنے کیلئے فرانسیسی ساحلوں پر گشت کرنے کی برطانوی پیشکش کو فرانس نے بری طرح مستر دکر دیا ۔فرانس نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ کو فرانسیسی سرحدوں پر گشت کر نے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس اقدام سے اس کی خود مختار کو خدشات لاحق ہوجائیں گے۔ سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کی طرف سے فرانسیسی سمندر پر ممکنہ گشت کے منصوبوں پر بات چیت کے بعد فرانس کی طرف سے یہ رد عمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق فرانسیسی ساحلوں پر گشت سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد رفت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ان کی واپسی کرنا آسان ہوگا ۔رواں ماہ چینل عبور کر کے برطانیہ داخل ہونیوالے تارکین وطن کی تعداد 4ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ رواں سال مجموعی طو رپر 25ہزار کے قریب تارکین وطن برطانیہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہاؤس آف کامنز میں ممکنہ مشترکہ گشت کے بارے میں پوچھے جانے پر سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل نےجواب میں کہا کہ ہم تمام آپشنز پر تبادلہ خیال کرتے ہیں چاہے متبادل بحری گشت کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ سرکاری محکموں کی ذمہ داریوں پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے لیکن ہمارے ہم منصبوں اور حکومت کے دیگر محکموں کیساتھ کام ہو رہا ہے۔ برطانیہ نے فرانس بارڈر فورسز اور پولیس افسران کو یورپی ساحلی پٹی پر نظام کو موثر بنانے میں مدد کی پیشکش کی تھی لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس طرح کی اسکیم فرانسیسی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں کرے گی یہ اس وقت ہوا جب تارکین وطن کو کینٹ کے ساحلوں پر پہنچنے کے بعد پروسیسنگ کے لیے 500 میل کا فاصلہ طے کر کے سکاٹ لینڈ لے جایا گیا کیونکہ نظام کراسنگ کی ریکارڈ تعداد میں جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک پریشر گروپ کے مطابق درجنوں افراد نے گزشتہ چند ہفتوں میں ساؤتھ لنارکشائر کے اسٹرتھاون میں ڈنگویل امیگریشن حراستی مرکز کا آٹھ گھنٹے کا سفر طے کیا ہے اب تک ڈوور سے ایک یا دو گھنٹے کے فاصلے پر ہوم آفس کے قلیل مدتی انعقاد کی سہولیات میں تارکین وطن پر کارروائی کی جاتی رہی ہے لیکن ان کی ریکارڈ آمد نے حکام کو مزید دور کی سہولیات استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دریں اثناء سینئر ٹوریز نے خبردار کیا ہےکہ انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد سے نمٹنے میں ناکامی یو کے آئی پی طرز کی نئی سیاسی جماعت کے عروج کو ہوا دے سکتی ہے بعض کنزرویٹو شخصیات کے درمیان یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس معاملے پر عدم فعالیت دائیں بازو کی ایک نئی سیاسی قوت کے ابھرنے کا باعث بن سکتی ہے جو اگلے عام انتخابات میں ٹوریز کو ان کی اکثریت سے محروم کر سکتی ہے۔

یورپ سے سے مزید