• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِن دنوں ملک کی سیاست میں خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے آڈیو اور وڈیو کلپس کا کافی زور ہے جنہیں ایک کے بعد ایک کرکے منظرِ عام پر لایا جارہا ہے۔پہلے سابق چیف جسٹس ،ثاقب نثار کی اور پھر مریم نواز کی آڈیو ریکارڈنگز سامنے آئیں۔ اگلے مرحلے میں لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر133میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے بارے میں سامنے آنے والی وڈیوز نے سیاسی میدان کو گرمایا۔

اس سے قبل،نیب کے چیئرمین ، جاوید اقبال کی مبینہ طورپرایک نجی نوعیت کی آڈیو،وڈیو ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی تھی۔پھر میاں نواز شریف کو سزا سنانے والی احتساب کی عدالت کے منصف ،ارشد ملک کی مبینہ وڈیو نے سیاست میں کافی ہلچل پیدا کی تھی۔ یہ آڈیو،وڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر لائی گئیں تو ہر محفل اور ہر ٹی وی چینل پر اس بارے میں گفتگو کی جانے لگی۔پھر اس بارے میں تحقیق کیے جانے کا شور اٹھا۔چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ ریکارڈنگ منظرِ عام پر آنے کے فوری بعد حکومت کی ترجمان نے اس کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کا عندیہ دیا، لیکن بعد میں یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔ دیگر حلقے بھی اس ریکارڈنگ کا فورینزک ٹیسٹ کرانے کی باتیں کررہے تھے۔

آج بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال ہے، لیکن اس مرتبہ حکومت اس ضمن میں بالکل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان حالات میں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال ابھرا ہے کہ فورینزک ٹیسٹ کس بلا کا نام ہے اور یہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بہت سے افراد فورینزک سائنس کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات تو رکھتے ہیں، لیکن وہ جرائم کی تفتیش اور تحقیق کے لیےاستعمال ہونے والی اس جدید سائنس کے بارے میں مزید جاننے کے خواہش مندد کھائی دیتے ہیں ۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سائنس کیا ہے،کس طرح کام کرتی ہے اور آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فورینزک جانچ کس طرح کی جاتی ہے۔

ملک قیوم کی آڈیو ریکارڈنگز

پاکستان کی سیاست میں جس آڈیو ریکارڈنگ نے غالبا سب سے زیادہ ہلچل پیدا کی وہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور سابق اٹارنی جنرل ،ملک محمدقیوم کی تھی۔ جسٹس ملک محمد قیوم جو 1998میں لاہور ہائیکورٹ کی احتساب بینچ کے جج ہوا کرتے تھے اور پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل بنائے گئے۔ملک قیوم نے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی، لیکن سزا سنانے کے کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی نے ان کے آڈیو ٹیپس جاری کیے جن میں ان کی اس وقت کے وزیر قانون خالد انور، احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ گفتگو موجود تھی۔

اس گفتگو کے مطابق جسٹس ملک قیوم نے وزیراعظم نواز شریف کی خواہش اور دبائو پر محترمہ بےنظیر بھٹو کو سزا سنائی تھی۔27اپریل 1998کو ملک قیوم نے محترمہ بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو سزا سنا ئی تو شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ شکریہ بھی ریکارڈ ہو گیا۔کسی طرح یہ ٹیپس محترمہ بےنظیر بھٹو تک پہنچ گئے۔ ان میں وہ ٹیپ بھی تھا جن میں ملک قیوم کی اپنی اہلیہ کے ساتھ گفتگو ریکارڈڈ تھی اور وہ اہلیہ کو حکومت کے دبائو سے آگاہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں ملک قیوم نے دو ہزار ایک میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس وقت ان پر پیشہ ورانہ بد دیانتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

ملک قیوم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کی بینچ نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کوبدعنوانی کے مقدے میں پانچ سال قید، چھیاسی لاکھ ڈالرزجرمانے،رکنِ پارلیمان بننے پر پانچ سال کی پابندی اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے مارچ انیس سو ننانوے میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔

فروری دو ہزار ایک کو برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بتیس ٹیپس کی بنیاد پر ایک تفصیلی خبرشائع کی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ملک قیوم نے بے نظیر اور آصف زرداری کو سیاسی بناء پر سزا سنائی تھی۔ ان ریکارڈنگز میں ملک قیوم نواز شریف حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن سے سزا کے سلسلے میں حکم مانگ رہے ہیں۔ ملک قیوم نے پوچھا ’آپ بتائیں کہ آپ کتنی سزا دینا چاہتے ہیں اس (بینظیر) کو؟’اس ریکارڈنگ کے سامنے آنے پر سپریم کورٹ نے بے نظیربھٹو کی اپیل کے حق میں فیصلہ دیا اور ہائی کورٹ کی سزا ختم کردی تھی۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نےلکھا کہ ملک قیوم نے یہ فیصلہ سیاسی بناء پر دیا تھا۔ پھر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشہ ورانہ بد دیانتی کے الزامات سامنے آنے پر قیوم نے استعفیٰ دے دیا۔

اس کے بعد فروری 2008 میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کےسابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کا ایک مبینہ آڈیو ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر پیش کیا تھاجس میں وہ نامعلوم شخص کو آئندہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہونے کا بتا رہے تھے۔ تاہم اٹارنی جنرل نے ’’یہ ریکارڈنگ جعلی ہے‘‘ کہہ کر اس کی تردید کی تھی۔

اس ریکارڈنگ میں ملک قیوم مبینہ طور پر ایک نامعلوم شخص کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کس سیاسی جماعت سے امیدوارکا ٹکٹ لینے کے لیے رجوع کریں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ،ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ یہ ریکارڈنگ اکیس نومبر کو میڈیا کے ایک نمائندےکے ساتھ انٹرویو کے دوران کی گئی تھی۔ تنظیم کے مطابق یہ ریکارڈنگ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے ایک دن بعد کی گئی تھی۔انتخابات آٹھ جنوری کو منعقد ہونے تھے، لیکن سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد یہ انتخابات موخر کردیے گئے تھے۔

بنیادی اصول

کل اور آج جن کی ریکارڈنگز سامنے آئیں انہوں نے انہیں ماننے سے انکار کردیا۔ایسے میں فورینزک سائنس دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیتی ہے۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایڈمنڈلو کارڈ نے کہا تھا: ’’ہر رابطہ یا تعلق کوئی نہ کوئی سراغ یا نشان ضرور چھوڑتا ہے۔ 1877ء میں پیدا ہونے والے لوکارڈ کے اس قول نے لوکارڈ ایکس چینچ پرنسپل کے نام سے عِلم جرمیات میں عالمی شہرت پائی، لہٰذا بعد میں اسے فرانس کے شرلاک ہومز کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا۔ اس کا یہی اصول فورینزک سائنس کا بنیادی اصول مانا جاتا ہے ۔

جدید دنیا میں جرمیات کے شعبے میں فورینزک سائنس کا استعمال تقریباً ایک صدی قبل شروع ہوگیا تھا، جب ایڈمنڈلوکارڈ نے دنیا میں پہلی کرائم لیب 1910ء میں ایک پولیس اسٹیشن کی بالائی منزل پر قائم کی تھی۔آج دنیا اس شعبے میں بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ ایسی سائنس ہے جس کے ذریعے ماضی اور مستقبل میں بھی جھانکا جاسکتا ہے۔ ماضی میں ہونے والے جرم کا پوری صحت سے سراغ لگایا جاسکتا ہے اور مستقبل میں ہونے والے جرائم بڑی حد تک روکے جاسکتے ہیں۔

فورم سے فورینزک تک

جرم کی تحقیق اور تفتیش اور عدالت میں جرم اور مجرم کے درمیان تعلق ثابت کرنے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ جرائم کی نوعیت پے چیدہ ہوتی جارہی ہے، لہٰذا ان کی تفتیش اب آسان نہیں رہی ۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے بھی نت نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے لیس ہوتے جارہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک جرم کی تفتیش سے متعلق نت نئی مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے ضمن میں بہت آگے ہیں۔

یہ درست ہے کہ مغربی دنیا کے تفتیش کار بعض اوقات جرم ہونے سے پہلے مجرموں کا کھوج لگا لیتے ہیں اور وہاں اکثر جرائم کی کام یابی سے تفتیش ہوجاتی ہے، لیکن ایسا کیوں کر ہوپاتا ہے؟ جدید دور میں اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہاں جرم کی تفتیش کے دوران جدید ترین سائنسی نظریات اور ٹیکنالوجی سے بھرپور مدد لی جاتی ہے اور اس ضمن میں فورینزک سائنس (Forensic Science) کا کردار سب سے اہم گردانا جان جاتا ہے۔ اسے مختصراً فورینزکس (Forensics) لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔

انگریزی زبان میں فورینزک کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ Forensis سے آیا ہے، جس کے معنیٰ ہیں Forum ۔ رومیوں کے دور میں کسی شخص پر کوئی جرم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے تو مقدمہ عوامی نمائندوں کی مجلس کے سامنے پیش ہوتا۔ ملزم اور مدعی اس مجلس میں پیش ہوکر اپنے مؤقف کے حق میں تقریر کرتے یا بیان دیتے ،جو شخص بہترین انداز میں اپنا مدعا بیان کرتا، مقدمے کا فیصلہ اس کے حق میں ہوجاتا۔ المختصر، جو شخص اپنی بہترین فورینزک مہارت کا مظاہرہ کرتا، وہ جیت جاتا۔

واضح رہے کہ انگریزی زبان میں فورینزک کے معنیٰ ہیں: عدالتی، قانونی یا وہ عدالتی امور، جو بالخصوص تفتیشِ جرم سے تعلق رکھتے ہوں۔ اردو زبان میں فورینزک سائنس کا ترجمہ قضائی علم کیا جاتا ہے، یعنی وہ علم جو قضا (موت) سے متعلق ہو۔ تاہم جدید دور میں اردو اور انگریزی زبانوں میں اس سائنس کا ایک یا دو لفظوں میں جامع ترجمہ کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے، کیوں کہ اب اس علم کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ انگریزی زبان کی بھی لغات میں اس کے لفظی ترجمے کے بجائے تشریح ملتی ہے، جو کچھ یوں ہے: ’’عدالتی نظام میں اٹھائے جانے والے سود مند سوالات کا جواب دینے کے لیے سائنسی علوم کا وسیع پیمانے پر اطلاق‘‘یا ’’شواہد جمع کرنے اور ان کی جانچ پرکھ کے لیے استعمال کیا جانے والا سائنسی طریقہ۔‘‘

پھیلتی سرحدیں

پہلے فورینزک سائنس کی اصطلاح کا ذکر آتے ہی ذہن میں ہاتھ کی انگلیوں، ہتھیلیوں، پیروں اور دانت کے نشانات، خون کے دھبوں، بال، کپڑوں یا چمڑے وغیرہ کے ریشوں، ہاتھ یا ٹائپ رائٹر سے لکھی گئی عبارت، اس میں استعمال ہونے والی روشنائی اور کاغذ، آتشیں ہتھیار اور اس میں استعمال ہونے والی اشیا، مثلاً بارود، چھروں، گولی کے خول وغیرہ کے معائنے کا تصور ابھرتا تھا، لیکن اب یہ اصطلاح بہت وسعت اور جدّت اختیار کرگئی ہے۔

اس سائنس کی معلوم تاریخ کے مطابق کسی جرم کا پتا لگانے کے لیے سب سے پہلے طبّی معلومات کے استعمال کا سراغ 1248ء میں چین میں تحریر کی گئی ایک کتاب میں ملتا ہے۔ ’’برائی کو دھو ڈالنے‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب میں ڈوب کر ہلاک ہونے اور گلا گھونٹ کر ہلاک کیے جانے کے فرق کو جانچنے کے طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ اطالوی ڈاکٹر Fortunatus Fidelis جدید طبِ قانون (Forensic Medicine) استعمال کرنے والا پہلا شخص قرار دیا جاتا ہے۔ اس نے یہ سلسلہ 1598ء میں شروع کیا تھا۔ قانونی معاملات میں طبّی معلومات کا استعمال طبِ قانونی کہلاتا ہے اور انیسویں صدی کے اوائل میں اسے طب کی ایک شاخ کا درجہ دے دیا گیا تھا۔

فورینزک سائنس کی تاریخ میں ابتدائی مشینی حوالوں کی تلاش کے دوران پہلی کوشش جیمز میکنزی کی ملتی ہے ،جس نے 1902ء میں جھوٹ پکڑنے والی مشین (Poly Graph) کا اوّلین نمونہ تیار کیا تھا، تاہم جھوٹ کا سراغ لگانے والی جدید مشین جان لارسن (امریکا) نے 1921ء میں ایجاد کی۔ یہ مشین 1924ء سے مغرب میں پولیس کے استعمال میں ہے، تاہم اس کے فراہم کردہ نتائج آج بھی متنازع قرار دیے جاتے ہیں اور عدالت انہیں قابلِ اعتماد ثبوت قرار نہیں دیتی۔ انیسویں صدی میں یہ پتا چلا کہ کس سطح پر انگلیوں کے نشانات مخصوص کیمیائی مواد استعمال کرکے دیکھے جاسکتے ہیں۔

جدید دور میں 1880ء میں پہلی مرتبہ انگلیوں کے نشانات کی شناخت کا پتا چلتا ہے، جب برطانیہ سے شایع ہونے والے سائنسی رسالے ’’نیچر‘‘ نے ہینری فالڈز اور ولیم جیمز ہرشل کے وہ خطوط شایع کیے، جن میں انگلیوں کے نشانات کی انفرادیت اور ان کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کے بارے میں تفصیلات موجود تھیں۔ ان کے مشاہدات کی تصدیق برطانوی سائنس داں سر فرانسس گالٹن نے کی اور ان نشانات کو محرابوں، دائروں اور خطوط کے لحاظ سے گروہ بنا کر ان کی درجہ بندی کا پہلا نظام پیش کیا۔بعد ازاں لندن کے پولیس کمشنر، سر ایڈورڈ آرہنری نے اسے بہتر بنایا اور جون 1900ء میں گالٹن۔ ہنری کا نظام برائے درجہ بندی شایع ہوا۔ 1901ء میں اسے اسکاٹ لینڈ یارڈ میں سرکاری طور پر متعارف کرایا گیا، جو آج بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

1854-59ء کے دوران سان فرانسسکو میں پہلی مرتبہ مجرموں کی شناخت کے لیے تصاویر بنانے کا باقاعدہ نظام قائم ہوا، پھر لعابِ دہن کے ذریعے مجرم کی شناخت نے موقعِ واردات پر جرم کی تحقیقات میں ڈرامائی انداز میں بہتری پیدا کی۔ 1888ء میں امریکا میں پہلی مرتبہ شکاگو میں فرانسیسی ماہرِ علمِ جرمیات، الفانسے برٹی لون کی مجرم کی اس کی قدو قامت کی پیمائش کے ذریعے شناخت کا نظام اپنایا گیا۔ 1910ء میں لیون، فرانس، میں ایڈمنڈ لوکارڈ نے پولیس کے محکمے میں اوّلین کرائم لیباریٹری قائم کی۔

پولیس اسٹیشن میں استعمال کے لیے جھوٹ کا سراغ لگانے والی موجودہ مشین کا ابتدائی ماڈل 1930ء میں بنایا گیا۔ 1948ء میں امریکن اکیڈمی آف فورینزک سائنسز کا پہلا باقاعدہ اجلاس ہوا۔ 1975ء میں ایف بی آئی (امریکا) نے فنگر پرنٹس کی شاخت کرنے والی مشین کا پہلی مرتبہ استعمال شروع کیا۔ 1996ء میں امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے یہ حتمی اعلان کیا کہ ڈی این اے کی جانچ کے ذریعے فراہم کیے گئے ثبوت قابلِ اعتماد ہیں۔

بہت سی شاخیں

اب یہ علمِ انسانی نفسیات، ریاضی، علمِ بشریات، علمِ حیاتیات، آتشیں اسلحے اور مواد، انجینئرنگ، دھاتوں کے علم، تحریر کے علم، علمِ صوت و بصر، علمِ فلکیات، علمِ الاراض، الیکٹرونکس کے علم، آرٹ، آگ سے متعلق علم، علمِ کیمیا و طبیعات، جوہروں اور سالموں (اٹامک اور مالیکیولر) کے علم وغیرہ تک وسعت اختیار کرگیا ہے۔ جدید دنیا میں جرائم سے متعلق ثبوت کا تجزیہ اب ایسی تجربہ گاہ میں کیا جاتا ہے، جہاں درج بالا شعبوں سے متعلق مشینیں، آلات اور ماہرین موجود ہوتے ہیں، تاہم علمِ البشر، علمِ آثار قدیمہ، علمِ الحشرات، علمِ حیاتیات، علمِ ارضیات، علمِ الاراض، علمِ نفسیات اور موسم اور زہر سے متعلق علم کا اس ضمن میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

علمِ البشر کے ذریعے انسانی ڈھانچوں، علمِ آثار قدیمہ کے ذریعے شواہد پرگزرے ہوئے وقت، علمِ حیاتیات کے ذریعے خون کے اجزاء اور ڈی این اے، علمِ الحشرات کے ذریعے کسی لاش کے ارد گرد پائے جانے والے حشرات کی مدد سے اس کی موت کا وقت اور مقام، علمِ ارضیات کے ذریعے جائے وقوعہ، موسموں کے علم کے ذریعے وقوعہ کے وقت کے موسمی حالات، دانتوں کے علم کے ذریعے متوفی یا مجرم کی شناخت، علمِ الامراض کے ذریعے موت کی وجوہ، زہر کے علم کے ذریعے متوفی کے جسم پر ادویات یا زہر کے اثرات، علمِ نفسیات کے ذریعے جرم کی وجوہ اور آتشیں اسلحے اور دھماکا خیز مواد کے علوم کے ذریعے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ جائے وقوعہ پر کتنے فاصلے، زاویے طریقے وغیرہ سے کس قسم کا ہتھیار یا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس کی نقصان پہنچانے کی طاقت کس قدر تھی۔

فورینزک سائنس میں آج بہت زیادہ اہمیت کا حامل ڈی این اے ٹیسٹ ہے۔ ڈی این اے دراصل ڈی آکسی رائبو نیوکلک ایسڈ کا مخفف ہے، جو ہر جان دار کے خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ یہ دراصل کسی جان دار کی جینیاتی شناخت ہوتی ہے۔ جسے Genotype کہتے ہیں۔ ہر جان دار کی جینوٹائپ علیحدہ ہوتی ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ یا ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے مالیکیولر جینیٹک طریقے استعمال کیے جاتے ہی۔ ڈی این اے خون، لعابِ دہن، مادۂ منویہ، ہڈی اور جِلد سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

جرائم کی تحقیق کے لیے جینیاتی شواہد کا استعمال پہلے پہل خون کے گروہوں کی درجہ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔ 1980ء کی دہائی میں پہلی مرتبہ ڈی این اے کی بنیاد پر فورینزک ٹیسٹ کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں اس کے لیے RFLP کا طریقہ استعمال کیا گیا، لیکن پھر اس کی جگہ PCR طریقے نے لے لی، جو آج دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر فورینزک مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جدید طریقے کے مطابق کرۂ ارض پر موجود کوئی بھی دو انسانوں کے درمیان فرق تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اب ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے خاندانی تعلق کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے، مثلاً الف، ب کی اولاد ہے یا نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب یہ ٹیسٹ بہت سے قانونی اور عدالتی معاملات میں قابلِ اعتماد اور ضروری قرار پا گیا ہے۔

فورینزک سائنس کا دل چسپ پہلو

فورینزک سائنس کا دل چسپ پہلو یہ ہے کہ اس کی مدد سے کوئی غیر مرئی، بہت معمولی یا غیر اہم ثبوت مجرم کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچا دیتا ہے، مثلاً گاڑی کے ٹائر کے نشانات، بال، رال کوئی قلیل یا کم یاب کیمیائی مادہ (Trace Element)، حشرات الارض، موسمی حالات وغیرہ۔ سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہر علاقے میں پائے جانے والے حشرات الارض مختلف ہوتے ہیں ۔جب کسی شخص کو کسی مقام پر قتل کرکے دوسرے مقام پر اس کی لاش پھینک دی جاتی ہے تو لاش کا باریک بینی سے مطالعہ کرکے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ اس پر کس قسم کے حشرات الارض موجود ہیں اور پھر ان کی مدد سے قتل کے مقام اور وقت کا تعین کیا جاتا ہے۔

علمِ ارضیات کے ذریعے بھی اسی نوعیت کی جانچ کی جاتی ہے اور لاش پر لگی ہوئی مٹی اور اس کے اجزائے ترکیبی کا پتا لگایا جاتا ہے۔ موسموں کے علم کے ذریعے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ متوفی کو کس موسم میں قتل کیا گیا اور کیا لاش ان ہی موسمی حالات میں موجود ہے یا اسے کسی اور موسمی حالات والے علاقے میں لاکر پھینکا گیا ہے۔ دانتوں کے علم کے ذریعے متوفی کی جنس اور صحت وغیرہ کے بارے میں تعین کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ہر انسان کی دانتوں کی ساخت انفرادیت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر جرم کے پس منظر میں کچھ حالات و واقعات ہوتے ہیں۔ ان حالات و واقعات اور طریقۂ واردات کا علمِ نفسیات کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے اور حاصل شدہ نتائج کی روشنی میں مجرم کا دماغ پڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وسیع دائرہ

فورینزک کے مقاصد کے لیے آج درج ذیل علوم، سائنس یا شعبوں کی مدد لی جاتی ہے۔ فورینزک سائیکا لوجی، فورینزک نرسنگ، فورینزک اکائونٹنگ، فورینزک اینتھروپالوجی، فورینزک فائلز، فورینزک ڈینٹسٹری، فورینزک اینٹامالوجی، فورینزک بیلسٹکس،بلڈ اسٹین پیٹرن اینالسس، ڈی این اے اینالسس، فورینزک ٹاکسی کالوجی، ایکسپلوژن اینالسس، کمپیوٹر فورینزک، فورینزک انجینئرنگ، فورینزک فائر انویسٹی گیشن، وہیکولر ایکسی ڈینٹ انویسٹی گیشن، کرائم سین لیبارٹریز، ڈیٹا ریکوری لیب، ہینڈ رائٹنگ اینڈ سگنیچر انویسٹی گیشن، شوٹنگ انسی ڈینٹ ری کنسٹرکشن، آڈیو اینڈ وڈیو فورینزک، فلکیاتی شواہد، آٹوتھیفٹ اینڈ فورینزک لاک اینالسس ایکسپرٹ، فورینزک فوٹو گرافی، لیزر ٹیکنالوجی،فورینزک پیتھالوجی،فورینزک آرٹسٹ، موبائل فون فورینزک، فورینزک الیکٹرونکس، اینالییٹکل فورینزک، اگناٹیٹ ایبل فورینزک،فورینزک کیمسٹری، فورینزک فزکس، اینوائرنمنٹل فورینزک، فورینزک آٹسوٹوپ، فورینزک جینیٹکس، فورینزک مالیکیولر بیالوجی، فورینزک اسٹیٹکس اور فورینزک ڈی ٹیکٹیو وغیرہ۔

آڈیو اینڈ وڈیو فورینزک

آڈیو ویژول اینالسس: اس شعبے میں جدید صوتی و بصری آلات کی مدد سے کسی مشکوک آواز یا تصویر کو اس حد تک بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسے شناخت کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ کوئی جرم ہونے کے درست مراحل کی نقشہ کشی کی جاتی ہے یا انہیں واضح کیا جاتا ہے۔

ڈیجیٹل فورینزک: اس شعبے میں جدید آلات کی مدد سے ڈیجیٹل میڈیا، سیل فونز، سِم کارڈز سے نہ صرف ڈیٹا حاصل اور شناخت کیا جاتا ہے بلکہ اس کا تجزیہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ای میلز وغیرہ کا بھی سراغ لگایا جاتاہے، اسےشناخت کیا جاتا ہے اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

جب کسی ڈیجیٹل آلے(مثلا کیمکورڈر،موبائل فون ،ڈیجیٹل ریکارڈر وغیرہ)سے کوئی آواز،تصویر یا مو وی ریکارڈ کی جاتی ہے تو مختلف کم اور زیادہ وولٹیجز بائنری کوڈ کی صورت میں صفر اور ایک کی سیریز میں محفوظ ہوجاتے ہیں جو کمپیوٹر کے لیے قابلِ فہم ہوتی ہے۔ہر ڈیجیٹل ریکارڈرچلائے جانے پر بائنری کوڈ کی کنورژن کے ذریعے آڈیو اور وڈیو کے سگنل دوبارہ پیدا کرتا ہے یعنی ری پروڈیوس کرتا ہے۔

جب کسی ریکارڈنگ میں ریکارڈنگ کے بعد کسی بھی قسم کی ردوبدل کی جاتی ہے تو ان سگنلز میں تبدیلی آجاتی ہے جس کاماہرین جدید آلات کی مدد سے با آسانی سراغ لگالیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کراس پلس مانیٹر،فریکوئنسی جنریٹر،وڈیو سگنل جنریٹر،اوس سی لو ا سکو پ ،ویووفارم مانیٹر،ویکٹر اسکوپ،الائنمنٹ ٹیپس اور میگنیٹک ڈیولپنگ سلوشنز استعمال کرتے ہیں۔

فورینزک جانچ کے دوران ماہرین صرف تیکنیکی آلات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ صوتیات ،ادائیگی،لہجے کے اتار چڑھاو،گفتگو کے انداز،گفتگو کے دوران آنے والے وقفوں وغیرہ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔بعض صورتوں میں اس کام کے لیے مذکورہ شعبوں کے بہت خاص ماہرین کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے۔

جانچ کے دوران سب سے پہلے فراہم کردہ ریکارڈنگ کی صحت اور معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اگر ریکارڈنگ کا اصلی نمونہ پیش کیا گیا ہو تواس سے ماہرین کو جانچ پڑتال میں کافی سہولت ہوتی ہے اور ایسی جانچ کے نتائج قانونی طورپر زیادہ قابلِ اعتبار تصورکیے جاتے ہیں۔اگر ریکارڈنگ کا معیار خراب ہوتو اسے بہتر بنانے کے لیے کئی اقسام کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں ، جنہیں اینہ انسر کہا جاتا ہے۔

یہ آلات آواز اور تصویر کا معیار بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ شور کم کرنے،ارد گرد کی آواز دبانے،ارد گرد کی اشیا کا رنگ کم یا زیادہ کرنے،ریکاڈنگ میں موجود اشخاص کے ملبوسات کا رنگ اور ان پر موجود ڈیزائن یا بٹن وغیرہ کو زیادہ واضح کرنےاوران کا رنگ تبدیل کرنےکی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ان سے اسی طرح کے کئی اور کام بھی لیے جاتے ہیں۔

بعض اوقات کسی ریکارڈنگ میں کوئی شخص نمایاں طورپر نظر نہیں آرہا ہوتا اور وہ یا تو پسِ منظر میں ہوتا ہے یا اس کا محض سایہ نظر آرہا ہوتا ہے۔ماہرین آلات کی مدد سے اس سائے کو بھی واضح کردیتے ہیں یا اسے اس حد تک واضح کرلیا جاتا ہے کہ اس کے خدوخال اور نقوش کی دھندلی سی تصویر کمپیوٹر یا آرٹسٹ کی مدد سے بنائی جاسکے ۔ اسی طرح ریکارڈنگ میں موجود مدھم آواز تک سننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بعض اورقات یہ ہی مدھم آوازیں اور دھندلے عکس کھیل کا پانسہ پلٹ دیتے ہیں،کیوں کہ ریکارڈنگ میں واضح طورپر نظر آنے والے افراد یا واضح آوازیں اصل کردار کی جانب اشارہ نہیں کررہی ہوتیں ،کیوں کہ وہ تو اپنی شناخت چھپانے کا خواہش مند ہوتا ہے اور تفتیش کاروں کو کسی اور کی تصویر دکھا کر یا کسی اور کی آواز سنواکر دھوکادینا چاہتا ہے۔ اس کام کے لیے ماہرین مختلف اقسام کے کمپیوٹر سافٹ ویئرز استعمال کرتے ہیں ، جنہیں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی زبان میں فلٹرز کہا جاتا ہے ۔ 

خاص رپورٹ سے مزید