سڑکوں پر ٹریفک حادثات میں کمی کےلیے انگلینڈ اور ویلز میں ڈرائیونگ سیکھنے والوں کو تھیوری ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے کےلئے 6 ماہ تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
شاہراہوں کو حادثات سے محفوظ بنانےکےلیے حکومتی حکمت عملی پر مشاورت کے بعد عمل کیا جائے گا، جس کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں ڈرائیونگ کےلیے شراب کی حد کو اسکاٹ لینڈ کے مساوی لانا بھی شامل ہے۔
ڈرائیونگ قوانین میں تبدیلی کا مقصد آئندہ دہائی میں سڑکوں پر حادثات میں ہلاکتوں اور شدید زخمی ہونے کی شرح میں 65 اور 16 برس سے کم عمر میں 70 فیصد تک کمی لانا شامل ہے۔
2024 میں سڑکوں پر اموات اور شدید زخمی ہونے کا سبب بننے والے 5 فیصد ٹریفک حادثات کے ذمے دار نوجوان ڈرائیور تھے۔
حکومت کا خیال ہے کہ تھیوری ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد 6 ماہ تک ڈرائیونگ ٹیسٹ کے انتظار میں انھیں مختلف حالات میں ڈرائیونگ کے تجربہ کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
ان قواعد کا اطلاق والدین یا سرپرست سے ڈرائیونگ سیکھنے والوں کو بھی ہوگا، فی الحال 17 برس کی عمر کے نوجوان تھیوری ٹیسٹ پاس کرکے ٹیسٹ دے سکتے ہیں۔
برطانیہ میں 25-2024 ڈرائیونگ ٹیسٹ دینے والے 55 فیصد کی عمر 17 سے 24 برس کے درمیان تھی، کوویڈ کے سبب پہلے ہی ڈرائیونگ سیکھنے والوں کو ٹیسٹ بک کرنے کےلیے تقریبا 6 ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ صورت حال آئندہ برس تک ایسی ہی رہنے کا امکان ہے۔
مجوزہ تبدیلیوں کے سبب ٹیسٹ دینے کی کم از کم عمر ساڑھے 17 برس ہو جائے گی، برطانیہ میں گریجویٹ ڈرائیونگ لائسنس کیلئے بھی مہم چلائی جارہی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ پاس کرنے والے نئے ڈرائیورز پر رات میں ڈرائیونگ نہ کرنے اور مسافروں کو بٹھانے کی اجازت نہ ہونا شامل ہے۔
لوکل ٹرانسپورٹ منسٹر للیان گرین ووڈ کے مطابق نوجوان ڈرائیور، تمام ڈرائیورز کا 6 فیصد ہیں لیکن وہ ایک چوتھائی مہلک حادثات کے ذمے دار ہیں، نئے مجوزہ قواعد انھیں زیادہ مہارت اور اعتماد مہیا کریں گے۔