• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:حافظ عبدالاعلی درانی ۔۔۔ بریڈفورڈ
انسان فطرتاً نئی چیزکوپسند کرتاہے اس لیے وہ عقائد میں بھی تجدد کومرغوب رکھتاہے حالانکہ عقائد ونظریات اجتہادی امور نہیں ہوتے بلکہ اللہ و رسولﷺ کی طرف سے طے شدہ ہوتے ہیں جیسے توحید کاعقیدہ قرآن کریم نے اپنے نزول کے آغاز ہی میں واضح کردیاتھااور اسی توحید کی وجہ سے نبی پاکﷺ نے سارے زمانے سے دشمنی مول لی تھی ورنہ اہل مکہ آپﷺ کو صادق و امین مانتے تھے ، یہ توحید ہی تھی جس کی وجہ سے آپ کے سگے چچا ابولہب کے ساتھ الجھاؤ پیدا ہوااوریہی عقیدہ توحید انبیائے سابقین اور ان کی قوموں کے درمیان بنیادی وجہ نزاع بنا، اسی طرح مشرکین مکہ وجود باری تعالیٰ کو مانتے تھے ، خالق و مالک اور رزق کاذمہ دار ، بارشیں برسانے والا اللہ ہی کو مانتے تھے وہ یہ بھی مانتے تھے کہ بھنور میں پھنسی ہوئی کشتی صرف خالص اللہ ہی کو پکارنے سے نجات حاصل کرسکتی ہے اس کے باوجود وہ مشرک کہلائے کیونکہ وہ اللہ کریم کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق میں سے بعض کو اللہ کی صفات کاحامل یا اللہ کے ہاں سفارشیں کرنے والا بھی مانتے تھے ،قرآن مجید جو دراصل کتاب التوحید ہے، نے واضح کردیاکہ اللہ کی صفات و ذات میں کسی کو شریک کرنایا سمجھناہی شرک ہے اور یہ جرم کسی صورت میں معاف نہیں کیاجائے گا،قرآن میں متعدد مقامات پر ان عقائد و نظریات کی تردید موجود ہے جو پہلے اور آج کے گمراہ لوگوں میں موجود تھے مثلاً دعا و پکارکرنا بھی عبادت ہے اور یہ خالصتاً اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حق ہے، اللہ کا یہ حق کسی اور کو دینا شرک اکبر ہے جو کبھی معاف نہیں ہوگا،ہاں یہ کہ انسان مرنے سے پہلے توبہ کر لے۔سورہ مومن آیت60 میں ہے’’اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہو چکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے‘‘۔اِس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ اپنی زبان مبارک سے یوں فرماتے ہیں۔سنن ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا’’دُعا ہی تو اصل عبادت ہے‘‘ اور تب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔’’وقال ربکم ادعونی ‘‘تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو۔ میں تمہاری سنوں گا، جو لوگ میری عبادت سے خود سر ہوتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے’‘دُعاء جب عبادت ہے اور عبادت کی جان ہے تو پھر اس کو غیر اللہ کے لیے روا رکھنا غیر اللہ کی عبادت ہوئی اور غیر اللہ کی عبادت کرنا شرکِ اکبرہے ۔سورہ الاحقاف آیت نمبر5.6میں فرمایا ۔’’آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار نہ سن سکیں بلکہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے، اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادت سے صاف انکار کر جائیں گے۔آیت کے الفاظ ’’کانوالھم اعداء و کانوا بعبادتھم کافرین‘‘ سے واضح ہوا کہ اللہ کے سوا ’’پکاری جانے‘‘ والی ہستیاں قیامت کے روز اپنے ’’پوجے جانے‘‘ کے اس فعل سے برأت کریں گی۔ چنانچہ (سورہ مومن کی گزشتہ آیت کی موافقت میں سورۃ الاحقاف کی اِس آیت کے اندر) ان ہستیوں کے ’’پکارا جانے‘‘ کو ’’ان کی عبادت‘‘ قرار دیا گیا ہے۔بنا بریں عیسائیوں کا ʼعیسی علیہ السلام کو پکارنا شرک ہے۔اسی طرح اللہ کے سوا کسی کوبھی پکارنااور اس سے صحت، رزق یا اولاد کا سوالی ہونا، شرکِ اکبرہے۔
یورپ سے سے مزید