• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے نامزد کر کے’گریمی‘ انتظامیہ نے نئی تاریخ رقم کی، عروج آفتاب

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) موسیقی کی دنیا کے اعلیٰ ترین ’گریمی ایوارڈز‘ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ 36 سالہ عروج آفتاب نے کہا ہے کہ ان کی نامزدگی سے ’گریمی‘ کی تاریخ ہی تبدیل ہوگئی۔ امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے عروج آفتاب نے کہا کہ انہوں نے موسیقی کو اتنا وقت دیا ہے کہ اب وہ دوسری جانب جا نہیں سکتیں اور انہیں نامزد کرکے ’گریمی‘ انتظامیہ نے نئی تاریخ رقم کی۔عین ممکن ہے کہ گریمی انتظامیہ نے انہیں انجانے میں ازد خود ہی یہ سمجھ کر نامزد کیا ہو کہ ان کی موسیقی باقیوں کی طرح مغربی دنیا کی ہے مگر ساتھ ہی کہا کہ انہیں نامزد کرکے انتظامیہ نے تاریخ ہی بدل دی۔عروج آفتاب نے بتایا کہ ان کی موسیقی میں ذاتی درد اور مسائل کی جھلکیاں ہیں، ان کے پہلے البم ’ولچر پرنسز‘ کے گانوں میں ان کی سہیلی اور نوجوان بھائی کی اچانک موت کا درد بھی شامل ہے۔عروج آفتاب نے اپنے آباؤ و اجداد یعنی مرزا غالب، رومی اور حفیظ ہوشیارپوری جیسے شاعروں کی شاعری کو ناقابل یقین حد تک کلاسک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ ان کی شاعری کو جدید انداز میں پیش کریں۔عروج آفتاب لاہور سے تعلق رکھنے والے والدین کے ہاں سعودی عرب میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام سعودی عرب و پاکستان میں گزارے۔بعد ازاں وہ کم عمری میں ہی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلی گئیں، جہاں انہوں نے فیلوشپ پر موسیقی کی تعلیم حاصل کی اور گزشتہ 15سال سے وہ نیویارک میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا البم ’ولچر پرنسز‘ بھی امریکی موسیقاروں اور ساتھیوں کی مدد سے رواں برس ہی ریلیز کیا تھا۔ان کے گانے ’محبت‘ کو گریمی ایوارڈز میں نامزدگیاں ملیں، انہیں 64 ویں سالانہ ایوارڈز کے لیے دو ’بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس‘ اور ’بیسٹ نیو آرٹسٹ‘ کیٹیگریز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔سال 2022میں ’گریمی‘ کی 64 ویں سالانہ تقریب ہوگی، جس کے لیے نامزدگیوں کا اعلان 23 نومبر کو کیا گیا۔

دل لگی سے مزید