ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد یہ تاثر درست نہیں کہ ایرانی حکومت فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک جذباتی اور جلد بازی پر مبنی تجزیہ ہے، کیونکہ ایران کا نظام ایک فرد کے بجائے مضبوط اداروں پر قائم ہے۔
یہ واقعہ بلاشبہ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ کو لگنے والا سب سے بڑا دھچکا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ نظام اتنا مضبوط ہے کہ اس جیسے بڑے بحران کو برداشت کر سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا نظام کسی ایک شخصیت کے سائے میں قائم نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظریاتی اور سیکیورٹی ڈھانچے پر مبنی ہے، اس میں مذہبی قیادت، سیکیورٹی ادارے، بیوروکریسی اور معاشی نظام سب شامل ہیں، جو مل کر ریاست کو برقرار رکھتے ہیں۔
ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کی وفات یا شہادت کی صورت میں آرٹیکل 111 کے تحت ایک عبوری کونسل اقتدار سنبھالتی ہے، اس وقت ایک 3 رکنی کونسل، جس میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور گارڈین کونسل کے رکن علی رضا اعرافی شامل ہیں، عبوری طور پر اختیارات چلا رہی ہے، مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگان کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ آئینی طریقہ کار دراصل ایک سروائیول پروٹوکول ہے، جو نظام کو بڑے بحران میں بھی جاری رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاہم اصل طاقت کے توازن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی نظام 3 بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے، جس میں مذہبی و نظریاتی قیادت، سیکیورٹی و عسکری ادارے اور سیاسی و انتظامی ڈھانچہ شامل ہے۔
ان میں سب سے اہم کردار اسلامی انقلابی گارڈ کور کا ہے، جسے نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، یہ ادارہ داخلی سیکیورٹی، علاقائی پالیسی اور معاشی اثر و رسوخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ آیا IRGC متحد رہتا ہے یا نہیں، کیونکہ یہی ادارہ نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی نظریاتی حکومتیں بیرونی دباؤ اور جنگ کی صورت میں اکثر کمزور ہونے کے بجائے مزید سخت ہو جاتی ہیں، اسی لیے امکان ہے کہ ایران میں فوری تبدیلی کے بجائے سخت گیر پالیسیوں میں اضافہ ہو۔