• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


نسلہ ٹاور کیس میں ڈی آئی جی ایسٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرکے 5رکنی تحقیقاتی ٹیم بنادی، پولیس کی جانب سے ایس بی سی اے افسران کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے حکام نے نسلہ ٹاور کے 30 ذمہ داران کے نام دیئے ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے صفدر مگسی کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

پولیس کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے صفدر مگسی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

صفدر مگسی نسلہ ٹاور بنائے جانے کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایس بی سی اے تھے، سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور قادر عرف کاکا نے صفدر مگسی کو 21 گریڈ پر تعینات کر رکھا تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرایس بی سی اے ماجد مگسی اور اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز حسین و دیگر کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سندھی مسلم سوسائٹی کے ذمہ داران نے تاحال نام فراہم نہیں کیے ہیں، ان کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ نسلہ ٹاور کیس میں ڈی آئی جی ایسٹ کی قائم کردہ 5رکنی تحقیقاتی ٹیم فیروزآباد میں درج مقدمے کی تحقیقات کررہی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے انچارج ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن ہیں،کمیٹی نسلہ ٹاور کے ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کررہی ہے۔

قومی خبریں سے مزید