• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا، زلزلے، سیلاب سیکڑوں افراد کو نگل گئے، موسمیاتی تبدیلیاں چیلنج رہیں

آندھیاں، بادوباراں، گرجتے بادل، کوندتی بجلیاں، سیلابوں کے ریلے، زلزلوں کے جھٹکے، جنگلات میں آگ کے شعلے، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے حادثات کے وہ اسباب ہیں، جنھیں ہم قدرتی آفات کا نام دیتے ہیں۔ قدرتی آفات کا سلسلہ ازل سے جاری ہے، جن کے باعث لاکھوں افراد لقمہ ٔ اجل بنتے ہیں اوران کی لپیٹ میں آکر بستیوں کی بستیاں اجڑ جاتی ہیں۔ شاید ہی دنیا کا کوئی خطّہ قدرتی آفات کی تباہی سے متاثر ہوئے بغیر رہا ہوگا۔ 

سمندری طوفان، سیلاب، زلزلے یا مہلک وائرسز سے پھیلنے والی وبائوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے سامنے دنیا کے جدید ترین سہولتوں کے حامل ترقی یافتہ ممالک بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ کرئہ ارض کے مختلف مقامات پر آئے روزحادثات و واقعات مختلف صورتوں میں جنم لیتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں خطّے کا کوئی ملک سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہے،تو کوئی دوسراملک ہزاروں ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات میں لگنے والی آگ سے نبرد آزما ہے، تو کوئی ٹڈی دل کے کھیت کھلیانوں پر حملے کی وجہ سے پریشان۔ یہ تلخ حقیقت آج بھی اپنی جگہ برقرارہے کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی، جدید ترین ایجادات اور مختلف علوم میں مہارت کے باوجود انسان ان قدرتی آفات کے سامنے بے بس ہے۔

قدرتی آفات کے حوالے سے 2021ء کا جائزہ لیا جائے، تو پتاچلتا ہے کہ خوش قسمتی سے بنی نوع انسان کسی بڑی تباہی سے دوچار نہیں ہوا۔ اسی تناظر میں اپنے مُلک کی بات کی جائے، تو الحمدللہ ہمارا ملک بھی کسی بڑی قدرتی آفت سے محفوظ رہا، تاہم اپنی غفلت اور کوتاہی کے سبب بہت سے افراد مختلف حادثات کا شکار ہوکر موت کے منہ میں ضرور چلے گئے۔2021ء میں گھوٹکی ٹرین حادثے سمیت ملک کے مختلف شاہ راہوں پر ٹریفک حادثات، کارخانوں میں آتش زدگی کے واقعات، قبائلی تنازعات، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگز، ماحولیاتی آلودگی اور علاج معالجے کی عدم سہولت کی وجہ سے ہزاروں افراد موت کا شکار ہوئے۔

زلزلے :اگرچہ اللہ رب العزت نے ہمیں کسی بڑے سانحے سے بچائے رکھا، تاہم مون سون کی بارشوں کے دوران ہونے والی تباہیوں اور کم شدّت کے زلزلوں میں متعدد افراد جان کی بازی ہارگئے۔ زلزلے کے حوالے سے ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان میں غزہ بند کے علاقے میں ایک خطرناک فالٹ موجود ہے، جب کہ کوئٹہ میں زلزلہ ری لوڈ ہوچکا ہے، جو کہ یقیناً باعثِ تشویش ہے۔ بدقسمتی سے کوئٹہ شہر ریڈزون میں واقع ہے، مگر بلڈنگ کوڈ کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے، ملک کے دیگر شہروں میں بھی ماہرین کے انتباہ کے باوجود بلڈنگ کوڈ پر عمل دررآمد نہیں ہورہا۔ 

خدانخواستہ اگر شدید نوعیت کا زلزلہ آجائے، تو ہمیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ قدرت کی طرف سے 7اکتوبر کو بلوچستان کے شہر ہرنائی اور 8دسمبر کو کراچی جیسے کثیر الآباد شہر میں اس کا اشارہ مل چکا ہے۔ 7اکتوبر 2021ء کی شب رات 3بج کر 2منٹ پر کوئٹہ، سبّی، ہرنائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن، زیارت اور ژوب سمیت کئی علاقوں میں زلزلے کی شدّت 5.9ریکارڈ کی گئی، جس میں 20 افراد جاں بحق، جب کہ سیکڑوں زخمی و بے گھر ہوئے۔ 8دسمبر کو عروس البلاد، کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ملیر کینٹ، اسکیم 33، گلشنِ حدید اور گڈاپ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 تھی۔

زلزلے کی نوعیت ایسی تھی کہ لوگ قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے، تاہم کسی قسم کا کوئی مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سندھ اور مکران کے ساحل بھی قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔ مکران کے ساحل سے 50کلومیٹر دور سبڈکشن زون کی حیثیت سمندر میں موجود ایٹم بم کی سی ہے۔ بہرحال قدرتی آفات، مختلف انسانی حادثات اور واقعات سے نمٹنے کے لیے عوامی شعور بلند کرنے کے ساتھ ساتھ قانونِ قدرت اور انتظامی معاملات کے علوم پر توجّہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے، کیوں کہ آفات اور بلائیں اپنے ساتھ بہت کچھ بہا لے جاتی ہیں۔

2021ء میں پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں چھوٹے بڑے زلزلے آتے رہے۔ 15جنوری 2021 ء کو انڈونیشیا کے شہر سولاویسی کے ساحلی علاقے میں 6.2کی شدّت سے آنے والے زلزلے میں 108افرادہلاک، جب کہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ 10اپریل کو انڈونیشیا ہی کے مشرقی شہر جاوا میں 6.0کی شدّت سے آنے والے زلزلے میں 10افراد ہلاک ہوئے۔ 14 اگست کو جنوبی امریکا کی ریاست جمہوریہ ہیٹی میں 7.2شدّت کے زلزلے میں 2248افراد ہلاک ہوئے، جب کہ 28نومبرکو شمالی امریکا کے ملک پیرو میں 7.5کی شدّت سے زلزلہ آیا، جس میں 12افرادہلاک ہوئے۔

بارشیں، سیلاب:2021ء سال مون سون کی موسلادھار بارش نے 23 ستمبر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر، کراچی کےبعض حصّوں میں ٹریفک کے شدید مسائل پیدا کردیے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سےہزاروں گاڑیاں زیرِ آب آگئیں۔ محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کےمطابق، مون سون میں کراچی کو کئی برسوں سے سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ اگست 2020ء میں شہر میں آنے والے سیلاب میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد کراچی سٹی اور صوبہ سندھ کے حکام نے شہر کا پہلا فلڈ مینجمنٹ پلان ترتیب دیا، تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ ایسی تباہی دوبارہ نہ ہو۔ 

علاوہ ازیں، مون سون کی شدید بارشوں نے صوبہ خیبر پختون خوا اور پنجاب کے دیگر حصّوں کو بھی متاثر کیا۔20 ستمبر کو پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی رپورٹ کے مطابق، ضلع باجوڑ اور بونیر میں سیلاب سے دو افراد ہلاک ہوئے۔ 21ستمبر کو صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے ایک مکان منہدم ہونے کی وجہ سے متعدد افرادزخمی ہوئے۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق، مون سون کے آغاز میں یکم جولائی سے 9 ستمبر تک ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے واقعات میں 187 افراد ہلاک ہوئے۔ خیبرپختون خوا میں 86، صوبہ پنجاب میں 53 اور بلوچستان میں 24 افراد شامل ہیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 263 مکانات تباہ اور 13 مرکزی شاہ راہوں اور 9 پلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

عالمی سطح پر سیلاب اور بارشوں کا جائزہ لیا جائے، تو مالٹا، اسپین، انڈونیشیا، بھارت، کولمبیا، پاناما اور ویتنام، شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے متاثر رہے۔ جب کہ ملائشیا اور فلپائن میں بارشوں اور طوفانوں نے تباہی مچائی۔22مارچ کو نیو ساؤتھ ویلز، آسٹریلیا میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب کے نتیجے میں 18ہزار افراد نقل مکانی پر مجبورہوئے۔ 5اپریل کو انڈونیشیا کے شہر جاوامیں سیلاب اور مٹی کے تودوں نے تباہی مچادی، جس میں 44افراد ہلاک ہوئےتودس ہزار سے زائد گھر زیر آب آگئے، جب کہ کئی افرادمٹّی کے تودوں تلے دب گئے۔

21جولائی کو چین میں شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب نے ہزاروں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا، وسطی علاقوں میں سڑکیں اور آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے بیش تر میٹرو، ٹرین اسٹیشنز زیرِ آب آگئے، جب کہ صوبہ ہنان میں 10 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ 14جولائی کو مغربی جرمنی میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 150 افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد لاپتا اور متعدد مکانات منہدم ہوگئے۔ سیلاب سے ہالینڈ اور بیلجیم کے بھی کئی علاقے متاثر ہوئے، جب کہ 20 افراد جان کی بازی ہار گئے۔30جولائی کو بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، شدید بارشوں سے متعدد مکانات بہہ گئے، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 230 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔

 6اکتوبر کوامریکی ریاست الاباما میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتِ حال پیدا ہوگئی، کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے گھروں اور گاڑیوں میں لوگ پھنس گئے۔ 6دسمبر کو کینیا میں سیلاب کے ریلے میں بس بہہ جانے کی وجہ سے 32افراد ہلاک ہوگئے۔ 8دسمبر کو انڈونیشیا کے مغربی صوبےنوسا ٹینگارا میں کئی دنوں کے سیلاب کے بعد کم از کم 5 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا۔ 9دسمبرکو شمال مشرقی برازیل کی ریاست باہیا میں شدید بارشوں اور سیلاب سے کم از کم 5 افراد ہلاک اور سیکڑوں مکانات تباہ ہوئے۔ 

16دسمبر کو فلپائن میں شدید نوعیت کے سمندری طوفان ’’رائے‘‘ (Rai) نے جزیرہ نما اس ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں تباہی مچادی۔ جس میں سیکڑوں افراد ہلاک جب کہ کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار شہری متاثر ہوئے۔ 3 لاکھ دیہاتیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ فلپائن کے وسطی اور جنوب مشرقی علاقوں میں آنے والے اس خوف ناک طوفان کی تباہ کاریوں سے 375 افراد ہلاک، 500 زخمی اور تقریباً تین لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ فلپائن میں سال بھر آنے والے چھوٹے بڑے سمندری طوفانوں میں2021ء کا یہ سب سے شدید نوعیت کا طوفان تھا۔ جب کہ ملائیشیا میں 17اور 18دسمبر کو ہونے والی طوفانی بارش نے61000 سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا، سڑکیں بند ہوگئیں اور جہاز رانی میں خلل پڑا۔ دو دنوں تک لگاتار ہونے والی بارش ایک ماہ کی اوسط بارش کے برابر تھی۔

کورونا وبا:پاکستان میں 30 مارچ کو مہلک ترین کورونا لہر سے ایک دن میں ایک سو ہلاکتیں ہوئیں، اس سے قبل 18 مارچ کو 24 گھنٹوں میں 61 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک موقعے پرعید کی خریداری کے سبب راول پنڈی و دیگر علاقوں میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ جولائی میں کورونا کی شدّت میں اضافہ ہوا۔ کراچی میں ایک مرتبہ پھر جزوی لاک ڈائون کا فیصلہ ہوا۔ اکتوبر تک کورونا سے پاکستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 28ہزار دو سو باون ہوگئی۔ ملک میں خسرہ او روبیلا سے تحفظ و آگاہی کی مہم اکتوبر سے شروع ہوئی۔ گزشتہ برسوں کی طرح ڈینگی، کانگو وائرس، اسموگ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہے۔ 

طبی ماہرین نے دسمبر2021ء تک پاکستان کو پولیو فری ہونےکا عندیہ دیا، تو عوام نے کچھ سکھ کا سانس لیا، لیکن اس کے بعدملک بھر میں ڈینگی کے حملے تیز ہوگئے۔ پنجاب میں ڈینگی سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 51 ہو گئی، خیبر پختون خوا، اسلام آباد اور حیدرآباد میں بھی ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ملک میں کو رونا کیسز میں حد در جہ کمی ہوئی، تاہم ماہ مئی میں کورونا کی چوتھی لہر ’ڈیلٹا ویریئنٹ‘‘ سامنے آگئی۔13دسمبر کوکورونا کی جنوبی افریقی قسم’’ اومی کرون‘‘ کے پہلے مریض کی تصدیق کے بعد کراچی کے علاقے سولجر بازاراور ملحقہ علاقوں میں مائيکر و لاک ڈاؤن لگا یا گیا ۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اومی کرون کا مشتبہ کیس کراچی سے رپورٹ ہوا، جس میں ایک 65 سالہ خاتون میں مذکورہ وائرس کی علامات پائی گئیں۔

گرمیوں کے موسم میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کوئی انہونی بات نہیں۔ ماضی میں بھی آتش زدگی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں، لیکن ان کا دائرہ اور دورانیہ مختصر ہوتا تھا، جس پر عموماً قابو پالیا جاتا تھا،جنوری 2021ءکے اوائل میں آسٹریلیا کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ 3 لاکھ رقبے تک پھیل گئی آگ کا اثر نیوزی لینڈ کے گلیشئرز تک بھی پہنچا، جس کے نتیجے میں کئی گلیشیئرز کا رنگ زرد ہوگیااور اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا کہ ان گلیشیئرز کے پگھلنے کا مرحلہ تیز ہوجائے گااور نشیبی وادیوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھے گا۔ 3جنوری کو آسٹریلیا کے مغربی ساحلی شہر پرتھ میں واقع جنگلات میں لگنے والی آگ سے 230 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔

2021ء میں امریکا کی کئی ریاستوں کے جنگلات میں آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے۔ یکم دسمبر کو امریکا کی ریاست شمالی کیرولینا میں واقع ماونٹین اسٹیٹ پارک میں لگنے والی آگ سے چار سو ہیکٹر رقبہ خاکستر ہو گیا۔جنگل کی اس آگ نے کیلی فورنیا کے قصبے گرین ول کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ۔ گزشتہ چند برسوں سے جنگلات کی آگ کے پھیلاؤ اور نقصانات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، ماہرین اس کی وجہ آب و ہوا کی تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرئہ ارض کا درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے موسموں میں شدّت آرہی ہے۔ 3اگست کو کیلی فورنیا کے جنگلات میں کئی مقامات پرخوف ناک آگ بھڑک اٹھی۔ جب کہ 2021ء میں ترکی، یونان اور امریکی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ جنگلات جل کر راکھ ہوگئے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں کسی بھی وقت، کہیں بھی آفت آسکتی ہے، ایسے میں جب ہمالیہ کی پراسرار خاموش جھیلیں کروڑوں انسانوں کے لیے خطرہ بن گئیں، تو دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اس عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کو ایک حقیقت قرار دے کرخود انسان کواس کا ذمّے دارقرار دیا۔ سائنس دانوں نے بڑے پیمانے پردرجۂ حرارت کے اعداد وشمار کے بعد ثابت کیا کہ سمندر گرم ہوتے جارہے ہیں، کرئہ ارض پر برف کے ذخائر پانی بن رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر موسموں میں تبدیلی رونما ہوگی۔ ماہرین نے تازہ ترین تحقیق میں عالمی حدت میں اضافے کا ذمّے دار گرین ہاؤس گیسز کو ٹھہرایا، جب کہ اس سے پہلے ان کا خیال تھا کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کی وجہ شمسی طوفان‘ آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا اور پیٹرو کاربن ایندھن کا استعمال ہے۔

ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گرم خطّوں میں دلدلی علاقوں کی تباہی کی وجہ سے درجۂ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، کیوں کہ جنوب مشرقی ایشیا میں جنگلات کو صاف کرنے کے لیے دلدلی علاقوں میں آگ لگائی جاتی ہے اور خشک سالی میں دلدلی علاقوں میں لگی آگ پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ آتش زدگی کے اس عمل سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی مقدار شامل ہورہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 21 فی صد دلدلی زمین پر کاربن کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ 

ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا کہ دنیا جس طرح دلدلی علاقوں کی اہمیت کو نظرانداز کررہی ہے، 2040ء تک یہ علاقے مکمل طور پر تباہ ہوجائیں گے۔واضح رہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں معروف جزیرے بورنیو، سماٹرا اور پاپوا سمیت متعدد جزیرے دلدلی ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید