سیّد شہاب الدّین، سوات
متحدہ ہندوستان میں فنِ خطّاطی کا آغاز عربوں کی آمد سے ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ محمّد بن قاسم کے ساتھ بہت سے عالمِ دین، حفّاظ اور کچھ خطّاط بھی آئے، جنہوں نے پہلے سندھ اور پھر پنجاب میں اِس فن کی داغ بیل ڈالی۔اسلامی خطّاطی دراصل دستی تحریر اور خطّاطی کو فن کارانہ انداز سے پیش کرنے کا نام ہے۔ اس میں عربی، عثمانی، فارسی اور ہندوستانی خطّاطی شامل ہیں۔ اسے عربی میں’’ خطِ اسلامی‘‘ یعنی اسلامی ڈیزائن کہا جاتا ہے۔اسلامی خطّاطی کا قرآنِ کریم سے بھی گہرا تعلق ہے کہ قرآنی آیات کو اس طرزِ خطّاطی میں بہت استعمال کیا جاتا ہے۔
اسلامی خطّاطی کی دو اہم شاخیں ہیں۔ خطِ کوفی اور خطِ نسخ۔ پھر دونوں کی مزید شاخیں ہیں، جن پر علاقائی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں نو آبادیاتی دَور کے بعد اسلامی خطّاطی جدید فنونِ لطیفہ میں بھی ڈھالی گئی۔ فنِ خطّاطی کا کینوس بہت وسیع ہے اور اس میں بہت سے خطوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ مختلف خطوں کو جوڑ کر جدید خطوط بھی رائج کیے گئے ہیں۔ تاہم، فن پاروں میں زیادہ تر خطِ نسخ ، خطِ دیوانی، خطِ نستعلیق، خطِ رقع، خطِ ثلث، خطِ کوفی اور اب خط المغربی ہی استعمال ہوتے ہیں۔
نیز، روایتی کلاسیکی خطّاطی کے ساتھ، رنگوں کی آمیزش سے مزیّن خُوب صُورت بیک گراؤنڈ کے حامل فن پاروں میں قرآنی آیات کے ذریعے معاشرے کو امن، روا داری ، محبّت اور اتفاق کا عظیم پیغام بھی دیا جاتا ہے۔ فنِ خطّاطی مسلمانوں کا تاریخی وَرثہ ہے۔یہ فن صدیوں سے چلا آرہا ہے اور مسلمانوں نے اسے بامِ عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مساجد اور اہم عمارتوں میں نقش نگاری ، کاشی کاری کے ساتھ، دیدہ زیب خطوں میں قرآنی آیات مسلم ثقافت کی ایک اہم علامت ہے۔
ماضی میں قرآنِ پاک کی کتابت بھی ان ہی ہنرمند ہاتھوں کا کمالِ فن ہے، جب کہ دینی کتب کی کتابت بھی ہاتھوں سے کی جاتی رہی ہے۔اِسی طرح پروفیشنل کیلی گرافی، یعنی سائن بورڈز اور بینرز وغیرہ کی تحریر بھی ہاتھ ہی سے لکھی جاتی تھی۔ مشینز کے ذریعے پینا فلیکس بنانے کا رواج عام ہوا، تو اس سے جہاں ایک طرف سائن بورڈز، بینرز اور دیگر مواد کی چَھپائی کم وقت میں ہونے لگی، تو دوسری طرف، ہاتھوں سے لکھنے کا رواج بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا، یوں اس خُوب صُورت فن کے ماہرین اور شیدائیوں کو فنِ خطّاطی کا سورج ڈوبتا ہوا دیکھنا پڑا۔
مشینز کی آمد اور فلیکس بنانے کی روش عام ہونے سے سب زیادہ نقصان پروفیشنل کیلی گرافرز کو ہوا، جن کا روزگار تقریباً ختم ہو چُکا ہے کہ اب گاہک ہاتھ سے سائن بورڈز، بینزر بنوانے کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔ مُلک کے دیگر حصّوں کی طرح وادیٔ سوات میں بھی فنِ خطّاطی روبہ زوال ہے۔ اس فن سے وابستہ اساتذہ، جنہوں نے برسوں کی ریاضت سے یہ فن سیکھا، اب دوسرے پیشوں سے وابستگی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ایک زمانے میں بچّے باقاعدگی سے تختی لکھا کرتے تھے، جس سے اُن کا خط خُوب صُورت اور دیدہ زیب ہو جاتا تھا، مگر اب یہ ماضی کا قصّہ ہوچُکا۔
اِسی طرح فنِ خطّاطی سیکھنے والے بھی اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔یاد رہے، اب فنِ خطّاطی میں روایتی اوزاروں یعنی پرگزہ(قلم)، فلیٹ قلم، برش کے ساتھ جدید اوزار بھی استعمال کیے جارہے ہیں، کینوس کے علاوہ کپڑے اور دیگر شیٹس کام میں لائی جارہی ہیں، ایکریلک کے علاوہ ٹیوب کلر، آئل کلر اور واٹر کلر کے بھی ذریعے فن پارے تخلیق پا رہے ہیں۔
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کے بعد فنِ خطّاطی کا زوال شروع ہوگیا،جس کی ایک بڑی وجہ تن آسانی بھی ہے کہ خطّاطی میں بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور وقت بھی زیادہ لگتا ہے،تاہم، سوات کے ایک آرٹسٹ اورمصوّر، رشید احمد آج بھی اسے زندہ رکھنے کی سعی کررہے ہیں اور اپنا فن نئی نسل کو منتقل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ مینگورہ شہر سے تعلق رکھنے والے اِس ہنر مند کا کہنا ہے کہ’’ مجھے تقریباً تمام عربی خطوں پر عبور حاصل ہے اور اپنے فن پاروں میں خطِ نسخ، ثلث، رقعہ، نستعلیق، دیوانی اور کوفی کا استعمال کرتا ہوں۔
البتہ، ذاتی طور پر خط المغربی بہت پسند ہے اور بیش تر فن پاروں میں قرآنی آیات اِسی خط سے لکھی ہیں۔‘‘وہ گزشتہ 35 برسوں سے اِس فن سے وابستہ ہیں۔سوات کے دونوں سنیماؤں میں 20 سال سے زاید عرصے تک پوسٹرز بنانے کے علاوہ دُکانوں کے سائن بورڈز، بینرز وغیرہ کا بھی کام کیا۔ 1988ء میں روزگار کی غرض سے سعودی عرب کا رخ کیا اور خطّاط الشعلہ میں بطور کیلی گرافر، آرٹسٹ چار سال تک کام کیا۔ وہیں سے اسلامی کیلی گرافی میں دل چسپی پیدا ہوئی اور اب تصویر سازی کی بجائے اسلامی کیلی گرافی ہی پر کام کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ’’ فنِ خطّاطی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی نسبت ایک ایسی عظیم الشان کتاب سے ہے، جو انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔اِس لیے خطّاطی کا فن انسان کے صرف بصری ذوق ہی کا آئینہ نہیں، بلکہ نفسیاتی ارتکاز اور روحانی بیداری کی ایک خُوب صُورت ریاضت، مشق بھی ہے۔فن پاروں کی تشکیل اور قرآنی آیات لکھنے کے دَوران بہت سکون اور روحانی پاکیزگی محسوس کرتا ہوں۔‘‘
رشید احمد کہتے ہیں کہ’’ خطّاطی کے فن پارے اور سائن بورڈز وغیرہ بنانے میں بہت فرق ہے۔دونوں یک سر الگ شعبے ہیں، تاہم سرچشمہ ایک ہی ہے۔ مشینز کی آمد اور فلیکس کے رواج کے بعد خطّاط کا روزگار تقریبا ًختم ہوگیا۔فائن آرٹ کالجز کی طرز پر، جہاں تصویر سازی اور منظر کشی کا فن سکھایا جاتا ہے، فنِ خطّاطی سکھانے کے بھی جدید ادارے ہوتے، تو یہ فن یوں زوال پذیر نہ ہوتا اور دوسری طرف، نئی نسل تک مسلمانوں کا یہ تاریخی و تہذبی وَرثہ بھی بہتر طریقے سے منتقل ہو پاتا۔‘‘
اُنھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ’’ سرکاری ونجی اسکولز میں ڈرائینگ کے مضمون کی طرح فنِ خطّاطی کو بھی بطور مضمون، نصاب میں شامل کیا جائے۔ اِس سے جہاں بچّے اِس فن سے واقف ہوں گے، وہیں روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکیں گے۔‘‘