• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمندر میں دھنسنے والا 20 ارب ڈالر کا جاپانی ایئرپورٹ، مگر جاپان نے ہار نہ مانی

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

جاپان کا مشہور ’کانسائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ گزشتہ 30 برس سے مسلسل سمندر میں دھنس رہا ہے، مگر حیران کن طور پر جاپان نے اسے بند کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک دوسرا مصنوعی جزیرہ بھی تعمیر کر دیا۔

یہ ایئرپورٹ 1994 میں اوساکا کی خلیج میں ساحل سے تقریباً 5 کلومیٹر دور ایک مصنوعی جزیرے پر بنایا گیا تھا، جس پر تقریباً 20 ارب ڈالر لاگت آئی۔ ابتدائی اندازہ تھا کہ جزیرہ 50 برس میں 16 فٹ تک بیٹھے گا، مگر اب تک یہ تقریباً 45 فٹ دھنس چکا ہے۔

ہوائی اڈے کی مرکزی عمارت کو سیدھا رکھنے کے لیے 900 ہائیڈرولک جیکس نصب کیے گئے ہیں جبکہ ہر دو سال بعد ستونوں کے نیچے اسٹیل پلیٹیں لگا کر فرش کو برابر رکھا جاتا ہے تاکہ عمارت ایک طرف نہ جھکے۔

ایئرپورٹ کے رن ویز بھی روایتی کنکریٹ کے بجائے لچکدار اسفالٹ سے بنائے گئے ہیں تاکہ زمین کے بیٹھنے کے باوجود وہ محفوظ رہیں۔

مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 2007 میں جاپان نے اسی کے ساتھ ایک دوسرا مصنوعی جزیرہ بھی تعمیر کیا، حالانکہ پہلا جزیرہ پہلے ہی دھنس رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق دوسرا جزیرہ پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔

گزشتہ سال بھی اس ایئرپورٹ کی مرمت اور بہتری پر 470 ملین ڈالر خرچ کیے گئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جاپان سمندر کے سامنے بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید