آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سابق صدر آصف علی زرداری نے انتہائی کامیابی کے ساتھ ایوان صدر میں پانچ سال گزار لئے ہیں اور انتہائی باوقار انداز میں وہ ایوان صدر سے رخصت ہوئے ہیں ۔ ان پانچ سالوں کے دوران اگرچہ کچھ غیر مصدقہ خبریں بھی ان کے بارے میں آتی رہیں ، جن میں کہا جاتا تھا کہ آصف علی زرداری ایوان صدر میں اپنے بیڈ روم میں پستول رکھ کر سوتے ہیں ۔ یہ افواہیں بھی اڑائی جاتی تھیں کہ آصف علی زرداری پر عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کیلئے دباوٴہے لیکن انہوں نے یہ دباوٴ قبول نہیں کیا ۔ ان سے یہ باتیں بھی منسوب کی جاتی تھیں کہ وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں مگر عہدہ صدارت نہیں چھوڑیں گے ۔ ان باتوں میں کہاں تک صداقت ہے ، اس حوالے سے آصف علی زرداری بہتر طور پر بتا سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کا پاور سسٹم دونوں پیپلز پارٹی کیلئے ساز گار نہیں ہیں ۔ آصف علی زرداری نے جن حالات میں پانچ سال ایوان صدر میں گزارے ہوں گے ، ان کا اندازہ پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والا ایک عام آدمی بھی کرسکتا ہے ۔ یہ پانچ سال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد عہد کے طور پر یاد رکھے جا سکتے ہیں ۔
یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو پُرامن طور پر اقتدار منتقل ہوا ہے اور پاکستان کی

تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ جمہوری اور سیاسی اخلاقیات کی جڑیں اس قدر مضبوط نہیں ہوئی ہیں کہ لوگ سیاسی مخالفین کے عظیم کارناموں کا دل سے اعتراف کر سکیں ۔ آصف علی زرداری یا کسی بھی دوسرے شخص کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے کا حق سب کو ہے تاہم بہت کم لوگ اس رائے کا ادراک کر سکتے ہیں ، جو تاریخ قائم کرتی ہے ۔ تاریخ آصف علی زرداری کو اس بات کا کریڈٹ دے گی کہ انہوں نے ایوان صدر میں بیٹھ کر جمہوریت کے محافظ کا کردار ادا کیا اور جب انہوں نے ایوان صدر کو چھوڑا تو یہ ایوان عوام کی منتخب پارلیمینٹ اور جمہوری حکومتوں پر حملہ کرنے یا ان کے خلاف سازش کرنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔ تاریخ میں اس طرح کے اعزازت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد تمام سیاسی تجزیہ نگار یہ کہہ رہے تھے کہ 18 فروری 2008ء کے عام انتخابات کے بعد آصف علی زرداری ملک کے وزیر اعظم ہوں گے کیونکہ ملک کا انتظامی سربراہ وزیراعظم ہی ہوتا ہے مگر سب لوگوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ کی حیثیت سے جب انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا تو سب لوگ حیران رہ گئے ۔2008ء میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے قیام کے بعد آصف علی زرداری نے اپنی سیاست سے جنرل پرویز مشرف جیسے آمر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا ۔ یہ بھی ان کی سیاسی زندگی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ ایک آمر خاموشی سے اقتدار چھوڑ کر چلا گیا ۔ اس کے بعد آصف علی زرداری نے صدر مملکت کا عہدہ خود سنبھالنے کا فیصلہ کیا ۔ جب وہ ایوان صدر میں حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ اصل حکمت عملی کیا ہے ۔ آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں جب پانچ سال مکمل کرلئے تو لوگوں کو پوری بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ اب ان کے مخالف بھی یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ اگر آصف علی زرداری ایوان صدر میں نہ ہوتے تو جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی اور آج یہ جمہوری تسلسل نہ ہوتا ۔ اب لوگوں کو یہ پتہ چل رہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے فروری سے اگست 2008ء تک تقریباً 6 ماہ میں صدر مملکت کی حیثیت سے نومنتخب جمہوری حکومت کو ختم کرنے اور پارلیمینٹ کو تحلیل کرنے کی دو مرتبہ کوشش کی تھی لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے کیونکہ ایک تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے سانحہ عظیم کے بعد نو منتخب حکومت کو ختم کرنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا اور دوسرے وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں اپنا اثرورسوخ اور حمایت کھو چکے تھے ۔ نو منتخب جمہوری حکومت کو ختم کرنے کیلئے انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے مشورہ اس لئے کیا تھا کہ ان کے پاس آئین کے آرٹیکل 58 (2) بی کے تحت ایسا کرنے کے اختیارات تھے ۔ پرویز مشرف کے بعد آصف علی زرداری کی جگہ پیپلز پارٹی کا کوئی دوسرا رہنما بھی اگر صدر بنتا تو وہ اتنا دباوٴ برداشت نہیں کر سکتا تھا ، جتنا آصف علی زرداری نے برداشت کیا ۔ بیڈ روم میں پستول رکھ کر سونے اور ہر انجام کیلئے تیار رہنے کی خاطر سیاسی عزم اور مضبوط اعصاب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ماضی میں سردار فاروق احمد خان لغاری مرحوم کی مثال سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں ساری زندگی پیپلز پارٹی میں ہی گزاری مگر ایوان صدر میں آکر ان کے اعصاب جواب دے گئے ۔ آرٹیکل 58(2) بی جب تک موجود تھا، ایوان صدر سے پارلیمینٹ اور جمہوری حکومتوں پر حملے کا خطرہ موجود رہتا ۔ آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں جا کر اس خطرے کا مقابلہ کیا اور بلاشبہ جمہوریت کا محافظ بن کر وہاں رہے ۔ انہوں نے پارلیمینٹ سے اپنے پہلے خطاب میں یہ اعلان بھی کردیا کہ وہ اپنے صدارتی اختیارات وزیر اعظم اور پارلیمینٹ کو منتقل کر دیں گے ۔ ان کی قیادت اور رہنمائی میں پارلیمینٹ نے اتفاق رائے سے 18 ویں آئینی ترمیم منظور کی، جس کے ذریعے 1973ء کا دستور اپنی اصل شکل میں بحال ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمینٹ پر ایوان صدر کی لٹکتی ہوئی تلوار بھی ہٹ گئی اور ایوان صدر پارلیمینٹ اور جمہوریت کے خلاف سازشوں کا مرکز نہیں رہا ۔ 18 ویں ترمیم ہونے تک کے وقفے میں آصف علی زرداری کی جگہ کوئی بھی دوسرا شخص ایوان صدر میں ہوتا تو 18 ویں ترمیم کی منظوری کی نوبت ہی نہ آتی اور آج پاکستان کی نئی نسل کو جمہوری تسلسل پر فخر کرنے کا موقع ہی نہ ملتا ۔ آصف علی زرداری کو کسی عہدے میں دلچسپی ہوتی تو وزیر اعظم کا عہدہ زیادہ پرکشش تھا لیکن انہوں نے ایک حکمت عملی کے تحت ملک کا صدر بننا مناسب سمجھا اور صدر بن کر اس عہدے کو بے اختیار اور غیر پرکشش بنا دیا ، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عہدے اور اختیارات سے دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ۔ جمہوریت اور وفاق پاکستان کے استحکام میں ان کے کردار کو تاریخ میں ہمیشہ سراہا جائے گا ۔ اب صدر کا عہدہ صرف ایک آئینی عہدہ رہ گیا ہے ، جس کیلئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ممنون حسین کا انتخاب درست کیا ہے ۔ اب صدر کا عہدہ ایسا نہیں رہا ، جس کیلئے پرویز مشرف جیسا ڈکٹیٹر ملک کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ چھوڑ کر صدر بننا پسند کرے ۔ اگرچہ صدر ممنون حسین پر اب وہ دباوٴ نہیں ہوگا جو آصف علی زرداری نے برداشت کیا ۔ اس کے باوجود آج بھی ایوان صدر میں غیر جمہوری قوتوں کی سازشوں کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ صدر ممنون حسین کیلئے ایسی بھی صورتحال شاید پیدا نہ ہو ، جو فاروق لغاری مرحوم کے لئے پیدا کردی گئی تھی ۔ آرٹیکل 58 (2) بی ختم ہوچکا ہے لیکن ایسے حالات بار بار پیدا ہوں گے ، جب لوگوں کو احساس ہوگا کہ آصف علی زرداری کس قدر بہادر انسان تھے اور وفاق اور جمہوریت کے استحکام کے لئے کتنا پُرعزم تھے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں