فریحہ مبارک، کراچی
ماں، جو انسانیت کے لیے قدرت کا ایک حسین اور اَن مول تحفہ ہے، اپنی اولاد کی پیدایش، پرورش اور پھر بہترین تعلیم و تربیت میں اپنی جوانی، بڑھاپا ،بلکہ پورا جیون تیاگ دیتی ہے۔کیا آپ نے کبھی کسی چیونٹی کو اپنے وزن اور قد و قامت سے کئی گنا زیادہ بوجھ اُٹھا کرلے جاتے دیکھا ہے، تو اس منظر میں ماں جیسی عظیم ہستی کی گہری چھاپ نظر نہیں آتی کہ ایک ذمّے دار ماں بھی تو اپنی ہمّت، طاقت اور استطاعت سے کہیں بڑھ کراپنی اولاد کے سُکھ، چین اور بہترین تعلیم و تربیت کے لیے کوشاں نظر آتی ہے۔
ماں جب تک زندہ رہتی ہے، اپنے بچّوں کا سایا بن کر ساتھ ساتھ رہتی ہے، دُنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی ہے، بُرائی بھلائی کی تمیز دیتی ہے، سچ جھوٹ کا فرق بتاتی ہے۔ الغرض، ماں خاندان کا ایک اہم ستون ہے، تو ایسی منتظمہ بھی ہے کہ جس کے فرائض کی انجام دہی میں کسی تعطّل یا تعطیل کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ کبھی جو ایک آدھ دِن بیمار ہو کر بستر سے لگ جائے، تو گھر کے نظام کی چولیں ہل جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے ایثار و قربانی کی یہ پیکر منہ سے اپنی تکالیف بیان تک نہیں کرتی۔
ہر سال ماؤں کی عظمت کے گُن گانے کے لیے مئی کے دوسرے اتوار کو ’’مدرز ڈے‘‘ کا نام دے کر ایک دِن منایا جاتا ہے۔ یاد رہے، یہ اُس معاشرے کی رسم ہے، جہاں ماؤں سے اولڈ ہومز یا پھر کبھی کبھار اُن کے گھر جاکر تحائف کے ساتھ ملنا یا اُنہیں سیرو تفریح کے لیے لےجانا عام روایت ہے اور ایسا اس لیے ہے کہ وہاں نہ ماؤں کے پاس اولاد کے لیے وقت ہے اور نہ اولاد کے پاس اپنے والدین کے لیے۔ ایسے میں ان عالمی ایّام کو بھی ایک نعمت سمجھا جاتا ہے، تب ہی ان کا اہتمام اس شدّومد سے ہوتا ہے۔ دُنیا کے ہر خطّوں اور ہر زبانوں میں ماؤں کی عظمت کے گیت گائے جاتے ہیں۔
اولاد کے لیے ماں کے جذبات، احساسات اور قربانیوں کا اعتراف کیا جاتا ہے، لیکن چند ایک مخصوص ایّام میں ایسا کرنا اہلِ مغرب کی روایت ہے، ہمارے معاشرے میں اس کی گنجایش نہیں۔ ہمیں ماؤں کے ساتھ اس قسم کے رویّوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کہ درحقیقت کوئی سو بارجنم لے کر بھی ماں کی محبّت کا قرض ادا نہیں کر سکتا۔ ماں ،لازوال شفقت و محبّت سے اولاد کی شخصیت کی تعمیر کرتی، اسے مضبوط تر بناتی ہے۔ خود کسی بھی حال میں ہو، لیکن جب بھی دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتی ہے، تو سب سے پہلے اپنے بچّوں ہی کے لیے عافیت اور ترقّی و کام رانی طلب کرتی ہے۔
شاعرِ مشرق علّامہ اقبال ’’اسرارِ خودی‘‘ میں اسلام میں ماں کی عظمت کے حوالے سے اپنی مشہور فارسی نظم ’’در معنیٰ ایں کہ بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است‘‘ میں لکھتے ہیں ،’’ ماں کے منصب اور اس کے حفظ و احترام کا ضامن اسلام ہے۔‘‘اس نظم کا ترجمہ ہے’’اگر ٹھیک طور پر دیکھو تو ماں کا وجود رحمت ہے، اس بناء پر کہ اسے نبوت سے نسبت ہے، اس کی شفقت پیغمبرانہ شفقت جیسی ہے، جس سے قوموں کی سیرت سازی ہوتی ہے، ماں کے جذبۂ محبّت کی بدولت ہماری تعمیر پختہ تر اور اس کی پیشانی کی سلوٹوں میں ہماری تقدیر پنہاں ہے۔
اگر تم الفاظ کے معنی تک رسائی رکھتے ہو، تو لفظ اُمّت پر غور کرو۔ اس میں بڑے نکات ہیں۔‘‘دینِ اسلام میں ماں کی حیثیت اور مرتبے کا اندازہ اس حدیثِ پاکﷺ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سوال کیا۔ ’’اے اللہ کے رسولﷺ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیری ماں‘‘۔سوال کرنے والے نے پوچھا،’’اُس کے بعد کون؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’تیری ماں‘‘۔ عرض کیا گیا، ’’اُس کے بعد کون؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا، ’’تیری ماں۔‘‘ اور پھر چوتھی مرتبہ سوال کرنے پر آپﷺ نے فرمایا ’’تیرا باپ‘‘(صحیح بخاری،کتاب الادب)۔سچ تو یہ ہے کہ ماں کا رتبہ بُلند کرکے جس طرح اُسے خاندان کی ملکہ بنایا گیا ہے، اس کی ذمّے داریاں بھی اُسی قدر بڑھ گئی ہیں۔
ایک ماں محض اپنی اولاد ہی کی تربیت نہیں کرتی، بلکہ وہ پورے معاشرے کی معمار ہے۔ ماں کے اس عظیم الشان منصب و مرتبے کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جب ہم موجودہ حالات پر غور کرتے ہیں، تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دَورِجدید کی ماں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ تیزی سے بدلتی تہذیبی اقدار ماؤں سے کہیں زیادہ ذمّے داری اور توجّہ کی متقاضی ہیں۔ آج بچّوں کی تربیت کی لگامیں ماؤں کے ہاتھوں سے نکل کر موبائل اور کمپیوٹر کی اسکرینز کی گرفت میں چلی گئی ہیں، جہاں قدم قدم پر انھیں ایک نئی دُنیا خوش آمدید کہتی ہے۔ ایسے میں ماں کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔
ایک یہ کہ وہ اولاد کو اس طلسماتی دُنیا کے حوالے کر کے خود بھی اسی پُررونق نگری کا حصّہ بن جائے یا پھر مسلسل کوشش میں لگی رہے کہ نسلِ نو کا رشتہ اُس کی اصل سے جُڑا رہے۔ آج کی ماںاس پریشانی میں بھی مبتلا ہے کہ دین، اخلاقیات، نیک صحبت، اچھی تعلیم وتربیت، شائستہ زبان وبیان، اچھی عادات، محنت، جفاکشی، ایمان داری اور بہادری کے سارے سبق اولاد تک کیسے پہنچائے۔ زمانے کی چلچلاتی دھوپ اور سرد و گرم تھپیڑوں سے اولاد کو کس طرح بچائے کہ وہ معاشرے کی رنگین بُرائیوں اور ’’گیجٹس‘‘ کی بھول بھلّیوں میں اپنی بنیاد سے بہت دُور نہ چلی جائے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ دَور کی ماں بدلتی دُنیا میں چو مکھی جنگ لڑ رہی ہے۔ کام یابی کے امکانات کی آس لگائے میں شاہ راہِ حیات کے اونچے نیچے رستوں پر اپنی اولاد اور خاندان کا ہاتھ تھامے بگٹٹ دوڑ رہی ہے۔
ہر ماں، جو اپنا سُکھ چین، آرام اور تفریح کا سامان بھول کر اپنی اولاد کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کی خاطر شب و روز مصروفِ عمل ہے، بلاشبہ مبارک باد کی مستحق ہے۔ ایسے میں اولاد کا بھی فرض بنتا ہے کہ صرف ایک دِن کے لیے نہیں، بلکہ پورا سال ماں کی عظمت کو سلام پیش کرنے کی خاطر اُس کے سامنے عزّت و احترام کے ساتھ سے جُھکی رہے، والدین، خصوصاً ماؤں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے۔ دُنیا کو اپنی تربیت سے فیض پہنچاتے ہوئے معاشرے کے ذمّے دار شہری کے فرائض نبھائے اور وہ جن کی مائیں اس دُنیا میں نہیں رہیں، اُن کا بھی فرض بنتا ہے کہ اُن کے حق میں دُعائے مغفرت کریں۔
اولاد اگر بہترین صدقۂ جاریہ بن جائے، تو بھلا ماں کے لیے اس سے خُوب صُورت تحفہ اور کیا ہوگا۔ یاد رکھیے،اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع اور سب سے عظیم سرمایا ماں ہی ہے، جس کی شفقت و محبّت اور خلوص و وفا کہر شک و شبے سے بالاتر ہے۔ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے’’رسول اللہ ﷺنے فرمایا’’جو صالح اولاد محبّت کی نظر سے اپنے والدین کو دیکھے، تو اُسے ہر نگاہ پر اللہ تعالیٰ ایک مقبول حج کا ثواب بخشتا ہے۔‘‘ لوگوں نے پوچھا ’’اگر دِن میں سو مرتبہ دیکھے تو؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا ’’تب بھی۔ اللہ بہت بڑا ہے اور بڑا پاکیزہ ہے۔‘‘(الجامع لشعب الایمان)۔ تو کیا آپ نے آج اپنی ماں کو محبّت کی اُس نظر سے دیکھا، جسے حضورِپاک ﷺنے اجر میں مقبول حج کے برابر قرار دیا ہے۔