ایران کے سابق وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فتح کا اعلان کرتے ہوئے جنگ کا خاتمہ کرے اور ایسا معاہدہ کرے جو ناصرف موجودہ تنازع ختم کرے بلکہ آئندہ کسی نئی جنگ کو بھی روکے۔
امریکی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں جواد ظریف نے ایران کے لیے ایک حکمتِ عملی پیش کی ہے، جس کے تحت ملک اپنے مفادات کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر حدود مقرر کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے بدلے تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔
جواد ظریف کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باہمی عدم جارحیت کا معاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی پیشکش بھی کر سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
سابق وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کے ذریعے ایران اپنی توجہ بیرونی خطرات سے ہٹا کر عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی پر مرکوز کر سکتا ہے۔