امریکا کی بری فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جس کی وجہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ سینئر فوجی افسران کی ترقیوں اور فوجی فیصلوں کے اختیار پر شدید اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل رینڈی جارج نے چند سینئر افسران کی ترقی روکنے یا انہیں فہرست سے نکالنے سے انکار کیا تھا جس پر دفاعی وزیر اور آرمی چیف کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور بالآخر انہیں فوری ریٹائرمنٹ لینے کا کہا گیا۔
واضح رہے کہ جنرل رینڈی جارج کی برطرفی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا ایران کے خلاف جاری جنگ میں مصروف ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج جنگی اہداف کے قریب پہنچ چکی ہیں اور بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت میں جاری وسیع تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع فوجی حکمتِ عملی پر نہیں بلکہ عملے کے فیصلوں اور اختیارات کے معاملے پر تھا، جنرل جارج اور آرمی سیکریٹری ڈینیئل پی ڈراسکول کے قریبی ورکنگ تعلقات بھی کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔
بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ دفاعی وزیر نے 4 افسران کو ون اسٹار جنرل بنانے کی منظوری روک رکھی تھی تاہم جنرل جارج اور ڈراسکول نے افسران کی بہترین سروس ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔
’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق تقریباً 2 ہفتے قبل جنرل جارج نے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے وزیرِ دفاع سے ملاقات کی درخواست کی تھی مگر ملاقات سے انکار کر دیا گیا جس کے بعد اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے۔
جنرل رینڈی جارج کو 2023ء میں سابق صدر جو بائیڈن نے نامزد کیا تھا اور سینیٹ نے ان کی توثیق کی تھی، ان کی مدتِ ملازمت 2027ء تک جاری رہنی تھی۔
اپنے دور میں اُنہوں نے 2024ء کے بھرتی بحران سے فوج کو نکالا اور کم لاگت ڈرونز اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کو فروغ دیا جو یوکرین جنگ میں اہم ثابت ہوئے۔
جنرل رینڈی جارج نے ٹرانسفارمیشن اِن کانٹیکٹ پروگرام بھی شروع کیا جس کے تحت 3000 فوجیوں پر مشتمل بریگیڈز کو نئی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام آزمانے کی اجازت دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق جنرل ڈیوڈ ہاڈن اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے، اس سے قبل 2025ء میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل چارلس سی کیو براؤن سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران کو بھی برطرف کیا جا چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دفاعی وزیر پیٹ ہیگستھ نے فوج میں اعلیٰ عہدوں پر موجود 4 اسٹار جرنیلوں اور ایڈمرلز کی تعداد میں کم از کم 20 فیصد کمی کا حکم دے رکھا ہے۔