قانتہ رابعہ، گوجرہ
عائلہ کا بچپن بھی عام بچّوں کی طرح کھیلتے کودتے، شرارتیں کرتے گزرا۔ چھوٹا سا شہر، ڈھیر سارے کزنز، خُوب عیدی ملتی اور سب کے سب نان چنے،گول گپّے اور کئی طرح کی چٹ پٹی چیزوں کو پیٹ میں انڈیلنے کے بعد بچی کُھچی عیدی لیے جُھولوں کا رُخ کرتے۔ ڈولی، گلیکسی، ستارہ نامی جھولوں پر خُوب مزے کرکے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے شہر میں گھومنے نکل جاتے۔ گُم ہونے کا ڈر، نہ اغوا کا خطرہ۔
گھومتے گھومتے ریلوے اسٹیشن کی طرف چلے جاتے اور چلتی ریل گاڑیوں میں شیشے والی کھڑکی کے پاس بیٹھے مسافروں کو ہاتھ ہلا کر ٹاٹا کرتے اور مُسکراتے چہروں کے ساتھ ’’عید مبارک‘‘ کہتے۔ پھر وہاں کی مشہور پاپڑی چاٹ کھانے کے بعد شہر کے دوسرے کونے میں قائم اسٹیڈیم میں لگے رنگا رنگ عید میلے کا رُخ کرتے، جہاں چوڑیوں، دوپٹوں، کھلونوں، چاٹ، ٹافیوں وغیرہ کے چھوٹے بڑے اسٹالز سے مَن پسند چیزوں کی خریداری کر کے اپنی ملکیت میں لے کر شام تک شاداں و فرحاں گھر لَوٹتے۔ شہر بھر کی سیر سپاٹوں سے پاؤں تھکے ہوتے، نیند کے مارے جمائیاں آرہی ہوتیں، مگر یوں محسوس ہوتا، جیسے عید کا دن بس پلک جھپکتے گزرگیا ۔اور عائلہ کو تو عید اتنی پسند تھی کہ کئی کئی روز تک عید کی یادوں میں کھوئی رہتی۔
وقت بدلا اوربچپن کی عیدیں بھی بچپن کی طرح پَر لگائے اُڑ گئیں، جب زندگی کے مہ و سال آگے بڑھے، تو عائلہ کی بچپن کی عیدیں بھی قصّۂ پارینہ ہو گئیں۔ اب تین چھوٹے بھائیوں اور والدین کے ساتھ عید منانے کا رنگ ڈھنگ تو کچھ بدل گیا تھا، لیکن عید کی خوشیوں میں کوئی کمی نہ آئی تھی، البتہ بڑے ہونے کے ساتھ عائلہ خُوب کاہل اور سُست ہوگئی تھی۔ امّاں چیختی رہتیں ’’اے باؤلی! جب عید سر پر سوار ہوگی، تب جوڑا سلواؤ گی کیا۔او نیستی ماری، بستر کی چادریں ہی خرید لاؤ کہ میرے تو گھٹنے نہیں چلنے کے اب۔‘‘
مگر عائلہ بیگم کی نیستی، کاہلی کا یہ عالم تھا کہ روزہ رکھ کر سارا، سارا دن سوئی رہتی اور سحری تک جاگ کر ٹی وی پر ڈرامے دیکھتی، جب چاند رات آتی اور بالعموم رات کے نو، ساڑھے نو بجے چاند نظر آنے کا اعلان ہوتا، تو بھائی کے ساتھ موٹر بائیک پر مارکیٹ جاتی۔ پھر رات گئے منہدی لگوا کر بستر کی نئی چادریں، تکیے، جوتے، جیولری وغیرہ لے کر لَوٹتی۔ اب ظاہر ہے، بٹیا منہدی لگواکر لَوٹے ،تو کون سی ماں گھر کا کام کاج کروائے گی، جو عائلہ کی ماں کرواتیں۔ سو، امّاں خود کام کرنے کے ساتھ ساتھ عائلہ کو باتیں سُناتی جاتیں ، جب کہ عائلہ سر کے نیچے کُشن رکھ کر ٹانگیں پسارے صوفے پر لیٹ کر ٹی وی دیکھنے میں مگن ہوجاتی۔ چاند رات کی خصوصی نشریات دیکھتے دیکھتے کب آنکھ لگتی، کچھ پتا ہی نہ چلتا۔
البتہ ،صبح ضرور امّاں کے بآوازِ بلند نعروں سے ہوتی۔ پھر ہڑبڑاتی ہوئی تیار ہوتی، جی بھر کے امّاں کے ہاتھ کا شِیر خُرما کھاتی، آلو، چھولوں سے دو دو ہاتھ کرتی اور پھر وہی چال بے ڈھنگی، صوفے پر لیٹ کر آرام سے ٹی وی پر من پسند ڈراما یا فلم دیکھتے دیکھتے سو جاتی کہ دادی کے گھر تو سب شام ہی میں اکٹھے ہوتے تھے۔ عائلہ کے معمولات کم و بیش ہر عید پر ایسے ہی ہوتے، نہ وہ سیدھی ہوتی، نہ امّاں ٹوکنے سے باز آتیں۔ یہاں تک کہ ایک روز اُس کا رشتہ طے ہوگیا،وہ بھی بالکل اَن جان شہر، اَن جان لوگوں میں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے چھے، سات ماہ گزر گئے اور وہ بیاہ کر پیا دیس سدھار گئی۔
رخصتی کے وقت آنسو اُمڈ اُمڈ کر آرہے تھے، ’’ہائے! مجھے تو کوئی کام نہیں آتا،پڑھنے، سونے جاگنے ، ٹی وی دیکھنےکے سِوا مَیں نے تو کوئی کام سیکھا ہی نہیں۔ اللہ جی، میکے کی زندگی اتنی جلدی کیوں گزر گئی، مَیں یہیں خوش تھی، کاش! امّاں کا کہنا مان لیتی، تو وہ مجھ سے پریشان ہو کر اتنی جلدی بیاہ نہ کرتیں۔‘‘ جھلّی سوچ رہی تھی کہ امّاں نے اُس سے تنگ آکر اس کی شادی کی ہے۔عائلہ کا سُسرال تین نندوں، دو دیوروں پر مشتمل تھا۔ شعبان میں شادی ہوئی تھی، تو یہ خوف بھی دل ہی دل پریشان کیے جا رہا تھا کہ رمضان میں سارے کام کیسے کرے گی۔
’’ماہِ رمضان شروع ہونے والا ہے، تو عید بھی تو آئے گی، وہ بھی میاں جی کے ساتھ پہلی عید…!!ہائے کتنا مزہ آئے گا۔‘‘ عائلہ نے ابھی سسرال میں قدم ہی رکھا تھا کہ سُسرال کی پہلی عید کے خواب بھی دیکھنے شروع کر دئیے۔ میاں، سُسرال والوں کا مزاج سمجھا نہیں اور عید کے خیال ہی سے دل بلیوں اُچھلنے لگا۔ ابّا نے کبھی میک اَپ کی اجازت نہیں دی تھی کہ ہار سنگھار تو ہوتا ہی میاں کے لیے ہے۔ ’’اب دیکھتی ہوں کون روکتا ہے مجھے میک اَپ کرنے سے، اس عید تو خُوب بنوں سنوروں گی، سارے ارمان پورے کروں گی مَیں تو۔‘‘ وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی۔
عائلہ کے سُسرالی بظاہر اچھے، محبّت کرنے والے لوگ تھے، لیکن بات طے ہونے کے بعد ہی سے امّاں نے سمجھانا شروع کر دیا تھا کہ ’’بی بنّو! سُسرال کو میکہ مت سمجھ لینا۔ کان کُھلے اور زبان بند رکھنا اور ہاں، جاتے ہی منہ پھاڑ کر شوہر سے فرمائشیں مت شروع کر دینا۔‘‘، تو تھوڑی ڈری سہمی عائلہ بی بی نے بھی سُسرال میں کان کُھلے رکھ کر منہ بند کرلیا، البتہ آنکھوں کا امّاں نے نہیں بتایا تھا کہ کُھلی رکھنی ہیں یا بند، اس لیے کبھی پوری کُھلی رکھتی، تو کبھی نیند سے اَدھ کُھلی۔ ولیمے کے چند روز بعد نند آسیہ نے دھیمے لہجے میں بتایا کہ’’بھابھی! رمضان المبارک میں ہمارے گھر کی روٹین بالکل بدل جاتی ہے۔
موبائل بس کال سننے ہی کی حد تک استعمال کرتے ہیں ،ٹی وی ڈرامے اور فلمیں دیکھنے پر تو مکمل پابندی ہوتی ہے۔نہ بازاروں کے چکّر لگتے ہیں، نہ فضول گوئی ہوتی ہے۔سب گھر والے رمضان المبارک میں فجر کے بعد قرآن فہمی کی کلاس میں شامل ہوتے ہیں ۔ سارادن عبادات اورذکر اذکار میں گزرتا ہےاور ہاں چاند رات پر بازاروں میں گھومنا بھی امّاں کو بالکل پسند نہیں۔‘‘چلتے چلتے جیسے آسیہ نے دھماکا کیا اور عائلہ کا دل بند ہونے لگا۔ ’’یا الٰہی! کیا ہوگا میرا، وہ تو جیسے رونے کو تھی۔ اس گھر سے تو قید خانہ ہی اچھا ہوتا ہوگا۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
اب اسے شدّت سے امّاں اور میکہ یاد آرہا تھا۔ امّاں کی نصیحتیں، پیار سے سمجھانا، کھٹی میٹھی ڈانٹ…’’ہائے! کیا دن تھے، کاش! مَیں امّاں کو اتنا نہ ستاتی، تو آج بھی میکے میں شہزادیوں والی زندگی گزار رہی ہوتی۔ ‘‘ اس نے روہانسی ہوکر سوچا۔ قریباً ایک ہفتے بعد رمضان شروع بھی ہوگیا۔ شروع کے دو، چار روزے تو اسے بڑے مشکل لگے کہ نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا، پھر رمضان کے معمولات، یہ سارا ماحول اس کے لیے بالکل الگ تھا، لیکن پھر دھیرے دھیرے اسے سچ مُچ مزہ آنے لگا۔’’امّاں! آپ بالکل پریشان نہ ہوں،مَیں یہاں بہت خوش ہوں۔
سب بہت اچھے ہیں اور سُسر تو اتنی وضاحت اور سادہ انداز سے پورے پارے کا ترجمہ و تفسیر بتاتے ہیں کہ دو گھنٹے گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا۔‘‘ عائلہ نے اپنی امّاں کو فون پہ بتایا، تو ماں بھی بیٹی کی پُرسکون آواز سُن کر مطمئن ہوگئیں۔ حالاں کہ رمضان سے قبل عائلہ سوچ رہی تھی کہ اُس نے تو زندگی کے سارے روزے ہی سو، سو کر یا ڈرامے دیکھ کر گزارےہیں، تو اس بار کیا کرے گی، دن کیسے گزرے گا، لیکن اس کے سارے اندیشے غلط ثابت ہوئے۔ ساس اتنی اچھی تھیں کہ دو، ڈھائی گھنٹے کی نیند کے بعد گھر کا ہلکا پُھلکا کام کرواتیں، دوپہر کی نماز کے بعدسب قرآن پڑھنے بیٹھ جاتے، پھر عصر تک آرام کرکے افطاری کی تیاری شروع ہو جاتی۔
البتہ ساس نے عائلہ کو اضافی کام یہ دیا تھا کہ سارے خاندان والوں کی ایک فہرست بنائے، تاکہ مستحق رشتے داروں کے گھر راشن وغیرہ بھجوایا جا سکے اور ساتھ ہی عیدی کے لفافے بھی ابھی سے تیار ہوجائیں۔ آہستہ آہستہ اسے رمضان کے کاموں اور معمولات میں مزہ آنے لگا، اب وہ اکثر قرآن کھول کر بیٹھ جاتی اور ترجمہ پڑھتے پڑھتے کبھی آنکھیں نم ہوجاتیں، کبھی دل کانپ اُٹھتا، تو کبھی احساسِ تشکّر جاگ جاتا۔ شاید اسے ہی تزکیہ کہتے ہیں۔
انیس روزے گزر چُکے تھے کہ سحری کے وقت اچانک خبر ملی کہ ساس کی امّاں کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس طرح دو، تین دن بڑے ماموں ہی کے ہاں آنا جانا لگا رہا کہ نانی ساس اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں۔ عائلہ کے میکے سے بھی تعزیت کے لیے رشتے دار اور امّاں ،ابّا بھی آئے، تو انہیں رخصت کرتے وقت وہ امّاں سے مل کر بہت روئی کہ وہ بھی کچھ روز کے لیے امّاں کے ساتھ جانا چاہتی تھی، لیکن موقع ایسا تھا، پھرتعزیت کرنے والوں کا آنا جانا بھی لگا تھا، تو جانا ممکن نہ ہوا۔
خیر، طاق راتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور آخری عشرہ تو ہمیشہ کی طرح جیسے پر لگا کر اُڑ گیا۔’’مبارک ہو، عید کا چاند نظر آگیا ہے۔کل اِن شاءاللہ عید ہوگی۔‘‘ عائلہ کے شوہر ،شفیق نے اطّلاع دی ، لیکن شادی سے پہلے چاند رات پر سب سے زیادہ چہکنے والی عائلہ اس چاند رات بالکل خاموش، چُپ چُپ سی تھی۔ ’’شادی کے بعد پہلی عید کے حوالے سے میرے کتنے ارمان تھے، سب ختم ہوگئے،سارا دن تو گھر تعزیت کے لیے آنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کل تو مزید مہمان آئیں گے۔
کون سی عید اور کہاں کی عید…‘‘ اس نے منہ بسورتے ہوئے سوچا اور اپنے میکے کی وہ سب عیدیں یاد کرنے لگی، جب میکے میں قریبی رشتے داروں کی اموات ہوئی تھیں۔’’جب نانا ابّو کی وفات کے تین ماہ بعد پہلی عید آئی تھی، تو امّاں نے کسی کے بھی نئے کپڑے نہ سلوائےتھے، سارا دن گھر میں رہی تھیں یا اپنے ابّا کو یاد کر کے، ان کی قبر پرجا کر گزارا تھا۔ پھر جب تایا ابّوفوت ہوئے تھے، تب بھی تو پہلی عید سادگی سے پرانے کپڑوں میں سوگ منا کر ہی گزاری تھی۔‘‘ ابھی عائلہ انہی سوچوں میں گُم تھی کہ چھوٹی نند نے اُسے گلے لگا کر ’’چاند مبارک‘‘ کہا اور وہ ہکّا بکّا رہ گئی کہ پلٹ کر مبارک باد دے یا چُپ رہے۔ وہ تو ماضی، ذہن میں لائے گُم تھی کہ اب ساس رونا پیٹنا ڈالیں گی۔
اتنے میں ساس کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی ’’سب لاؤنج میں آجائیں۔‘‘ جب وہ لوگ لاؤنج میں اکٹھے ہوئے، تو ساس نے بیٹیوں اور عائلہ کا ماتھا چوم کر عید کی مبارک باد دی، ہاتھوں میں کڑکڑاتے ہوئے نوٹ بطور عیدی دیئے اور سب کو ان کے کام سمجھائے۔ ’’سارہ بیٹا! تم بستر کی چادریں بدل دو،زارا! تم کل کے لیے شِیر خُرما بنالو، مَیں نہاری اور چھولے بنالوں گی اور ہاں یہ منہدی کون مَیں نے ملازم سے منگوا لی تھی، جب تم لوگ کام سے فارغ ہوجاؤ، تو لگا لینا اور سارہ! شادی کے بعد یہ عائلہ کی پہلی عید ہے، تو اس کے ذرا اچھی سی، بھری بھری منہدی لگانا اور عائلہ بیٹا، اپنے اور شفیق کے کپڑے ابھی نکال کے استری کرلو، تاکہ صبح پریشانی نہ ہو۔
اچھا سُنو، کل کے لیے شوخ رنگ کا، بھاری کام والا جوڑا نکالنا کہ پہلی عید پر ہماری بہو رانی سب سے پیاری لگنی چاہیے۔ مناسب سمجھو تو اپنا سُوٹ استری کرنے سے پہلے مجھے دکھا دینا، تاکہ مَیں مشورہ دے دوں کہ ٹھیک ہے یا نہیں۔‘‘ ساس ہدایات دے کر خاموش ہوئیں، تو عائلہ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ بمشکل اتنا کہہ پائی کہ’’آنٹی! آپ کی امّی کے بعد یہ پہلی عید ہے، تو میرا شوخ رنگ پہننا، سجنا سنورنا اچھا نہیں لگے گا۔ پھر کل تو گھر پہ بہت لوگ آئیں گے، تو مَیں نئے کپڑے نہیں پہنوں گی۔‘‘ عائلہ نے جھجھکتے ہوئے ایک ہی سانس میں کہا۔ ’’تو…؟؟‘‘ ساس نے بس ایک ہی لفظ کہا اور کچھ توقّف کے بعد پھر گویا ہوئیں۔ ’’امّی کے بعد پہلی عید کا کیا مطلب ہے؟‘‘ ’’آنٹی! وہ جب کوئی قریبی عزیز فوت ہوجاتا ہے، تو اس کے جانے کے بعد پہلی عید نہیں مناتے ناں…مَیں نے تو یہی سُنا اور دیکھا ہے۔‘‘
عائلہ نے بھولپن سے کہا، تو ساس مُسکراتے ہوئے بولیں ’’کیا قرآن و حدیث میں ایسا کچھ لکھا ہے؟ سوگ بس تین دن کا ہوتاہے،ہاں بیوہ کا سوگ چار ماہ دس دن کا ہوتا ہے۔تم نے ٹھیک کہا کہ یہ میری امّی کے جانے کے بعد پہلی عید ہے، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ مَیں اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کروں اور بیٹا! یہ کیا، اب تو میری ہر عید ماں کے بغیر ہی گزرے گی، ماں جیسی عظیم نعمت سے محروم ہونے کا احساس صرف عید پر کیا، ہر دن ہوتا ہے، لیکن مَیں بھی ایک ماں ہوں، تو مَیں کیسے اپنے بچّوں کو خوشی منانے سے روک سکتی ہوں اور پھر یہ تو تمہاری پہلی عید ہے، جو تمہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔‘‘
ساس نے پیار سے سمجھایا۔ ’’لیکن، آنٹی…‘‘ عائلہ کو یہ باتیں ہضم نہیں ہو رہی تھیں۔ ’’لیکن، اگر، مگر یقین کو شک میں ڈالتے ہیں اور ہمیں تو آخرت میں ہمیشگی کے ملاپ کا یقین ہے، تو ہم کیوں عید نہ منا کر اپنے ربّ اور اس کے محبوبﷺ کو ناراض کریں…؟ باقی رہا جانے والوں کا دُکھ، تو ہم ان کے ایصالِ ثواب کے لیے دُعا کر کے ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے اور نیک اولاد تو ویسے ہی صدقۂ جاریہ ہوتی ہے، تو مَیں اپنی ماں کے لیے نیک اعمال اور دُعائیں کرتی رہوں گی، تاکہ ان کی قبر مہکتی رہے۔ اور تمہیں پتا ہے، تمہارے سُسر نے امّاں کے ایصالِ ثواب کی نیت سے آج مسجد میں سب اعتکاف والوں کو افطاری کروائی ہے اور اِن شاءاللہ! کل عید گاہ کے تمام اخراجات بھی امّاں کے ایصالِ ثواب ہی کی نیّت سے کریں گے۔
پھر بھیّا نے بھی انگلینڈ سے امّاں کے صدقۂ جاریہ کے لیے پیسے بھیجے ہیں، جن سے غریبوں کی بستی میں پانی کا بندوبست ہوجائے گا۔ اب بتائیے، عائلہ بیگم، میری امّاں اور آپ کی نانی ساس کو یہ تحفے پسند آئیں گے ناں؟‘‘ انہوں نے مُسکراتے ہوئے عائلہ کو سینے سے لگاتے ہوئے پوچھا، تو عائلہ کا چہرہ بھی کھِل اُٹھا۔ ’’اس کا مطلب ہےکہ اللہ کے حکم سے، یہاں میری پہلی عید اوروہاں نانی کی پُرسکون گزرے گی۔‘‘ عائلہ بولی اور مُسکراتے چہرے کے ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی۔