محمّد احمد غزالی
15 سالہ نوجوان مرحوم والد سے وراثت میں ملے اپنے باغ میں پودوں کو پانی دے رہا تھا۔ دیکھا کہ ایک مجذوب صفت شخص اُن کی طرف چلا آر ہا ہے، تو فوراً اُس کی طرف بڑھے اور اُنھیں نہایت عزّت و احترام سے ایک مناسب جگہ پر بٹھایا۔ پھر انگور کا خوشہ توڑ کر لائے اور اُن کے سامنے رکھ دیا۔ابراہیم نامی مجذوب کو سعادت مند نوجوان کی یہ ادا اِس قدر پسند آئی کہ کھلی کا ایک ٹکڑا اپنے دانتوں سے چبا کر نوجوان کو یہ کہتے ہوئے دیا’’ اِسے کھالو۔‘‘ نوجوان نے جیسے ہی اُسے کھایا، دل کی دنیا پلٹ گئی۔
نور و معرفت کا ایک جہان دل میں آباد ہوگیا۔ مجذوب نے اپنی راہ لی، تو نوجوان بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر علم و معروفت کے طویل سفر پر روانہ ہوگیا۔ اُس نوجوان کو آج خواجہ معین الدّین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
نام، خاندان، ولادت
آپؒ کو حضرت معین الدّین حسن سنجری چشتی اجمیریؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ معین الدّین اصل نام ہے، والد کے اسمِ گرامی کے ساتھ حسن کا لفظ تھا، جو آپؒ کے نام کا بھی حصّہ بن گیا۔ سنجر آبائی علاقہ، چشتی صوفی سلسلہ اور اجمیر جائے مدفن ہے۔آپؒ کی تاریخِ ولادت سے متعلق مختلف آرا پائی جاتی ہیں، جن کے مطابق 530، 535 یا 537 ہجری میں سیستان/سجستان (ایران) کے قصبے، سنجر میں پیدا ہوئے۔
اِس قصبے کا اصل املا سجز( س ج ز) ہے اور مشائخِ چشت سے متعلق ابتدائی رسائل میں بھی اِسی طرح لکھا ہوا ہے، تاہم بعدازاں کسی کاتب کی غلطی کی وجہ سے یہ سجزی سے سنجری میں بدل گیا اور پھر یہی لفظ رواج پاگیا۔ ابھی 15 برس کے تھے کہ والد، غیاث الدّین حسن انتقال فرماگئے۔ اِس حوالے سے دو روایات ہیں۔ ایک کے مطابق اُن کا آبائی علاقے میں انتقال ہوا، مگر کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ تاتاریوں کی یلغار کے سبب اہلِ خانہ کے ساتھ آبائی علاقے سے ہجرت کرگئے تھے اور اِسی دَوران عراق میں وفات پائی۔
حصولِ تعلیم، بیعت
ابراہیم مجذوب سے ملاقات کے بعد آپؒ کا علمی اور روحانی سفر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ چوں کہ اُن دنوں سمرقند علم کا مرکز تھا، تو وہاں جا پہنچے۔ پہلے قرآنِ پاک حفظ کیا اور پھر تفسیر، حدیث، فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کا سلسلہ مکمل ہوا، تو کسی مردِ کامل کی تلاش میں نکل پڑے تاکہ اپنے دل کی مُراد پاسکیں۔آپؒ کی بغداد میں خواجہ عثمان ہارونیؒ سے ملاقات ہوئی، تو پھر اُنہی کے ہو کر رہ گئے۔ ہارون یا ہرونی، نیشاپور(ایران) کا قصبہ ہے۔
بعض سوانح نگاروں کا کہنا ہے کہ آپؒ، خواجہ عثمان ہارونیؒ سے وہیں جاکر بیعت ہوئے تھے، تاہم بیش تر کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بغداد کا ہے۔خواجہ عثمان ہارونیؒ، خواجہ شریف زندنیؒ کے خلیفہ تھے اور وہ خواجہ مودود چشتیؒ کے خلفاء میں سے تھے۔ مرشد نے پہلے وضو کرنے کا حکم دیا، پھر دو رکعت نماز پڑھنے کا کہا، اُس کے بعد سورۂ بقرہ، 21 بار درود شریف اور 60 بار سبحان اللہ پڑھوا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھاکر آپؒ کو بیعت کیا۔
مرشد سے محبّت، خلافت
خواجہ معین الدّین چشتیؒ کو اپنے مرشد، خواجہ عثمان ہارونیؒ سے بے حد محبّت تھی۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے مطابق، آپؒ متواتر 20 برس مرشد کے پاس رہے، جس کے دَوران اُن کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ خواجہ عثمان ہارونیؒ کثرت سے سفر میں رہتے اور آپؒ اپنے سر پر اُن کا بستر اُٹھائے اُٹھائے چلتے۔ اِسی طرح دیگر خدمات بھی بجا لاتے۔ مرشد کے ساتھ دمشق، بدخشاں، بغداد، مکہ معظّمہ، مدینہ منوّرہ اور دیگر مقامات پر گئے، جس کے دوران بہت سے مشائخ سے صحبتیں رہیں۔
راہِ سلوک کی ابتدا میں آپؒ نے بہت زیادہ مجاہدات کیے۔آپؒ کے ابتدائی مرید اور خلیفہ، خواجہ قطب الدّین بختیار کاکیؒ نے ان مجاہدات کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں،جو حیرت انگیز ہیں۔ 52 برس کے تھے، جب مرشد نے خلافت سے نوازا، سر پر مخصوص کلاہ ( ٹوپی) رکھی، خرقہ، عصا، اپنے نعلین اور مصلیٰ عطا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،’’ یہ چیزیں اُسے ہی دینا جو اِن کے قابل ہو۔‘‘ مرشد بھی آپؒ سے بے حد محبّت کرتے اور کھلے عام فرماتے،’’ مجھے ان کی بیعت پر فخر ہے۔‘‘
ہندوستان آمد
روایت ہے کہ جب اپنے مرشد کے ساتھ مدینہ منوّرہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے تو آپؒ کو تبلیغِ دین کے لیے ہندوستان جانے کا حکم ہوا، جس پر آپؒ مرشد سے رخصت ہوکر سفر پر روانہ ہوگئے۔ بغداد، ہمدان، تبریز، خرقان، سبزوار، بلخ، اصفہان، کرمان، بخارا اور غزنی سے ہوتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہوئے۔
اِس سفر میں آپؒ نے بہت سے مشائخ سے ملاقاتیں کیں، جن میں شیخ نجم الدین الکبریٰؒ، شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کے مرشد شیخ ضیاء الدین سہروردیؒ، شیخ ابو سعید تبریزیؒ وغیرہ کے ساتھ طویل نشستیں رہیں، جب کہ ہمدان میں سلسلۂ نقش بندیہ کے بزرگ، خواجہ یوسف ہمدانیؒ، خرقان میں شیخ ابو الحسن خرقانیؒ اور ہرات میں خواجہ عبداللہ انصاریؒ کے مزارات پر مراقب رہے۔
بعض کتب میں آپؒ کی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے بھی ملاقات کا ذکر ملتا ہے۔ ہندوستان میں داخل ہوئے، تو سب سے پہلے لاہور میں قیام کیا، جس کے دوران حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ کے مزار پر چلّہ بھی کاٹا۔پھر ملتان سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچے اور آخر میں اجمیر کو جائے سکونت بنایا۔یہ 587 ہجری کی بات ہے۔ اُن دنوں وہ علاقہ راجپوتوں کی طاقت کا گڑھ اور پرتھوی راج چوہان وہاں کا حاکم تھا۔
ظلمت کدۂ ہند میں تبلیغِ اسلام
گو کہ خواجہ معین الدّین چشتیؒ سے قبل ہندوستان میں اسلام کی کرنیں پہنچ چُکی تھیں اور کئی صوفی بزرگ بھی یہاں آچکے تھے، جب کہ ساحلی علاقوں میں مسلمانوں کی کچھ بستیاں بھی وجود میں آ چُکی تھیں، تاہم، اِس خطّے میں آپؒ کی ذات بابرکات اور کوششوں سے جس طرح اسلام کی ترویج ہوئی وہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ روایات کے مطابق 90 لاکھ افراد آپؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔لوگوں تک اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا پیغام پہنچانے میں آپؒ کو طرح طرح کی تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔
گویا نبی کریم ﷺ کی یہ سُنّت بھی آپؒ نے پوری فرمائی۔ پرتھوی راج نے جب مقبولیت دیکھی تو آپؒ کو خود کے لیے خطرہ سمجھنے لگا۔ پہلے مختلف حیلوں اور حربوں سے ڈرایا، دھمکایا تاکہ آپؒ علاقہ چھوڑ جائیں، جب اس میں ناکام رہا، تو عوام میں آپؒ کی روحانی حیثیت کم ثابت کرنے کے لیے جادوگر اور جوگی مقابلے میں اُتار دیے۔ اِس ضمن میں جے پال کا نام خاصا معروف ہے، جو شکست کے بعد آپؒ کے دستِ مبارک پر مسلمان ہوگیا تھا۔ نیز، پرتھوی راج کے کئی قریبی دوست اور رشتے دار بھی آپؒ کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگئے، جس پر اُس کا غصّہ مزید بڑھ گیا اور اُس نے آپؒ پر مزید سختیاں شروع کردیں۔
اِسی دوران ایک رات شہاب الدّین غوری نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا، جو اُنھیں ہندوستان پر حملے کی ترغیب اور کام یابی کی نوید سُنا رہے تھے۔ 588 ہجری میں سلطان شہاب الدّین نے حملہ کرکے پرتھوی راج کو پکڑ لیا۔ جب وہ جنگ کے اختتام پر مختلف بزرگوں کی زیارت کرتا ہوا خواجہ معین الدّین چشتیؒ کی خانقاہ میں حاضر ہوا، تو فوراً پہچان گیا کہ یہی وہ بزرگ ہیں، جنھوں نے خواب میں ہندوستان پر حملے کی ترغیب دی تھی۔
تعلیمات
آپؒ سماع کا ذوق رکھتے تھے اور خواجہ بختیار کاکیؒ کے مطابق بہت سے مشائخ بھی آپؒ کی محفلِ سماع میں شریک ہوتے رہے۔ تاہم، آپؒ کے ہاں محفلِ سماع بہت سی پابندیوں کے ساتھ منعقد ہوتی، آلاتِ موسیقی کے بارے میں احتیاط برتی جاتی، کلام غیر شرعی نہ ہوتا اور پڑھنے والے بھی شرعی حلیے کے ہوتے۔ چوں کہ ہندوؤں کی مذہبی رسومات میں موسیقی اور مذہبی کلام کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے، اِسی لیے آپؒ نے حکمتِ عملی کے طور پر سماع کا طریقہ اختیار کیا۔
پھر یہ کہ آپؒ تک عام لوگوں کی رسائی آسان تھی۔ آپؒ اُن کی بات سُنتے اور اُن کی تکالیف کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کرتے، یہاں تک کہ پرتھوی راج جیسے دشمن کو بھی ایک شخص کی مشکل آسان کرنے کے لیے سفارشی رقعہ لکھا، جس پر وہ بے ادبی سے پیش آیا۔ سخی ایسے کہ جو پاس ہوتا، ضرورت مندوں کو دے دیتے، لوگوں پر بے حد شفیق تھے، برسوں صحبت میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے کبھی آپؒ کو غصّے میں نہیں دیکھا۔ سادہ کپڑے پہنتے، سُنتِ رسولﷺ کے بہت پابند تھے۔ ایک روز وضو کرتے ہوئے انگلیوں میں خلال کرنا بھول گئے، تو غیب سے آواز آئی’’محبتِ رسولؐ کا دعویٰ اور سنّت کا ترک؟‘‘
اُسی وقت توبہ کی اور جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا، تو کانپ اُٹھتے۔نبی کریم ﷺ سے محبّت کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی حدیثِ مبارکہؐ بیان فرماتے تو فرطِ محبت سے رونے لگتے۔ ایک موقعے پر فرمایا،’’ کوئی شخص نماز کی پابندی کے بغیر بارگاہِ ربّ العزّت میں مقبول نہیں ہوسکتا۔‘‘ فرمایا،’’ جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس شخص اور دوزخ کے درمیان سات پردے حائل کردے گا۔‘‘ ارشاد ہوا،’’ جو شخص جھوٹی قسم کھاتا ہے، اُس کے گھر سے برکت اُٹھ جاتی ہے۔
اہلِ حق تو سچّی قسم کھانے سے بھی ڈرتے ہیں۔‘‘ آپؒ کثرت سے تلاوت کیا کرتے تھے، بعض روایات کے مطابق روزانہ ایک بار قرآن پاک کا ختم فرماتے۔ ارشاد فرمایا،’’ کلام اللہ کا دیکھنا اور پڑھنا عظیم عبادت ہے۔‘‘فرمایا،’’ اپنے مسلمان بھائی کی کسی حالت میں تذلیل نہ کرو، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘ارشاد ہوا،’’ لوگوں میں ضعیف ترین وہ شخص ہے، جو اپنی بات پر قائم نہ رہ سکے۔‘‘
مقبولیت
اللہ تعالیٰ نے جیسی عوامی مقبولیت آپؒ کو عطا فرمائی، خطّے کے کسی اور بزرگ کے حصّے میں نہیں آئی۔عام افراد سے لے کر حکم رانوں تک سبھی آپؒ کے مزار پر حاضری کو خود لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ شہزادہ سلیم کی پیدائش پر اکبر بادشاہ آگرہ سے اجمیر تک پاپیادہ حاضر ہوا۔ التمش، جہانگیر، شاہ جہاں، محمد بن تغلق، فیروز شاہ تغلق، غیاث الدّین خلجی، شیر شاہ سوری، اورنگزیب سمیت شاید ہی خطّے کا کوئی ایسا حکم ران ہو، جو آپؒ کے مزار پر نہ آیا ہو۔
تصانیف
آپؒ سے کئی کتب منسوب ہیں، مگر اُن پر سوالات بھی اُٹھائے جاتے ہیں۔ اِن میں سب سے معروف خواجہ عثمان ہارونیؒ کے ملفوظات پر مشتمل’’ انیس الارواح‘‘ ہے۔ اس میں 28 مجالس کا ذکر ہے اور یہ فارسی زبان میں ہے۔ اِس کتاب پر قدرے اتفاق ہے کہ یہ آپؒ ہی کی تصنیف ہے۔ ایک دیوان بھی آپؒ سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم یہ دیوان اصل میں نویں صدی ہجری کے عالم اور’’ معارج النبوۃ‘‘ کے مصنّف، مولانا معین الدّین ہروی کا ہے۔
اسی طرح گنج الاسرار، حدیث المعارف، رسالہ وجودیہ، رسالہ در کسب نفس اور خواجہ قطب الدّین بختیار کاکیؒ کے نام لکھے گئے خطوط پر مشتمل’’ مکتوباتِ خواجہ‘‘ بھی آپؒ سے منسوب ہیں۔’’ دلیل العارفین‘‘ آپؒ کے ملفوظات کا مجموعہ ہے، جس میں 12 مجالس کا احوال ہے، جسے خواجہ قطب الدّین بختیار کاکیؒ نے قلم بند کیا۔ یہ کتاب فارسی میں ہے، مگر اس کے اردو تراجم بھی دست یاب ہیں۔
ازدواجی زندگی
آپؒ نے اجمیر آکر یعنی بڑی عُمر میں شادی کی۔ ایک بیوی، عصمت اللہ بی بی حاکمِ اجمیر وجیہ الدّین مشہدی کی بیٹی تھیں اور دوسری امۃ اللہ بی بی کسی ہندو راجا کی بیٹی تھیں، جو جنگ میں مسلمانوں کے پاس آئی اور مسلمان ہو گئی تھیں۔ اِن دونوں سے آپؒ کی اولاد ہوئی۔ تین بیٹےاور ایک تھیں۔
وفات
آپؒ کی تاریخِ وفات پر اختلاف ہے، البتہ بیش تر نے 633ہجری تحریر کیا ہے۔ وفات کی رات نمازِ عشاء پڑھ کر حجرے کا دروازہ بند کرلیا اور رات بھر اندر سے ایسی آوازیں آتی رہیں، جیسے کوئی حالتِ وجد میں پاؤں زمین پر مار رہا ہو۔ رات کے آخری حصّے میں یہ آواز آنا بند ہوگئی۔
فجر کے وقت خادموں نے دروازے پر دستک دی، تو کوئی جواب نہیں آیا، جب وہ اندر داخل ہوئے تو آپؒ اپنے ربّ کے حضور پہنچ چکے تھے۔ اجمیر ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ 939 ہجری میں سلطان غیاث الدّین کی نذر کردہ رقم سے قبر پر پہلی بار گنبد بنوایا گیا۔ مزار اور ملحقہ حصّوں میں مختلف اوقات میں توسیع ہوتی رہی ہے۔