ڈاکٹر یاسمین شیخ، کراچی
برص، جسےعرفِ عام میں پھلبہری بھی کہا جاتا ہے، ایک ڈِس آرڈر ہے۔ اس مرض کی ابتدا عموماً ایک چھوٹے سے سفید دھبّے سے ہوتی ہے، جو پھر بتدریج پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ہر کیس میں ایسا ہی ہو۔ اگرچہ یہ دھبّے تکلیف دہ نہیں ہوتے، مگر بدنما ضروردکھائی دیتے ہیں،جب کہ دُنیا بَھر میں اس مرض کے شکار مریضوں سے امتیازی سلوک کی شکایات بھی عام ہیں۔
سو، مریضوں سے اظہارِ یک جہتی اور مرض سے متعلق معلومات عام کرنے کے لیے ہر سال دُنیا بَھر میں وِٹلائيگو سپورٹ اینڈ اوئیرنس فاؤنڈیشن، وِٹلائيگو ریسرچ فاؤنڈیشن اور دیگر تنظیموں کے زیرِ اہتمام 25 جون کو’’انسدادِ برص کا عالمی یوم ‘‘ منایا جاتا ہے۔ ذیل میں اسی مناسبت سے ایک معلوماتی مضمون پیش کیا جارہا ہے۔
یہ دُنیا مختلف انسانوں سے بَھری پڑی ہے۔ کسی کا رنگ گورا ہے، تو کوئی کالا، گندمی یا پھر زردی مائل رنگت کا حامل۔ اگرچہ جِلد کی رنگت پریشانی کا باعث نہیں بنتی، مگر مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب جسم کے کسی بھی حصّے پر کوئی دھبّا نمودار ہوجائے۔ اگر یہ دھبّا سیاہی مائل ہو، تو زیادہ تشویش نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس سفیدی مائل داغ یا دھبّا نمودار ہو نے کی صُورت میں صرف نیندیں ہی نہیں اُڑ تیں ، بلکہ اہلِ خانہ اور ملنے جلنے والے بھی عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اگر یہ دھبّے ہاتھوں پر ہوں ،تو اکثر ملنے جلنے والے ہاتھ ملانے سے کتراتے ہیں کہ کہیں اُنہیں بھی یہ مرض لاحق نہ ہوجائے، حالاں کہ برص چھوت کا عارضہ ہرگز نہیں۔ اس مرض کے شکار افراد ہر اعتبار سے نارمل ہوتے ہیں۔ یہ مرض پیدایشی بھی ہوسکتا ہے اور مختلف وجوہ کی بنا پر بھی اپنا شکار بنالیتا ہے۔
ہماری جِلد کی رنگت بنانے والے خلیات طبّی اصطلاح میں میلانوسائٹس (Melanocytes) کہلاتے ہیں، جوجِلد کی رنگت ایک جیسی رکھتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی بھی وجہ سے میلانن کی تعداد کم ہوجائے یا افزایش کا عمل رُک جائے، تو وہاں سفید دھبّا ظاہر ہوجاتا ہے۔ عام طور پریہ دھبّے دائرے کی صُورت نمودارہوتے ہیں۔کہیں کہیں ان کے درمیان بال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔
اگر یہ دھبّے سَر کی جِلد پر ہوں، تواُس حصّےکےبال بھی سفید ہو جاتے ہیں۔ گہری رنگت کے حامل افراد میں سفید دھبّے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سفید رنگت والوں میں اس قدر واضح نہیں ہوتے۔ برص کی ابتدا اندازاً دس سال سے تیس برس کی عُمر میں ہوتی ہے۔ بعض کیسز میں یہ دھبّے بتدریج بڑھتے ہیں اور کبھی برسوں ایک ہی حالت میں رہتے ہیں۔ یعنی ان کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے، نہ ہی پورے جسم پر پھیلتے ہیں۔
بعض اوقات یہ سفیدی مائل دھبّے جسم کے ایک حصّے سے غائب ہوکر کسی دوسرے حصّے میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ عام طور پر چہرے، ہونٹ کے اوپری یا نچلے حصّے، ٹھوڑی، آنکھوں کے پپوٹوں، ناک کے نتھنوں پر زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نیز، ہاتھ کی انگلیوں، پشت، بازو، گردن، گھٹنے، ٹخنے اور انگلیوں کے سِروں پر بھی ہوسکتے ہیں۔ ان میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی، لیکن دھوپ کی شدّت سے سُرخی مائل اور خارش زدہ ہو سکتے ہیں، مگر ایسا ذرا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
برص کا مرض لاحق ہونے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، مگر بعض عوامل ایسے ہیں، جن کی بناء پر یہ مرض اپنا شکار بنا لیتا ہے۔ ان اسباب میں سرِفہرست آٹو امیون سسٹم کی خرابیاں ہیں، جس میں رنگت بنانے والے خلیات متاثرہونے کے نتیجے میں رنگت بننے کا عمل رُک جاتا ہے اور جسم پر کہیں کہیں سفید دھبّے نمودار ہونے لگتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ذیابطیس، Hashimoto's Thyroiditis اور ایڈیسنزڈیزیز (Addison's disease) بھی وجہ بن سکتی ہیں۔ رہی بات موروثیت کی،تو چند کیسز میں کسی حد تک موروثیت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر ضروری نہیں کہ والدین میں سے کسی ایک کو برص کا مرض لاحق ہو،تو لازماً ان کے تمام بچّوں میں سفید دھبّے ظاہر ہوں گے۔ بعض اوقات ذہنی دباؤ بھی وجہ بنتاہے، لیکن ایسے کیسز کی شرح بہت کم ہے۔
اسی طرح جذام اور آتشک کی بیماریوں میں مبتلا بعض مریضوں کے جسم پر سفید دھبّے ظاہر ہوسکتے ہیں، تو پُرانی خارش، ایگزیما اور چنبل کے بعض کیسز میں ہر وقت کھجانے سے بھی جسم پرکہیں کہیں سفید دھبّے بن جاتے ہیں، لہٰذا اس طرح کے عوارض میں مبتلا مریضوں کو فوری طور پر ماہرِ امراضِ جِلد سے رابطہ کرنا چاہیے، تاکہ جِلد کی رنگت دو رنگی نہ ہو۔
برص سے متاثرہ وہ مریض، جن کے پورے جسم پر سفید دھبّے ہوں، اُنہیں دھوپ کی شدّت سے جِلد پر جلن، سُرخی اور بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ نیز، سورج کی روشنی بھی آنکھوں میں چُبھتی ہے۔ واضح رہے،صحت مند افراد کی جِلد میں موجود رنگین ذرّات سورج کی تمازت برداشت کرنے اور نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
ہر سفید دھبّا برص کا نہیں ہوتا کہ بعض اوقات چہرے، بازؤں پر بلیچ کروانے سے بھی سفید دھبّے ظاہر ہوجاتے ہیں۔ بعض خواتین میں بلیچ کروانے کارجحان نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ یاد رکھیے، قدرتی طور پر خواتین کی جِلد چالیس سال کی عُمر تک تروتازہ رہتی ہے، اور ہر مہینے جِلد کی اوپری سطح کے مُردہ خلیات خود بخود جھڑ جاتے ہیں اور نئے خلیات اُن کی جگہ لے لیتے ہیں، البتہ مینو پاز کے بعد جِلد کی حفاظت ضروری ہے۔ اس کے لیے متوازن غذا کے استعمال کے ساتھ وقت پر سویا جائے، تو جِلد تروتازہ رہتی ہے اور اس کی تازگی برقرار رکھنے کے لیےکسی قسم کے کیمیکل کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ہمارے دین میں صاف پانی سے وضو کا حکم دیا گیا ہے، کیوںکہ صاف پانی کا پی ایچ-7 ہے، جو تیزابی خاصیت رکھتاہے، نہ الکلی اثرات کا حامل ہے۔ اگر چہرہ صاف پانی ہی سے اچھی طرح دھولیا جائے، تو چمکتا دکھائی دے گا۔ سوائے اُن خواتین کے، جن کے چہرے کی جِلد چکنی ہو۔ انہیں بھی صرف علاج کی ضرورت ہوتی ہے، بلیچ کروانے کی نہیں۔ یاد رکھیے، بلیچ کا کیمیکل جِلد کی اوپری سطح کو چند ہفتوں کے لیے تو صاف کردیتا ہے، بعدازاں، رنگت ماند پڑنے لگتی ہے۔
یوں بار بار بلیچ کروانے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ رنگت بنانے والے خلیات کے کام کی رفتارسُست پڑجاتی ہے اور اچانک ہی چہرے یا بازو وغیرہ پر ایک ننّھا سا سفید داغ بن جاتا ہے، جو دیکھنے میں برص جیسا لگتا ہے، مگر درحقیقت کیمیکل کا ردِعمل ہوتاہے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض خواتین چہرے کے باریک روئیں کو عیب جان کر بلیچ کرواتی رہتی ہیں، مگر بعض خواتین میں اس عمل سے روئیں کی نشوونما بڑھ جاتی ہے، لہٰذا حتی الامکان کوشش کی جائے کہ اللہ کی تخلیق کردہ صُورت کو بگاڑا نہ جائے۔ اگر قدرتی طور پر آپ کی رنگت گوری ہے، تو کسی کے کہے میں آکر بلیچ کا تجربہ ہرگز نہ کریں۔
اسی طرح سانولی رنگت کوگورا کرنے کی زور آزمائی بھی نہ کی جائے۔ علاوہ ازیں، یہاں اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے کہ ایسے کپڑے جو بلیچ ڈال کر دھوئے جاتے ہیں، اُنھیں پانی میں تین مرتبہ ڈبو کر اچھی طرح نچوڑنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ کیمیکل مکمل طور پر نکل جائے۔ اگر صرف جھٹک کر سکھائیں گی، تو پانی توخشک ہوجائے گا، مگر کیمیکل رہ جائے گا۔ دراصل اس طرح کے کپڑے،خاص طور پر قمیص، خارش کا سبب بن سکتی ہے،کیوں کہ جب گردن پسینے سے تر ہو، تو کالر پر رہ جانے والا کیمیکل جِلد پر اثر انداز ہو کر وہاں کی جِلدسُرخ کر دیتا ہے، جو پھر اکثر ہلکی سفیدی مائل ہوجاتی ہے۔
جہاں تک برص کے علاج کا تعلق ہے، تو دھبّےکا حجم جس قدر چھوٹا ہوتا ہے، علاج کی کام یابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر دھبّے پورے جسم پر پھیل جائیں، تو پھر علاج ایک صبر آزما مرحلہ بن جاتا ہے۔ عام طور پر ادویہ، مرہم اورالٹرا وائلٹ شعاؤں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے، جب کہ مریض کی حوصلہ افزائی بھی مرض کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ (مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ جِلد ہیں اور انکل سریا اسپتال میں خدمات انجام دے رہی ہیں)