مدثر اعجاز، لاہور
سیاستِ عالم کی طرح برّ ِصغیر پاک وہند کی سیاست میں بھی مردوں کی اجارہ داری رہی ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہاں کی خواتین نے عملی طور پر سیاست میں کوئی حصّہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی سیاست کے ہر دَور میں سیاسی بصیرت کی حامل کئی ایسی خواتین کا تذکرہ ملتا ہے، جنہوں نے ناسازگار حالات کے باوجود اپنے زورِبازو پر بھروسا کرتے ہوئے وہ کچھ کر دکھایا، جو اُس وقت سیاست سے وابستہ مَردوں کے لیے بھی ناممکن تھا۔ برصغیر میں خواتین کے سیاست میں آنے کی ایک بڑی وجہ وراثت کی حفاظت تھی۔
بعض اوقات بادشاہ کی نرینہ اولاد حکومتی امور سے نابلد ہوتی یا وہ بغیر نرینہ اولاد فوت ہوجاتا، تو اس کی ملکہ یا شہزادی تخت پراپنے شوہر یا باپ کی وراثت قائم رکھنے کے لیے عملی سیاست میں آجاتیں۔ خواتین کی سیاست میں آمد کی دوسری وجہ اس کے عین برعکس تھی، یعنی کچھ خواتین نے حکومتِ وقت کے خلاف سازش میں بھی کردار نبھایا۔ حکمران وقت کے حرم میں بیک وقت کئی عورتیں موجود رہتیں، جن میں سے کوئی ملکہ کے درجہ تک پہنچ جاتی، تو کوئی صرف بیوی رہتی، جب کہ کچھ کا مقام صرف کنیزِ خاص تک ہی محدود رہتا۔
ان میں سے اکژخواتین کی خواہش ہوتی کہ بادشاہ کی وفات کے بعد اُن کا بیٹا تخت کا وارث بنے اور یہ خواہش اکثر اوقات محلّاتی سازش کے روپ میں سامنے آتی۔ سیاست کے خارِ زار میں قدم رکھنے والی کچھ خواتین ایسی بھی ہیں، جنہوں نے خود تو عملی طور پر سیاست میں آنے سے گریز کیا، مگر اپنے مشوروں سے بادشاہِ وقت کی مشکلات اور دیگر امور میں بھرپور راہنمائی کی۔
بادشاہ بھی ہمیشہ ان کے مشوروں کو اہمیت دیتا اور دربار میں بھی ان خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے بعد جنگِ آزادی تک متعدد خواتین کا ذکر ملتا ہے، جنہوں نے طاقت اور تخت سے بے نیاز ہوکر برصغیر کو غیر ملکی تسلّط سے آزاد کروانے کی غرض سے اپنا بھرپور کردارادا کیا۔ ان میں چند نمایاں خواتین کا ذکر ذیل میں پیش ِ خدمت ہے۔
رضیہ سلطانہ: رضیہ سلطانہ کو نہ صرف ہندوستان بلکہ جنوب مشرقی ایشیا کی پہلی مسلم خاتون حکم راں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ وہ1205ء میں اُترپردیش کے شہر، بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ یہ وہی وقت تھا، جب برصغیر میں غوری خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہورہا تھا اور پہلا مملوک بادشاہ قطب الدین ایبک تخت ِدہلی پر بیٹھنے کی تیاری کر رہا تھا۔ رضیہ سلطانہ کے والد شمس الدین التمش، قطب الدین ایبک کے زر خرید غلام تھے، مگر اپنی ذہانت و قابلیت کے باعث تیسرے مملوک حکمران کی حیثیت سے 1211ء میں دہلی کے تخت پر براجمان ہوئے۔ اس وقت رضیہ سلطانہ کی عمر محض چھے برس تھی۔
سلطان شمس الدین التمش کے آٹھ بیٹے تھے،جن میں سے ایک بیٹے ناصر الدین محمودکا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہوچکا تھا، جب کہ دوسرے سات بیٹوں میں سے کوئی حکم رانی کا اہل نہ تھا۔ التمش، گزشتہ زندگی کے برعکس جدت پر مبنی آزادانہ فیصلے کرنا پسند کرتا تھا۔ اس نے جب بیٹوں کے بجائے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ میں بہادری، معاملہ فہمی جیسے اوصاف دیکھے، تو اُسے اپنے تخت کا وارث بنانے کا فیصلہ کرلیا اور اسے تعلیم کے ساتھ تلوار بازی، تیر اندازی، گھڑسواری کی خصوصی تربیت سے بھی آراستہ کیا۔ اس دوران وہ نوعمری سے حکمران بننے تک پردے کی سخت پابند رہی۔
التمش کی وفات کے بعد1236ء میں تخت نشین ہوئی، تو اسے اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس کے دربار میں بہت سے اہم ترک امراء عورت کی حکمرانی کے سخت خلاف تھے، خود اس کے نااہل بھائی اس کے خلاف سازشوں میں پیش پیش رہے۔ تاہم، رضیہ سلطانہ نے ان تمام مشکلات کا بڑی بہادری سے سامنا کیا اور چار برس تک جرأت و بہادری اور سیاسی بصیرت سے حکم رانی کرتی رہی۔
بالآخر 1240ء میں ایک معرکے میں شکست کے بعد مخالفین نے اسے قتل کردیا۔ رضیہ سلطانہ کے حوالے سے یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نہایت نامساعد حالات کے باوجود اس نے ہندوستان پر حکومت کرکے خواتین کے لیے ایک قابلِ فخر مثال قائم کی۔
ماہم انگہ:سولہویں صدی کی سیاست میں ایک اہم اور قابلِ ذکر کردارادا کرنے والی ماہم انگہ، مغل بادشاہ اکبر کے دربار سے وابستہ تھی۔ اکبر کے باپ ہمایوں کا عہد، حکومتی سازشوں اور جنگی معرکوں سے بھر پور تھا، اس دوران ایک معرکے میں ایک بار ایسا وقت بھی آیا کہ اُسے حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان نامواقف حالات میں اس نے اکبر کی پرورش کی تمام تر ذمّے داری دربار سے وابستہ نیک خاتون ماہم انگہ کوسونپ رکھی تھی۔ اکبر اُسے ماں کا درجہ دیتا اور بڑی امّی پکارتا تھا۔ ہمایوں کی وفات کے بعد جلال الدین اکبر محض تیرہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔
مغلیہ سلطنت کو سوری خاندان سے آزاد ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور سلطنت کو اندرونی و بیرونی سمیت دیگر بہت سے مسائل کا سامنا تھا۔ تاہم ایسے میں اکبر بادشاہ کو بیرم خان جیسے مخلص اتالیق کی مدد و رہنمائی حاصل تھی، وہ نہ صرف کم سِن اکبر کا اتالیق تھا، بلکہ تمام تر حکومتی امور بھی وہی انجام دیا کرتا تھا۔ کچھ عرصے تک تو معاملات یوں ہی چلتے رہے، لیکن پھر جلد ہی اکبر بادشاہ، بیرم خان سے اُکتا گیا۔ کم سِن اکبر کی یہ حالت دیکھ کر ماہم انگہ نے اکبر کو نہ صرف بیرم خاں کو دربار سے الگ کرنے کا مشورہ دیا، بلکہ اس حوالے سے اہم کردار بھی ادا کیا۔
مؤرخین کے مطابق، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ماہم کے مشورے سے بیرم خان کو حج پر بھجواکر واپسی پر قتل کروادیا گیا۔ بیرم خان کے قتل کے بعد ماہم انگہ نے بلاشرکتِ غیر اکبر بادشاہ کے مشیر کا کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ اپنے اثر و رسوخ سے بہت سے قریبی رشتے داروں کو محل میں اہم عہدوں پر فائز کروادیا۔ ماہم انگہ کے دو سگے بیٹے ادھم خان اور باقی خان تھے۔ ادھم خان، اکبر کے دربار میں اہم عہدے پر فائز تھا اور اپنی ماں کی حیثیت سے فائدہ اُٹھا کر بعض اوقات اکبر کی نافرمانی بھی کرتا، ماہم ہر بار اکبر سے اُس کی جاں بخشی کروا دیتی۔
رفتہ رفتہ اکبر بادشاہ امورِ سلطنت سے بخوبی آگاہ ہوتا چلا گیا اور ایک مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ وہ اپنے فیصلوں پر تنقید قطعی برداشت نہیں کرتا تھا۔ ادھم نے دربار میں وزیر کی تعیناتی پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے چند ساتھیوں سمیت بادشاہ کے خلاف بغاوت کی، تو اکبر نے اپنی تلوار سے ادھم خان کا سر قلم کردیا اور خود ہی یہ خبر ماہم انگہ تک پہنچائی۔ ماہم نے اپنے بیٹے کی موت پر بظاہر کوئی احتجاج نہ کیا، مگر اس قتل کے چالیس دن بعد خود بھی اس دُنیا سے رخصت ہوگئی۔
ملکہ ٍجہاں: تاریخِ ہند کی مشہور ملکہ، نورجہاں کابھی برصغیرکی سیاست میں نہایت اہم کردار تھا، جس نے اپنی منفی و مثبت طرز سیاست کے باعث شہرت حاصل کی۔ نورجہاں کو شاہ جہاں کی بطور ولی عہد نام زدگی سے اختلاف تھا، وہ اُس کی جگہ اپنے داماد کو ولی عہد مقرر کرنا چاہتی تھی۔ چناں چہ اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے باپ اور بیٹے کے درمیان شدیداختلافات پیدا کردیے، جس کے نتیجے میں نوبت خانہ جنگی تک جا پہنچی۔
نورجہاں، جس کا اصل نام مہرالنسا تھا17سال کی عمر میں اُس کی پہلی شادی مغل حکومت کے اہم رکن شیرافگن سے ہوئی، مگر شیر افگن کو جہانگیر کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتاری پر مزاحمت کے دوران قتل کردیا گیا اور اس کی بیوہ نورجہاں کو بادشاہ کے محل میں پناہ دے دی گئی، جہاں دونوں کی محبت پروان چڑھی اور جلد ہی نورجہاں ملکہ بن کر جہانگیر کے حرم میں داخل ہوگئی۔
مورخین کے مطابق، شادی کے صرف چھے ماہ بعد ہی نورجہاں درباری معاملات پر اپنی گرفت مضبوط کرکے طاقت کا سرچشمہ بن گئی، کوئی کام اُس کی مرضی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ نورجہاں برصغیر کی وہ پہلی ملکہ تھی، جس کا نام سونے اور چاندی کے سکّوں پر بادشاہ کے نام کے ساتھ کندہ کیا گیا، جہانگیرکی عدم موجودگی یا بیماری کے باعث نورجہاں خود دربار لگاتی۔ اس نے اپنے کئی رشتے داروں کو دربار میں اہم عہدوں پر فائز کروایا۔ اُس کا بھائی آصف جاہ، جہانگیر کا وزیرِخاص تھا۔
برصغیر کی سیاست میں بے مثال عروج حاصل کرنے کے بعد نورجہاں نے مستقبل کی پیش بندی شروع کردی، جہاں سے اس کے سیاسی زوال کا آغاز ہوا۔ جہانگیر کا ولی عہد اُس کا بیٹا شہزادہ خُرم (شاہ جہاں) تھا۔ نورجہاں کی خواہش تھی کہ شہزادے کی شادی اُس کی بیٹی لاڈلی بیگم سے ہوجائے، جو اُس کے پہلے خاوند شیر افگن سے تھی، مگر خرم اس شادی پر راضی نہ ہوا۔ اس انکار کے بعد نورجہاں نے لاڈلی بیگم کی شادی شہزادہ شہریار اور اپنی بھانجی ممتاز محل کی شادی شہزادہ خرم سے کروادی، جس کا مقصد تخت پر اپنے خاندان کا اثر برقرار رکھنا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہانگیر نے درباری معاملات میں دل چسپی لینا کم کردی، اور نورجہاں کی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہ اپنے داماد شہریار کو ولی عہد خرم پر ترجیح دینے لگی، خرم نے جب یہ حالات دیکھے، تو باپ کے خلاف بغاوت کردی، مگر بعدازاں اُسے معافی مل گئی۔ اس واقعے کے ٹھیک ایک سال بعد جہانگیر کا انتقال ہوگیا، تو نورجہاں نے ایک بار پھر اپنے داماد کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی، مگر اُسے ناکامی ہوئی اور شاہ جہاں تخت پر براجمان ہوگیا۔ اس نے حکومت سنبھالتے ہی نورجہاں کو لاہور قلعہ میں نظر بند کروا دیا۔ تاہم اُسے لاہور میں رہنے اور اپنے خاوند کے مقبرے تک جانے کی اجازت دے دی گئی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں خواتین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس جنگ میں نہ صرف درباروں سے وابستہ خواتین، بلکہ عام دیہاتی اور شہری عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ برطانوی مصنّف کیپلنگ کے مطابق، جنگ کے دوران راجہ مہاراجائوں کے قائم کردہ ناچ گھروں میں ناچ گانا بند کرکے ان جگہوں کو آزادی کے متوالوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ کان پور کی ایسی ہی ایک خاتون عزیزن بانو، بہادر شاہ کا جھنڈا اٹھا کر نہایت بہادری اور حوصلہ مندی سے انگریز فوجوں کے خلاف نبردآزما رہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق جنگ آزادی کے بعد پھانسی پانے والے آزادی کے متوالوں میں ایک درجن کے قریب خواتین بھی شامل تھیں۔ جنگِ آزادی میں حصّہ لینے والی خواتین میں بیگم زینت محل کا نام سرِفہرست ہے۔ مغلوں کے زوال کے بعد برصغیر میں بہت سی آزاد ریاستیں قائم ہوچکی تھیں۔ انگریز مختلف حیلے بہانوں سے ان ریاستوں کو اپنے زیرِتسلّط لارہے تھے۔ بیگم حضرت محل نے اپنے شوہر نواب آف اودھ کی جلا وطنی کے بعد اپنے گیارہ سالہ بیٹے کو ریاست کا نواب مقرر کرکے انگریزوں کے خلاف علَم بغاوت بلند کردیا۔
انگریز مورخ ولیم ہارورڈ کے مطابق، اودھ کی ساری ریاست انگریزوں کے خلاف بیگم زینت محل کی سرکردگی میں متحد ہوگئی، زمین داروں اور صاحبِ ثروت افراد نے اس جنگ میں بیگم زینت محل کی بھرپور مالی امداد کی۔ انگریز افواج نے بیگم زینت محل سے تین بار امن معاہدہ کرنے کی ناکام کوششیں بھی کیں۔ اودھ کی ریاست مسلسل دس ماہ تک انگریزوں کے لیے دردِسر بنی رہی۔ اگرچہ کئی معرکوں میں اودھ اور اس کی اتحادی فوجوں کو ابتدائی کام یابی بھی ملی، مگر بالآخر بیگم زینت محل کو خود سے کئی گنا بڑی طاقت کے ہاتھوں شکست ہوئی اور اس نے نیپال میں سیاسی پناہ حاصل کی، جہاں1879ء میں اس کا انتقال ہوا۔