• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا ایک بار پھر ’’سپر ایل نینو‘‘ کے دہانے پر؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

واشنگٹن(جنگ نیوز) دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے موسمی مظہر “سپر ایل نینو” کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات نے ماہرینِ موسمیات اور عالمی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ نئی موسمیاتی پیش گوئیوں کے مطابق بحرالکاہل میں پانی معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس سے امکان پیدا ہوگیا ہے کہ 2026 کے اختتام تک ایک غیرمعمولی طاقتور “سپر ایل نینو” جنم لے سکتا ہے۔امریکی موسمیاتی ادارے نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے بتایا ہے کہ جولائی 2026 تک ایل نینو کے بننے کے امکانات 82 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ کئی موسمی ماڈلز یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ مظہر “سپر ایل نینو” کی شدت اختیار کرسکتا ہے،97-98 کے ایل نینو سےعالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا، اس مرتبہ حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک سمت میں جارہے ہیں۔اس کے نتیجے میں بحر الکاہل میں دیو ہیکل موجیں بنتی ہیں جو 30 میٹر( 90 فٹ ) تک اونچی ہوسکتی ہیں اور یہ عمل دنیا بھر میں شدید گرمی، تباہ کن بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور خوراک کے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق “سپر ایل نینو” وہ مرحلہ ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے مخصوص حصوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے کم از کم 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوجائے۔ گزشتہ ڈیڑھ صدی میں ایسے چند ہی واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1877-78، 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے سپر ایل نینو شامل ہیں۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والا سپر ایل نینو تاریخ کے طاقتور ترین موسمی واقعات میں شامل ہوسکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید