• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ لوگ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں ، ’’کیا حاصل ہوا اس تقسیم، بٹوارے سے۔ اس سے تو انگریزوں کا راج بہتر تھا۔ سستا زمانہ تھا، قانون کی عمل داری تھی۔ اس قدر مصائب، مصیبتیں تو نہیں تھیں…‘‘ دراصل اُنہیں ادراک ہی نہیں ہے کہ ’’آزادی‘‘ کتنی بڑی نعمت ہے۔ جس نے غلامی کا عذاب و اذیّت نہیں سہی، وہ آزادی کی اصل قدرو قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔ 

ذرا چند لمحوں کے لیے خود کو ایک کشمیری یا فلسطینی تصوّر کرکے دیکھیں یا نام نہاد ’’سیکولر بھارت‘‘ کا شہری مان لیں، پورے بدن میں جھرجھری سی آجائے گی۔ کیا آپ یہ تصوّر بھی کر سکتے ہیں کہ آپ کو یا آپ کی اولاد کو اپنی مرضی کے لباس کے انتخاب کی بھی اجازت نہ ہو۔ تو سچ تو یہ ہے کہ آج سے 75 برس قبل ہمارے آباءو اجداد نے اپنے بسے بسائے گھر، جائدادیں، کاروبار، پُرکھوں کا وَرثہ یوں ہی بے وجہ نہیں چھوڑ دیا تھا۔ 

انہوں نے آزادی کی اتنی بھاری قیمت بے سبب ادا نہیں کی تھی۔ 1947ء میں ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے دامن میں کیسے کیسے سانحات، المیے، دل دوز واقعات، دل خراش داستانیں سموئی ہوئی ہیں، اِک ذرا دُہرائیں تو آنکھیں لہو رنگ ہونے، دل پھٹنے لگتا ہے۔ تو چلیں آئیں، آج آپ کو ہجرت کرنے یا دیکھنے والے خاندانوں کے چند افراد سے ملواتے ہیں اور اُن کی درد بَھری کہانیاں اُن ہی کی زبانی آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔

خواجہ رضی حیدر
خواجہ رضی حیدر

ڈھائی برس کی عُمر میں اپنے والدین اور ایک بہن کے ساتھ ہجرت کرنے والے معروف شاعر، خواجہ رضی حیدر نے اپنے ابّا کی ڈائری کے کچھ اوراق پلٹتے اور اپنی یادداشتیں کھنگالتے ہوئے بتایا کہ ’’14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیاتو ہم نے(والدین ، مَیں اور ایک بہن ) اپنے آبائی گاؤں پیلی بِھیت، یوپی سے پاکستان ہجرت کی۔ میرے والد، حکیم قاری احمد مسلم لیگ، پیلی بِھیت کے صدر تھے۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے لیے بہت کام کیا۔ 1939ء میں جب انہوں نے کانگریسی حکومت کے خاتمے پر ’’یومِ نجات‘‘ منایا، تو انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ 

پھر والد صاحب قائدِ اعظم اور مسلم لیگ کے حامی ہونے کے سبب بھی علاقے میں خاصی شہرت رکھتے تھے، تو جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا، تو مقامی ہندوؤں اور اُن مسلمانوں نے بھی، جو کانگریس کا ساتھ دے رہے تھے، آزادی کے متوالوں پر عرصۂ زیست تنگ کردیا۔ اس دوران ہمارے گھر پر دو حملے بھی ہوئے، تو ہمارے تایا جان نے ابّا سے کہا کہ ’’قاری احمد! تم اپنے خاندان کے ساتھ جلد از جلد پاکستان کُوچ کر جاؤ‘‘۔ ہم نے ہجرت کے لیے جب رختِ سفر باندھا، تو بھارت میں بڑی بھگدڑمچی ہوئی تھی۔ بڑی تعداد میں لوگ جلد از جلد اپنی نئی سرزمین ، پاکستان پہنچنا چاہتے تھے۔

ہر طرف دنگافساد،قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا۔ تو ابّا نے پہلے پیلی بِھیت سے بریلی جانے کا ارادہ کیا، پھر ہم وہاں سے آگرہ، آگرہ سے بمبئی اور وہاں سے پانی کے جہاز کے ذریعے کراچی، پاکستان پہنچے۔ گوکہ سُننے میں یہ بہت آسان لگتا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری، پھر تیسری جگہ گئے اور بآسانی پاکستان پہنچ گئے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک تو ابّا اکیلے نہیں تھے، پھر ہندوؤں، بلوائیوں کا خوف سر پہ منڈلا رہا تھا اور اپنا سب کچھ زمین، جائیداد، مال و دولت، زیورات، آبائی گاؤں چھوڑ کے جانے کا غم الگ۔ 

جب ہم آگرہ پہنچے توہمارے باریش شیروانی پہنے، پُروقار شخصیت کے حامل ابّا نے ایک ہندو سے پوچھا، ’’بھائی! یہاں کہیں پانی مل جائے گا؟‘‘ جس پر اُس نے’’چل، چل آگے بڑھ، ورنہ یہاں تیری لاش تڑپ رہی ہوگی…‘‘ کہہ کر جھڑک دیا، اُس وقت جو خوف امّاں، ابّا نے محسوس کیا، وہ نا قابلِ بیان ہے۔جب کراچی بندرگاہ پر اُترے، تو پہنچے تو اپنے ہی مُلک تھے، لیکن پھر بھی ایک اجنبی دیار تھا کہ اُس وقت وہاں نہ کوئی واقف کار تھا، نہ دوست احباب۔ ابّا، امّاں تو یو پی کے ایک چھوٹے سے علاقے پیلی بِھیت سے تعلق رکھتے تھے۔

بچپن، لڑکپن، جوانی وہیں گزاری، کراچی جیسا اتنا بڑا شہر تو انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھاتھا۔ خیر،جہاز سے اُترنے والے تمام مہاجرین نے کیماڑی سےپیدل سفر شروع کیا۔ نیٹی جیٹی (Native Jetty)کا پُل عبور کرنے کے بعد، جو پہلا محلّہ پڑا، وہ کھارا در تھا، جہاں پہنچتے پہنچتے دن ڈھل چُکا تھا۔ ہم تھکے ماندے، بھوکے پیاسے فُٹ پاتھ پر اپنے کُل اثاثے،ایک دَری، لوٹےاور ایک ٹین کا صندوق لے کربیٹھ گئے۔ 

ذرا سوچیں کہ ایک گھریلو، پردہ دار، شٹل کاک عبایا پہنی عورت نے بےسرو سامانی کی حال میں وہ وقت کیسے گزاراہوگا۔ پھر جب اسی طرح بے یارو مددگار دو دن گزر گئے، تو وہاں موجود شملے کے ایک درزی، لطیف نے(جنہیں بعد میں ہم لطیف ماما کہتے تھے) ابّا سے کہا کہ ’’میرے گھر کے ساتھ ہی ایک کمرے کا ایک فلیٹ خالی ہے، تم اس میں شفٹ ہوجاؤ۔‘‘ تو ہم لوگ فٹ پاتھ سے منگا مل، مول چند بلڈنگ کے ایک کمرے کے فلیٹ میں منتقل ہوگئے، لیکن ابھی رہایش اختیار کیے چار، پانچ ہی دن ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا، جس کا تعلق بھارت کے کسی شہر سے تھااوراس نے آکر دعویٰ کیا کہ ’’اس فلیٹ پر تو مَیں قبضہ کرکے گیا تھا، آپ یہاں کیسے رہ سکتے ہیں۔ فوراًیہاں سے نکلیں۔‘‘ 

ابّا نے اسے بتایا بھی کہ ہم نے کن حالات میں یہاں سکونت اختیار کی ، لیکن اُس نے ایک نہ سُنی۔ کھارادر پولیس چوکی سے پولیس لے آیا اور وہ ابّا کو گرفتار کرکے حوالات لے گئی۔ ایسے میں امّاں نے ہمیں گود میں اُٹھایا اور سامان کے ساتھ واپس سڑک پر آگئیں ۔ وہیں محلّے میں ایک سندھی، غلام رسول سومرو کی دُکان تھی، اُس نے ہم لوگوں کو جو بے آسرا دیکھا، تو پہلے پولیس چوکی جاکے ابّا کی ضمانت کروائی، پھر راشن لے کے دیا اور ساتھ پچاس روپے بھی دئیے کہ کوئی کام شروع کرلیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرے ابّا نے مجھے وصیّت کرتے ہوئے اپنی ڈائری میں لکھا کہ’’جب میری مغفرت کے لیے دُعا کرو، تو غلام رسول سومرو کو ضرور یاد رکھنا کہ وہ اس سرزمین پر میرا پہلا محسن تھا۔‘‘

میرے والد کا تعلق علما، پیروں کے خاندان سے تھا، وہ خود بھی عالم،حکیم تھے ۔ انہوں نے شہزادوں کی سی زندگی گزاری تھی، لیکن پاکستان کی محبّت میں اپنا سب کچھ قربان کرکے آنے کے بعد یہاں انہیں ایک کے بعد ایک امتحان کا سامنا تھا۔ خیر، ابّا کہیں سے سُرمے کے پتّھر لے آئے، جنہیں امّاں نے گھر میں پیسنا شروع کردیا اور یوں ابّا نے میونسپل کارپوریشن کی عمارت کے باہر سُرمہ اور منجن فروخت کرکے روزی روٹی کمانی شروع کی۔ دن اسی طرح گزر رہے تھے کہ ایک روز ایک شخص نے انہیں پہچان لیا کہ ’’آپ تو حکیم قاری احمد ہیں۔‘‘ جس پر ابّا نے کہا ’’جی، مَیں وہی ہوں، لیکن اس وقت مجبوری کے تحت یہ کام کرنا پڑ رہا ہے‘‘ تو وہ ابّا کو اپنے ساتھ ایک بُک سیلر، سلطان حُسین کے پاس لے گیا اور وہاں انہیں بطور سیلز مین رکھوادیا۔ 

اس طرح پاکستان میں ابّا کی پہلی نوکری، 35 روپے کی لگی۔ جس سے انہوں نے حقیقی معنوں میں اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ گوکہ جس وقت ہم پاکستان آئے تھے، ابّا کے پاس کوئی مال و دولت نہیں تھی، لیکن اللہ کی مدد نے انہیں اس قابل بنایا کہ انہوں نے اپنےتمام بچّوں کو(ہم آٹھ بہن بھائی ہیں) نہ صرف بہترین تربیت دی، بلکہ اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی۔ اور خود بھی لکھنے پڑھنے کا شوق جاری رکھا۔ ابّا ایک بہترین مصنّف تھے۔ان کی 35 کتب شایع ہوئیں۔

ویسے مَیں ہمیشہ ایک بات سب سے کہتا ہوں کہ ہجرت کرکے آنے والی ہم سے پچھلی نسل کے( ہمارے والدین/بزرگ) ذہنوں میں دو باتیں راسخ تھیں کہ ایک تو ذاتی مکان بنانا ہے کہ وہ ہندوستان میں اپنی زمینیں، جائدادیں چھوڑ کر آئے تھے اور دوسری یہ کہ بچّوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانی ہے۔ تو اُس نسل نے اپنا سب کچھ اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت اور مکان(چاہے ایک کمرے ہی کا کیوں نہ ہو) بنانے پر لگادیا۔

یہی وجہ ہے کہ میری نسل کے بچّے بےحد قابل، تعلیم یافتہ اور سمجھ دار ہیں۔ بعد میں یہ سلسلہ منقطع ہونا شروع ہوگیا، پھر ہمارے والدین نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے جو گھر بنائے تھے وہ بھی بکنے لگے، ایک دوسرے کے لیے علاقے اجنبی ہوگئے، سیاسی، علاقائی صورتِ حال، عصبیت نے جو حصار باندھا، اس کے سبب بھی ہمیں بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ اس مُلک کے لیے ہمارے اسلاف نے کیسی لازوال قربانیاں دیں۔ بہتوں کے خون تو اس زمین کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ اپنا وطن، آبائی گھر، آباؤاجداد کی سرزمین، بزرگوں کی قبریں ، زمینیں جائدادیں چھوڑ کر آنا ہرگز آسان نہیں ہوتا۔ 

مَیں نے کئی بار اپنے ابّا کی آنکھوں میں ان کے گاؤں کی یادیں تیرتی دیکھیں۔ ایک مرتبہ چاندنی رات تھی، ہم کھارادر میں جس فلیٹ میں رہتے تھے، اس کی گیلری میں ایک جگہ چاندنی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا تھا(یعنی چاند کی روشنی بکھری تھی)، تو مَیں نے دیکھا کہ ابّا خود کو سمیٹ کر اس ٹکڑے میں بیٹھ گئے اور بَھرّائی ہوئی آواز میں بتانے لگے کہ ’’پیلی بِھیت میں ہمارے بڑے بڑے گھروں میں ایسے ہی چاندنی بکھری ہوتی تھی اور ہم چارپائیاں ڈالے صحنوں میں لیٹتے تھے، آج یہاں پہلی بار میرے گھر میں چاندنی اُتری ہے، تو پیلی بھیت کی یاد آگئی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ زاروقطار رو پڑے۔ 

خیر، مَیں نے کئی مرتبہ ابّا سے کہا کہ اب حالات بہتر ہیں، آپ کچھ روز کے لیے بھارت چلے جائیں، اپنے رشتے داروں سے مل آئیں، تو انہوں نے انکار کردیا، البتہ ایک بات ضرور کہی کہ ’’میرا جانا تو اب ممکن نہیں، لیکن بیٹا! اگر کبھی تمہارا پیلی بِھیت جانا ہو، تو میرے شہر کی مٹّی لیتے آنا اور وہ میری قبر پر ڈال دینا۔‘‘ یہ باتیں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں اور آنی والی نسلوں کو ہرگز یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہم مسائل اورمصائب کے کیسے خونی دریا عبور کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یہ وطن، ہمارے لیے صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، ہمارا غرور، ہماری دولت ہے۔ یہ مُلک ہم نے اَن گنت قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے، تو اس کی ناقدری تو کسی صُورت جائز نہیں۔‘‘

پروین اختر
پروین اختر 

پروین اختر کے والدین کا تعلق ہندوستان کے شہر، انبالہ سے تھا اور قیامِ پاکستان سے چند روز قبل ہی اُن کی شادی ہوئی تھی۔ اپنے والدین اور دیگر رشتے داروں کی ہجرت کہانی سُناتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’ امّاں بتاتی تھیں ، ایک روز ابّا بھاگتے ہوئے گھر آئے اور کہا،’’ صدّیقہ، صدّیقہ ! جلدی کرو، ہمیں پاکستان جانا ہے۔ ہم سب کو آج رات ہی یہاں سے نکلنا ہوگا، ورنہ ہندو کسی بھی وقت حملہ آوَر ہو جائیں گے،ہمارے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔‘‘یہ سُن کر امّاں اور گھر کی باقی خواتین ہکاّ بکّا رہ گئیں۔ 

پھر امّاں نے، جو ایک نئی نویلی دُلہن تھیں، صحن میں کھڑے کھڑے اس چار منزلہ حویلی پر ایک نگاہ ڈالی، جس میں وہ ہزاروں سپنے سجائے بیاہ کر آئی تھیں، جس کا ہر کونا ان کے نئے جیون کے آغاز کا امین تھا، جس کی دہلیز، دَر و دیوار سے چند ہی روز میں ان کا ایک قلبی تعلق قائم ہوگیا تھا۔ اُن چند لمحوں میں بھلا وہ اپنی اس جنّت سے کیا کچھ سمیٹ سکتی تھیں، تو ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔ پھر کپڑوں کے دو، تین جوڑے اور اپنا تھوڑا سا زیور ایک چھوٹے سے دھاتی صندوق میں ڈال کر ہجرت کی تیاری کی۔یوں، ہر عُمر کے آٹھ، دس افراد پرمشتمل یہ قافلہ انبالہ سے پاکستان کے لیے پیدل روانہ ہوا۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر ضروری ہے کہ میری امّاں اور ماموں بس دو ہی بہن بھائی تھے۔

جس وقت پاکستان بننے کا اعلان ہوا، اُس وقت ماموں اپنی تعلیم کے سلسلے میں کسی اور شہر میں تھے، تو انہوں نے فوری وہاں سے گھر جانے کی تیاری شروع کی، جس پر ان کے دوستوں نے منع بھی کیا کہ ہم یہاں سے سیدھا لاہور چلتے ہیں، تمہارے باقی گھر والے بھی وہیں آجائیں گے، لیکن انہوں نے کہا، کہ ’’مَیں اپنے والدین کو چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں اور یوں، وہ اپنے والدین کو لینے نکل کھڑے ہوئے، لیکن راستے میں ہندوؤں، بلوائیوں کے ہاتھ چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں بُری طرح مارا، پیٹا۔ پھر کچھ لوگ انہیں زخمی حالت میں لاہور لے کےآئے، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ 

میری امّاں کو اپنے بشیر بھائی کی موت کا بےحد دُکھ تھا، وہ دن رات انہیں یاد کرکرکے روتی رہتی تھیں کہ ’’ہندوؤں نے میرے جوان جہان، معصوم بھائی پر ذرا بھی رحم نہیں کیا، اس مُلک کی بنیادوں میں میرے بھائی کا خون بھی شامل ہے۔‘‘ خیر، امّاں بتاتی تھیں کہ جب وہ لوگ پیدل سفر کر رہے تھے، تو کئی مرتبہ ان کے قافلے پر ہندوؤں، بلوائیوں نے حملہ کیا، جس میں ان کے والد سمیت خاندان کے کئی لوگ شہید ہوگئے، مگر خوش قسمتی سے میرے امّاں، ابّا بچ گئے۔

ابّا کہتےتھے کہ یہ تمام مصیبتیں جھیلنے کے باوجود جب ہمارا لُٹا پِٹا، بھوک پیاس سے بےحال قافلہ سرزمینِ پاکستان پہنچا، تو ہر ایک ’’پاکستان زندہ باد… پاکستان زندہ باد ‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے ربّ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا۔ اس طرح ہم اپنے مُلک تو پہنچ گئے، لیکن ابھی کئی اور امتحان ہمارے منتظر تھےکہ ہم تو اپنا سب کچھ انبالہ چھوڑ آئے تھے، تو معاشی اعتبار سے ابتدائی چار، پانچ برس بہت کٹھن ثابت ہوئےکہ ہم نے کبھی چٹنی روٹی، تو کبھی صرف نمک کے ساتھ روٹی کھا کھا کر پیٹ بَھرا ،مگر اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور بالآخر اسکول ماسٹر کی ملازمت مل گئی، تو حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے۔‘‘

محمّد امین ملک
محمّد امین ملک  

محمّد امین ملک کا تعلق کلّر کہار، چکوال سے ہے، قیامِ پاکستان کے وقت ان کی عُمر 14، 15سال تھی اور وہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں چَھٹی جماعت میں زیرِ تعلیم تھے، انہوں نے 1947ء کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ’’ضلع چکوال میں 26 گاؤں آتے ہیں، جن پر اُس وقت ہندوؤں کی اجارہ داری تھی ۔ وہ لوگ تعداد میں تو کم تھے، لیکن معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے کے سبب پورے چکوال پر اُن کا قبضہ تھا۔جب ہمیں پتا چلا کہ اب ہندو اور سکھ یہاں سے چلے جائیں گے، تو ہم بےحد خوش ہوئے۔ البتہ، ہندو بہت افسردہ اور ڈرے سہمے تھے کہ اب ان کا کیا ہوگا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت پاکستان بننے کا اعلان ہوا ،تو ہمارے اور آس پاس کے دیہات کےچند بزرگ ہندواور سکھ خاندانوں کو بحفاظت بارڈر تک چھوڑ کر آئے تھے ۔ اسی طرح میرا بھائی، جو اُس وقت ہندوستان کے اجمیر کیڈٹ اسکول میں زیرِ تعلیم تھا، تو میرے امّاں، ابّا کو اس کی واپس کی فکرستانے لگی۔ امّاں رات رات بھر جاگتی رہتیں، بالآخردو ہفتے بعد وہ خیریت سے پاکستان آگیا۔ اگر دَورِ حاضر کی بات کریں، تو آج کی نسل پاکستان کے حالات سے مایوس نظر آتی ہے، لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ آج ہم بہت بہتر حالت میں ہیں۔مَیں نے غلامی کی زندگی دیکھی ہے، اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ہمارے لیے ایک نعمتِ مترقبہ ہے، اس کی قدر کریں۔ 

پہلے ہمارے گاؤں میں کوئی ایک مسلمان بچّہ بھی پڑھا لکھا نہیں ہوتا تھا، جب کہ آج ہر گھر میں کئی کئی افسرموجود ہیں۔ میری ہی مثال لے لیں، میرے دو بیٹے ہیں ۔ مَیں جس نجی بینک سے بطور آفس بوائے ریٹائر ہوا،میرا ایک بیٹا اسی بینک سے بطور نائب صدر سبک دوش ہوا، جب کہ دوسرا بیٹا پاک فوج میں بریگیڈیئر ہے۔ پہلے جس گاؤں میں ذرایع ابلاغ کا نظام نہیں تھا، آج وہاں سڑکیں، اسکول، کالجز بن چُکے ہیں، تو میری نظر میں ترقّی کی اس سے بہتر مثال اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ ‘‘

غلام بانو
غلام بانو 

وسنال سے تعلق رکھنے والی غلام بانو، قیامِ پاکستان کے وقت دس، بارہ برس کی تھیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ ہمارے گاؤں میں ہندو، مسلمان سب مِل جُل کر رہتے تھے۔ تیج تہوار سب ساتھ مناتے تھے، لیکن اجارہ داری ہندوؤں ہی کی تھی۔ مجھے یاد ہے ہمارے محلّے میں لکھو، کتارو اور امیر کی دُکانیں تھیں، جن سے ہم راشن وغیرہ خریدتے تھے۔ یہاں تک کہ جب ہندو ہجرت کر رہے تھے، تواُن کا مال و دولت لُوٹنے کے بجائے گاؤں کے کئی مسلمانوں گھرانوں نے اُن کی دُکانیں، کاروبار باقاعدہ خریدا، جب کہ نقد ، زیوارات وغیرہ وہ لوگ اپنے ساتھ لے گئے ۔ 

پاکستان بننے کی ہمیں خوشی تو بہت تھی، لیکن جب مَیں اسکول گئی اور خالی بینچز دیکھیں ، تو بہت افسوس بھی ہوا کہ میری سکھیاں، سہیلیاں اب یہاں سے جا چُکی ہیں۔ مَیں آج کی نسل یہ کہنا چاہتی ہوں کہ بے شک ہم ہندوؤں کے ساتھ مل جُل کر رہتے تھے، لیکن گاؤں پر راج انہی کا تھا،تو یہ جو آزادی ہے، اس کا کوئی مول نہیں، اس کی قدر کریں ۔ پاکستان میں کمیاں، خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اس کی تعمیر وترقّی میں اپنا کردار ادا کریں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید