مدرّس: ڈاکٹر میر انیس الدّین
صفحات: پہلی جلد، 480، دوسری جلد 464، تیسری جلد 600
قیمت: پہلی، دوسری جلد ہر ایک 900، تیسری جلد 1200 روپے۔
ملنے کا پتا: روبی پبلی کیشنز، راجپوت مارکیٹ، اردو بازار، لاہور۔
ڈاکٹر میر انیس الدّین( مرحوم)حیدر آباد دکن،بھارت کے ممتاز ماہرِ ارضیات تھے۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی سے وابستہ رہے۔اُنھیں قرآنِ پاک کے مطالعے، اس کی تدریس اور اشاعت سے گہرا لگاؤ تھا۔ اُنھوں نے قرآن فہمی سے متعلق کئی کتب تصنیف کیں، جن میں قرآنِ پاک کا ترجمہ اور مختصر تفسیر بھی شامل ہے۔ایک سائنس دان ہونے کی وجہ سے اُنھیں قرآن کے سائنسی انداز میں مطالعے کا خاص ذوق تھا۔
وہ حیدرآباد دکن کی ایک مسجد میں قرآن پاک کا ہفتہ وار درس دیا کرتے تھے۔یہ دروس آڈیوز کی شکل میں یوٹیوب وغیرہ پر دست یاب ہیں، جنھیں تعلیم یافتہ طبقے میں بہت پسند کیا گیا۔صاحب زادہ محمود، ڈاکٹر معظم خان نے اِن دروس کی اہمیت کے پیشِ نظر انھیں کتابی صُورت میں شایع کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور پھر حلقۂ متفقین،مسقط، سلطنتِ عمان کے زیرِ اہتمام اور ڈاکٹر صابر علی ہاشمی کے زیرِ انتظام تین جلدیں منظرِ عام پر آگئیں۔
فاضل مدرّس نے قرآن پاک کے بہت سے مقامات کی کچھ اِس طرح سائنٹفک تشریح کی ہے کہ جدید ذہن میں اُٹھنے والے بہت سے اشکالات کے ازالے میں مدد ملتی ہے۔نیز، اُنھوں نے مختلف قرآنی الفاظ اور اصطلاحات پر بہت عُمدہ نکات پیش کیے ہیں،جن سے کتابِ ہدایت کا حقیقی پیغام واضح ہوتا ہے۔
حیدر آباد دکن کا مخصوص اور دل چسپ لہجہ بھی قاری کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔بلاشبہ یہ ایک عُمدہ کوشش ہے، البتہ اِس میں مزید بہتری کی بھی گنجائش ہے۔ ایک تو یہ کہ گفتگو اور تحریر کا انداز الگ الگ ہوتا ہے۔ اِس لیے کسی تقریر کو اصل شکل میں کاغذ پر منتقل کرنا اِس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ مقرّر کے الفاظ درست طرح رپورٹ ہوجاتے ہیں،مگر اس طریقے میں بعض اوقات پڑھنے کے دَوران وہ روانی نہیں رہ پاتی، جو کسی تحریر سے استفادے کے لیے ضروری ہے۔ اِس لیے مناسب ہوگا کہ اگلے ایڈیشن میں یہ پہلو بھی سامنے رہے۔
علاوہ ازیں، کتاب میں مدرّس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں ہے کہ وہ کون تھے،کیا کرتے تھے، یہ درس کہاں دیے گئے؟ پھر یہ بھی کہ علمی حلقوں میں اِن دروس کو کس طرح دیکھا گیا، اِس کا ذکر بھی ضروری ہے۔بہتر ہوگا کہ چند ممتاز علمائے کرام اور دیگر علمی شخصیات کے تاثرات بھی کتاب کا حصّہ ہوں تاکہ عام قارئین کو اس میں شامل مواد پر اطمینان ہوسکے۔