• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ایپاٹائیٹ: کیمائی کھاد اور دندان سازی کا اہم وسیلہ

زندگی کی نشوونما اور بقاء کے لئے جہاں ’’طبی‘‘ نقطہ ٔ نظر سے دیگر معدنی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے وہیں ’’فاسفورس ‘‘ جزکو بھی ایک اہم مقام حاصل ہے، جس کی وافر مقدار معدن’’ایپاٹائیٹ‘‘ (Apatite)سے حاصل ہوتی ہے۔ قدیم زمانے میں فاسفورس کو صرف شعلہ ’’چنگاری‘‘ ماچس یا دیگر آتشی مادّوں کی تیاری میں استعمال کیاجاتا تھا جو ہنوز جاری ہے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد جب اس پوشیدہ حقیقت سے پردہ اُٹھ گیاکہ اس معدن کی بناوٹ میں فاسفورس کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر اسے مٹی کو زرخیز کرنے اور دندان سازی کی صنعت میں استعمال کیا جا سکتا ہے تو دورِ جدید میں اس کی اہمیت دوبالا ہوگئی۔

معدن ’’ایپاٹائیٹ‘‘ یونان زبان کے لفظ ایپاٹائو(Apatao)سے ماخوذ ہے جو دھوکہ کھانے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی دور میں اس معدن کی مشابہت قلمی اشکار کی وجہ سے دیگر مختلف جواہر مثلاً بیرل (Beryl) سے ہوتی تھی، جس سے میدانی سروے کے دوران یہ گمان ہوتا تھا کہ اس کا تعلق کسی سنگِ جواہر سے ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھا ،کیوں کہ یہ سنگ جوہر سے بالکل الگ نوعیت کا معدن ہے۔ اس کی تصدیق اس وقت ہوئی جب ماہرین ارضیات نے کیمیائی ٹیسٹ کی بنیاد پر اسے ’’فاسفورائیٹ‘‘ رسوبی ذخائر کی حیثیت سے ایک الگ پہچان دی۔

فاسفورائیٹ ذخائر دراصل فاسفورس معدنی اجزاء کا آمیزہ ہوتا ہے، جس میں سب سے اہم معدن ایپاٹائیٹ کی شمولیت لازم معدن کے طور پر ہوتی ہے ،جس کی بناوٹ میں بڑا تناسب کیلشیم فاسفیٹ کا ہوتا ہے جو فاسفورس کے حصول کا اہم ماخذ ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی معاشی اہمیت دنیا بھر میں مسلم ہوگئی خصوصاً ’’موروکو‘‘ (Moroco) میں اس صورتحال کو دیکھ کر متجسس ذہن نے اس کی رسوبی آبی ماحول میں حیوانی ہڈیوں کی ترتیب اور تحلیل یا پھر براعظمی ماحول میں سمندری پرندوں اور چمگادڑ کے فضلات (Excretion)کی صورت میں تھاک درتھاک مرکوز ہوتے گئے اور یہ کہ یہ معدن عام رسوبی چٹانی ماحول میں 0.1فی صد جب کہ فاسفیٹ رسوبی چٹانی ماحول میں 37فی صد تک فاسفیٹ کی موجودگی ہوتی ہے۔

ہڈیاں چونکہ کیلشیم فاسفیٹ کی بنی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فاسفیٹ یا فاسفورس ان علاقوں میں تیار ہوتا ہے جو انواع (Species)کی پیداوایت کے لئے موزوں ہوتے ہیں جو سمندر کا ضیائی وزن (Photozone)ہوتا ہے۔ یہ عالمی سمندر کا وہ حصہ ہے جہاں بالائی 200میٹر کا علاقہ بہتر پیداواریت کو ظاہرکرتا ہے۔ خاص طور پر بالائی60-80 میٹرگہرائی والے حصے یہ ضیائی تالیفی زون ہوتے ہیں جہاں پر ابتدائی نامیوں کے لئے پیچیدہ خوراک چین کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ بلند سپلائی عمل کے ماتحت پیداواریت کو پانی کے چکر (Upwellting)کے ذریعہ جاری رکھتے ہیں، جس میں بہت زیادہ غذائیت شامل ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے فاسفیٹ کی پیداواریت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ 

موجودہ دور میں یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی ہے کہ فاسفیٹ کی تشکیل ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں پر پانی کا ایک مضبوط اوپری اٹھان (Strong upwellitng)ہوتا ہے اور جہاں پر پیداواریت بھی زیادہ (فوٹو زون) ہوتی ہے۔ مثلاً چلی اور پیرو کے براعظمی جھکائو کے کناروں پر موجود پایا گیا ہے۔ پانی کا اٹھان بہت زیادہ گہرائی سے اوپر کی جانب ہوتا ہے جو اپنے ساتھ غذائیت بڑی مقدار بھی شامل رکھتا ہے جو بذریعہ تکسیدی اور تحلیل کی کارکردگی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ 

پانی کا اوپری اٹھان اور غذائیت کی سپلائی کا عمل ان علاقوں میں بھی زیادہ ہوتا ہے جہاں بڑے اور کئی دریا سمندر میں شامل ہوتے ہیں اور جہاں عمل کٹائو روزو شب جاری رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سمندر اور دریائوں میں موجود خوردبین یک خلولی انواع مثلاً نباتاتی تیرکیے (ڈائی ایٹمز) اور حیوانی تیراکیے (ریڈیو سیرین) کی ضیائی تالیف کے ذریعہ 90فی صد پیداواریت میں اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن ساتھ ہی شرح اموات میںبھی اضافہ ہوتا ہے جس سے سمندر کا ماحولیاتی نظام تو متوازن رہتا ہے لیکن تین قسم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے یعنی کوئی دوسرے بڑے تامیے اسے کھا جاتے ہیں ساتھ ہی کچھ جسمانی اجزاء نیچے ڈوبنے لگتے ہیں۔ قبل اس کے وہ سمندری فرش پر جمع ہوں تحلیل ہو کر فاسفیٹ اور دیگر غذائیت کو پانی میں آزاد کردیتے ہیں یا پھر رسوب سمندری گہرائی سے ہوتی ہوئے بارکشی (Tractia Current)لہروں کے ذریعہ روڑی (Nodulos)کی شکل قلم پذیر ہو کر کاملگو میرٹ (رسوبی چٹان) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ عمل براعظمی شیلف میں 100-400میٹر کی گہرائی میں انجام پاتا ہے لیکن ’’فوٹو زون ‘‘ کے نیچے۔

عملی طور پر تمام ایپاٹائیٹ کے ذخائر آبی (Marine)نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن بعض مخصوص قسم کے ذخائر خشکی (براعظمی ماحول میں بھی تشکیل پاتے ہیں گوآنو ذخائر(Guano Deposits)یہ ذخائر مچھلی کھانے والے پرندوں’’کارمورینٹ‘‘ (Carmorant) اور چمگادڑ کے فضلات کے اکٹھاہونے سے وجود میں آتی ہیں۔ خاص طور پر ریگستانی ساحلی حدود میں جو چونا پتھریا دوسرے کیلشیم بردار چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مچھلی کھانے والے پرندے اور چمگادڑ غار کا چٹانوں کے خلاء میں فضلات کوجو فاسفورس اور دیگر غذائیت پر مبنی ہوتے ہیں خارج کرکے تہہ دہ تہہ جمع کرتے ہیں۔ 

چوں کہ گوآنوذ خائر اور چونا پتھر ایسڈیک خصوصی کا حامل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ آپس میں ردعمل کرکے فاسفوٹک معدن کی تخلیق کرتے ہیں ۔مثلاً ایپاٹائیٹ، پانی کے عمل سے کچھ کیلشیم کاربونٹ بائی کاربونیٹ میں تحلیل ہو کر ہجرت کرتے ہیں، جب کہ بقیہ کیلشیم جز کا اور بندش فاسفورس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس طرح فاسفورس آکسائیڈ سامنے آتا ہے جو معدن ایپاٹائیٹ ہے۔ اسی وجہ سے ان ذخائر کو تحفظ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب خطہ میں بارش بہت زیادہ ہوتی ہے۔ 

اگر تیز اور زیادہ بارش ہوگئی تو گوآنو ذخائر میں موجود فاسفیٹ خشکی کے اطراف منتشر ہو جائیں گے اورآخرکار اس علاقے میں صرف مٹی ہی مٹی ہوگی۔ 2007ء کے سروے کے مطابق ان فضلات کی اجزاء ترکیبی میں نائٹر وجن اور فاسفورس کا تناسب اور کاربن و فاسفورس کا تناسب بلند پایاگیا ہے۔ گوآنو پرندے کے ذخائر میں اعلیٰ درجے کی غذائیت مثلاً نائیٹریٹ اور امونیا (کمین کے اعتبارسے) 2-8فی صد، نائٹروجن شامل ہوتا ہے، جس میں 80فی صد یورک ایسڈ،10فی صدپروٹین ،7فی صد امونیا اور 0.5فی صد نائٹریٹ، کچھ گوآنو کے فضلات میں جو بہت ہی عام کیمیائی عناصر پائے جاتے ہیں۔ ان میں فاسفورس کیلشیم میگنیشیم کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ چمگادڑ کے فضلات بیرونی ڈھانچوں والے (Exoskeleton)کیڑوں کے خول پرمشتمل پائے گئے جو زیادہ تر کائی ٹن (Chitin)نوعیت کے ہوتے ہیں۔ 

اس میں جو عناصر زیادہ مقدار میں پائے نائٹروجن، سلفر اور فاسفورس ہوتے ہیں۔ چوں کہ گوآنوذخائر سے تشکیل شدہ ’’ایپانائیٹ‘‘ میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو نباتاتی زندگی کی افزائش کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کا 90فی صد زراعت میں مٹی کے ساتھ باہم ملکر کھاد میں تبدیل کرکے زرعی مقاصد کے لیےاستعمال کیا جاتا ہے دوسری طرف اسے دندان سازی اور دانتوں کی مرمت کے دوران اس کے خلاء (Cocvity) میں دیگر اجزاء کے ساتھ ایپائیٹ کی موجودگی ہوتی ہے، کیوں کہ دانت چاہے انسان کی ہو یا حیوان کی کیلشیم فاسفیٹ (ایپاٹائٹ/ پر مشتمل ہوتی ہے۔ جس کی سختی موز(Mahs)سختی کے پیمانے کی رو سے 5ہوتی ہے اور دانت کی سختی بھی تقریباً 5ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے دندان سازی میں ترجیح دی جاتی ہے، کیوں کہ کسی اور ترکیبی اور سختی کے اجزاء کو دانت قبول نہیں کر سکتا۔

ایپاٹائیٹ کے بڑے ذخائر یوکرین کے شمالی جنوبی طاس کو 19ویںصدی میںدریافت ہوا جہاں پر فاسفورائیٹ کی بیرونی بالائی کریٹیشن دور (Cretrecous) کے رسوب میں پوڈولیا (Podolia)مغربی یوکرین سے ولگا (Volga) ساحل سراٹوف(Saratov)میں دریافت عمل میں آئی۔ اس کے شمال بانڈری کُرسک(Kurask)کے ریجن میں پیوست حالت میں موجود ہے جب کہ جنوبی بانڈری ڈونیٹس (Donets)بیسن کے ذخائر ریت کے ساتھ مخلوط حالت میں پائے گئے ہیں جو روڑی (Nodals)یا پھر پتلی تہہ کی صحت میں موجود ہے۔ 

اس کے علاوہ معدنی وسائل کی دریافت کے سلسلے میں عالمی پیمانے پر 1889-1945کے درمیان خاطر خواہ توجہ دی گئی ،جس کے نتیجے میں دریا کے کئی ممالک ہیں ایپاٹائیٹ کے ذخائر دریافت ہوئے بشمول کراٹائو(Kara-Tau)کے پہاڑی سلسلوں میں ایپاٹائیٹ پر مشتمل ایک اعلیٰ درجے کا معاشی ذخیرہ کی دریافت عمل میں آئی ،جس کی تصدیق تجربہ گاہ میں کیمیائی ٹیسٹ کے ذریعہ کی گئی، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس میں ایپاٹاٹیٹ معدن موجود ہے یا نہیں ،جس کے لئے سب سے پہلے حاصل شدہ نمونے کو تیز اُبلتے ہوئے نائیزک ایسڈ (NaizicAcid) میں حل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس حل شدہ محلول کے کچھ قطرے ’’امونیم مولب ڈیٹ‘‘ (Ammonium Molybdate)حلول میں شامل کیا جائے اگر ہلکا زرد رنگ کا مرکب نمودار ہوجاتا ہے تو یقینا فاسفورس موجود ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید