• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات تو تلخ ہے، مگر بیان کیے بغیر چارہ نہیں۔ جب قیامِ پاکستان کے بعد اُردو کو واحد قومی زبان کا درجہ دیا گیا، تو مُلک کے مشرقی بازو سے اِس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں اور وہ اِس معاملے میں حق بجانب بھی تھے کہ اُس وقت پاکستان کی مجموعی آبادی کے56 فی صد باسی بنگالی زبان بولتے تھے۔26 جنوری 1952ء کو وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدّین عُہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ مشرقی پاکستان گئے، تو اُنھوں نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ اردو ہی واحد قومی زبان ہوگی، حالاں کہ وہ خود بنگالی تھے۔

بنگالی بولنےوالے اِس اعلان کو اپنی زبان کے خلاف سازش قراردیتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کردیا۔ 21فروری کو عام ہڑتال تھی اور ڈھاکا یونی ورسٹی کے طلبہ نے جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا تھا، جسے روکنے کے لیےحکومت نےدفعہ 144نافذ کر دی تھی، مگر اس کے باوجود طلبہ باہر نکلے اور اپنے مطالبات کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے۔ وہ اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس نے پہلے تو لاٹھی چارج کے ذریعے اُنھیں روکنے کی کوشش کی، جب ناکام رہی، تو اُن پر گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں 8 طلبہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اِس واقعے کے بعد مشرقی پاکستان بدترین فسادات کی زد میں آگیا، ہڑتالوں اور مظاہروں کا آغاز ہوگیا، جس کے دَوران بہت سے لوگ مارے گئے۔ 

اُنہی دِنوں وہاں کی صوبائی اسمبلی نے اُردو کے ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان کی حیثیت دینےکی قرار داد منظور کی، جس پر مغربی پاکستان کا ردِعمل خاصا منفی تھا۔ یہاں سے بنگالیوں کی اس تحریک کے لی’’اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے‘‘ جیسے جذباتی پیغامات گئے۔ بہرکیف، اِس تنازعے نے قومی یک جہتی میں ایسی دراڑ ڈالی کہ پھر اِس کا اختتام مُلک کی تقسیم پر ہوا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے، یونیسیف کی جنرل کاؤنسل نے 1999ء میں بنگلا دیش کی درخواست پر ایک قرارداد کی منظوری کے ذریعے اُن بنگالی طلبہ کی برسی کے دن کو ’’مادری زبانوں کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں، اقوامِ متحدہ نے بھی 2008ء میں اِس فیصلے کی توثیق کی اور اب دنیا بَھر میں ہر سال نہ صرف یہ دن منایا جاتا ہے، بلکہ اس کا پس منظر بھی بیان کیا جاتا ہے۔ رواں برس یہ دن ’’multilingual education- a necessity to transform education‘‘ کے سلوگن کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

مادری زبان یا ماں بولی کی اہمیت و افادیت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔ محققّین کا اِس امر پر اتفاق ہے کہ بچّہ اپنی مادری زبان میں سیکھنے کا عمل زیادہ آسانی سے سرانجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ ممالک میں کم ازکم بنیادی ذریعۂ تعلیم مادری زبانوں ہی پر مبنی ہے۔ گو اِس پر بات ہوسکتی ہے کہ گلوبلائزیشن کے دَور میں ان مقامی زبانوں، خاص طور پر چھوٹی زبانوں کی افادیت کا میدان کتنا وسیع ہے، مگر اِس سے انکار ممکن نہیں کہ ماں بولی بچّے میں جو تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے، اُس کا کوئی متبادل نہیں۔ 

پھر یہ کہ یہ صرف زبانیں ہی نہیں ہیں،بلکہ تہذیب و ثقافت کا ایک اَن مول خزانہ بھی ہیں اور اِنھیں فراموش کرنےکامطلب، پوری تہذیب سےدست بردار ہونا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کی مقامی زبانوں پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، اردو، سرائیکی وغیرہ ہی کو دیکھ لیجیے۔ یہ زبانیں اپنے اندر پوری ایک تہذیب و تمدّن سموئے ہوئے ہیں، اگر ان کا استعمال ترک کر دیا جائے، تو پھر اپنی شان دار روایات سے بھی کنارہ کش ہونا پڑے گا۔ مادری زبانیں کبھی بھی بڑی یا رابطے کی زبانوں کے لیے خطرہ نہیں ہوتیں، بلکہ دیکھا جائے، تو یہ اُن سے استفادے میں معاون ہی ثابت ہوتی ہیں۔ 

تاہم، تمام تر افادیت اور اہمیت کے باوجود مادری یا علاقائی زبانیں اِن دنوں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زبانوں کے عالمی دن کے موقعے پر اُن وجوہ کی تلاش کی کوشش کی جاتی ہے، جو لوگوں سے اُن کی ماں بولی چھیننے کے درپے ہیں اور پھر اُن مسائل کےتدارک کی حکمتِ عملی بھی طے کی جاتی ہے۔ 

ڈاکٹر رؤف پاریکھ
ڈاکٹر رؤف پاریکھ

ڈاکٹر رؤف پاریکھ معروف ماہرِ لسانیات، استاد، دانش وَر اور مصنّف ہونے کے ساتھ مقتدرہ قومی زبان سمیت کئی اداروں کی سربراہی کا فریضہ سر انجام دےچُکے ہیں۔ اُنھوں نے مادری زبانوں کی اہمیت، صورتِ حال اور مسائل پر کچھ یوں روشنی ڈالی، ’’سب سے پہلے تو بولی اور زبان میں فرق ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے۔ 

زبان کا رسم الخط ہوتا ہے، یعنی وہ لکھی جاتی ہے، اُس کا ادب ہوتا ہے، جب کہ بولی حروفِ تہجّی سے محروم ہوتی ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے کہ بڑی زبانیں، چھوٹی زبانوں کو کھا رہی ہیں۔ یونیسکو کے مطابق، دنیا میں7 ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے اگلے ایک سو سال میں آدھی اپنا زبانیں وجود کھو بیٹھیں گی۔ اگر صرف پاکستان کی بات کریں، تو یہاں تقریباً 75 مادری زبانیں ہیں، جن میں سے بعض مرنے کے قریب ہیں۔ اور زبانیں اُس وقت مرتی ہیں،جب اُنھیں کوئی مادری زبان کے طور پر بولنے والا نہ رہے اورمعدوم وہ کہلاتی ہیں، جن کا نام و نشان ہی نہ رہے۔ سنسکرت اورلاطینی زبانیں اب بولی نہیں جاتیں، مگر عالِم لوگ اُنھیں سیکھتےہیں، اِس لیے یہ زبانیں مُردہ تو ہیں، معدوم نہیں۔ 

پاکستان میں مرنے کے خطرات سے دوچار زبانوں میں خیبر پختون خوا کی ایک زبان بدیشی بھی ہے، جسے صرف تین افراد بولتے ہیں اور اُن کی عُمریں بھی80 برس کے قریب ہیں۔ اِسی طرح تور والی زبان ہے، جس کے بولنے والوں کی تعداد پانچ ہزار رہ گئی ہے۔ اِس زبان کی ڈکشنری بھی موجود ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، ہم جب باہر نکلتے ہیں، تو آس پاس سب شینا زبان بولنے والےہوتے ہیں، اِس لیے ہم بھی وہی زبان بولنےلگےہیں، شینا بولنے والے کہتے ہیں، ہمارے اطراف پشتو بولنے والے ہیں، پشتو بولنے والے کہتے ہیں، ہم اِس لیے اردو بولتے ہیں کہ اِس سے روزگار کے زیادہ مواقع ملتے ہیں اور اردو بولنےوالے انگریزی کو معاش کی زبان سمجھ کر ترجیح دینے لگے ہیں۔ 

جس طرح پاکستان میں اردو رابطے کی زبان ہے، اِسی طرح دنیا کی’’ lingua franca ‘‘یعنی رابطے کی زبان انگریزی ہے، جو تجارت اور ٹیکنالوجی کی بھی زبان ہے، اِس لیےپوری دنیا اِسے اپنانے پر مجبور ہے۔ مادری زبانیں بچانےکاایک ہی حل ہے کہ گھروں میں اپنی ہی زبان بولی جائے اور ریاستی سطح پر بھی نظامِ تعلیم میں ایسے اقدامات کیے جائیں، جن سے بچّے اپنی زبانوں سے وابستہ رہیں۔‘‘

پاکستان میں مادری زبانیں

پاکستان میں70 سے 80 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے کئی چھوٹی تو بعض کے بولنے والے خاصی بڑی تعداد میں ہیں۔2017ء کی مردم شماری کے جاری کردہ نتائج کے مطابق 38.78 فی صد افراد پنجابی، 18.24 فی صد پشتو، 14.57 فی صد سندھی، 12.19 فی صد سرائیکی، 7.08 فی صد اردو، 3.02 فی صد بلوچی،2.24 فی صد ہندکو، 1.24 فی صد براہوی اور0.17 فی صد افراد بطور مادری زبان کشمیری بولتے ہیں۔ اِن اعداد وشمار پر مختلف حلقوں کی جانب سے سنجیدہ نوعیت کے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ یہاں یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ مختلف علاقوں میں بولی جانے والی بہت سی زبانیں، بڑی زبانوں کےحصّےکےطورپر شمار کی جاتی ہیں۔ 

جیسے پنجاب میں بیش تر اردو بولنے والوں کی مادری زبان ہریانوی یا میواتی ہے۔ اِسی طرح خیبر پختون خوا اور پنجاب کے کئی علاقوں میں بہت سی چھوٹی چھوٹی زبانیں بولی جاتی ہیں، جو پشتو، پنجابی یا ہندکو وغیرہ میں شمار کی جاتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ سندھ میں ہے، جہاں صحرائے تھر اور کوہستان کی زبانیں سندھی زبان کا حصّہ تصوّر ہوتی ہیں، جب کہ بہت سے سرائیکی بولنے والے قبائل مادری زبان کے طور پر سندھی کا اندراج کرواتے ہیں۔

پنجاب

یہ آبادی کے لحاظ سے مُلک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور 2017ء کی مردم شماری کے مطابق، یہاں کی آبادی73,621,290 نفوس پر مشتمل ہے۔ پنجاب کے تقریباً69.67 فی صد افراد کے مطابق اُن کی مادری زبان پنجابی ہے، جب کہ20.68 فی صد نے سرائیکی،4.87 فی صد نے اردو، 1.98 فی صد نے پشتو، 0.83 فی صد نے بلوچی اور0.15 فی صد نے سندھی کو اپنی مادری زبان بتایا۔ اگر پورے مُلک کی بات کریں، تو 38.78 فی صد افراد کی مادری زبان پنجابی ہے۔ یوں یہ پاکستان کی سب سے بڑی مادری زبان قرار پاتی ہے۔ یہ زبان مُلک کے تقریباً تمام حصّوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، جب کہ اگر اس میں بھارتی پنجاب کو بھی شامل کرلیں، تو اس کی وسعت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ 

ڈاکٹر صغریٰ صدف
ڈاکٹر صغریٰ صدف

معروف کالم نگار، ادیب اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر(PILAC) کی ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر صغریٰ صدف نے پنجابی زبان، اس کی وسعت، ادب، فروغ، تحفّظ اور مسائل سے متعلق پوچھے گئے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ ’’پنجابی زبان دنیا کی ساتویں، آٹھویں بڑی زبانوں میں شامل ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں، دنیا کے بہت سے ممالک میں یہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔12 کروڑ کے پنجاب میں اگر کسی کی مادری زبان پنجابی نہ بھی ہو، تب بھی وہ اِسے بول اورسمجھ سکتا ہے۔ دراصل، اردو زبان بھی اِسی سے نکلی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری بڑی بوڑھیاں اُردو آسانی سے سمجھ لیتی تھیں۔

اِسی طرح اُردو بولنے والے بھی پنجابی سمجھ لیتے ہیں اور وہ اِس زبان کے ڈراموں یا فلموں سے کسی پنجابی ہی کی طرح محظوظ ہوتےہیں۔ جہاں تک پنجابی ادب کی بات ہے، تو اِس معاملے میں بھی یہ زبان کسی سے کم نہیں۔ پنجابی شاعری تو دنیا میں اپنی ایک خاص انفرادیت رکھتی ہی ہے، خاص طور پر اس زبان کا صوفیانہ کلام عالم گیر شہرت کا حامل ہے، جب کہ شاعری کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی بہت کام ہو رہا ہے۔ اس زبان میں بہت شان دار ناولز لکھے گئے ہیں اور اب بھی ناولز آ رہے ہیں۔ 

پچھلے دنوں مستنصر حسین تارڑ کے پنجابی ناول ”مَیں بھناں دلی دے کنگرے“ نے بہت نام کمایا۔ اِسی طرح پنجابی میں مضامین، خاکے، افسانے اور کہانیاں بھی لکھی جا رہی ہیں۔ خُود ہمارا ادارہ پنجابی کتابیں چھاپ رہا ہے اور ادارے کے تحت تین ریڈیو چینلز بھی کام کر رہے ہیں۔ تاہم، پنجابی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے ذریعۂ تعلیم نہیں بنایا گیا۔ سندھی،بلوچی یا پشتو کی طرح اسے اسکولز میں لازمی مضمون کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا، جس کی وجہ سے اس زبان کے فروغ میں رکاوٹیں حائل ہیں، حالاں کہ نوجوان اس زبان سے گہری رغبت بھی رکھتے ہیں، جس کی ایک مثال ایم اے پنجابی ہے کہ آرٹ کا ہر دوسرا، تیسرا طالبِ علم اسی مضمون میں ماسٹرز کررہا ہے۔ ایک زمانے میں لوگ مادری زبانوں کی بجائے اُردو میں بات کرنے کو اسٹیٹس سمجھتے تھے، اب حالات بدل گئے ہیں اور نئی نسل اردو کی بجائے انگریزی کو ترجیح دینے لگی ہے۔ 

یہاں تک کہ اب اُن سے اُردو کا ایک مضمون تک پاس نہیں ہوپاتا۔ اِسی لیے مَیں کہتی ہوں کہ اردو اور مادری زبان بولنے والوں کو ایک دوسرے کی مخالفت یا ایک دوسرے کے خلاف دلائل تراشنے کی بجائے مَل بیٹھ کر اِس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ حکومتی سرپرستی کے ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہےکہ جب تک بچّوں کو ابتدائی کلاسز میں پنجابی نہیں پڑھائی جاتی، بات نہیں بنے گی اور یہ کام حکومت ہی کرسکتی ہے۔ ہم اِس حوالے سے متعلقہ افراد کو یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں اور خطوط بھی لکھے ہیں، مگر یہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھناچاہیےکہ جب تک زبان کا معاش سے تعلق نہ ہو، اُس میں دل چسپی پیدا نہیں ہوتی۔ اگر کوئی پنجابی پڑھتاہے، تواُسےاس بنیاد پر روزگار کےکتنے مواقع میّسر آئیں گے، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اب ایک مسئلہ یہ بھی ہےکہ ڈراموں میں مالی، کُک اور ڈرائیور وغیرہ ہی کو پنجابی بولتے دِکھایا جاتا ہے، جب کہ بابو دوسری زبان بول رہےہوتے ہیں، ایسےمیں کوئی کیسےاِس زبان کی طرف آئےگا؟ پہلے مائیں بچّوں سے پنجابی بولتی تھیں، اب نئی نسل مادری تو کیا، اردو بھی نہیں بولتی اور یوں اُن کا والدین کے ساتھ ٹکراؤ ساہوگیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان معاملات پر اعلیٰ سطح پر پالیسی سازی کی جائے تاکہ ایک طرف نئی نسل کو قومی اور جدید زبانوں پر دسترس حاصل ہو، تو دوسری طرف اُن کا رشتہ مادری زبانوں سے بھی استوار رہے۔‘‘سرائیکی بھی مُلک کی ایک اہم اوربڑی زبان ہے۔2017 ء کی مردم شماری کے مطابق سرائیکی پاکستان میں 12.19 فی صد افراد کی مادری زبان ہے۔ اس کےبولنے والوں کی اکثریت پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بستی ہے، جب کہ یہ سندھ اور بلوچستان میں بھی بولی جاتی ہے۔ ادب، بالخصوص صوفیانہ شاعری میں یہ زبان ایک ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔

خیبر پختون خوا

صوبہ خبر پختون خوا کے 76.86 افراد کی مادری زبان پشتو ہے اور یہ مُلک کی دوسری بڑی مادری زبان بھی ہے کہ قومی سطح پر پشتو بولنے والوں کی تعداد18.24 فی صد کے پی کے میں 11.48 فی صد افراد ہندکو، 3.72 فی صد سرائیکی،0.9 فی صد اردو،0.54 فی صد پنجابی،0.09 فی صد سندھی اور 0.08 فی صد افراد کی مادری زبان بلوچی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صوبے میں 30 کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پشتو زبان کی قدامت، وسعت، فروغ اور اہم مسائل سے متعلق پشتو اکادمی، جامعۂ پشاور کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر نصر اللہ جان وزیر نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ’’ پشتو اِس خطّے کی ایک قدیم زبان ہے اور اس کا بنیادی رسم الخط پالی یا خروشتی قرار دیا جاتا ہے، جو بُدھ مت دَور کی زبانیں ہیں۔خروشتی تحریر کا ایک نمونہ جاپان میں موجود ہے، جسے ہم پشتو کی قدیم ترین تحریر بھی کہہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نصر اللہ جان
ڈاکٹر نصر اللہ جان

اسلام کے بعد پشتو رسم الخط عربی سے متاثر ہوا۔یہ زبان پاکستان میں صوبہ خیبر پختون خوا، شمالی بلوچستان، کراچی اور جنوبی پنجاب سمیت تقریباً تمام ہی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ بھارت میں اب بھی کئی ایسے گاؤں ہیں،جہاں کی زبان پشتو ہے۔اِسی طرح پرانی مردم شماری کے مطابق افغانستان کے 65 فی صد باشندے پشتو بولتے ہیں،جب کہ ہرات سے ملحقہ ایرانی علاقوں میں بھی اس کی جڑیں ہیں۔چوں کہ پختون دنیا کے بہت سے علاقوں میں روزگار یا تعلیم کے لیے موجود ہیں، تو اُن کے ساتھ وہاں بھی یہ زبان پہنچ گئی ہے۔

ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ زبان خاصی ترقّی یافتہ ہے کہ اسے اردو یا سندھی کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، بلکہ مَیں تو یہ کہوں گا کہ ٹیکنالوجی اس کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے،کیوں کہ اب لوگ پشتو زیادہ لکھنے لگے ہیں۔جہاں تک مسائل کی بات ہے تو پشتو بھی عالم گیریت سے متاثر ہو رہی ہے۔ اِس ضمن میں ہم نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ بچّوں کو ابتدائی کلاسز میں پشتو ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کی بجائے، تمام مضامین پشتو میں پڑھائے جائیں،ہاں، اردو یا انگریزی کا ایک ایک مضمون الگ سے رکھا جاسکتا ہے۔ یہ سلسلہ آٹھویں کلاس تک ایسے ہی رہنا چاہیے، اس کے بعد خواہ نصاب اردو یا انگریزی میں منتقل کردیا جائے۔‘‘

سندھ

2017ء کی مردم شماری کے مطابق، صوبہ سندھ کے61.6 فی صد افراد کی مادری زبان سندھی ہے، جب کہ18.2 فی صد اردو، 5.46 فی صد پشتو،5.31 فی صد پنجابی،2.23 فی صد سرائیکی اور 2 فی صد بلوچی بولتے ہیں۔ سندھی مُلکی سطح پر تیسری بڑی زبان ہے، جسے 14.57 فی صد افراد مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ 

ڈاکٹر اسحاق سمیجو
ڈاکٹر اسحاق سمیجو

ڈاکٹر اسحاق سمیجو معروف دانش وَر اور سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین ہیں، اُنھوں نے سندھی زبان سے متعلق یوں اظہارِ خیال کیا، ’’سندھی زبان صرف سندھ ہی میں نہیں، بلکہ مُلک کے باقی حصّوں میں بھی بطور مادری زبان بولی جاتی ہے، جب کہ بھارت میں بھی یہ زبان بولنے والوں کی تعداد 70 لاکھ کےلگ بھگ ہے، وہاں کَچھ، گجرات، کاٹھیا واڑ، راجپوتانہ، مارواڑ، جیسلمیر اور دیگر علاقوں میں سندھی بولنے والے بستے ہیں۔ اِسی طرح تنزانیہ، کینیا، یوگنڈا، کانگو، جنوبی افریقا، مڈغاسکر، سنگاپور، تھائی لینڈ، برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور کئی عرب ممالک میں بھی ہزاروں افراد سندھی بولتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کی مدر لینڈ، سندھ ہے۔

یوں ایک اندازے کے مطابق سندھی بولنے والوں کی تعداد چھے کروڑ کے قریب بنتی ہے۔ یہ اِس خطّے کی قدیم ترین زبان ہے اور اگر ہم اس کا رشتہ موئن جو دڑو سے شروع کریں، تب بھی اس کی قدامت پانچ ہزار سال بنتی ہے، حالاں کہ موئن جو دڑو کے کتبے ابھی تک پڑھے بھی نہیں جاسکے، جب کہ مصراور عراق کی قدیم تہذیبوں کی تحریریں پڑھی جا چُکی ہیں، اِس سے بھی اِن آثار اور اس زبان کی قدامت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اردو کے بعد سب سے ترقّی یافتہ زبان سندھی ہے کہ اس میں شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو، جس پر علمی و تحقیقی کام نہ کیا گیا ہو۔ اِن دنوں سندھی زبان کے سات ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں،25 سے زاید اخبارات مارکیٹ میں موجود ہیں، 20 رسائل شایع ہو رہے ہیں، جب کہ بہت سی ویب سائٹس بھی موجود ہیں۔ 

یہ دنیا کی اُن 106 زبانوں میں شامل ہے، جن کا گوگل ترجمہ کرتا ہے، تمام موبائل فونز میں اسے لکھا جا سکتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسے ٹیکنالوجی سے کوئی خطرہ نہیں، بلکہ وہ اس کے لیے معاون ہے۔ البتہ، سندھی زبان کو بعض مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، اُن میں ایک حروفِ تہجّی میں شامل بعض الفاظ ہیں، جن کی آواز پر عرصے سے بحث ہو رہی ہے کہ اُنھیں کم کیا جانا چاہیے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ صوبے میں سندھی لازمی مضمون تو ہے، مگر بیش تر نجی اسکولز میں اسے پڑھایا نہیں جاتا اور جہاں پڑھایا جاتا ہے، وہ بھی رسمی کارروائی ہے کہ بچّے اس زبان میں بول پاتے ہیں اور نہ کچھ پڑھ یا لکھ سکتے ہیں۔ 

ہم نے اپنے ادارے میں ایک شکایت مرکز قائم کیا ہے، جب کہ حکومت سے بھی درخواست کی ہے کہ ہمیں اسکولز کی مانیٹرنگ کا حصّہ بنایا جائے۔ مادری زبانوں سے متعلق ہمارا قومی سطح کا رویّہ بھی اِس قدر افسوس ناک ہے کہ ہم اِس ضمن میں ابھی تک کوئی واضح پالیسی ہی نہیں بنا سکے، حالاں کہ اب تک لینگویج کمیشن بن جانا چاہیے تھا۔ ایک زبان کو قومی اور باقیوں کو علاقائی زبان قرار دے دینا مسئلے کا حل نہیں اور اگر پانچ زبانیں قومی زبانیں قرار دے دی جائیں، تو بھلا اس سے کیا نقصان ہوگا؟ پھر سندھی کو بھی دیگر زبانوں کی طرح یہ مسئلہ درپیش ہے کہ بڑی زبانوں نے دیگر زبانیں بولنے والوں کو احساسِ کم تری میں مبتلا کردیا ہے، نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک ہی زبان بولنے والے آپس میں اُردو میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنی زبانوں پر فخر کرتے ہوئے آپس میں اُن ہی میں بات کرنی چاہیے۔‘‘

بلوچستان

2017ء کی مردم شماری میں یہ انکشاف ہوا کہ رقبے کے لحاظ سے مُلک کے سب سے بڑے صوبے میں بلوچی اور پشتو بطور مادری زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً یک ساں، یعنی 35، 35 فی صد ہے، جب کہ وہاں4.56 فی صد سندھی، 1.13 فی صد پنجابی،0.81 فی صد اردو،17.12 فی صد براہوی، 2.65 فی صد سرائیکی، 0.28 فی صد ہندکو اور 0.14 افراد کی مادری زبان کشمیری ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ براہوی کوئی سات ہزار سال پرانی زبان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، مُلکی سطح پر بلوچی بولنے والوں کی تعداد 3.02 فی صد ہے۔ 

ماہرِ تعلیم اور بلوچی اکادمی، کوئٹہ کی جنرل باڈی کے ممتاز رُکن، ڈاکٹر واحد بخش بزدار نے بلوچی زبان کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئےبتایاکہ ’’صوبے میں بلوچی، براہوی، پشتو، ہزارگی، اردو، پنجابی، سندھی اور لاسی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بلوچی زبان سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب، ایران اور افغانستان کے بہت سے قبائل کی مادری زبان ہے۔ اِس زبان میں شاعری تو بہت کی گئی ہے، جب کہ فِکشن کچھ کم زور تھا، مگر اب منیر بادینی جیسے افراد نے یہ کمی بھی پوری کردی ہے۔ صرف اُنھوں نے اکیلے ہی بلوچی زبان میں170 سے زاید ناولز لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ افسانے بھی لکھےجارہے ہیں، جب کہ بلوچی زبان کےڈرامے بھی خود کو منوا چُکے ہیں۔ کسی زمانے میں بلوچی زبان کے اخبارات بھی شایع ہوا کرتے تھے، مگر اب وہ بند ہوچُکے ہیں۔

ڈاکٹر واحد بخش بزدار
ڈاکٹر واحد بخش بزدار

اِس زبان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہری زبان نہیں بن سکی۔ گو کہ کوئٹہ صوبے کا دارالحکومت ہے، مگر وہاں اس کی جڑیں گہری نہیں ہیں اور خود کوئٹہ بھی آبادی کے لحاظ سے کوئی بڑا شہر نہیں۔ یہی حال صوبے کے باقی شہروں کا ہے۔ پھر یہ کہ یہاں مِڈل کلاس کا فقدان تھا، اِس لیے پس ماندہ طبقات کی زبان کے فروغ پر توجّہ نہیں تھی اور سرداروں کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی۔ اب مِڈل کلاس طبقہ بھی وجود میں آ رہا ہے، جس سے بلوچی زبان بھی انگڑائی لے رہی ہے۔ 

نواب اکبر بگٹی کےدَور میں نہ صرف بلوچی بلکہ دیگر زبانوں کی بھی پرائمری سطح پر تدریس کے انتظامات کیےگئےتھے، اُن کےبعد تاج محمّد جمالی کی حکومت یہ پالیسی جاری نہ رکھ سکی۔ پھر ڈاکٹر عبد المالک بلوچ جیسے پڑھے لکھے شخص کی حکومت نے کئی قانون سازیاں کیں، مگر بعد میں یہ سلسلہ ٹھپ ہوگیا۔ 1973ء کے آئین میں اردو سے بدگمانی پیدا کیے بغیر مقامی زبانوں کی سرپرستی اور اُن کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، اِس لیے صوبوں کو اِس جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔ اِس ضمن میں ایک بات یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ زبانوں کے نام پر نفرت پھیلانے کی بجائے محبّتوں کو ترجیح دینی چاہیے کہ ہر زبان ہی میٹھی ہوتی ہے۔‘‘

کشمیر کی زبانیں

شہ رگِ پاکستان، خطۂ کشمیر جہاں اپنے قدرتی حُسن وجمال میں بے نظیر و بے مثال ہے، وہیں اُس کی زبان و ثقافت کے بھی الگ ہی رنگ ہیں۔وہاں بہت سی چھوٹی بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔’’ تاریخِ جموں کشمیر، عہدِ قدیم سے دورِ جدید تک‘‘ کے مصنّف، پروفیسر محمّد ادریس احمد کے مطابق’’ کشمیر میں بولی جانے والی کشمیری زبان اِس لحاظ سے بہت امیر ہے کہ اس میں حمد، نعت،منقبت،مثنوی اور غزل میں کافی شعری اثاثہ موجود ہے، تاہم اِن اصناف میں سے زیادہ کام مثنوی میں ہوا ہے۔ اگر علمی سرمائے کی بات کریں، تو یہاں فارسی اِس حوالے سے بہت مقبول اور فعال رہی ہے۔ 

خاص طور پر علماء اور مبلغین نے اشاعتِ دین اور عوام کو مختلف علوم و فنون سکھانے کے لیے فارسی ہی کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اردو ڈوگرہ عہد میں کشمیر میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف پھیل گئی۔ یہ جلد ہی فارسی کی جگہ دفتری، عدالتی اور درسی زبان کا درجہ حاصل کرنے میں کام یاب ہوگئی۔کشمیر میں لاکھوں افراد پہاڑی زبان بولتے ہیں،تاہم یہ تحریری زبان نہیں ہے۔ گوجری زبان ریاست میں بسنے والے گوجر قبائل کی زبان ہے۔

1974ء میں ریڈیو آزاد کشمیر سے گوجری میں نشریات شروع ہوئیں،جس سے اسے خاصا فروغ حاصل ہوا اور اس میں باقاعدہ طور پر ادب کی تخلیق کا آغاز ہوا۔جمّوں میں مقیم ڈوگرہ قبائل ڈوگری زبان بولتے ہیں،جس کا ادبی سرمایہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘جہاں تک کشمیری زبانوں کو لاحق خطرات کی بات ہے، تو یہ بھی دیگر زبانوں کی طرح بڑی زبانوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئی ہے،جب کہ بہت سے لوگ بیرونِ ممالک بھی چلے گئے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے بچّے مقامی زبانوں کے زیرِ اثر اب اپنی مادری زبان میں کم ہی بات کرتے ہیں۔

چترال اور غذر کی زبانیں

جیسےچترال وطنِ عزیز کا ایک خُوب صُورت خطّہ ہے، ویسے ہی وہاں کے باسی بھی گوناگوں خصوصیات کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اِس خطّے کے ممتاز دانش وَر، ادیب اور کالم نگار ہیں، وہ تمغۂ امتیاز سے بھی سرفراز کیے جاچُکے ہیں۔ اُنھوں نےاِس خطّے کی زبانوں سے متعلق بتایا کہ ’’پاکستان کے شمال میں واقع چترال اپر، چترال لوئر اور غذر کے تین اضلاع کی 12 لاکھ آبادی میں 14 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں، ان میں آریائی زبانیں بھی ہیں، ایرانی بھی اور منگول زبانیں بھی۔ گواربتی، ڈمیلی، پولولہ، کلاشہ، گوجری، کھوار اور شیخانی زبانیں ہند آریائی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ 

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

کھوار کے سوا باقی زبانیں لوئر چترال کے جنوب اور جنوب مغرب میں بولی جاتی ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والے کوہستان، دیامرتانگیر اور افغانستان سے آکر چترال کی وادیوں میں آباد ہوئے اور سیکڑوں سالوں سے اپنی زبان کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ فارسی، یدغہ، واخی، پشتو اور سریقولی کو ہند ایرانی زبانوں میں شامل کیا جاتا ہےاور ان زبانوں کےبولنے والے دیر، باجوڑ، افغانستان اور چینی ترکستان سے انیس ویں صدی میں ہجرت کرکے چترال اپر اور لوئر میں آباد ہوئے۔ قرغیز بولنے والے لوگ انیس ویں صدی میں ازبکستان سے ترکِ وطن کر کے اپر چترال آئے، بروشسکی بولنے والے یاسین میں آباد ہیں، جب کہ واخی بولنے والے بروغل اور اشقومن کی وادیوں میں بستے ہیں۔ 

تینوں اضلاع پر مشتمل علاقے میں کھوار سب سے بڑی اور رابطے کی زبان ہے، جسے78 فی صد آبادی مادری زبان کے طور پر بولتی ہے۔ 22 فی صد آبادی اپنی مادری زبانوں کے ساتھ دوسری زبان کے طور پر بولتی ہے۔ کھوار میں محمّد شکور غریب کا مجموعۂ کلام 1760ء میں مرتّب ہوا، یہ زبان اسکولز میں پڑھائی جاتی ہے اور اس میں ریڈیو پروگرامز بھی نشر ہوتےہیں۔ آبائی وطن سے ہجرت کرنےوالے وہ افراد، جو سوات اور دیگر مقامات پر بستے ہیں، مادری زبان کے طور پر کھوار ہی بولتے ہیں۔ کالاشہ اور یدغہ ایسی زبانیں ہیں، جن کے بولنے والوں کی آبادی 10 ہزار سے کم ہے اور یہ سرحد پار بھی نہیں بولی جاتیں، اِس لیے ان کی معدومیت کا خطرہ ہے۔ کلاشہ کا رسم الخط رومن ہے، جب کہ باقی تمام زبانیں عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ کھوار میں 200 سے زیادہ کتابیں شائع ہو چُکی ہیں، جن میں قرآنِ پاک کا ترجمہ، سیرت النبی ﷺ اور نعتیں بھی شامل ہیں۔‘‘

احساس ابھی زندہ ہے…

جہاں ایک طرف مقامی،مادری یا علاقائی زبانیں طرح طرح کے خطرات سے دوچار ہیں،وہیں اُن کے فروغ اور تحفّظ کے لیے سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اِس کی ایک بڑی مثال مختلف اقوام کی جانب سے منائے جانے والے کلچرل ڈیز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تقریباً تمام ہی قومیں مخصوص دنوں میں اپنی ثقافت اجاگر کرنے کے لیے بڑی دھوم دھام سے کلچرل ڈے منانے لگی ہیں، جن میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد حصّہ لیتی ہے۔ اِس موقعے پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں،جن میں شامل افراد روایتی پہناووں، لوک گیتوں اور دیگر لوازمات کے ذریعے اپنی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں، جب کہ کانفرنسز اور کمیونٹی پروگرامز بھی ہوتے ہیں، جن میں مادری زبانوں کے تحفّظ پر زور دیا جاتا ہے۔

نیز، کچھ عرصے سے مقامی زبانوں میں لکھنے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب تقریباً تمام ہی علاقائی زبانوں میں مضامین، ناولز، افسانے اور کہانیاں وغیرہ لکھی جا رہی ہیں۔ اِن زبانوں کے فروغ میں مذہبی لٹریچر کا بھی اہم کردار ہے کہ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے دینی تعلیمات کی اشاعت کے لیے مقامی زبانوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔بے مہار سوشل میڈیا کے نقصانات اپنی جگہ،مگر اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ لوگ اب اِس پلیٹ فارم سے اپنی زبان کو فروغ دینے لگے ہیں۔وہ اپنی زبان میں پوسٹ اور کمنٹس کرنے کے ساتھ ویڈیوز بنا کر بھی اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ 

پھر یہ کہ تمام صوبوں میں قائم خصوصی ادارے بھی، جو حکومتی گرانٹ پر چلتے ہیں، اپنے وسائل اور اختیارات کے مطابق اپنی زبانوں کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ اِن اداروں کی جانب سے نہ صرف کتابیں، رسائل اور دیگر مواد شایع کیا جا رہا ہے، بلکہ وہ کانفرنسز اور میلوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں، جن سے مادری زبانوں کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اِن تمام سرگرمیوں کے نتیجے میں تمام صوبوں میں بولی جانے والی بڑی زبانیں تو موت یا معدومیت کے خطرات سے نکل چُکی ہیں،البتہ چھوٹی زبانیں اب بھی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں کہ اُنھیں نہ تو یہ ادارے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی ادبی کانفرنسز، سیمینارز اور ثقافتی میلوں میں اُن کی نمایندگی ہوتی ہے۔

حکومتی سرپرستی ہے بھی، نہیں بھی ہے…

حکومتی سطح پر اردو کے ساتھ مقامی زبانوں کے تحفّظ اور فروغ کے لیے بہت سے ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کے ایسے ادارے مختلف ناموں سے موجود ہیں، جو مکمل یا جزوی طور پر حکومتی امداد سے چل رہے ہیں۔اِس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پاکستانی زبانوں سے غافل نہیں رہی ہیں، تاہم اِس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے،جس پر توجّہ نہیں دی جارہی اور وہ ہے، نظامِ تعلیم۔گو کہ بچّوں کو پرائمری سطح تک مقامی زبانوں میں پڑھانے کی بات تو کی جاتی ہے، مگر اِس پر عمل درآمد نہیں ہوپاتا۔

اِسی طرح مختلف کلاسز میں مقامی زبان کا مضمون لازمی قرار دیا گیا ہے،مگر اُس کی تدریس بھی رسمی طور پر ہوتی ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں قائم انگریزی میڈیم اسکولز اِس حوالے سے اپنی ذمّے داریاں پوری نہیں کرتے۔ اُن میں مقامی زبان کا لازمی مضمون صرف اِسی حد تک پڑھایا جاتا ہے کہ طلبہ جیسے تیسے اُس میں پاس ہوجائیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچّے مقامی زبان لکھنے،پڑھنے اور بولنے سے قاصر ہیں۔ بدقسمتی سے حکومتی ادارے اِس معاملے میں مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔

پھر کیا، کیا جائے…؟؟

پاکستانی زبانوں کے مختصر تجزئیے اور ماہرین کی آرا سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں خاصی اصلاحات کی ضرورت ہے۔خاص طور پر پرائمری سطح تک بچّوں کو مادری زبان میں تعلیم دینے کے لیے کوئی ایسا لائحۂ عمل ناگزیر ہے، جس سے وہ ایک طرف انگریزی جیسی عالمی زبان سے واقف ہوسکیں، تو دوسری طرف اُن کا اپنی زبان سے بھی ناتا نہ ٹوٹنے پائے۔نیز، مقامی زبانوں کے لازمی مضامین کی تدریس کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ بچّے اِن مضامین میں صرف پاس ہی نہ ہوں، بلکہ وہ اپنی زبان پر دسترس بھی حاصل کرسکیں۔

اِس مقصد کے لیے محکمۂ تعلیم میں مختلف اداروں کے تعاون سے خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ایک بات یہ بھی ہے کہ مختلف پروگرامز میں عموماً صوبائی زبانوں ہی کو اہمیت دی جاتی ہے، جیسے سندھ کے ثقافتی پروگرامز میں صرف سندھی ہی نمایاں ہوتی ہے، حالاں کہ صوبے میں کئی اور چھوٹی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں، مگر اُنھیں نظرانداز کردیا جاتا ہے، ایسا ہی کچھ باقی صوبوں میں بھی ہو رہا ہے۔

مناسب ہوگا کہ ہر صوبے میں بڑی صوبائی زبان کے ساتھ چھوٹی زبانوں کو بھی ساتھ لے کر چلا جائے تاکہ وہ بھی زندہ رہ سکیں۔زبانوں کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر جو ادارے کام کر رہے ہیں، اُنھیں فنڈز کی کمی کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے وہ کئی منصوبوں پر چاہنے کے باوجود کام نہیں کر پا رہے، تو اِس ضمن میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے،جن سے اُن کی ضروریات پوری ہوسکیں۔

گلگت، بلتستان کے رنگ…

مُلک کا شمالی خطّہ، جنّت نظیر تو ہے ہی، اپنے دامن میں تہذیبی تنوّع بھی لیے ہوئے ہے۔یہاں بہت سی قدیم زبانیں بولی جاتی ہیں۔ عبدالخالق تاج اِس خطّے کے ممتاز دانش وَر، ادیب اور مصنّف ہیں۔ اُنھوں نے یہاں کی زبانوں سے متعلق بتایا کہ’’ گلگت چھے اضلاع میں تقسیم ہے اور ان تمام اضلاع کی رابطے کی زبان شینا ہے، یوں یہ خطّے کی سب سے بڑی زبان ہے۔ دیگر زبانوں میں بروشسکی، کھوار،چترالی اور وخی وغیرہ شامل ہیں۔اِن زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے۔

عبدالخالق تاج
عبدالخالق تاج

شینا زبان کا اپنا رسم الخط ہے اور اس میں بہت سا لٹریچر بھی موجود ہے۔ اس زبان کا بنیادی قاعدہ مَیں نے لکھا ہے،جس کا چوتھا ایڈیشن مارکیٹ میں آیا ہے، جب کہ قرآن پاک کے تراجم، لغت اور شعر و شاعری بھی اس زبان میں شایع ہو رہی ہے۔ ہنزہ میں بولی جانے والی واخی زبان کا تعلق تاجکستان سے ہے اور یہاں یہ صرف 25 گھرانوں میں بولی جا رہی ہے۔ اِس کا قاعدہ بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اِسی طرح بروشسکی اور کھوار میں بھی اچھا خاصا تحریری مواد موجود ہے۔گو کہ اِس خطّے کی زبانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں، تاہم یہاں کے باسی اپنی مادری زبانوں کا تحفّظ کر رہے ہیں۔‘‘

سہیل نواز بلتستانی
سہیل نواز بلتستانی

اِسی خطّے کا ایک حصّہ بلتستان کہلاتا ہے۔ وہاں سے تعلق رکھنے والے استاد اور ریسرچ اسکالر، سہیل نواز بلتستانی نے اپنے خطّے کی زبانوں سے متعلق بتایا کہ ’’گلگت بلتستان کی دو بڑی زبانیں ہیں، ایک شینا اور دوسری بلتی۔ بلتستان چار اضلاع پر مشتمل ہے اور ان چاروں میں بلتی زبان بولی جاتی ہے۔ دیگر زبانوں میں بروشکی، واخی، کشمیری اور پھوار وغیرہ شامل ہیں۔ بلتی زبان تبت، چین، بھوٹان اور لداخ میں بھی بولی جاتی ہے۔ اس کا باقاعدہ رسم الخط ہے،جسے’’اگے‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ متروک ہوچکا تھا، تاہم اب بعض افراد کی کوششوں سے اس کا احیا ہو رہا ہے اور بلتی کو اس کے اصل رسم الخط ہی میں لکھنے کو رواج دیا جا رہا ہے، وگرنہ اس کی جگہ فارسی، عربی اور اردو رسم الخط نے لے لی تھی۔ بلتی میں یوسف حیسن آبادی نے قرآن پاک کا ترجمہ کیا ہے، جب کہ حق نواز نے سیرت النبی ﷺ پر ایک شان دار کتاب لکھی ہے۔ اِسی طرح عباس کاظمی(مرحوم) نے بھی لوک کہانیوں سمیت خاصا تحریری مواد چھوڑا ہے۔ 

شینا زبان ہنزہ، گلگت، چلاس، اسکردو کے بعض علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ گو کہ نئی نسل بلتی زبان نہیں لکھ پاتی، مگر لوگ اسے زندہ رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ شہروں، بالخصوص کراچی اور اسلام آباد منتقل ہونے والے گھرانوں میں بلتی بولنے کا رواج کم ہوا ہے، خاص طور پر جو بچّے ان شہروں میں پیدا ہوئے ہیں، وہ یہ زبان کم ہی جانتے ہیں کہ وہ اردو یا انگریزی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

کراچی کی چند زبانیں

2017ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی میں 42.30 فی صد افراد کی مادری زبان اردو ہے، جب کہ 15.01 فی صد پشتو، 4.24 فی صد ہندکو، 10.73 فی صد پنجابی، 10.67 فی صد سندھی، 4.04 فی صد بلوچی، 4.97 فی صد سرائیکی اور 0.39 فی صد کشمیری بولتے ہیں۔ اگر ان کی آبادی کی بات کریں تو اردو بولنے والے 6,779,142 ، پشتون 2,406,011 ، خیبر پختون خوا کے ہزارہ ڈویژن، پشاور اور کوہاٹ میں بولی جانے والی ہندکو کے بولنے والے 679,539 ، پنجابی 1,719,636 ، سندھی1,709,877 ، بلوچ 648,964 ، براہوی بولنے والے96,120 ، سرائیکی798,031 اور 63,784 کشمیری زبان بولنے والے بستے ہیں۔ یہ تو وہ زبانیں ہیں، جن کے اعداد و شمار مردم شماری کے نتیجے میں منظرِ عام پر آجاتے ہیں، جب کہ شہر میں اِن کے علاوہ بھی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں اور اُن کے بولنے والوں کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں میں ہے، مگر اُنھیں مردم شماری میں الگ سے نہیں گِنا جاتا۔

کچھی، 52 اقوام کی زبان

یہ زبان کراچی کے کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اِس ضمن میں ’’ کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ کے مصنّف اور افسانہ نگار، عبدالغفور کھتری نے بتایا کہ ’’کراچی کے مختلف علاقوں میں آباد52 اقوام کچھی زبان بولتی ہیں، جن کی مجموعی آبادی لگ بھگ 30 لاکھ ہے۔ چوں کہ اِن اقوام کی نسبت بھارت کے علاقے، کَچھ سے ہے، اِس لیے انھیں کچھی کہا جاتا ہے۔‘‘ اُنھوں نے تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ بھی بتایا کہ ’’کچھی کھتریوں کا کراچی سے تقریباً دو سو سال پرانا تعلق ہے اور اُنھوں نے 1850ء میں یہاں اپنا پہلا جماعت خانہ قائم کیا تھا۔ 

کچھی زبان کا اپنا کوئی رسم الخط نہیں ہے، اِس لیے اِسے گجراتی یا سندھی میں لکھا جاتا ہے۔ اِس زبان میں خاصا تحریری کام ہوا ہے، بالخصوص شاعری سے اس کا دامن مالا مال ہے۔ تاہم، نئی نسل کچھ عرصے سے دیگر زبانوں سے متاثر ہو کر اپنی مادری زبان سے دُور ہونے لگی ہے، البتہ اب بھی گھروں میں یہی زبان بولنےکارجحان غالب ہے۔‘‘واضح رہے، عبدالغفور کھتری کچھی زبان کی بول چال سے متعلق ایک کتاب پر بھی کام کر رہے ہیں۔

بابائے قوم کی زبان

گجراتی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ بابائے قوم، قائدِ اعظم محمّد علی جناح کی مادری زبان ہے۔اب بھی شہرکی کئی مسلمان اور ہندو برادریاں گجراتی زبان بولتی ہیں۔ یہ زبان کس حال میں ہے، ہم نے یہ جاننے کے لیے معروف ہندو مذہبی اسکالر اور گجراتی بچاؤ تحریک کے نائب صدر، پروفیسر منوج چوہان سے ملاقات کی۔ مختلف سوالات کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’اسماعیلی، بوہری، میمن، پارسی، پٹنی، بھیل، میگھواڑ اور دیگر کئی برادریاں گجراتی زبان بولتی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق کراچی میں ان کی آبادی 40 لاکھ کے قریب ہے۔ 

چوں کہ اِن اقوام یا قبائل کا تعلق بھارتی علاقے، گجرات سے ہے، اِس لیے ان کی زبان کو گجراتی کا نام دیا گیا ہے۔ ایک زمانے میں گجراتی زبان کے کئی اخبارات شایع ہوتے تھے، جن میں حمید ہارون کا ڈان گجراتی اور عثمان ساطی کا وطن شامل تھے، مگر اب صرف ملّت ہی چَھپ رہا ہے۔ میرے والد، شنکر لال چوہان نے 1958ء میں گجراتی زبان کے لیے ایک اسکول قائم کیا تھا، جب کہ دیگر اسکولز بھی قائم کیے گئے، مگر پھر سب بند ہوتے چلے گئے۔ 

المیہ یہ ہے کہ نئی نسل گجراتی زبان لکھ اور پڑھ نہیں سکتی، جب کہ بولنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ہم نے گجراتی زبان سِکھانے کےلیے نارتھ کراچی، رنچھوڑ لائن اور ملیر کالا بورڈ میں تین مراکز قائم کیے ہیں۔ پھر ایک بڑا مسئلہ مردم شماری میں گجراتی بولنے والوں کو شمار نہ کرنا بھی ہے، جس کی وجہ سے یہ زبان اپنی شناخت سے محروم ہے۔ اِسی طرح حکومتی سطح پر بھی بابائے قوم کی اس زبان کی ویسی سرپرستی نہیں کی گئی، جس کی یہ حق دار تھی۔ ہم اپنے تہواروں میں گجراتی رسم و رواج کو فوقیت دیتے ہیں، البتہ روایتی گجراتی لباس اب متروک ہو چکا ہے۔‘‘

میمنی زبان

کراچی کے اولڈ ایریا میں جائیں، تو کانوں میں ایک دِل چسپ زبان رَس گھولنے لگتی ہے اور وہ ہے میمنی زبان۔ چھے کتابوں کے مصنّف، کراچی کی تاریخ اور معاشرت پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر اقبال ہاشمانی بھی یہی زبان بولتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی مادری زبان سے متعلق بتایا کہ ’’دراصل یہ زبان سندھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے، یہی وجہ ہےکہ میمن، سندھی زبان باآسانی سمجھ لیتے ہیں۔ کئی صدیاں قبل ٹھٹّھہ کے قریب مقیم ایک قبیلہ مسلمان ہوا، تو اُسے مؤمن کا نام دیا گیا۔ پھر اِس قبیلے کے کچھ لوگ وہیں رہ گئے، جو سندھی میمن کہلائے، جب کہ باقی کَچھ اور کاٹھیا واڑ چلے گئے۔ 

چوں کہ یہ کاروباری لوگ تھے، اِس لیے وہاں سے بھی ہندوستان کےمختلف علاقوں میں جابسے۔ جب یہ لوگ وہاں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے، تو اُن علاقوں کی مناسبت سے اُن کی ایک خاص شناخت بن گئی، جیسے بانٹوا والے، ہالاری، کتیانہ وغیرہ۔ ہندوستان کےجن علاقوں سے یہ لوگ آئے تھے، وہاں کی لکھنے پڑھنے کی زبان گجراتی تھی، اِس لیے یہ لوگ اُسی زبان میں تحریری کام کرتے رہے، مگر اب زیادہ تر لوگ اردو میں لکھتےہیں، جب کہ میمنوں میں گجراتی پڑھنے والوں کی تعداد بھی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے۔ 

شہر کے مختلف علاقوں میں میمنی بولنے والوں کی آبادی 30 لاکھ کے قریب ہے، اُن میں سے میٹھادر، کھارادر، حسین آباد اور کریم آباد وغیرہ میں رہنے والے خاندانوں میں اب بھی میمنی ہی بولی جاتی ہے، جب کہ بہت سے گھرانوں میں اردو بولی جانے لگی ہے۔ چوں کہ ہماری برادری کا زیادہ دھیان کاروبار کی طرف ہے، اِس لیے وہ مادری زبان کے تحفّظ کی جانب کم ہی متوجّہ ہوتی ہے، جو کوئی اچھی بات نہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید