آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کسی بھی مہذب سماج میں اختلاف رائے (چاہےوہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو)کو تو برداشت کیا جا سکتا ہے اور برداشت کیا جانا چاہئے لیکن تشدد کو برداشت کرنے کے معنی ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ سے دستبرداری کا اعلان ہے۔ تشدد چاہے فرد کی طرف سے ہو یا کسی گروہ کی جانب سے، چاہے وہ کتنے ہی مقدس الفاظ یا متن کے ساتھ آگے بڑھے جو ریاست اُسے برداشت کرتی ہے اُسے ریاست کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ہمارے جنوبی ایشیا میں فلسفہ عدم تشدد کا سب سےبڑا پرچارک مہاتما گاندھی کو قرار دیا جاتا ہے اور وہ محض فکری طور پر نہیں عملی طور پر بھی تشدد کے اس قدر خلاف تھے کہ اپنی ایک بھرپور تحریک کے دوران محض ایک مقام پر جب چھبیس افراد کو تشدد سے ہلاک کر دیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر اپنی اس تحریک سے ہی دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ ہم اپنی جدوجہد میں مار کھائیں گے لیکن ہاتھ نہیں اٹھائیں گے۔ کلکتہ میں جب آگ اور خون کا طوفان امڈ آیا تو اس مہان انسان نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر امن اور شانتی کے گیت کو حقیقت میں بدل دیا۔ ان کے بعد ہمارے خیبر پختونخوا کے خطے میں باچا خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پختون قوم میں انہوں نے اپنی تمامتر جدوجہد فلسفۂ عدم تشدد پر اٹھائی۔ ہم مسلمانوں کو تو اس کی سب سے درخشاں مثال خود پیغمبر اسلام ﷺ

کے اسوہ سے ملتی ہے کہ جب تک آپؐ نے مخصوص خطے میں اپنی ریاست ِ مدینہ قائم نہیں کر لی اپنی 13برسوں پر محیط جدوجہد کے کسی ایک لمحے میں بھی تشدد تو ایک طرف رہا جوابی تشدد کی بھی اجازت نہیں دی۔ کون کون سے مظالم ہیں جو انہیں اور ان کے پاکباز ساتھیوں کو نہیں سہنے پڑے لیکن مجال ہے جو کبھی کسی ایک ظلم کے جواب میں بھی ہاتھ اٹھایا ہو۔ پورے 13سالوں میں کوئی ایک ایسا واقعہ بطور مثال پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مابعد بھی جتنی جنگیں ہوئیں وہ سب دفاعی نوعیت کی تھیں۔ افسوس کہ آج آپؐ کے پیروکار آپؐ کے اسوہ کی جس بری طرح سے دھجیاں بکھیر رہے ہیں اس نے تو اس مبارک دین کو بھی خوف کی علامت بنا دیا ہے۔ کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے اس مملکت ِ خداداد میں اگر سروے کیا جائے تو کتنی ہی ایسی تنظیمیں ملیں گی جو نام تو امن و سلامتی والے دین کا لیتی ہیں لیکن تشدد کو کھلم کھلا پرائیویٹ جہاد کا نام دیتے ہوئے جائز خیال کرتی ہیں۔
اس حوالے سے اولین ذمہ داری پاکستان کے اہل سیاست پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جس طرح دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے کل جماعتی کانفرنس بلاتے ہیں اسی طرح عدم تشدد کیلئے کل جماعتی کانفرنس منعقد کرتے ہوئے ایکا کرتے۔ ما بعد اس عہد نامے میں قومی میڈیا اور تمام اہل دانش کو بھی شامل کیا جاتا۔ ایک متفقہ نکتہ طے کیا جاتا کہ تشدد جو بھی کرے گا فرد، گروہ یا تنظیم چاہے مقاصد کتنے پاکیزہ اور الفاظ کتنے شاندار ہوں اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسے مل کر بزور کچل دیا جائے گا۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ بے قصور انسان اپنے گلی محلوں حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ۔ وہ عبادت گاہیں جن کے تحفظ کی ذمہ داری بلا امتیاز پروردگار عالم نے اپنے ذمہ لی تھی پاکستانی سماج میں آج وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ باتیں سنو تو وہ تمام مذاہب عالم کے تحفظ کی ہیں عمل دیکھو تو علامہ اقبالؒ جیسے مسلمان رہنما کو بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ ’’یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود‘‘ ۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ صدیوں پر محیط تہذیبی سفر بھی صدیوں کی نفرتوں کو ختم نہیں کر پایا۔ ہم پوچھتے ہیں شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خاں کے مدرسہ اور مسجد پر دھاوا بول کر آگ لگانے والے کیا ہمارے اپنے مسلمان بھائی نہیں تھے اور ما بعد ردعمل میں مخالف مسلمان فرقہ سے تعلق رکھنے والے علماء و فضلاء کو جس طرح ٹارگٹ کرتے ہوئے قتل کیا گیا ہے اور باہمی منافرتوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک دوسرے کی مساجد اور امام بارگاہیں ہی نہیں مدارس اور اسکولوں تک کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ ابھی جو بچہ مرا ہے اعتزاز حسن، اس نے اپنی جان کیوںکھوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ طالبان کے خودکش حملہ آور کو نہ دبوچتا تو اس اسکول کے سینکڑوں بچے لقمہ اجل بنا دیئے جاتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم تماش بین لوگ ہیں چار دن شوروغوغاکرتے ہیں اور پھر وہی لچھن۔ منافقت ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اپنے اندر چھپی صدیوں پر محیط منافرتوں کو ہم خوب جانتے ہیں لیکن کھسیانے اور انجان بن کر الزام ہمیشہ اقوامِ دیگر پر دھرتے ہیں یا پھر حصولِ ثواب کی نیت سے خوب پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ یہ سب یہود و ہنود اور امریکہ کی کارستانی ہے۔
ہم عرض کرتے ہیں جب تک کسی مرض کی حقیقی تشخیص نہیں ہو گی تب تک درست علاج کیسے ہو سکے گا۔ آخر ہم امہ میں موجود اختلافات کی حقیقت و اصلیت کو کھلے بندوں تسلیم کیوں نہیں کر لیتے اور پھر قوم کو اختلاف رائے کے ساتھ جینے کا فن کیوں نہیں سکھاتے؟ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ جب تک مسلمان اقوام اختلاف رائے کے ساتھ جینے کا ہنر نہیں سیکھیں گی ان کی باہمی منافرتیں اور فکری مناقشے کبھی ختم نہ ہو سکیں گے۔ وقتی طور پر’’مٹی پائو‘‘ پالیسی اپناتے رہیں گے تو چنگاریاں پھوٹتی رہیں گی اور الائو دہکتے رہیں گے۔ دنیا بھر کی مہذب اقوام نے وقت اور حقائق سے بہت کچھ سیکھا ہے کیا بہتر نہیں کہ ہم مسلمان بھی کچھ نہ کچھ سیکھیں لیں۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنا لیں۔
مذاکرات اے پی سی کی طرح عدم تشدد پر بھی ایک اے پی سی منعقد کرتے ہوئے ’’میثاقِ عدم تشدد‘‘ کا ضابطہ ذمہ دارانِ قوم سے منوا لیں جس میں یہ طے کر دیں کہ ہر کسی کو تہذیبی حدود میں رہتے ہوئے اپنے عقیدہ، نظریہ یا نقطہ نظر کے اظہار کی کامل آزادی ہو گی لیکن کسی کو یہ حق نہ ہو گا کہ وہ اس میں جبر کا عنصر یا تشدد کا شائبہ لا سکے۔ بشمول طالبان تمام گروہوں کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنا اپنا فہم اسلام اپنی قوم میں خوب پھیلائیں اور ابلاغ و اشاعت کے تمام طریقوں سے قوم کو اپنا ہمنوا بنائیں اس کے بعد فیصلہ بلٹ سے نہیں بیلٹ سے ہونے دیں۔ جبر اور تشدد کا استعمال ریاست کے خلاف جرم گردانا جائے گا ایسے ہر فرد یا گروہ کا استقبال مذاکرات سے نہیں فوجی آپریشن سے کیا جائے گا۔ اس کامل ضابطہ حیات پر بشمول میڈیا و آرمی، مذہبی علماء و اہل سیاست پوری قوم ایکا کر لے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں