آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

احتیاط ! احتیاط ! ہیں نازک بہت یہ معاملے !!

مریض دِل ہوں، چاروں شریانوں میں چار عدد اسٹنٹ ڈلوائے الحمد للہ بہت بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔ دیگر بے شمار پرہیزوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں نے غیرضروری ٹینشن سے بھی منع کررکھا ہے۔ جس کا آسان نسخہ میں نےیہ تلاش کیا کہ ٹی وی دیکھنے سے حتی الامکان پرہیز کرتا ہوں، کیونکہ دل کا معاملہ بھی ہے اور زندگی کا بھی۔ سو خبروں وغیرہ پر تو اُچٹتی نظر ڈال لیتا ہوں، مگر ٹاک شوز سے مکمل پرہیز ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ 25 جنوری کی شب ایک جگہ مہمان تھا اور ان کے ٹی وی پر میرا بس نہیں تھا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کسی چینل پر ایک ٹاک شو شروع ہوگیا۔ موضوع بحث کیا تھا، اس کا تو مجھے آخر تک پتہ نہ چل سکا۔ البتہ ایک صاحب اپنے حالیہ دورئہ جاپان کی تفصیلات بیان کررہے تھے، کہ جاپان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ نے سونامی کے دوران پاکستانیوں کے کردار پر ڈاکومنٹری بنائی ہے۔ جس میں پاکستانیوں کی بہت تعریف کی گئی ہے اور یہ کہ ہمارے کسی چینل کو توفیق نہیں ہوئی کہ اُسے اُردو میں ڈب کرکے قوم کو دکھا دیتا، یہ انکشاف بھی کیا کہ جاپان میں پاکستانیوں اور ان کے سبز پاسپورٹ کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ پاکستانی ہونے کے ناتے یہ سن کر میرا ہی نہیں آپ کا سر بھی فخر سے بلند ہوگیا ہوگا۔ موصوف، جو کہ سینئر سرکاری افسر ہونے کے ساتھ ساتھ

تجزیہ کار اور کالم نویس بھی ہیں، نے جاپان میں متعین سفیر پاکستان فرخ عامل کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے بیچ میٹ ہیں اور وزٹ کے دوران انہی کے مہمان تھے۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، مگر موصوف نے اپنے کالم اور ٹاک شو میں فرخ عامل کے چند جملے بھی نقل کئے ہیں ’’بحیثیت پاکستانی کسی غیرملک میں میرا سر پہلی بار فخر سے بلند ہوا، جب میں بادشاہ (شہنشاہ) کو اسناد سفارت دینے گیا تو اس نے اور پھر اس کی ملکہ نے کہا کہ پاکستانی وہ واحد قوم ہے جس نے سونامی میں ہماری مدد کی‘‘ فرخ عامل ایک سینئر، اہل اور محتاط سفارت کار ہیں۔ تیس برس سے فارن سروس میں ہیں، ذمہ دار حیثیتوں میں برسوں بیرون ملک گزار چکے ہیں۔ بطور سفیر بھی یہ ان کی دوسری پوسٹنگ ہے۔ موصوف شہنشاہ اور ملکہ معظمہ سے یہ بیان ہرگز منسوب نہیں کرسکتے کہ ’’پاکستان وہ واحد قوم ہے جس نے سونامی میں ہماری مدد کی‘‘ قیامت خیز زلزلہ اور سونامی ابھی کل کی بات ہے۔ مشکل کی اُس گھڑی پوری دُنیا جاپان کی مدد کو اُمڈ آئی تھی۔ عطیات دینے والے ٹاپ 20 ممالک میں امریکہ، تائیوان، کوریا، تھائی لینڈ، اومان، چین، الجیریا، برطانیہ، ویت نام، ہانگ کانگ، فرانس، سوئٹزر لینڈ، ملائیشیا، انڈیا، برازیل، سنگاپور، آسٹریلیا، منگولیا، فلپائن اور اٹلی شامل تھے۔ امریکہ کا حصہ سب سے زیادہ تین ارب ین تھا جبکہ فہرست کے آخری ملک اٹلی نے 27 کروڑ ین عطیہ کئے تھے۔ پاکستان نے بھی اپنے وسائل کے مطابق بہت کچھ کیا۔ دو بار بردار C-130 جہازوں میں 24 ٹن امدادی سامان بھجوایا تھا جو ہائی انرجی بسکٹوں، ملک پیک اور پینے کے پانی پر مشتمل تھا۔ ہمارے سفارتخانہ نے بھی متاثرہ علاقہ میں امدادی ٹیم بھجوائی تھی اور جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے بھی مشکل کی اُس گھڑی اپنا فرض بطریق احسن نبھایا تھا۔ ایسے میں یہ کہنا کہ سونامی میں صرف پاکستانیوں نے مدد کی، حیران کن اور خلاف واقعہ ہی نہیں، بین الاقوامی برادری کی توہین بھی ہے۔
سفیر پاکستان کے حوالے سے یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ ’’وہ اسناد سفارت پیش کرنے گئے تو بادشاہ (شہنشاہ) اور ملکہ نے کھڑے ہو کر سلیوٹ کیا اور کہا کہ ہم پاکستان کو ری پے نہیں کرسکتے۔‘‘ بھائی! کس چیز کا ری پے؟ کس احسان کا بدلہ؟ راقم نے اس موقع پر جاری ہونے والا سرکاری اعلامیہ دیکھا ہے، اس میں تو ایسی کوئی بات درج نہیں۔ دراصل گپ شپ ہمارا قومی مزاج ہے، سو بسم اللہ بڑھ چڑھ کر ہانکیئے، مگر داخلی معاملات کی حد تک۔ نازک بین الاقوامی معاملات اور پاکستان کے معدودے چند دوستوں، جن کی تعداد ہمارے غیرذمہ دارانہ رویوں اور اس قسم کی لن ترانیوں کے سبب تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے، پر رائے زنی کا شوق چرائے، تو حقائق کا خون نہ کیجیئے۔ جنہیں جاپان جانے اور ان کے کلچر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے، بخوبی جانتےہیں کہ جاپانی دُنیا کی انتہائی شستہ، مہذب اور مؤدب قوم ہیں۔ وہ سلیوٹ نہیں کرتے، اپنے مہمانوں کا سواگت جھک کر کرتے ہیں اور تعظیم کا یہ انداز جاپانیوں کا طرئہ امتیاز ہی نہیں، ایک طرح سے لائف اسٹائل بھی ہے، جو ان کی زندگیوں میں رچا بسا ہے اور جن کی تربیت بچپن سے دی جاتی ہے۔ جاپانی ہوٹلوں اور ایئرلائنز کے غیرملکی ملازمین کو جھک کر سواگت کرنے کا یہ انداز بطور خاص سکھایا جاتا ہے اور ان کے لئے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یاد رہے جاپانی محض احتراماً ہی نہیں جھکتے، تعارف اور معذرت کے وقت بھی دُہرے ہو ہو جاتے ہیں۔ وہ اسے بالعموم مصافحہ کے متبادل کے طور پر لیتے ہیں، مگر غیرملکی مہمانوں سے ملتے وقت جھکنے کے ساتھ ساتھ مصافحہ بھی کیا جاتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ غیرملکی مہمان بھی ان کے سامنے جھکیں۔ وہ ملاقات کے اپنے آداب پر عمل کرسکتے ہیں مگر اس سلسلے میں بعض اوقات غیرملکی سربراہوں سے بھی مضحکہ خیز غلطیاں ہو جاتی ہیں اور اس حوالے سے شاہکار غلطی صدر اوباما نے کی۔ دورئہ جاپان کے دوران شہنشاہ اور ملکہ سے ملنے گئے تو مصافحہ کے ساتھ ہی تقریباً رکوع کی حالت میں چلے گئے اور شہنشاہ سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی، شاہی جوڑا اس صورتحال سے خاصا محظوظ ہوا تھا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا اوباما کی اس حرکت پر امریکہ میں بھی خاصی لے دے ہوئی تھی۔ مگر پروٹوکول کی یہ غلطی ٹوکیو کے شاہی محل میں اکثر ہوتی رہتی ہے۔ یوں جھک کر ملنے والی جاپانیوں کی یہ خوبصورت ادا ہر کسی کو بھاتی ہے۔ ہالی ووڈ سے لے کر بالی ووڈ اور لالی ووڈ کی فلموں میں اسے لائٹ سیچویشن پیدا کرنے اور فلم بینوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انسان تو رہے ایک طرف جاپان میں تو چڑیا گھروں کے جانوروں کو بھی یہ فن آتا ہے اور اس کےفراخ دلانہ مظاہرے بچوں بڑوں کا دل موہتے رہتے ہیں۔ ایسے میں شہنشاہ نے سفیر پاکستان کو جو عزت دی، وہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ ان کے کلچر اور پروٹوکول کے مطابق تھی اور اسےکوئی خصوصی اعزاز نہیں سمجھنا ، ٹاک شو کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی تھا کہ ایک معزز مہمان نے مذکورہ کالم نویس، تجزیہ کار اور بیورو کریٹ کو بری طرح جھڑک دیا۔ بولے، ایسے مت کرو، تم سرکار کے نوکر ہو، تمہیں شرم آنی چاہیے، جاپان جیسے مضبوط ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تباہ کر رہے ہو۔ جانتے ہو وہ پاکستان کا کتنا بڑا ڈونر ہے۔ ان کی بات بڑی حد تک دُرست تھی۔ مگر بات کرنے کا کوئی سلیقہ ہوتا ہے۔ اہل فکر و دانش کی اقلیم میں موصوف کا بھی کافی بڑا نام ہے۔ پچھلے دنوں برطانیہ میں بطور ہائی کمشنر تقرر کی بات بھی چلی تھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے لہجوں کی تلخی آخر کہاں تک جائے گی؟ ’’تم جھوٹے ہو، بددیانت ہو، جاہل ہو، تمہیں شرم آنی چاہئے‘‘ جیسے جملے ٹاک شوز میں اکثر سننے میں آ رہے ہیں۔ ہماری نسل تو جوں توں برداشت کرلے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ فشارخون بڑھ جائے گا یا نیند کی گولی کا سہارا لینا پڑے گا۔ مجھے خوف معصوم ذہنوں کا ہے کہ ہم انہیں کیا سکھا رہے ہیں۔ ان کی کیا تربیت کر رہے ہیں؟ کیا کوئی کسر رہ گئی ہے؟ کیا شکست و ریخت کی کوئی اور انتہا بھی ہے؟ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟