• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنی اسرائیل، احسان فراموش قوم: قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے حوالے سے ارشاد فرمایا، ’’اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو مَیں نے تم پر کیے تھے اور یہ کہ مَیں نے تمہیں تمام جہانوں میں فضیلت عطا کی تھی۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت 47)۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ بنی اسرائیل پر انعامات و احسانات کی وہ بارش کی، جو شاید ہی کسی اور قوم کو میسّر آئی ہو، لیکن اس احسان فراموش اور عہدشکن قوم نے حُکم عدولی، سرکشی، منافقت، اخلاقی گراوٹ، بدعہدی، ہٹ دھرمی، جاہلانہ عصبیت، جھوٹ، مکرو فریب، کُفرو بدعات کی وہ تاریخ رقم کی، جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

اپنے نسلی تفاخر اور انبیاء و سلاطین کی اولاد ہونے کے زُعم نے انہیں غرور و تکبّر اور اَناپرستی کی اس نہج پر پہنچا دیا کہ جہاں وہ خود کو دنیا کے افضل ترین لوگوں میں شمار کرکے جنّت کااصل حق دار سمجھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ارضِ کنعان کے بیابانوں سے اٹھاکر مصر کے سبزہ زاروں میں اس لیے آباد کیا تھا کہ یہ اللہ کے دین اور اپنے آباؤ اجداد کی تعلیم عام کرکے مصر کے قبطیوں کو دینِ ابراہیمیؑ کی جانب راغب کریں گے اور مصر بُت پرستی کی لعنت سے پاک ہوگا، لیکن اولادِ حضرت یعقوبؑ تو خود ہی امراضِ خبیثہ اور عاداتِ بد میں مبتلا ہوچکی تھی، جس نے اُن کے اخلاق و کردار کو مسخ کرکے نفس پرستی اور انانیت کی لعنت میں مبتلا کردیا ۔چناں چہ بجائے اس کے کہ یہ قبطیوں پر حکومت کرتے، خود قبطی اُن پر حکومت کرنے لگے اور پھر چار سو سال تک یہ قومِ فرعون کی غلامی میں رہے، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں آزادی دلائی۔

حضرت ابراہیمؑ کے دو عظیم صاحب زادے: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دو عظیم صالح صاحب زادے عطا فرمائے۔ بڑے حضرت اسماعیل علیہ السلام، جو حضرت حاجرہ علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے اور دوسرے حضرت اسحاق علیہ السلام، جن کی والدہ حضرت سارہ علیہا السلام تھیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یعقوب علیہ السلام تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ’’ہم نے انہیں (ابراہیم ؑ) کو حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسحاق ؑ کے بعد حضرت یعقوبؑ کی خُوش خبری دی۔‘‘ (سورئہ ہود، آیت 71) ایک اور جگہ فرمانِ الٰہی ہے۔ ترجمہ ’’اور ہم نے انہیں (حضرت ابراہیمؑ کو) حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوبؑ بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب مقرر کردی اور انھیں دنیا میں بھی اُن کا صلہ عطا کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت، آیت27 )۔

بنی اسرائیل کون ہیں؟:حضرت یعقوب علیہ السلام کانام، عبرانی زبان میں ’’اسرائیل‘‘ ہے۔ یہ دو الفاظ کا مرکّب ہے۔ ایک ’’اسراء‘‘ یعنی عبد اور دوسرا ’’ایل‘‘ یعنی اللہ۔ عربی میں اسرائیل کا ترجمہ ’’عبداللہ‘‘ کیا جاتا ہے۔ چناں چہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل ’’بنی اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ آپ کے دادا، حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی نبی، آپؑ کے والد، حضرت اسحاقؑ بھی نبی، آپ کے بیٹے، حضرت یوسف علیہ السلام بھی نبی ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بارہ بیٹے عطا فرمائے تھے۔ 

یوں بارہ مستقل قبیلے وجود میں آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اولادِ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل میں یہ برکت دی کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جب اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر گئے، تو اُن کے ساتھ خاندان کے93افراد تھے اور بنی اسرائیل کی اُس وقت کل تعداد یہی تھی، لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن اسرائیلیوں کو لے کر مصر سے نکلے، تو اُن کی تعداد چھے لاکھ ستّر ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ (قصص، مفتی محمد شفیع ؒ، درج ذیل صفحہ 334)۔ 

اولادِ یعقوب علیہ السلام میں دوسری برکت اللہ نے یہ عطا فرمائی کہ دس انبیاء کے علاوہ باقی سب انبیاء و رسل اُنؑ کی اولاد میں پیدا ہوئے۔ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی انبیاء حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح ؑ، حضرت شیثؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالح ؑ، حضرت لوط ؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاق ؑ، حضرت یعقوب، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بنی اسرائیل کے انبیاء کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پہنچ کر ختم ہوا۔ (معارف القرآن 353/1)۔

بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات

احسانات و انعامات کی یاد دہانی: سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’اے بنی اسرائیل! میری اُن نعمتوں کو یاد کرو جو مَیں نے تم پر بطورانعام کیں۔ اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے عہد کوپورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘ (البقرہ، آیت40)۔اس آیت ِمبارکہ میں اللہ جل شانہ، بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں اور احسانات یاد دلاکر فرما رہا ہے کہ تم نے مجھ سے جو عہد کیا تھا، اب اسے پورا کرنے کا وقت آ پہنچا ہے، تم میرا وہ عہد پورا کرو، جو تم سے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی بابت لیا گیا تھا، تو مَیں اپنا عہد پورا کروں گا اور تمہاری مغفرت کرکے تمہیں جنّت میں داخل کردوں گا۔

تمہیں وہ دیا، جو کسی اور کو نہیں: سورۃ المائدہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ’’اور یاد کرو موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا، ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کے اُس احسان کا ذکر کرو کہ اُس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا اور تمہیں وہ دیا، جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا۔‘‘ (آیت20)۔

تمہارے نبیوں کو بادشاہت سے نوازا: 10انبیاء کے علاوہ باقی سب انبیاء و رسل بنی اسرائیل ہی سے ہوئے ہیں۔ جن کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم کردیا گیا اور آخری پیغمبر بنی اسماعیل سے ہوئے۔ اسی طرح متعدد بادشاہ بھی بنی اسرائیل سے ہوئے اور بعض نبی بھی بادشاہ بنائے گئے، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ آگے انعامات اور معجرات کی جانب اشارہ ہے، جو صرف بنی اسرائیل کو دیے گئے، جیسے من و سلویٰ کا نزول۔ بادلوں کا سایہ، فرعون سے نجات وغیرہ۔

مشرق و مغرب کامالک بنادیا: سورئہ اعراف میں فرمانِ الٰہی ہے۔ ’’اور ہم نے اُن لوگوں کو جوکہ بالکل کم زور شمار کیے جاتے تھے، اس سرزمین کے پُورب و پچّھم کا مالک بنادیا۔ جس میں ہم نے برکت رکھی ہے اور بنی اسرائیل کے بارے میں اُن کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدئہ نیک پورا ہوا اور فرعون اور اُس کی قوم جو محل بناتے تھے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے، سب کو ہم نے تباہ کردیا۔‘‘ (آیت، 137)۔

اس میں ذکر ہے فرعون کا، جو بنی اسرائیل کو کم زور سمجھ کر اُنھیں غلام بناکر رکھتا اور اُن پر ظلم و ستم روا رکھتا تھا، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اسی مغلوب اور غلام قوم کو زمین کا وارث بنادیا۔ زمین سے مراد، شام کا علاقہ ،فلسطین ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے قومِ عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا اور فرعون کے کارخانے، ہتھیار، بلند و بالا عمارات، باغات اور اُن کے وہ چھّپر، جن پروہ انگوروں کی بیلیں چڑھاتے تھے، سب تباہ کردیے۔

فرعون کے ظلم و ستم، قید سے نجات:اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ’’اور وہ وقت یاد کرو، جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے بچایا، جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی جانب سے بڑی بھاری آزمائش تھی۔ (آیت141)۔

اس آیت میں اللہ ذوالجلال نے بنی اسرائیل کو اُن کی پچھلی حالت یاد دلائی ہے کہ جب فرعون اور اُس کی قوم کے ہاتھوں مجبور و مقہور تھے کہ ان کے لڑکوں کو قتل کردیا جاتا تھا، جب کہ ان کی لڑکیوں کو صرف اس لیے زندہ چھوڑ دیا جاتا کہ وہ اُن کی خدمت کریں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دُعا سے تمہیں اس عذاب سے نجات دلائی۔ کیا اس احسان کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ تم اُس ربّ کے ساتھ دنیا کے ذلیل ترین پتھروں کو شریک ٹھہراؤ۔

من و سلویٰ، پانی اور ابر کا سایہ یاد کرو: سورۃ الاعراف میں آگے فرمایا۔ ’’اور ہم نے انھیں بارہ خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کردی۔ جب اُن کی قوم نے اُن سے پانی مانگا، تو ہم نے موسیٰؑ کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو فلاں پتّھر پر مارو، پس فوراً اس سے بارہ چشمے پُھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنااپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے اُن پر ابر کا سایہ کیا۔ اُن پر من و سلویٰ اُتارتے رہے اور کہا کہ کھائو نفیس چیزوں کو، جو ہم نے تمہیں دی ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف، آیت 160)۔

اور تمہارے لیے دریا میں راستہ بنادیا: ’’اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا، تو تمہیں اس سے پار کردیا اور فرعون کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں غرق کردیا۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت 50) یہ قصّہ اُس وقت کا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر مصر سے لے کر نکلے۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور ہم نے موسیٰؑ کو حکم دیا کہ ہمارے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو۔ پھر اُن کے لیے دریا میں خشک راستہ بنادو۔ پھر تمہیں نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ ہی (غرق ہونے کا ڈر)، (سورئہ طہٰ، آیت77) حضرت موسیٰ علیہ السلام شروع رات میں قومِ یہود کو لے کر مصر سے دریائے قلزم (بحیرئہ احمر) کی طرف نکلے۔ اللہ کے حکم سے دریا پر لاٹھی ماری، تو بارہ راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل نے دریا عبور کرلیا، لیکن فرعون اور اُس کی قوم غرق ہوگئے۔

حضرت موسیؑ سے شکوہ شکایت: بنی اسرائیل مُلکِ شام کے رہائشی تھے اور وہی اُن کا وطن تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں یہ مصر آئے تھے۔ ایک طویل عرصے سے یہ اپنے ملک جانے کے خواہش مند تھے، لیکن فرعون نہ صرف اُنھیں جانے نہیں دیتا تھا، بلکہ چار سو سالوں سے یہ سب اُس کی قید میں غلامی کی زندگی بسر کررہے تھے۔ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت ملنے کے بعد جب اللہ کے حکم سے فرعون کے دربار میں آئے، تو آپؑ نے اُس سے دو باتیں کیں، ایک تو یہ کہ اسلام قبول کرلے اور دوسرے، بنی اسرائیل کو آزاد کردے۔ فرعون نے دونوں باتیں ماننے سے انکار کردیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصاء کے معجزے کے جواب میں جادوگری مقابلے کا اعلان کردیا، لیکن اس مقابلے میں اس کے تمام جادوگر شکست کھاگئے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس واقعے نے فرعون کو پاگل کردیا۔ اُس نے سب جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں شہید کردیا اور ایک بار پھر بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ 

اس سے قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت بھی اُس نے نومولود بچّوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا۔ اب جادوگروں کے واقعے کے بعد بنی اسرائیل پر ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کا نیا دَور تھا۔ بنی اسرائیل اس نئی افتاد سے سخت پریشان تھے۔ چناں چہ وہ اپنی شکایت لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے اور بولے۔ ’’اے موسیٰ ؑ! ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور بجائے اُن کے، تمہیں اس سرزمین کا خلیفہ بنادے گا۔ (سورۃ الاعراف، آیت 129)۔

اے موسیٰؑ ہم تو یقیناً پکڑلیے گئے: حضرت موسیٰ علیہ السلام، فرعون اور اُس کے درباریوں پر حجت قائم کرچکے تھے، لیکن غرور و تکبّر کے پیکر یہ لوگ ایمان لانے کو تیار نہ تھے، لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ انہیں رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنادیا جائے۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کولے کر یہاں سے نکل جائیں اور فرمایا کہ فرعون تمہارا پیچھا کرے گا، تو گھبرانا نہیں۔ صبح جب فرعون کو اس کی اطلاع ملی، تو وہ سخت غضب ناک ہوا اور ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ اُن کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا اور جلد ہی بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکرنے جب فرعون کی فوج کو دیکھا، تو گھبرا اٹھے، آگے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر۔ اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب دوبارہ پھر فرعون اور اس کی قوم کی غلامی ہوگی۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’پس، جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں نے کہا، ’’اے حضرت موسیٰؑ! ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے۔‘‘ حضرت موسیٰؑ نے کہا، ’’ہرگز نہیں، یقین مانو، میرا ربّ میرے ساتھ ہے۔ جو ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔‘‘ ہم نے موسیٰؑ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی لاٹھی مارو۔ پس، اسی وقت دریا پھٹ گیا اور پانی کا ایک حصّہ مثلِ وسیع پہاڑ کے ہوگیا اور حضرت موسیٰؑ اور اُن کے ساتھیوں کو نجات دے دی اور سب دوسروں کو ڈبو دیا۔‘‘ (سورۃ الشعراء، آیات 61-66)۔ (جاری ہے)