آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کسی پیر کے مرید آپس میں پیر بھائی ہوتے ہیں اور ایک ساتھ بیٹھ کے بھنگ پینے والے خود کو ’’پین بھائی‘‘ کہتے ہیں، میری اور جناب احمد ظہور کی ایک قدر بھی مشترک ہے، ایک شوق سانجھا ہے مگر اس رشتے کا نام نہیں مل رہا۔
ہمارے بچپن میں مومی نہیں کاغذی لفافے ہوا کرتے تھے، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی پرانی کاپیوں کے لفافے۔ میں بچپن میں اکثر گنڈیریاں کھایا کرتا تھا پھر گنڈیریوں کے ان لفافوں کو پھاڑ کے پڑھا کرتا یعنی میری مطالعاتی اساس گنڈیری لفافہ ہے۔
جناب احمد ظہور کے مطالعے کی بنیاد بھی گھر میں سودا سلف کے ساتھ آنے والے اسی قسم کے لفافے ہی ہیں گویا ہم دونوں لفافہ بھائی ہوئے مگر لفافہ چونکہ ہمارے ہاں محکمہ مال کے پٹواریوں کی طرح اچھی شہرت نہیں رکھتا اس لئے ہم یہ معاملہ پروفیسر ڈاکٹر نثار ترابی صاحب کے حوالے کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مشترکہ رشتے کو کوئی خوبصورت سا نام دیں کیونکہ انہوں نے کئی شعرائے کرام کے مجموعہ ٔ کلام کے نام بھی رکھے ہیں۔
ممتاز قلمکار کرنل محمد خان نے کہا تھا کہ نقادوں پر خدا کی پھٹکار ہوتی ہے۔ اللہ کا بڑا کرم کہ ہم نقاد نہیں ہیں، کسی نقاد نے چار پانچ مرتبہ ایک کتاب کو پڑھا، پھر پڑھنے لگا تو اس کے دوست نے کہا کہ اس کتاب میں آخر ایسا کیا ہے جو تم بار بار پڑھتے ہو، تو نقاد بولا کہ میں اس

میں غلطیاں تلاش کررہا ہوں مگر کوئی مل نہیں رہی، خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں انسانوں کی بنائی ہوئی یا لکھی ہوئی چیزوں میں غلطیاں تو ہوتی ہی ہیں، احمد ظہور صاحب کے اس مجموعۂ کلام میں بھی ہوں گی 1973ء کے آئین کو ہی دیکھ لیں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے کے باوجود اس میں غلطیاں ہیں اسی لئے تو ہر کس و ناکس اپنی پسند کی ترمیم کرکے اسے درست کرتا رہتا ہے۔ میں نے احمد ظہور صاحب کے اس مجموعہ کلام ’’وہ کھڑکی اب بھی کھلتی ہے‘‘ کو کئی بار پڑھا بلکہ بار بار پڑھا سچی بات ہے مجھے تو اس میں بہت کچھ ملا ہے۔ اس میں حکومت، سیاست، صحافت اور امامت ان کے نشانے پر ہے۔ مادر پدر آزادی سے وہ نالاں ہیں، آئی ایم ایف سے بیزار اور تخریب کاری سے چنداں بے بس، ان کے کلام میں وقفے وقفے سے اس قسم کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ،
اک تبسم کے عوض جان بھی حاضر ہے مگر
اتنا ارزاں بھی نہیں ہوں کہ خریدو مجھ کو
احمد ظہور صاحب مشاورت بہت کرتے ہیں اور یہ بہت ہی اچھی بات ہے، جنرل ضیاء الحق بھی بہت زیادہ مشاورت کیا کرتے تھے بلکہ ہر کسی سے مشورہ کرنا ان کی عادت تھی، حتیٰ کہ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے انہوں نے باقاعدہ مجلس شوریٰ تک بناڈالی تھی، مگر کرتے وہ اپنی مرضی ہی تھے جبکہ احمد ظہور صاحب مشاورت کو بڑی وسیع القلبی سے قبول کرتے ہیں۔ احمد ظہور کی شاعری کا محور محبت ہے، انتظار ہے، و چھوڑا ہے، البتہ وہ سیاسی بات بھی بڑے سلیقے سے کرنے کا ہنر جانتے ہیں
تعین سمت کا کرنا ہے باقی
سفر تو میں مسلسل کررہا ہوں
واقعی جس روز ہم نے اپنی سمت کا تعین کرلیا اس روز ہمارا قبلہ درست ہوجائے گا، پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب کا کہنا ہے کہ احمد ظہور اپنے دور کا گوتم بدھ ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ جناب احمد ظہور برگد کا وہ درخت ہے کہ جس کے سائے تلے کئی سدھارتھ گوتم بیٹھتے چلے آرہے ہیں۔
پھر ہرے ہونے لگے سوکھے شجر کہنا اُسے
آ بھی جا تو اے بہار منتظر کہنا اُسے
احمد ظہور صاحب چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں بڑی بڑی باتیں کرجاتے ہیں، یہ طنز نہیں تبلیغ کا اچھوتا انداز ہے۔ مثلاً
یوں تو بہت ہے ملک میں دولت کی ریل پیل
لیکن کسی کے رزق میں برکت نہیں رہی
احمد ظہور صاحب نے میاں بیوی کے مکالمے کی صورت میں بھی ایک قطعہ عطا فرمایا ہے کہ
پردہ کیا کریں جو پڑے نہ بری نظر
شوہر نے ایک روز جو بیوی سے یہ کہا
بولی کہ دیکھتے ہیں سبھی آپ کی طرح
گر یہ بری نظر ہے تو اچھی نظر ہے کیا
اس سلسلے میں ہمیں اپنے ایک سسرالی عزیز عابد قریشی یاد آگئے کراچی میں ہوتے ہیں اور تبلیغی جماعت میں ہیں ایک دن وہ ٹی وی پر بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کا آئٹم سانگ پوری توجہ اور انہماک سے دیکھتے رہے اور آخر میں فتویٰ دیا کہ یہ حرام ہے لہٰذا شوہر کے سوا باقی تمام نامحرم نظریں قطعاً ممنوع اور مطلقاً حرام ہیں۔ وہ کھڑکی اب بھی کھلتی ہے بہت ہی دلآویز اور منفرد نام ہے، دراصل یہ کھڑکی ہر کسی کی زندگی میں کھلتی ضرور ہے مگر سارے ہمارے طرح کے مرزا نہیں ہوتے جن کی جوانیاں بھی بڑھاپے میں گزر جاتی ہیں کچھ مرزا جٹ بھی ہوتے ہیں، احمد ظہور صاحب پر جو کھڑکی کھلی تھی وہ اب بھی کھلتی ہے مگر صرف تازہ ہوا اور روشنی کے لئے، اور جو ہستی اس کھڑکی کو کھولا کرتی تھی اسے ظہور صاحب نے اپنے بچوں کی پرورش پر لگادیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے محور سے ہٹے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ
گلی کے موڑ پر
اکثر کھڑے رہنا
تمہاری راہ تکنا
ایک عادت سی بن گئی تھی
پھر اس کھڑکی کا کھلنا
محبت کی ضرورت بن گئی تھی
سحر سے شام کرتے تھے
وہ کھڑکی اب بھی کھلتی ہے
مگر واں تم نہیں ہوتیں
یہاں میں بھی نہیں ہوتا
وہ کھڑکی اب بھی کھلتی ہے
وہ کھڑکی اب بھی کھلتی ہے
(نوٹ:۔نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد میں تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں