وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے زیرِ پرستی بہترین کام ہوا ہے، ملک میں معاشی استحکام چاہتے ہیں تو پرائیوٹائزیشن کی طرف جانا ہو گا۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے بارے میں بات کرنی چاہیے کہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں، پچھلے 9 سے 10 ماہ گزرنے کے بعد ہمارے پاس ایک فیز آ گیا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج جو تجاویز آئی ہیں میں ان سے متعلق بہت کلیئر ہوں، تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ چلیں گے، جو تاجر بھائی ٹیکس نیٹ کے باہر ہیں وہ خود ٹیکس نیٹ پر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی سہولت دیں گے، ٹیکس نیٹ سے پیچھےنہیں ہٹیں گے، سہولتیں مہیا کریں گے، مذاکرات کریں گے لیکن ٹریک سے پیچھے نہیں جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج کی کانفرنس میں بہترین تجاویز پیش کی گئیں، گزشتہ مالی سال میں خسارہ ایک ملین ڈالر سے کم ہوا ہے، کرنسی اس وقت مستحکم ہے، پہلی بار فارن بائنگ ہوئی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ نگراں حکومت کے دور کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، جو اصلاحات لانی ہیں اس پر تجاویز نوٹ کر لی ہیں، ٹیکس، جی ڈی پی اور انرجی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کہیں سے تو شروع کرنا ہو گا، اگر شروع نہیں کریں گے تو ختم کیسے کریں گے، پرائیوٹ سیکٹر کے لوگوں کو بھی آن بورڈ لیا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نج کاری سے متعلق اسحاق ڈار نے بھی میٹنگ چیئر کی ہے، ہم سب لوگ ایک پیج پر ہیں، بین الاقوامی ہی نہیں قومی سرمایہ داروں کو بھی آن بورڈ لیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو مشکل سے نکالنا ہے تو نجی شعبے کو آگے آنا ہو گا، حکومت کا کام گورننس کو بہتر بنانا ہے، پاکستان میں 8 سے10 ٹریلین کیش اس وقت مارکیٹ میں گھوم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل میں ہم نے ٹیکس رجسٹریشن کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا، لوگ سمجھتے ہیں وہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے تو انہیں بلاوجہ ہراساں کیا جائے گا، ہم ہر طرح کی سہولت فراہم کریں گے، ٹیکس نیٹ میں لانے کی مہم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتوں کو توانائی کا یکساں ٹیرف دینا ایک جائز مطالبہ ہے، صنعتیں 25 سے 26 فیصد شرح سود پر کام نہیں کرسکتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مکمل ڈیجٹلائزیشن کی طرف جا رہے ہیں، محصولات بڑھیں گی اور شفافیت بھی آئے گی، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مکمل فیل ہوا ہے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1 بلین ڈالرز سے کم ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی آ رہی ہے، اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، شہباز شریف حکومت اور نگراں حکومت نے 9 ماہ کے معاہدے کو اچھی طرح نبھایا، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آ چکی ہے یہ پروگرام بہت زیادہ اہم اور لمبا ہو گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے بجلی کی چوری کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز تبدیل کر رہے ہیں، نجی شعبہ بھی شامل کریں گے۔