آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
لاڑکانہ میں1948میں ہندو مسلم کشیدگی ہوئی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لاڑکانہ کے ہندو بھارت نقل وطنی کر گئے ۔ لیکن اسی لاڑکانہ میں بائيں بازو سے تعلق رکھنے والے سوبھو گیان چندانی نے جیل تو قبول کی لیکن اپنا وطن پاکستان چھوڑنے سے انکار کردیا۔ کئی سال ہوئے کہ سوبھو کا بیٹا اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھارت گیا تھا اور اسے کچھ دن اپنے بھارتی ویزے میں توسیع کی ضرورت پڑ گئی تھی تو بات بھارتی لوک سبھا تک جا پہنچی تھی جہاں حکمران جماعت شاید کانگریس کے کسی اہم رکن نے کہا تھا سوبھو گیان چاندانی کے بیٹے کے ویزے میں توسیع کیونکر کی جائے کہ اس کے والد نے تو پاکستان کی حمایت کی تھی۔ لیکن ادھر تمام عمر سوبھو کی پاکستان سے وفاداری مشکو ک سمجھ کر اسے کئی برس قید میں رکھا گیا۔ سوبھو ’’گیان چندانی بنام ریاست پاکستان‘‘ کا مشہور مقدمہ پاکستان کی قانونی کتابوں یعنی پاکستان لیگل ڈسیشنس (پی ایل ڈیز) میں بھی شامل ہے۔ سوبھو گیان چندانی کو کسی انتظامیہ یا پولیس کے افسر نے کہا تھا کہ’’ تم پر نظر رکھنے اور تمھیں نظربند رکھنے کے احکامات ہیں کیونکہ تم ایک تو سندھی ہو، دوئم ہندو ہو اور تیسرےکمیونسٹ ہو‘‘۔ لیکن سوبھو اور سوبھوکا خاندان سندھ کی مٹی اور سرزمین سے’’جینا یہاں مرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں‘‘ کے مصداق اپنے وچن پر

قائم رہا۔ شاید یہی وچن سندھ سے نقل وطن نہ کرنے والے باقی ہندوئوں کا بھی رہا ہے۔ جیسےسندھ کے عظیم صوفی اور شاعر شاہ لطیف بھٹائی نے ماروی کے روپ میں کہا ہے کہ ’’میرا تو اپنے لوگوں سے رشتہ ’الست ُبربکم ‘ کانوں پڑنے کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا‘‘۔ سندھ کے ہندو جاتےبھی توکہاںجاتے۔انکےمندر،درگاہیں، جھوک، سچل ا، نانک، اڈیرو لال، جھولے لال یا شہباز قلندر، سادھو بیلو، شدھانی دربار، نانی ، رہڑکی ڈھرکی، کنوربھگت، ،ہنگلاج،پنجہ صاحب،بھٹائی سب یہاں تھے۔ وہ ہندو چاہے مسلم بزرگوں اور صوفیوں پر ایک سا اعتقاد رکھتے ہیں۔ سچل سرمست کی درگاہ کے احاطے میں ان کے ہندو مریدوں کی قبریں ہیں جن پر مقدس دعائوں سے مرقم و مزین چادریں ہیں۔ وہاں انکے ایک محبوب مرید کا نام مادھول لال حسین کی طرح یوسف نانک تھا۔تو تم سے میں یہ کہہ رہا تھا کہ بنگال کے عظیم شاعر یا مہا کوی رویندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نکیتن سے پڑھنے والے سوبھو گیان چندانی اگر تقسیم کے وقت بھارت نقل وطنی کر گئے ہوتے تو وہ بھارت کے صدر ہوتے کیونکہ سیاست میں بھارت میں صدر بننے والے صدر وی وی گری انکے جونئیرتھے اور بھارت کے سابق وزیر اعظم اندر کمال گجرال تو کراچي میں ان کی سیاست والے دنوں میں انکے ہم عصر اور قریبی ساتھی رہے تھے۔انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات میں سوبھو گيانچندانی اقلیتوں کی قومی اسمبلی کی نشست کیلئے انتخابات لڑے تھے۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیاب قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں ان کے مقابلے میںکروڑپتی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار بھگوان داس کو کامیاب قرار دیا گیا۔ سوبھو کے بہت سے بہی خواہ سمجھتے ہيں کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں سوبھو جیسے لوگوں کے ملک کی اصلی تے وڈی اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے سوبھو کو ہروایا گیا تھا۔ وہی بات کہ پیارے پاکستان میں منزل انہیں مل ملی جو شریک سفر نہ تھے۔تقسیم کے بعد بابری مسجد کے واقعے کے ردعمل میں پہلی بار کشمور تا کراچی سندھ کے ہندوئوں کے مندروں ، املاک اور جانوں پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے۔ جس کے نتیجے میں خاموشی سے ہندوئوں کی نقل وطنی مستقل بنیاد پر آج تک جاری ہے۔ تھر جہاںگویا تقسیم ہوئی ہی نہیں تھی وہاں بھی ہندوئوں پر حملے ہوئے۔ ان دنوں ایم این اے بھگوان داس کی سربراہی میں ہندو پنچایت کا ایک وفد سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو سے ملا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے آف دی ریکارڈ اس وفد سے اتفاق کیا تھا کہ ہندوئوں کی جان مال او رعزتوں پرحملوں او ر اس پربے یارو مددگاری میںبہترہےکہ وہ بھارت نقل مکانی کرجائیں۔‘‘
فطری طور پر وہ ہندو سندھ اور ملک میں رہنے پر دو بار سوچے گا جب سندھ میں زبردستی تبدیلی مذہب کے سرپرست کی تصاویر پنو عاقل گيریزن میں نشانے بازی کے مقابلے میں افسروں کے شانہ بشانہ حصہ لینے کی دیکھے گا۔ایک تصویر لاکھوں کی تعداد میں وہ بھی بکی تھی جس میں ایک بہت بڑی لیڈر لاڑکانہ کے ایک کرسی پر براجمان پیر کے پائوں کے پاس فرش پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔ یہ انکی انتخابی مہم کے دنوں کی تصویر تھی۔ مبینہ طورپر اسی پیر کے مرید اب پچھلے دنوں اسی لاڑکانہ میں ہولی والی رات ہندوئوں کے مندر ، دھرم شالہ اور املاک پر حملوں میں پیش پیش تھے۔ اس رات کے واقعات کو ایک سندھی صحافی نے بےنظیر بھٹو کے قتل والی شام سے ماحول سے تعبیر کیا۔ شہرکےایک ہندو نوجوان سنگیت کمار کوجس کی طرف سے شیخ برادری کے ایک شخص کی طرف آٹھ لاکھ روپے واجب الادا تھے کو ملوث کر کے ہندوئوں پر حملےکیے گئے۔ بمشکل پولیس نے پولیس وردی پہنا کر الزام میں آئے ہوئے نوجوان کو اپنی تحویل میں منتقل کیا۔ لیکن یہ بات اب بھی سوال طلب ہے کہ رینجرز اور پولیس کی موجودگی میں چھ بجے شام تک الزام تلے آئے ہوئے نوجوان کو تحویل میں لینے اور کشیدگی کے باوجود دس بجے شب ہونےوالے حملوں کو روکنے میں رینجرز یا پولیس کیسے ناکام ہوئی؟ شہریوں کی انگلیاں ضلع کے پولیس ایس ایس پی کی طرف اٹھتی ہیں۔ وہ شب لاڑکانہ پر قیامت کی طرح گزری۔غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہوا۔ لیکن مندر، دھرم شالہ اور ہندؤں کی املاک جلتی لٹتی رہیں ۔ سندھی قوم پرست سندھی ہندوئوں کی مدد ودلجوئی کو پہنچ پائے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں تاریخی طور بقول صحافی نثا رکھوکھر نیم صدی قبل ریجھو مل ـچوک کو العباس چوک بنایا گیا تھا۔ مقصد ہنددوئؤں کی املاک پر قبضہ کرنا تھا۔ بھائی لوگوں نے اس ہندو مخیر ڈاکٹر کا مجسمہ بھی توڑ ڈالا جس نے پلیگ یا طاعون کے دنوں میں سندھ میں اسی وبا کے شکار لوگوں کی خدمت میں دن رات ایک کردیا تھا۔ مجسمہ کیا حالیہ لاڑکانہ واقعے سے قبل ہندو ڈاکٹر پرتاب رائے کی کلینک پر حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا گیا لیکن پولیس اب تک اس کے جوابدار ڈھونڈہ نکالنے میں ناکام تھی کہ ہندوئوں پر شب خون ہوا اور وہ اس کو نہ روک سکی۔ مجھے انیس سو بہتر کے لسانی فسادات یاد آئے جب اسی لاڑکانہ مین اردو بولنے والوں کی جان و املاک پر حملے کیے گئے تھے اور کئی اردو بولنے والے خاندان نقل مکانی کر گئے۔ کنیڈی مارکیٹ ۔ مجھ سے آج بھی تب کے لاڑکانہ سے نکلے ہوئے اب ریٹائرڈ نیوی کمانڈ ر اور تعلیمدان نجیب انجم ہمیشہ بالائی سندھ کی ٹیھٹھ اترادی سندھی میں بات کرتے ہیں۔ شہر کے پرانے دانشور سندھی قوم پرست سیاسی کارکن استاد خالد کا خدشہ ہے کہ قرائن بتاتے ہیں کہ پچاس فی صد ہندو لاڑکانہ سے نقل مکانی کر جائيں گے۔ وہ صرف شہر کے حالات معمول پر ہونے کے انتظار میں ہیں۔ ٹوئیٹر شہزادے پی پی پی کرائون پرنس بلاول بھٹو نے بڑھکیں ماریں کہ لاڑکانہ کے ہندوئوں پر حملے گڑہی خدا بخش پر حملے ہیں۔ جب ایک بڑی لیڈر کو اس پیر کے قدموں میں بیٹھے دیکھا گیا تھا تب ہی میں نے سوچا تھا کہ وہ اس لیڈرکے کتنے قریب پہنچ چکے ہیں۔لیکن سوبھو نے اب اپنے خاندان والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں کیونکہ انہیں اب سندھ و ملک کے حالات سدھرتے دور تک دکھائی نہیں دیتے۔