• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وہ خوش لباس بھی، خوش دل بھی، خوش ادا بھی ہے ...

تحریر: نرجس ملک

ماڈلز: مدثر زمان، امجد

ملبوسات: Gallant by Aslam

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

’’مَردوں کی زندگی آسان ہونے کی چند وجوہ‘‘ کے عنوان سے ایک چُٹکلا کہیں پڑھا کہ ’’اُن کا لاسٹ نیم ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔ ہفتے کے چھے دن جاب کے لیے ایک جینز کافی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اپنے دوست کو کسی تقریب میں مدعو کرنابھول جائے، تو پھر بھی دونوں دوست ہی رہتے ہیں۔ چار سے پانچ سال کے لیے ایک ہی ہیئراسٹائل کافی ہوتا ہے۔ پچیس منٹ میں، پچیس رشتے داروں کے لیے شاپنگ کرلیتے ہیں۔

 کسی کو رخصت کرتے ہوئے دروازے پر آدھا گھنٹہ نہیں ٹھہرتےبلکہ’’یار! اب جان چھوڑ بھی دے‘‘ کہتے ہوئے اُلٹے پیروں پلٹ آتے ہیں۔ فون پربات کرتےسمے آخری تیس سیکنڈ بلاوجہ جذباتی نہیں ہوتے۔ اُنہیں ہر وقت اپنے کاندھوں پر کسی بیگ، شال یا چہرے پر میک اَپ کی تہوں کا بوجھ اُٹھائے اُٹھائے نہیں پِھرنا پڑتا اور نہ ہی بار بار شیشہ دیکھنے کی فکر ہوتی ہے کہ کاجل، مسکارا، لِپ کلر تو نہیں پھیل گیا (جیسا کہ ایک تحقیق کےمطابق ایک عام عورت ایک دن میں اوسطاً آٹھ سے دس بارلازماً آئینہ دیکھتی ہے)۔ کسی کےعشق میں مبتلا ہوکر بھی اپنے کھانے پینے اور نیند پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے۔ 

ہر بات کہہ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ’’دل کا حال کوئی آنکھوں سے پڑھ لے‘‘ جیسی جذباتیت پر قطعاً وقت برباد نہیں کرتے۔ اور…اُن کا بے ڈھنگا پن ہی اُن کا ڈھنگ، بے ترتیبی ہی ترتیب، بدنظمی ہی نظم، بدتہذیبی ہی تہذیب اور لاپروائی ہی دراصل اُن کی پروا ہے۔‘‘ بےشک، مستثنیات کی گنجائش تو ہر جگہ رہتی ہے،لیکن عموماً ایسی آراء اکثریتی رویّوں، طرزِعمل ہی کی بنیاد پر قائم کی جاتی ہیں اور پھر اگر ذاتی مشاہدات وتجربات کی روشنی میں بھی پرکھیں، تو بیش تر باتیں سو فی صد درست ہی معلوم ہو رہی ہیں، خصوصاً زیبائش و آرائش کے ضمن میں تو واقعتاً مَردوں کی زندگی، خواتین کی نسبت کہیں سہل و آسان ہے۔ جیسا کہ اُن کی زیبائی (ڈریسنگ اسٹائل/سینس وغیرہ) سے متعلق کئی دل چسپ اقوال بھی ہیں۔ مثلاً:

’’جب ایک مرد ٹائی باندھنا سیکھ لے، تو سمجھ لیں کہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھ چُکا ہے۔‘‘ (حالاں کہ کچھ مَردوں کو ساری زندگی ٹائی کی ڈبل ناٹ لگانی نہیں آتی۔)، ’’لباس انسان کی مکمل شخصیت نہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بےشمار مَردوں کی اچھی ملازمت اُن کے اچھے لباس ہی کے مرہونِ منّت ہے۔‘‘، ’’خواتین عموماً رَف اینڈ ٹف مَردوں ہی کو پسند کرتی ہیں کہ نک سک سے تیار، بنے ٹھنے مَردوں میں اُنہیں مردانگی سے زیادہ نسوانیت محسوس ہوتی ہے۔‘‘، ’’مَردوں کو چاہیے کہ وہ نئے ملبوسات کو بھی کسی حد تک میلا کرکے استعمال کریں کہ نوخیزی، تازگی و شگفتگی خواتین ہی پر جچتی ہے۔‘‘، ’’ایک مرد کے لیے فیشن، اسٹائل سے کہیں زیادہ اُس کی انفرادیت اہم ہونی چاہیے۔‘‘، ’’اگر کسی مرد کی نفاست جانچنی ہو، تو اُس کے شُوز کی چمک یا گرد سے بہتر پیمانہ کوئی نہیں۔‘‘، ’’ایک گنجا شخص بھی محض اپنی خوش پوشاکی، جامہ زیبی سے پوری محفل لُوٹ سکتا ہے۔‘‘، ’’اگر ایک مرد کا پہناوا اُس کی پرسنالٹی پرغالب آجائے، تو اِس کا مطلب ہے کہ اُس کا انتخاب قطعاً درست نہیں۔‘‘، ’’کسی برانڈ کا تعارف درحقیقت اُس کی ناکامی ہے۔ 

اگر کسی مرد کو اپنے لباس کی خُوبیاں اجاگر کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے، تو اس کا مطلب ہے، اُس میں کوئی خُوبی ہی نہیں۔‘‘، ’’آپ محفل میں داخل ہوں اور لوگ مُڑ کر نہ دیکھیں، تو آپ کو یقیناً اپنا ڈریسنگ سینس امپروو کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘، ’’اگر ایک مرد کےبال اور دانت خُوب صُورت ہیں، تو پھر اُسے کسی چیز کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔‘‘، ’’ایک خوش پوش مرد ہمیشہ اچھا انسان بھی ہوتا ہے، کیوں کہ اُسےکم ازکم اپنی عزتِ نفس، خُود نمائی کا احساس تو ہوتا ہے۔‘‘ جب کہ اِسی ’’فیشن نگری‘‘ سے متعلق برنارڈشا نہ کہا تھا کہ ’’فیشن کسی وبا کو تحریک یا ترغیب دینے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘، تو آسکروائلڈ کا کہنا ہے کہ ’’فیشن دراصل بدصُورتی کی ایک شکل ہے، تب ہی تو ہر چھے ماہ بعد اِسے بدلنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔‘‘ 

اِسی ضمن میں معروف فیشن ڈیزائنر، ٹام فورڈکا قول ہے کہ ’’اچھی ڈریسنگ، دراصل اچھے اخلاق کی ایک شکل ہے۔ میرے خیال میں تو ہر شخص کے پاس اُس کا اپنا ایک محدّب عدسہ ہونا چاہیے، اُس میں اگر وہ اچھا نظر آئے تو پھر یقین کرلے، وہ کہیں بھی جانے کےلیےتیارہے۔‘‘ اِسی طرح ایک فیشن جرنلسٹ، جی بروس بیئر کا ماننا ہے کہ ’’یہ سوچنا کہ لباس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انتہائی احمقانہ اور فضول خیال ہے۔ 

لباس تو درحقیقت ہمارا وہ آئینہ ہے، جس سے ہم اکثر گفتگو بھی کرتے ہیں۔‘‘ اور معروف فرینچ برانڈ Pierre Cardin کے بانی کی سوچ تو یک سر جداگانہ تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’مَیں صرف تین آئوٹ فِٹس کے ساتھ پوری دنیا گھوم سکتا ہوں۔ ایک میرا بلیو بلیزر، ایک میری فلانیل (ہمارے یہاں اِس فیبرک کو فلالین کہا جاتا ہے) کی سُرمئی پینٹ، میرا سرمئی سُوٹ اور میری سیاہ ٹائی۔‘‘

چوں کہ ہمارا 99 فی صد فوکس خواتین کے ’’رنگ و انداز‘‘ ہی پر رہتا ہے، تو لامحالہ ہر ہفتے ساری گفتگو بھی اُن ہی سے متعلقہ ہوتی ہے۔ آج بزم کچھ ہٹ کے ہے، تو باتیں بھی آپ کو خاصی مختلف سی لگ رہی ہوں گی اور لگنی بھی چاہئیں کہ مرد و عوت (میاں، بیوی) ایک دوسرے کا لباس سہی، لیکن ہیں ایک دوسرے سے یک سر مختلف۔ تو ذرا دیکھیے، آج ہماری اس یک سر جداگانہ سی بزم میں کیا کچھ ہے۔ چند بےحد اسٹائلش، دیدہ زیب، خوش رنگ شلوار قمیص سُوٹس ہیں، تو ساتھ کس حد تک جدّت و ندرت لیےکچھ خُوب صُورت ویسٹ کوٹس بھی، جو نہ صرف پہناووں کو بہت کمپلیمنٹ کر رہے ہیں، بلکہ ملبوس (ماڈلز) کی شخصیات کو بھی چارچاند لگا رہے ہیں۔ 

اِن کے ایک اندازمیں ڈارک گرے شیڈ کالراسٹائل قمیص کے ساتھ بنانا رنگ کُرتا طرز سُوٹ کا کامبی نیشن ہے، تو دونوں کی سیاہ رنگ شلوار قمیصوں کے ساتھ کنٹراسٹ میں پرنٹڈ ویسٹ کوٹ بھی خُوب جچ رہے ہیں۔ اِسی طرح ایک ماڈل کے سفید ایمبرائڈرڈ لباس کے ساتھ دوسرے ماڈل کے مکمل سیاہ لباس پر سیاہ رنگ ہی کا ویسٹ کوٹ خوب لگّا کھا رہا ہے، توڈارک منہدی شیڈ کے قمیص شلوار اور ڈارک سی گرین شلوار قمیص کے بھی کیا ہی کہنے اور وائٹ اور آف وائٹ کی تو پھر کلاس ہی الگ ہے۔ یہ رنگ تو شاید بنے ہی مَردوں کے لیے ہیں۔

مَردوں کے اندازِ زیبائی پردنیا نے کیا کچھ نہیں کہا۔ بہت کچھ تو آج ہم نے آپ کے گوش گزار بھی کیا، مگر سچ تو یہ ہے کہ کوئی لاکھ کہتا رہے، مگر قلب و نظر کو ہمیشہ کوئی صاف ستھرا، بنا سنورا ہی بھلا لگتا ہے۔ اُجلا، کسی نہ کسی طور میلے پر حاوی ہو ہی جاتا ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ حُسن ہر رنگ میں مخصوص کشش رکھتا ہے… وہ تبسم کی ادا ہو کہ ستم کوشی ہو… جاذبیت تو بہ ہر حال ہوا کرتی ہے… حُسن کی بوقلمونی ہو کہ خُوش پوشی ہو۔ اور بقول ندا فاضلی ؎ وہ خُوش لباس بھی، خُوش دل بھی ، خُوش ادا بھی ہے…مگر وہ ایک ہے کیوں، اُس سے یہ گلہ بھی ہے۔ (ویسےآج ہماری بزم میں ایک نہیں، دو دو ماڈلز ہیں)۔