آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
13ستمبر 1977ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں اس لحاظ سے ناقابل فراموش ہے کہ اس روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس کے ایم صمدانی نے وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ضمانت منظور کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جناب بھٹو‘ رانا شوکت محمود کی معیت میں لاہور ہائیکورٹ سے نواب صادق حسین قریشی کی رہائش گاہ آئے تو وہاں پارٹی کارکن اور ملکی و غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی پہنچ گئے۔ مساوات کے ایڈیٹر سید بدرالدین اور میں بھی بھٹو صاحب سے ملاقات کے لئے وہاں پہنچ چکے تھے۔ بھٹو صاحب نے مجھے دیکھ کر انگریزی میں کہا، کیسے ہو ریاض؟ میں نے جواب دیا ’’میری خوش قسمتی ہے کہ آپ سے ملاقات ہوئی‘‘۔ کچھ دیر بعد انہوں نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور اس کے بعد جناب بدرالدین اور مجھ سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ سید بدرالدین کو ایک اعلیٰ فوجی افسر نے مساوات کے دفتر آکر یہ پیغام دیاتھا کہ ’’بھٹو صاحب کا دور ختم ہوگیا‘ آپ احتیاط کریں‘‘۔ یہی بات میرے ایک بہت قریبی دوست نے لاہور کے انٹرکان ہوٹل میں بلا کر کہی تھی کہ ’’آپ بھٹو صاحب کو بھول جائیں اور مساوات میں ان کے حق میں مضامین کے بجائے ان کے خلاف مضمون لکھیں‘‘۔ ان سے یہ سن کر بدمزگی بھی ہوئی۔ میرے یہ دوست اے آر شیفتہ تھے۔ جناب شیفتہ جنرل ضیاء کے قریب ترین دوست

تھے۔ مارشل لاء کے ان ایام میں ان کا پاکستان میں طوطی بول رہا تھا۔ بڑے بڑے لوگ ان سے ملاقات کے لئے حاضری دیتے تھے۔اے آر شیفتہ کے کزن ڈاکٹر ظفر الطاف سابق وفاقی سیکرٹری ان دنوں ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز تھے اور وہ میرے لئے بڑے مددگار ثابت ہوئے۔ یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ اگست کے آخری ہفتے میں اے آر شیفتہ کراچی انٹرکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ اتفاق سے میں بھی کراچی میں تھا۔ ان کے بلانے پر میں وہاں ان سے ملا اور انہوں نے یہ خوفناک اطلاع دی کہ بھٹو صاحب کو احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وہ فائلیں دیکھی ہیں جن پر بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری کے بارے میں اپنے ہاتھ سے لکھا ہے Eliminate him, dispose him off, liquidate himیہ سن کر میں نے پوچھا کہ انہیں کب گرفتار کیاجارہا ہے۔ مسٹر شیفتہ نے جواب دیا ’’بہت جلد‘‘۔ چنانچہ چند دن بعد 3ستمبر 1977ء کو جناب بھٹو کو 70کلفٹن سے گرفتار کرلیا گیا۔ 13ستمبر کی اہم ملاقات میں‘ میں نے اے آر شیفتہ کی اس بات کا بھٹو صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے واقف ہوں وہ ضیاء کا قریبی دوست ہے اور جنرل ضیاء نے اسے آرمی کے کئی ٹھیکے دیئے ہیں۔ بھٹو صاحب نے اپنی تحریر کے حوالے سے کہا کہ ’’یہ ایک گھنائونا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ میرے خلاف کیا جارہا ہے۔ میں ایک قانون دان ہوں‘ کس طرح ایک وزیراعظم کسی فائل پر اس طرح کے گمراہ کن احکامات دے سکتا ہے۔ پھر احمد رضا قصوری کی حیثیت کیا ہے کہ میں اسے قتل کرنے کے اس طرح آرڈر دوں‘‘۔ کم و بیش نصف گھنٹے کی اس ملاقات میں‘ میں نے بھٹو صاحب سے گزارش کی کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’یہ میرا ملک ہے اور میں یہیں رہ کر حالات کا مقابلہ کروں گا‘ملک چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ یہی بات انہوں نے سید بدرالدین سے بھی کہی۔ انہوں نے بھی ملک سے باہر جانے کا مشورہ دیا تھا۔ بھٹو صاحب کا یہ جواب تشویش کا باعث ہونے کے باوجود میرے لئے نئے حوصلے اور ہمت کا موجب تھا۔میں نے اسی ملاقات میں بھٹو صاحب سے گزارش کی وہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے اپنا پیغام دیں۔ چنانچہ اسی شام انہوں نے یہ تحریری پیغام دیا۔جس میں انہوں نے کہا کہ ’’وطن عزیز پاکستان شدید بحران سے دوچار ہے اور یہ بحران پچھلے سارے المیوں‘ محرومیوں‘ ناکامیوں اور قومی شکست و ریخت سے بھی زیادہ ہمہ گیر ہے، آزاد قوموں کا ضمیر عوام کی حاکمیت کے نفاذ سے ہی مطمئن ہوتا ہے اور عوام کی حاکمیت کا تصور اور اس کا حصول سیاست‘ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ (اقتباس،بھٹو خاندان جہد مسلسل)
13ستمبر1977ء کی شام جناب بھٹو بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ جو اسلام آباد سے لاہور پہنچ چکی تھیں عیدالفطر کے لئے لاڑکانہ روانہ ہو گئے اور انہیں 16ستمبر کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ میں 22 ستمبر کو لندن چلا گیا اوراس تاریخی پیغام کی لندن جا کر وسیع پیمانے پر تشہیر کی اور دنیا بھر میں ان کے حق میں ایک بہت بڑی تحریک شروع ہوگئی۔ ان کی رہائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ پاکستانیوں نے عظیم الشان مظاہرے کرکے عالمی رائے عامہ کو متحرک کر دیا۔ بھٹو صاحب کی رہائی کیلئے ان کے دونوں بیٹوں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے ایک عالمگیر مہم شروع کی جس میں جنرل ضیاء کے سفاکانہ دور کے علاوہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف جھوٹے مقدمہ قتل کو بے نقاب کیا گیا۔ جنرل ضیاء کے قریبی دوست اے آر شیفتہ نے اگست 1977ء کے آخری دنوں میں جس ہولناک سازش سے مجھے آگاہ کیا تھا‘ 4اپریل 1979ء کو اس کی یہ وارننگ درست ثابت ہوئی۔جناب ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادگان میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے جناب بھٹو کی شہادت سے قبل6اور 7اپریل 1979ء کوانٹرنیشنل جیورسٹس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ یہ دو روزہ کانفرنس لندن کے نائٹس برج میں واقع کارلٹن ٹاور ہوٹل کے ہال میں ہوئی۔کنونشن میں شریک مندوبین نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں جناب بھٹو کی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے اسے عدالتی قتل قرار دیا۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کرٹ والڈ ہائیم کو بھیجی گئی۔ امریکن ٹرائل لائیرز ایسوسی ایشن کے ممبر جارج ٹی ڈیوس نے کہا کہ یہ ایک قتل کا مقدمہ نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے ایک بے گناہ شخص کا قتل کیا گیا ہے۔ ترکی کے مندوب پروفیسر سلی دون میئرز نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے فیصلے کسی مقدس عدالت کے مقدس فیصلے نہیں اس لئے ہمیں ہر صورت میں اس مقدمہ کی برائیوں کی نشاندہی کرنی چاہئے۔ امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک جو مقدمہ کی کارروائی دیکھنے کیلئے پاکستان بھی آئے تھے انہوں نے کہا کہ ججوں‘ استغاثہ کے وکلاء اور حکومت نے مسٹر بھٹو کی زندگی اور وقار کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔ برطانیہ کے نامور وکیل جان میتھیوز کیو سی بھی مقدمہ کی کارروائی سننے لاہور آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ اگر انگلستان کی کسی عدالت میں پیش کیا جاتا تو پہلی پیشی پر ہی خارج کردیا جاتا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن جانتھن اٹیکن کاکہنا تھا کہ مسٹر بھٹو کی موت ایک انتہائی وحشیانہ سیاسی قتل تھا۔ انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹ کے چیئرمین مسٹر ولیم جے بٹلر نے کہا کہ کسی بھی چیف جسٹس کا ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنا انصاف اور عدلیہ کی بدترین مثال ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر لیزلی فلپ نے کہا کہ ایک غیرقانونی حکومت نے غیرمنصفانہ مقدمہ قائم کرکے ایک عظیم لیڈر کو پھانسی دی۔ ممتاز عالمی قانون دانوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بے گناہی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جناب بھٹو کے ساتھ ناانصافی کرکے ان کا عدالتی قتل کیا گیا اور یہ Murder by state (ریاستی قتل)ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں