لیڈر کہلانا آسان نہیں ہوتا کہ محض مال و زر کی بنیاد پر لیڈری کا لیبل ماتھے پر چپکا لیا جائے۔ ممکن ہے چار دن کی چاندنی کیلئے کوئی حسب نسب کام آ جائے، کوئی عارضی بیل منڈھے چڑھ ہی جائے، ممکن ہے کسی بڑے کی اشیر باد سے کوئی دو دن کیلئے ممبر بھی بن جائے تاہم پائیدار و سدا بہار لیڈر بننے کیلئے جہاں ہوس پر قابو، نیند پر کنٹرول اور بھوک برداشت کرنے کی سکت درکار ہوتی ہے وہاں کئی رویوں کی خاک چھاننے اور کئی مزاجوں کے دشت دیکھنے پڑتے ہیں۔ دو منٹ کیلئے یہی سمجھ لیا جائے کہ تخت و تاج تک رسائی کیلئے تن من دھن داؤ پر لگایا جا سکتا ہے لیکن ایک لمحہ ٹھہر کر یہ بھی سوچ لیا جائے گرم لحاف یا ٹھنڈی کار سے نکل کر محبت سے کسی عام آدمی کیلئے سڑک پر آجانا بار بار ممکن نہیں ہوتا۔ دوسری دفعہ کوئی دروازے پر دستک دے تو ایک منٹ میں غصہ ناک پر آ جانا معمول کی بات ہے۔ سائل کو تیسری دفعہ سمجھانے پر لال پیلا ہو جانا اور فقیر کی دوسری صدا سے طبع نازک آتش فشاں بن جاتی ہے جبکہ کسی لیڈر کیلئے یہ روز مرہ کے زمرے میں آنے والی چیزیں ہیں۔ سخاوت، مہمان نوازی کے ذوق اور عشق کی طرح لیڈری بھی توفیق کا معاملہ! تھامس ایڈیسن (1847 تا 1931) امریکی بزنس مین کی ایک بات یاد آگئی’’محنت کا کچھ متبادل نہیں!‘‘پس یہ لیڈری ہمہ وقت محنت ہے مذاق نہیں۔پہلی صف کے لیڈر ہو تو کان کچے نہیں، دریافتی طریقۂ سیاست مقصود ہے۔ دوسری صف کے ہو تو تیسری صف سے اٹھا کر پہلی صف میں بغض اور غیبت ٹرانسفر کرنا ’’کفرانِ سیاست‘‘ ہے۔ تیسری صف کے ہیں، تو بھی اہم لیڈر ہیں، ٹکٹ مل جائے تو شکر، نہ ملے تو صبر ضروری ہے، اور اصل آپ ہو جو عوام اور قیادت کے درمیان پُل ہو۔ اور قومی لیڈر ان سب صفوں کے آگے کھڑا امام ہے، سوچئے خوردبین ہاتھ میں اور دوربین بغل میں نہ ہو تو گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا؟ایک نظر ادھر، سلیم پروانہ صحافت کی دنیا میں ایک نظریاتی نام تھا، جید مسلم لیگیوں میں شمار اور مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر میں ذمہ داریاں تھیں۔ ایک ملاقات میں راقم کو بتانے لگے، بی بی اپوزیشن لیڈر تھیں، اسلام آباد میں صحافیوں سے نشست تھی، میں منہ نیچے کر کے کچھ سوچ رہا تھا کہ میز کے اس پار سے نام کے ساتھ آواز آئی ’’سلیم پروانہ خیریت ہے نا ؟ ‘‘ مسکراہٹ کے ساتھ خیر و عافیت تو بتائی لیکن سوچتا رہ گیا کہ اتنے ہجوم کے پہلے تعارف کرانے پر میرا تعارف یاد رہ گیا..... کچھ عرصہ بعد پھر بی بی سے شہرِ اقتدار میں ملاقات ہوئی ، اب بی بی وزیراعظم تھیں، بڑے سے میز پر بےشمار صحافیوں میں میں بھی وہاں موجود تھا، بی بی کی نظر مجھ پر پڑی، میں نے معمول سمجھا، غور کیا کہ بی بی چند لمحے چپ ہوگئیں، پھر آوازآئی’’سلیم پروانہ آپ کیسے ہیں ؟‘‘ یہ بات بتاتے سلیم پروانہ کی آنکھیں نم ہوگئیں، کہنے لگے، دوسری ملاقات، نہ کبھی پیپلز پارٹی کی بیٹ، نہ کوئی ربط اور اوپر سے وہ وزیرِ اعظم ، پس میں انہیں عظیم زیرک لیڈر مانے بغیرنہیں رہ سکا۔بھولتا نہیں ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے مشرف دور میں ایک کالم لکھا۔ لکھتے ہیں بارڈر پر موومنٹ بڑھتی جا رہی تھی، بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے تھے، معاملہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے وزیراعظم بےنظیربھٹو سے رابطہ کیا اور صورت حال کا بتایا۔ لمحہ بھر سوچنے کے بعد بولیں کہ وار ہیڈ لگا لیں بھرپور جواب تیار رکھیں۔ لہجے میں اعتماد اور ذہن میں ذہانت تھی۔ ویسا ہی کیا گیا ، اور جب پڑوسی تک اعتماد اور احکام پہنچے تو وہ بارڈر سے معمول پر چلا گیا۔ دراصل یہ کالم اس وقت کے صدر جنرل مشرف کو سنانا و سمجھانا اور بی بی کے تدبر، قوت ارادی اور ایمرجنسی میں قوت فیصلہ کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔لیاری کے ایک جلسہ میں بی بی اچانک کہتی ہیں’’آپ کو معلوم ہے میرا بھائی الیکشن لڑ رہا ہے؟‘‘ جواباً آواز آئی’’ہاں مرتضیٰ بھٹو ... !‘‘ بی بی پاس کھڑے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کرتی ہیں، میرا یہ بھائی الیکشن 1993 لڑ رہا ہے، اس بھائی نے فضا میں ہاتھ بلند کئے تو لوگ ششدر رہ گئے کہ بی بی نے ایک اسٹوڈنٹ لیڈر کو بھائی کہا جبکہ مقابل تو صوبائی سیٹ پر مرتضیٰ بھٹو تھے ! حالانکہ یہ جوان اس اعلان سے کچھ دن قبل، جب فیصلہ ہوا، ایک اجلاس ڈیوٹی میں گیٹ پر کھڑا تھا اور خواب یہ سجائے کہ یہ الیکشن بی بی جیت گئیں تو نوکری لے کر سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤں گا، جنرل ضیاء سے جام صادق تک بہت ماریں کھا چکے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ گیٹ پر کھڑے یہ جوان سنتاہے بی بی اندر اونچا اونچا بول رہی ہیں ، ماجرا یہ تھا کہ اندر والوں میں سے کوئی بھی لیاری میں مرتضیٰ بھٹو کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ پھر کیا ہونا ہے؟ دروازے پر مامور نوجوان کو اچانک اندر بلایا جاتا ہے۔ بی بی کہتی ہیں ’’ میرے لئے الیکشن لڑو گے؟‘‘ نوجوان کہتا ہے’’جی بی بی!‘‘ میٹنگ روم میں سناٹا چھا جاتا ہے، سب ہکے بکے کہ نوجوان نے ہاں کردی؟اور جی بی بی ، جی بی بی کہنے والا ہنوز غافل تھا کہ الیکشن کس کے مقابلہ پر کہاں سے لڑنا ہے۔ اس عارفانہ ہاں کو بی بی بہرحال سمجھ گئیں کہ نوجوان کو نہیں معلوم کہ الیکشن لڑنا کس کے مقابلہ پر ہے سو بی بی پھر بولتی ہیں۔ ’’لیاری میں مرتضیٰ بھٹو کے مقابلے پر الیکشن لڑو گے؟‘‘ اب نوجوان کے اوسان خطا، اگرچہ ہاں ہو چکی تھی مگر ہاں کرنے والے کو دن میں تارے نظر آگئے۔ سوال دہرایا تو لڑکھڑاتی زبان اور لرزتے ہونٹوں سےنکلی آواز پھرہاں کی بازگشت بنی تو سندھ کی سینئر و جونیئر قیادت پر سناٹا چھا جاتا ہے۔ بی بی کی دوراندیشی نے یہ عبدالقادر پٹیل کی پارلیمانی سیاست کی بنیاد رکھی جو آج پارلیمنٹ میں توانا آواز، وفا کا استعارہ ، بھائی کی علامت، زرداری صاحب کا سپاہی اور بلاول بھٹو کی انمول طاقت ہے!جاتے جاتے پوچھنا تھا:کیا بی بی کی برسی پر حاضری کے بعد پنجاب پی پی پی کے لیڈران تجدید عہد وفا کرکے نکلے ہیں نا؟