• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب سے یہ ملک بنا ہے اس کے سیاسی، سماجی، مذہبی اورثقافتی حلقوں میں مکمل اتفاق ہے کہ اِسے ہونا چاہیے مگر آج تک کسی کو علم نہیں ہو سکا کہ ہم یہ کیوں نہیں کرتے؟ اگر حکومت یہ قدم اٹھائے تو ہر طرف تالیاں بجیں گی ،کوئی ایک آواز بھی مخالفت میں بلند نہیں ہوگی مگر 75سال ہوگئےہیں کوئی حکومت یہ نہیں کرسکی اور کسی حکومت کویہ علم بھی نہیں کہ وہ ایسا کیوں نہیں کرتی۔

یہاں اسلام کا نام لینے والے آئے، روشن خیال لبرل آئے، دائیں بازو والے آئے، بائیں بازو والے آئے، مارشل لا آئے، جمہوری دور آیا مگر کوئی بھی یہ نہ کرسکا حالانکہ ان میں سے کوئی بھی یہ قدم اٹھاتا تو اس کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا، ان میں سے کسی کو بھی اندازہ تک نہیں کہ وہ یہ کیوں نہ کرسکے۔نواز شریف آئے، شہباز شریف آئے، عمران خان آئے، آصف زرداری آئے، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف تک آئے، ہر ایک نے اِدھر سے اُدھر کردیا ،ملک کی پالیسیاں بدل ڈالیں، نئے نئے بیانیے اپنائے ،خارجہ پالیسیوں میں سیاہ کو سفید کردیا ،آئین بنائے، آئین توڑے ،مارشل لا لگائے، کوڑوں کی سزائیں دیں، لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا حتیٰ کہ مخالفوں کو تختہ دار تک چڑھایا گیا مگر پوری قوم کیلئے زہرِ قاتل اس عذاب کو ختم تو کیا اسے ختم کرنے کا آغاز تک نہ کیا گیا اور آج تک کوئی کھوج بھی نہیں لگا سکا یہ کیوں نہیں کیا گیا اور یہ سب کیوں نہیں کرتے؟

آپ بتائیں کہ کسی ملک میں ملاوٹ سے بڑا کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے؟ اگر نہیںتو سوال ہے کہ حکمران ملاوٹ کو ختم کیوں نہیں کرتے؟ یہاں پرکوئی حکومت آ کر مخالفوں کو ناکوں چنے چبوا دیتی ہے مگر ہمارے بچوں کے دشمن دودھ، ادویہ اور خوراک میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کیوں کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ دنیا کی جمہوری حکومتیں ہوں، فوجی یا آمرانہ وہاں ملاوٹ کا کوئی تصور تک نہیں مگر تضادستان میںکسی بھی چیز کے بغیر ملاوٹ ہونے کا شائبہ تک نہیں، یہاں شہد میں ملاوٹ ہے، مرچوں میں اینٹوں کا مصالحہ، دواؤں میں چونا اور دودھ میں زہر آلود کیمیکلز ملانے والے سرعام دندناتے پھرتے ہیں۔

ہم عوام ، ہمارے حکمران، ہمارے جرنیل، ہمارے سیاستدان ہم ملاوٹ کو ختم کیوں نہیں کرتے؟

فرض کریں آج شہباز شریف اپنی پہلی ترجیح ملاوٹ کا خاتمہ بنا لیتے ہیں تو کیا ان کے ہر اقدام کی مخالفت کرنے والی تحریک انصاف ایک لفظ بھی مخالفت میں کہہ سکے گی؟ نہیں۔ ملک کا کوئی بھی شخص اس معاملے میں ان کی مخالفت نہیں کرے گا۔ ہر طرف تحسین ہوگی ،ہر طرف تالیاں بجیں گی تاریخ میں نام ہوگا، بچے خالص خوراک کھائیں گے بیرون ملک سے آنے والے بغیر شک کئے خوراک اور پانی استعمال کرسکیں گے۔

ملاوٹ کے خاتمےکا اگر کوئی تھوڑا بہت مخالف ہوسکتا ہے تو وہ ملاوٹ کرنے والا ہی ہو سکتا ہے لیکن کبھی چوروں اور ڈاکوؤں نے آج تک مظاہرہ کیا ہے کہ انہیں چوری اور ڈاکے کی کھلی چُھوٹ دے دی جائے؟ کیا کبھی کسی قاتل کو آج تک یہ جرأت ہوئی ہے کہ وہ یہ کہے کہ قانون سےموت کی سزا حذف کردی جائے۔تاہم 75برسوں میں ہم بھاری اکثریت میں ہونے کے باوجود چند ملاوٹ کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں۔ قانون ساز اسمبلیاں آج تک امریکہ، یورپ حتیٰ کہ چین اور سعودی عرب جیسے قوانین تشکیل نہیں دے سکیں کہ چند کالی بھیڑیں ملاوٹ کرنے سے خوفزدہ ہو کر یہ کام چھوڑ دیں۔

آج تک کیا کسی ملاوٹ کرنے والے کو عدالتوں نے ایسی سزا دی ہے کہ وہ قابل عبرت مثال بن جائے، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹس نے وزیر اعظموں کو تو تختہ دار تک پہنچایا انہیں وزارت عظمیٰ کیلئے نااہل بھی کیالیکن کبھی انہوں نے دودھ میں ملاوٹ کرنے والے کسی مکروہ شخص کو بھی انجام تک پہنچایا؟ ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں۔ اس ملک کے قابل ترین ججوں نے اکثریت سے بنائے پارلیمنٹ کے قوانین کو مسترد کیا ہے مگر کیا ملاوٹ کے بارے میںبھی کبھی کسی آئین سازی کی تجویز دی ہے؟ کیا سینکڑوں اراکین پارلیمان نے کبھی پارلیمنٹ سے ملاوٹ کے مکمل خاتمے اور سخت ترین سزاؤں کا کوئی قانون منظور کروایا ہے؟ یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے۔

اس ملک میں ملاوٹ کے خلاف قانون بھی ہوں گے سزائیں بھی درج ہوں گی ۔محکمہ پولیس بھی ہے، مارشل لا کے زمانے میں فوج بھی گرفتاریاں کرتی رہی ہے، محکمہ خوراک موجود ہے اب تو فوڈ اتھارٹیاں بھی سرگرم عمل ہیں مگر مجال ہے کہ ملاوٹ کے عفریت کو ذرہ برابر بھی فرق پڑاہو۔ ہم سیاسی لڑائیاں جیتنے اور ہارنے میں مصروف ہیں۔

خوشحالی، امید اور ناامیدی پر مباحث میں زور و شور سے حصہ لیتے ہیں مگر ہم اسلامی نقطہ نظر سے سب سے بڑے گناہ، سماجی طور پر بدترین عمل اور صحت کے اعتبار سے خطرناک ترین چیز ملاوٹ کے خاتمے کو کبھی ترجیح نہیں بنا سکے۔

امریکا سے ڈالر آجائیں، امارات اور سعودیہ سے درہم اور ریال آ جائیں، چین سے مالی امداد بھی آ جائے مگر ہم ملاوٹ والی ناقص خوراک کھاتے رہیں تو یہ کونسی خوشحالی ہوگی؟

امریکہ میں بھی ملاوٹ تھی 1920ء کی دہائی میں ایسی قانون سازی کی گئی کہ ملاوٹ کو ناممکن بنا دیا گیا، ایسی سخت سزائیں دی گئیں کہ کوئی ملاوٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ خلیج کے چھوٹے چھوٹے ممالک میں ملاوٹ سے ہر چیز پاک ہے۔ ہم دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت، جری فوج، اسلامی جمہوری آئین کے باوجود ملاوٹ کے سامنے بے بس ہیں۔

اس کی وجہ صرف اور صرف ہماری ترجیحات ہیں آج اگر کوئی بھی جماعت ملک سے ملاوٹ کے خاتمے کا جھنڈا اٹھالے، پارلیمان ملاوٹ کے خلاف سخت سے سخت قانون بنائے، جج صاحبان قابل عبرت فیصلے سنائیں، ملزموں کو کسی صورت نہ چھوڑیں، ریاستی ادارے تہیہ کرلیں کہ ملاوٹ نہیں ہونے دینی ،ہم عوام ملاوٹ کرنے والوں کو کوئی رعایت نہ دیں تو ملاوٹ کو ختم کرنا بالکل آسان ہو جائے گا۔ کاش کوئی تو پہل کرے۔

تازہ ترین