• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق آرمی چیف کو توسیع دینے کیلئے سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے تھے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(رپورٹ:،رانامسعود حسین) عدالت عظمیٰ کے آئینی بنچ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی 9مئی کی دہشتگردی اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث سویلین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق عدالتی حکمنامہ کیخلاف دائر وفاقی حکومت کی انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کے دورا ن درخواست گزار عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری کے دلائل مکمل ہوجانے کے بعد کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی گئی ،جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ سابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس بھی موجود ہے،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون نہیں تھا، سپریم کورٹ کی ہدایات پر پارلیمنٹ نے آرمی چیف کی توسیع کیلئے قانون سازی کی تھی ، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس وقت ایک نوٹیفکیشن کیلئے سب سرجوڑکربیٹھ گئے تھے، یہ تو ہماری حالت تھی،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ہورہا ہے، فئیر ٹرائل تو دور کی بات، جیل ٹرائل میں کاغذ کا ٹکڑا تک نہیں لے جانے دیا جاتا، جس پرجسٹس امین الدین خان نے ازراء تفنن سوال اٹھایا کہ اگر کاغذ کا ٹکڑا نہیں لے کے جانے دیتے تو خط کہاں سے آجاتے ہیں؟جس پر کمرہ عدالت قہقوں سے گونج گیا ، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے مطابق تو گٹھ جوڑ ثابت ہونے پر سویلین کا ٹرائل ہوسکتا ہے۔سینئر جج،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے اپنے گزشتہ دلائل کو جاری رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سویلین ملزمان کی حد تک فوجداری دفعات پر ٹرائل عام عدالت ہی کرسکتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید