امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ملٹری کمان مکمل ختم ہوچکی، بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔
اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی تنصیبات اور ایرانی فضائی دفاعی نظام کونشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 9 بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔ اہداف کے حصول تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لیں گے، ایران کے خلاف کارروائی میں مزید امریکیوں کی ہلاکتوں کا امکان ہے۔
امریکی صدر نے انتباہ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں تو انہیں استثنیٰ مل سکتا ہے، ہتھیار نہ ڈالے تو موت کا سامنا کریں۔
قبل ازیں برطانوی اخبار کو ٹیلے فون پر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ ابتک امریکا نے ایران کی اڑتالیس اہم شخصیات کو ماردیا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا میزائل حملوں کا ہدف بننے کے سبب کیا سعودی عرب بھی ایران پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی صدر نے جواب دیا کہ وہ لڑرہے ہیں، وہ بھی لڑرہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے کیونکہ ایران بڑا اور مضبوط ملک ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کم وقت لگے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان حملوں کے نتائج میں ابھی تک انکے لیے حیران کن چیز نہیں ہوئی۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہورہا ہے، پوری ایرانی لیڈرشپ ماری جا چکی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انکے دوسرے دور صدارت میں کسی بھی جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ وینزویلا میں صدر مادورو کو پکڑنے کےدوران امریکی فوجیوں کو جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ جلد ممکن ہوں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن اور کئی دیگر ممالک کے لیڈروں سے بات کی ہے۔ امید ہے جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی اور بہت سے مثبت چیزیں ہوں گی۔