نگہت شفیع، گلشنِ اقبال، کراچی
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقّی کا بنیادی جُزو ہے، جب کہ پاکستان میں تعلیم ہی کا شعبہ سب سے زوال پذیر ہے۔ پاکستان کےقیام کو78برس ہو چُکے ہیں، لیکن آج پاکستانی قوم اور دُنیا بَھر میں بسنے والے لاکھوں دردمند پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہم تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔ 1947ء سے اب تک اَن گنت تعلیمی اصلاحات کا اعلان ہوا اور بےشمار تعلیمی پالیسیاں بنیں، لیکن تاحال خواندگی کی شرح 20 فی صد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
آج گلی، محلوں میں اسکولز قائم ہیں، لیکن معیارِ تعلیم بلند نہیں ہوسکا۔ سرکاری اسکولز کی عالی شان عمارات ’’دیکھو مُجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘‘ کی عملی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ ایک عمارت میں کئی کئی اسکولز کو اس طرح ضم کردیا گیا ہے کہ طلبہ سے زیادہ اساتذہ کی تعداد ہے اور سرکاری اساتذہ کی اکثریت اسکولز میں صرف حاضری لگا کر دوسری جگہوں پہ نوکریاں کرنے میں مصروف ہے۔ یہ اساتذہ سرکار سے بھاری تن خواہ تو وصول کر رہے ہیں، لیکن اسکولز میں پڑھانے نہیں آتے۔
مزید برآں، سیاست نے بھی ہمارے تعلیمی نظام کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اگر ایک حکومت کوئی معیاری تعلیمی پالیسی بناتی ہے، تو نئی آنے والی حکومت اُسے یک سَر مسترد کر دیتی ہے۔ نتیجتاً، پاکستان میں تعلیم ایک منافع بخش کاروبار بن کر رہ گئی ہے۔ اسکولز کی سطح سے لے کر یونی ورسٹی لیول تک والدین بھاری بھاری فیسز ادا کر کے بچّوں کو تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔
علاوہ ازیں، بچّوں کو ٹیوشن سینٹر بھیجنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے اور اس کی فیس الگ ادا کی جاتی ہے۔ 1972ء میں ذوالفقار علی بُھٹّو نے ایک معیاری تعلیمی پالیسی بنائی تھی، جس کےتحت تمام اسکولز سرکاری تحویل میں لے کر میٹرک تک تعلیم مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا اور ساتھ ہی پرائمری تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا تھا، جب کہ بچّوں کو سرکاری اسکول نہ بھیجنے پر والدین پرجرمانہ عائد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت اساتذہ کو بھی مستقل بنیادوں پر سروس فراہم کی گئی تھی، جس سے اُن کا مستقبل محفوظ ہوگیا۔
پھر پورے پاکستان میں میڈیکل اور انجیئنرنگ کالجز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا، جس سے ڈاکٹرز اورانجینئرزکی کمی دُورہوگئی، جب کہ دوسرے شعبہ جات کی افرادی قوّت میں بھی اضافہ ہوا، لیکن 80ء کی دہائی میں جب دوبارہ نجی اسکولز کھولنے کا اجازت نامہ جاری ہوا، تو دیکھتے ہی دیکھتے ہر گلی، محلّے میں اسکولز کے جمعہ بازار لگ گئے، لیکن ان کے تعلیمی معیار، اساتذہ کی قابلیت اور نصاب پر کوئی توجّہ نہیں دی گئی۔
یک ساں نصاب نہ ہونے کے سبب پرائیویٹ پبلشرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور ہر اسکول اپنی مرضی کا نصاب پڑھانے لگا۔ یوں نجی اسکولز، کالجز اور کوچنگ سینٹرز نے ایک مافیا کی شکل اختیارکرتے ہوئے ہمارے پورے تعلیمی نظام کو یرغمال بنا لیا اور ایک منظّم سازش کے تحت سرکاری اسکولز کو نظر انداز کر دیا گیا۔
نتیجتاً، والدین مجبوراً اپنے بچوں کو نجی درس گاہوں میں داخل کروانے لگے اور مُلک میں یک ساں نظامِ تعلیم کا تصوّر ہی ختم ہوگیا۔ بعد ازاں، تعلیمی بورڈز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور آج مختلف اسکولز میں میٹرک بورڈ، انٹرمیڈیٹ بورڈ، آغاخان بورڈ، ضیاء الدّین بورڈ، کیمبرج سسٹم (او اور اے لیول) وغیرہ کے تحت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود نتائج، معیارِ تعلیم اور شرحِ خواندگی میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ دریں اثنا، مختلف این جی اوز نے سرکاری کئی اسکولز گود لینے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کا نتیجہ بھی صفر ہی رہا۔
دوسری جانب نجی اسکولز میں بیش تر ناتجربہ کار اساتذہ کی تقرّری سے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ایک خلیج حائل ہوچُکی ہے۔ معلّم اور شاگرد دونوں ہی اپنی اپنی ذمّےداریاں فراموش کر بیٹھے ہیں۔ طلبہ، اساتذہ کا احترام کرنا ہی بُھول گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، نِت نئے تجربات کی وجہ سے بھی بچّوں کی تدریس کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ کبھی تعلیمی سال آگے بڑھادیا جاتا ہے، توکبھی اُسے جلدی ختم کردیا جاتا ہے۔
اِسی طرح ہر برس امتحانات کا شیڈول بھی تبدیل کردیا جاتا ہے۔ پھر پچھلے چند برسوں سے کراچی میں نویں اور دسویں کے مضامین دونوں سال ہی پڑھائے جارہے ہیں، تو طلبہ کو ہر سال سات مضامین کے پرچے دینا پڑتے ہیں، جب کہ نصاب کو اس طرح ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ بچّوں پر سے اضافی کُتب، کاپیوں کا بوجھ کم ہو۔ ہر سال ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ طلبہ بورڈ کے امتحانات میں رجسٹر ہوتے ہیں، تو ان کے امتحانی پرچوں کی جانچ پڑتال کا کام بڑھ جانے سے نتائج میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔
کراچی میٹرک بورڈ کے عُہدے داران کو سوچنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ کیمبرج سسٹم، آغا خان بورڈ اور دوسرے بورڈز ہمیشہ اپنا تعلیمی سال مقرّرہ وقت ہی پر شروع کرتے ہیں۔ اُن کے امتحانات کا شیڈول بھی ہرسال تبدیل نہیں ہوتا اور نتائج بھی وقت پرآتے ہیں اور یوں طلبہ، اساتذہ اور والدین سبھی غیر ضروری الجھنوں، مسائل سے بچ جاتے ہیں۔
یہاں ضرورت اس اَمر کی ہے کہ مُلک میں تعلیم کے فروغ اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک باقاعدہ نظام بنایا جائے۔ اس نظام کے تحت سب سے پہلے والدین پر فیسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔ پرائمری سطح پر خصوصاً کلاس سوم تک کا نصاب آسان اور مختصر بنایا جائے، جب کہ بعض مضامین کو مختصر کرنے کے بعد آپس میں ضم کرکے ایک نصابی کتاب تیارکی جائے۔ سکینڈری سطح پر غیرضروری مواد ختم کرکے جدید تقاضوں کے مطابق نصاب ترتیب دیا جائے۔
علاوہ ازیں، امتحانات میں بچّوں کومختصرسوالات و جوابات دیے جائیں اور کاپیوں میں جوابات دینے کے لیےچند سطور پرمشتمل جگہ مختص کی جائے۔ نجی اسکولز کو فیس کم کرنے یا ایک مقرّرہ فیس لینے کا پابند کیا جائے اور اسکول مالکان کو بھی عمارت کے کرائے، یوٹیلیٹی بِلز اور ٹیکسز میں رعایت دی جائے۔
یاد رہے کہ تعلیم صرف تدریس ہی نہیں، بلکہ یہ شعوروآگہی کا بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے، جو طلبہ کو نظم وضبط اور وقت کی پابندی بھی سکھاتی ہے۔ تعلیم کے شعبے پر توجّہ دیے بغیر ہم بطور قوم ترقّی نہیں کرسکتے۔ نیز، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی حکومتِ وقت کی ذمّے داری ہے، جس کا حکومت کو ادراک کرنا ہوگا۔