• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان کے ماہی گیروں کی آبی حیات سے محبت، ساحل پر پھنسنے والی ڈولفن کو سمندر میں چھوڑدیا


بلوچستان کے ماہی گیروں نے اورماڑہ کے ساحل پر پھنسی ڈولفن کی فوری مدد کی اور اسے محفوظ طریقے سے سمندر میں چھوڑ دیا۔

تکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان محمد معظم خان کے مطابق اوڑماڑہ میں ایک نایاب قسم کی ڈولفن کو ساحل کے قریب دیکھا گیا، انھوں نے کہا کہ اس ڈولفن کو ریسو ڈولفن کہا جاتا ہے۔ 

محمد معظم خان کا مزید کہنا تھا کہ اورماڑہ کے  ساحل پر کل صبح ڈولفن پھنس گئی تھی، ماہی گیروں نے ڈولفن کی فوری مدد کی اور اسے محفوظ طریقے سے سمندر میں چھوڑ دیا۔ 

معظم خان نے کہا کہ یہ پاکستان کی آبی حدود میں پائی جانے والی 26 اقسام کے سمندری جانوروں میں سے ایک ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ ریسو ڈولفن بہت موٹی ہوتی ہیں، ان کا سرگول اور چپٹا ہوتاہے، ریسو ڈولفن تقریباً تمام معتدل اور گرم پانیوں میں پائی جاتی ہیں۔

معظم خان نے کہا یہ کم ازکم 1,000 فٹ کی گہرائی میں ڈائیو کرسکتی ہیں، ریسو ڈولفن 30 منٹ تک سانس روک سکتی ہیں، تاریخی طور پر پاکستان سے ریسو ڈولفنز کے بارے میں صرف تین واقعات کی اطلاع ملی۔ 

پاکستان میں اس کی موجودگی پہلی بار 2000 کی دہائی کے اوائل میں رپورٹ ہوئی، 24 مارچ 2020 کو پہلی بار ایک نر ریسو ڈولفن کو کلفٹن بیچ پر پایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی ڈولفن کو 30 مواقع پر پاکستان کے ساحل پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید