دہشت گردی صرف فتنہ الخوارج تک ہی محدود نہیں یہ ہمارےمعاشرے کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ ہم فتنہ الخوارج کے خلاف قومی یک جہتی کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ اندرونی فتنے پر قابو پائے بغیر خارجی فتنے کو ٹھکانے لگانا ممکن نہیں۔ بلوچستان میں بی ایل اے کی دہشت گردی کی وارداتوں کے تانے بانے جن ممالک کے ساتھ جڑتے ہیں ہماری وزارت خارجہ کی اس بارے میں خاموشی معنی خیز اور جواب طلب ہے۔ جب دشمن ہماری ریاست پر کھلے عام حملہ آور ہو رہا ہے تو بین الاقوامی فورمز پر اس بارے واضح آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔ بلوچستان جل رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اپنے صوبے کے حالات بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ پڑھنا، قومی پرچم لازمی لہرانا ہوگا۔ جن تعلیمی اداروں کے سربراہان ان احکامات کی پابندی نہیں کرا سکتے وہ رضا کارانہ طورپر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائیں۔ کسی چیک پوسٹ پر بھتہ خوری نہیں چلے گی۔ کوئی شاہراہ بند نہیں ہوگی۔ بلوچستان کلچر روایات کا امین ہے جس میں مسافروں،بیگناہ مزدوروں کے قتل کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ آئینی حلف کی پاسداری ضروری ہے۔ ریاست مخالف عناصر کے سامنے جھکنا نہیں امن وامان کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔ سرفراز بگٹی جس سرکاری زبان میں بلوچستان کے حالات کی سنگینی بیان کررہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ جب کوئی صحافی یاسوشل میڈیا ایکٹویسٹ انہی حالات کو غیر سرکاری زبان میں بیان کرتا ہے تو پیکا ایکٹ کے تحت دھر لیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان دراصل اس بات کابرملا اعتراف کررہے ہیں کہ ان کے صوبے میں حالات سنگین تر ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں اندرونی فتنے کی بیرون ملک سرگرمیاں قابل مذمت اور غور طلب ہیں کہ جب پورا ملک حالت جنگ میں ہے اور فتنۃ الخوارج ہمارے خلاف مورچہ بند ہے ایسے میں ایک مقبول ترین سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور بیرون ملک ان کے ہم نوا اپنی اندرونی سیاسی جنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نام پر امریکی ایوان نمائندگان میں لے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ فرد واحد کی رہائی کے عوض کس قسم کا گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں اور ریاستی عہدیداروں پر امریکی پابندیاں عائد کراناچاہتے ہیں درپردہ اس کے محرکات کیاہیں؟ مجوزہ بل کے مسودے میں امریکی انتظامیہ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیاسی مخالفین کو مبینہ طور پر دبانے میں ملوث اہم افراد کی نشان دہی کرکے ان کے نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کرے ۔ غلط طورپر حراست میں رکھے گئے سیاسی قیدی رہا کردیے جاتے ہیںتو یہ بل امریکی صدر کو پابندیاں اٹھانے کا مزید اختیار دیتا ہے۔ ہمارے مقبول ترین سیاسی لیڈر کے پیرو کاروں کی یہ کارستانیاں ایسی ہیں کہ انہی کیلئے کہا جاتا ہے کہ ہمیں کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہم خود ہی اپنی جڑیں کاٹنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا نعرہ لگانے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ وہ کس کے غلام ہیں اور کس کے خلاف سازشیں کررہے ہیں؟ امریکی مداخلت کو دعوت دینے والے صاحبان کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جوجھوٹے منہ بھی دہشت گردوں کے خلاف دو لفظ بولنے کو تیار نہیں اور انسانی حقوق کے پھنے خان بننے کے دعویدار ہیںاور ہم بے وقوف لوگ ایسے افراد سے ملک کے بہتر مستقبل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان عناصر کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے گزشتہ چند دنوں سے عسکری قیادت کے خلاف جوبے ہودہ،لغو مہم چلا رکھی ہے اور جو من گھڑت الزامات پھیلائے جارہے ہیں۔ کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ اس گھناؤنی مہم کے مقاصد کیا ہیں؟ صاف ظاہر ہے یہ لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کو کمزور کرکے پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی گھناؤنی سازش کررہے ہیں دوسری طرف پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کی گرفتاریوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حکمران اور طاقت ور حلقے صحافیوں کی اندھا دھند گرفتاریوں سے جتنا اجتناب کریں گے اتنا ہی بہتر ہے۔ ملکی حالات اس بات کے متقاضی ہیںکہ دیانت دارانہ تبصرے ہوں،امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور دہشت گرد عناصر پر قابو پانے کے بارے حقائق بیان کئے جائیں۔ ہر آزاد پاکستانی شہری کا حق ہے کہ وہ آزادانہ رائے دے سکے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا دلیرانہ صحافت نہیں۔ معاملات و واقعات کو حقیقت کی حد تک بیان کرنا ہی اصل صحافت ہے۔ ذمے دار حلقے اس بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے خوف کی فضاپیدا نہ ہو۔ سیاست دانوں ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور صحافیوں کی گرفتاریاں ، مقدمات کا اندراج مسائل کا ہرگز حل نہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھیں اور اس بحرانی صورت حال سے نکلنے کیلئے کوئی قابل عمل متفقہ حکمت عملی اختیار کریں جس سے گھٹن زدہ ماحول ختم کرنے میں مدد مل سکے۔ بار بار ایک ہی رائے دی جارہی ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی غیر مشروط اجازت دی جائے۔ بلوچستان کے بگڑتے حالات اس بات کی فوری ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ سیاسی ڈائیلاگ کا فوری آغاز کیا جائے۔یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت کے ہاتھ مزید مضبوط کرے گا۔آج کا پیغام یہی ہے کہ تحریک آزاد ی پاکستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران بھارتی ہندوؤں،دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والی ماؤں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں کی قربانیوں کو کبھی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں اور شہداءکی بلندی درجات کیلئے ہمیشہ اللہ سے دعا کرتے رہیں۔