آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میں ایک باخبر شخص سے پوچھ رہا تھا۔ ہمارے وزیر اعظم سرکاری مصروفیات کے بعد کا وقت کیسے گزارتے ہیں۔ وہ بھی نوکر شاہی کے اہم ستون ہیں، فرمانے لگے، وزیر اعظم صاحب بہادر تو ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور ان کو فراغت کہاں، میں حیران تھا کہ وزیراعظم کو فراغت نہیں ملتی، مجھے ایک غیرملکی نشریاتی ادارے کا ایک پرانا مقبول پروگرام یاد ا ٓگیا۔’’یس منسٹر‘‘ جس میں کابینہ اور نوکر شاہی کے لوگ وزیر اعظم کو ہر دم مصروف رکھتے تھے مگر ہمارے وزیر اعظم سب کچھ خوب سمجھتے ہیں، خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ میں سوچ رہا تھا وزیر اعظم فارغ وقت میں کیا کرتے ہونگے۔ کتنا وقت خاندان، دوستوں، موسیقی اور کتابوں کو دیتے ہونگے۔ابھی چند دن پہلے سوشل نیٹ ورک پر ایک تصویر میں برطانوی وزیر اعظم کو لندن کی زیر زمین ٹیوب(ریل) میں سفر کرتے دکھایا گیا۔ موصوف اکیلے نظر آرہے تھے اور کسی کتاب میں گم تھے۔ کیا ہمارے وزیراعظم بھی مطالعہ کا شغف رکھتے ہیں ویسے خبر یہ ہے کہ وزیر اعظم ہائوس کے مکین کتابوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ کافی پرانی بات ہے ہماری ایک شناسا عذرا حسینی جو جنرل ضیاء کے زمانہ میں عابدی صاحب کے مشہور زمانہ بنک کی افسر خاص تھیں، پھر عابدی صاحب کو امریکہ کی نظر لگ گئی اور جنرل ضیاء کو بھی امریکہ نے ادھر ادھر کردیا۔ ایک دن خلاف معمول

عذرا حسینی میرے پاس تشریف لائیں اور حکم صادر کیا کہ ان کی دوست تہمینہ درانی نے دو عدد کتابیں لندن میں مقیم شہباز شریف کو روانہ کرنی ہیں۔ میں سوچ رہا تھا شہباز شریف کیا کتاب دوست ہیں۔ خیر سے کتابوں کے معاملہ میں ہماری اشرافیہ بڑی بے فکر ہے ،پھر وہ وقت بھی ا ٓیا پنجاب کے موکھ منتری کی نشست پر شہباز شریف برا جمان ہوئے۔ ان سے ائیر پورٹ پر لون صاحب نے ملاقات کرائی تو ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہنے لگے، آج کل کیا لکھ رہے ہیں ، میں جدہ میں آپ کا کالم پڑھتا تھا، پھر ملاقات کی رسمی دعوت دے کر رخصت ہوئے۔ آج کل وہ شاعری پر نظر کرم کرتے ہیںاور ہماری جنتا کو گرماتے ہیں پھر مجھے خیال آیا، زمانہ حاضر کے پراثر شاعر شعیب بن عزیز جو خادم اعلیٰ کی ٹیم کے ممبر ہیں اور میڈیا کے معاملات کو مناسب فاصلہ سے دیکھتے ہیں۔ شعیب ادب شناس افسر ہیں، کسی وقت باادب ہو کر جب خادم اعلیٰ کا مزاج گرامی نرم گفتار ہو تو کسی کتاب کا ذکر ہی کردیں کچھ دن پہلے ایک کتاب کے سلسلہ میں ان کی مدد مانگی۔ شعیب انکار نہیں کرتے مگر معلوم نہیں کیا ہوا وعدہ تھا، مگر وہ ودعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا پھر یہ سوچ کر چپ رہےکہ؎
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
ہمارے فاضل ا یک دوست کتابوں کے معاملہ میں خاصے باخبر ہیں۔ وہ اپنی تحریر میں کتابوں پر باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر حوالہ نہیں دیتے ،شاید وہ کتاب آشنائی کے قائل نہیں، جنرل کیانی کے مداح تھے ان سے معلوم ہوا کہ جنرل کیانی بھی کتاب پڑھتے ہیں ، جب کبھی کچھ لکھا تو اندازہ ہوگا کہ کتاب بینی کیسی تھی۔ ہمارے مہربان پروفیسر رفیق اختر کے فرمودات اب کئی کتابوں کی شکل میں دستیاب ہیں اور مقبول ہیں۔ ان کی کتب میں دین کی فہم اور فراست بھی ہے اور حکمت بھی۔ ایک دوست بتارہے تھے اس دفعہ ان کا دورہ برطانیہ بہت کامیاب رہا لوگ ان کو سننے کے لئے بے تاب رہے اور ان کی کتابوں کی بڑی مانگ رہی تو اندازہ ہوا اچھی کتاب، خوشبو کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہے۔ اسی اسلوب میں ایک اور صاحب قلم پروفیسر عبداللہ بھٹی کی تحریر کی بڑی شہرت ہے۔ بھٹی صاحب نے کتابوں میں جو حوالہ جات دئیے ہیں وہ بہت ہی معتبر کتابیں ہیں اور اب ناپید ہیں۔ بھٹی صاحب خوش نصیب ہیں کہ ان کی رسائی ان نادر کتابوں تک ہے۔ وہ اپنی دانش اور عقلمندانہ سوچ سے دین کا پرچار کررہے ہیں۔ وہ سلوک کے مسافر نظر آتے ہیں، روحانیت پر ان کا علم پڑھنے والوں کو سکون سے آشنا کرتا ہے۔اب کچھ ذکر زبان فرنگی کی کتابوں کا ہوجائے۔ انگریزی زبان میں ہر موضوع پر بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ مجھ سے چند دن پہلے ایک نوجوان نے ایک کتاب کا تذکرہ کیا ہے۔ کتاب کا نام مجھے متاثر نہ کرسکا، میں نے جب انٹرنیٹ پر معلومات حاصل کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ کتاب میں بڑی جان ہے۔ کتاب کا نام ہےThe Forty Rules of Loveاس کو ترکی کی خاتون لکھاری ایلف شفق نے لکھا ہے۔ یہ کتاب ترکی میں اور دنیا بھر کے نوجوانوں میں خاصی مقبول ہورہی ہے۔ کتاب کا بنیادی تصور’’محبت‘‘ ہے جو صوفی کے دل میں ہوتی ہے۔اس محبت سے سرشار ہر شخص خواہ وہ مرد ہو یا عورت صوفی ہوجاتا ہے، جب وہ محبت کرتا ہے۔ الفت پسند کرتا ہے عقیدت میں کھوجاتا ہے۔ ہمارے اردو ادب میں اس طرح کی کتابیں ناپید ہیں۔ اس کی وجہ ہماری ثقافت اور معاشرتی تضادات ہیں۔’’محبت کے 40 اصول‘‘ پڑھنے والے کو ایسی گرفت میں لیتے ہیں اور ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں، ایسی کتابیں حوصلہ کا باعث بنتی ہیں اور برداشت کا حوصلہ اور ہمت بھی دیتی ہے۔ اس کتاب کا صوفیانہ رنگ قاری کو بھی صوفی بنادیتا ہے۔ صوفی کا مطلب ہے کہ دوسروں کی خدمت ، جو اصل میں عبادت ہے ایک اور کتاب بازبان اردو ہمارے تصوف کے حلقوں میں کافی پڑھی جارہی ہے۔ اس کے مصنف جناب سرفراز شاہ اندرون ملک اور بیرون ملک بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے عقیدت مندوں میں ہر مذہب اور قومیت کے لوگ ہیں۔ سرفراز شاہ کے عقیدت مند طریقت پر یقین رکھتے ہیں ان کی کتاب ’’کہے فقیر‘‘ کافی تعداد میں لوگوں کو مستفید کررہی ہے۔ ان کا فقیر رنگ بھی خوب ہے جس میں دین اور دنیا دونوں شامل ہیں۔ وہ بھی صبر اور حوصلہ کا درس دیتے ہیں اور پڑھنے والا ان کی تحریر سے باعمل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے ہاں خوف اور سختی کا درس نہیں۔ کتابیں کسی بھی قوم کے لئے فلاح کا راستہ بناتی ہیں اور کتابیں پڑھنا اصل میں حکمت اور عبادت ہے۔ اب اس دور میں نہ حکمت ہے اور نہ عبادت، پریشانی اور وسوسے ہمارا مقدر۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں