پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ جہاں جمہوریت، عوامی خدمت اور آئینی بالادستی سے عبارت ہے، وہیں ایک اور اہم سوچ و فکر بھی اِس جماعت کے خمیر میں شامل ہے اور وہ ہے ترقّی پسندی، عوام دوست توانائی پالیسی کا فروغ۔ یہ حقیقت شاید بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے کہ پاکستان میں متبادل توانائی، خاص طور پر شمسی توانائی(Solar Energy) کے استعمال کی سوچ سب سے پہلے شہید محترمہ بے نظیر بھٹّو نے متعارف کروائی تھی۔
1988 ء میں ایک نئے سفر کی ابتدا
محترمہ بے نظیر بھٹّو1988ء میں جب مُلک کی پہلی منتخب خاتون وزیرِ اعظم بنیں، تو اُنہوں نے قومی ترقّی کے جس خاکے کو ترتیب دیا، اُس میں توانائی کا شعبہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔اُس وقت پاکستان کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا تھا۔ نہ صرف شہروں میں لوڈشیڈنگ معمول بن چکی تھی بلکہ دیہی علاقوں میں تو مہینوں بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہو پاتی تھی۔
بے نظیر بھٹّو نے اِسے محض ایک تیکنیکی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی مسئلہ سمجھا۔ اُن کا یہ تاریخی جملہ آج بھی پیپلز پارٹی کی پالیسیز کی رُوح ہے کہ’’جہاں بجلی نہیں، وہاں ترقّی نہیں۔ جہاں اندھیرا ہے، وہاں ظلم ہے۔‘‘بے نظیر بھٹّو کے توانائی ویژن کے چار اہم ستون تھے۔
(1)متبادل توانائی (Renewable Energy): اُس دَور میں جب ترقّی یافتہ ممالک میں بھی سولر اور وِنڈ انرجی نئے رجحانات تھے، بے نظیر بھٹّو نے پاکستان کے صحرائی اور ساحلی علاقوں میں اِن ذرائع پر تحقیق اور سرمایہ کاری کی ہدایت دی۔
(2)بجلی کے نئے پیداواری منصوبے: اُن کے دورِ حکومت میں نئے تھرمل اور ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کے منصوبے شروع کیے گئے۔ خاص طور پر سندھ میں گھوٹکی اور دادو پاور پراجیکٹس اُنہی کے دَور کی نشانیاں ہیں۔
(3)دیہی الیکٹریفیکیشن اسکیم: اُن کے دورِ حکومت میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے دُور دراز دیہی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے خصوصی اسکیمز متعارف کروائی گئیں۔
(4)عوامی آگاہی مہمّات: اُنہوں نے یہ فکر پیدا کی کہ توانائی کا مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، بلکہ ہر شہری کا ہے۔ اِسی لیے بجلی کی بچت اور متبادل ذرائع کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے میڈیا مہمّات شروع کی گئیں۔
سندھ، ویژن کا مرکز: محترمہ بے نظیر بھٹّو کے ویژن کے مطابق سندھ اِس اعتبار سے سب سے منفرد مقام تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ سندھ کے صحرا، ساحل اور ہوا خیز علاقے متبادل توانائی کے لیے مثالی ہیں۔ اُن کی ہدایت پر سندھ انرجی بورڈ کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد مقامی اور غیر مُلکی سرمایہ کاروں کو سندھ میں توانائی کے شعبے کی طرف متوجّہ کرنا تھا۔
تھرکول، ایک خواب کی شروعات: آج جس تھر کول منصوبے کو چیئرمین بلاول بھٹّو زرداری کی کام یابی سمجھا جاتا ہے، اُس کا تصوّر اور فزیبلٹی اسٹڈی محترمہ بے نظیر بھٹّو کے دَور میں ہوئی تھی۔ تھر کے ذخائر دریافت کرنے کے بعد اُنہوں نے عالمی کمپنیز کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور اس ذخیرے کو مُلکی ترقّی میں شامل کریں۔
عالمی سطح پر سندھ کی پہچان: محترمہ بے نظیر بھٹّو کے ویژن کی بدولت، پاکستان نے پہلی بار اقوامِ متحدہ اور عالمی توانائی اداروں کے پلیٹ فارمز پر متبادل توانائی کے موضوع پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ سندھ حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی وفود نے اُس وقت دنیا کے سامنے یہ معاملہ رکھا کہ’’سندھ، پاکستان کا’’انرجی حب‘‘ بن سکتا ہے۔‘‘
چیلنجز اور رکاوٹیں: یہ بھی حقیقت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹّو کو شدید سیاسی مخالفت اور بیورو کریسی کی سُست روی کا سامنا رہا۔ اُنہوں نے خود کئی بار کہا کہ’’ ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف جانے کے لیے صرف بجلی نہیں، حوصلہ اور استقامت بھی چاہیے۔‘‘مگر اُن کی شہادت کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے اُن کے ویژن کے مطابق آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھا۔ خاص طور پر چیئرمین بلاول بھٹّو زرداری نے سندھ حکومت کو واضح ہدایت دی کہ بے نظیر بھٹّو کا ادھورا مشن ہر صُورت مکمل کرنا ہے۔
توانائی کے شعبے میں پیش رفت: محترمہ بے نظیر بھٹّو کا ویژن مُلک میں متبادل توانائی کا فروغ اور عوام کا روشن مستقبل تھا اور یہ مشن اُن کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے مزید عزم اور جدوجہد کے ساتھ جاری رکھا۔ خاص طور پر 2008 ء سے 2013 ء تک صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے توانائی کے بحران کے حل کو قومی ترجیح بنایا۔
توانائی بحران کے خلاف جنگ کا آغاز: 2008 ء میں جب پیپلز پارٹی وفاق میں برسرِ اقتدار آئی، تو پاکستان شدید توانائی بحران کا شکار تھا۔ شہروں میں روزانہ12 سے16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چُکی تھی، جب کہ دیہات میں تو بجلی تقریباً ناپید تھی۔ اِسی پس منظر میں صدر آصف علی زرداری نے واضح طور پر اعلان کیا’’پاکستان کو اندھیروں سے نکالنا ہے، تو ہمیں اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔‘‘
تھر کول منصوبے کی عملی شروعات: تھر میں دریافت ہونے والے کوئلے کے ذخائر سے استفادے کی عملی کوششیں 2008ء سے2013 ء کے دَوران شروع ہوئیں۔اِس ضمن میں٭سندھ حکومت نے’’ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ (SECMC) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔٭بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے قانونی اور مالی سہولتیں دی گئیں۔٭تھر کے بلاک II میں کھدائی اور بجلی گھر بنانے کے کام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔آج تھر کول منصوبہ سندھ اور پاکستان کی توانائی خود مختاری کی علامت بن چُکا ہے، جس کی بنیادیں پیپلز پارٹی کے وفاقی دَور حکومت ہی میں رکھی گئیں۔
وِنڈ انرجی زونز، جھمپیر اور گھارو بیلٹ: پیپلز پارٹی کے دَور میں سندھ کے ہوا خیز علاقوں میں وِنڈ انرجی زونز کے قیام کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ا،س سلسلے میں٭جھمپیر، گھارو اور کورنگی بیلٹ کو’’وِنڈ کوریڈور‘‘ قرار دیا گیا۔٭بین الاقوامی کمپنیز، خصوصاً چین اور تُرکیہ سے، سندھ میں وِنڈ ٹربائنز لگانے آئیں۔٭50 میگاواٹ سے زائد کے ابتدائی منصوبے مکمل کیے گئے، جو آج سیکڑوں میگاواٹ کے منصوبوں تک پہنچ چُکی ہیں۔
عالمی معاہدات اور سرمایہ کاری: حکومت نے متبادل توانائی کے شعبے میں عالمی اداروں سے تعاون بڑھایا، جس کے تحت٭ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور عالمی بینک کے ساتھ توانائی پراجیکٹس کے معاہدے ہوئے۔ ٭چین کے ساتھ تھرکول سمیت دیگر توانائی منصوبوں پر تعاون میں اضافہ ہوا۔٭وفاقی سطح پر متبادل توانائی پالیسی (ARE Policy) کی منظوری دی گئی، جس میں سندھ کا کلیدی کردار تھا۔
پھر 2013 ء کے بعد سندھ حکومت نے انرجی ڈیپارٹمنٹ کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ مارچ 2024 ء میں وزیر اعلیٰ سندھ نے سیّد ناصر حسین شاہ کو وزارتِ توانائی کا قلم دان سونپا اور یہ تقرّری بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق تھی کہ سندھ میں متبادل توانائی اور تھرکول سمیت تمام منصوبے تیزی اور شفّافیت سے مکمل کیے جا سکیں۔
سندھ حکومت نے توانائی کے شعبے کو صوبائی سطح پر زیادہ مؤثر بنانے کے لیے خود انحصاری کی پالیسی اپنائی۔ اِس عرصے میں انرجی ڈیپارٹمنٹ کو مضبوط کیا گیا اور بنیادی منصوبے آگے بڑھائے گئے۔
سیّد ناصر حسین شاہ کی دل چسپی: سندھ حکومت کی جانب سے وزارتِ توانائی کا قلم دان، سیّد ناصر حسین شاہ کو سونپے جانے کے بعد توانائی منصوبوں میں خاصی تیزی دیکھنے میں آئی۔ جیسے کہ٭سولرائزیشن منصوبوں میں غیر معمولی تیزی٭تھرکول فیز-II کا آغاز٭اسکولز، اسپتالوں اور بلدیاتی اداروں میں شمسی توانائی کے منصوبے٭سندھ انرجی ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی اَپ ڈیٹس۔٭ماہانہ پراجیکٹ ریویو میٹنگز کی روایت کا آغاز۔ ٭تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مانیٹرنگ سیل کا قیام۔٭عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ شفّاف معاہدوں کی نگرانی۔
چیلنجز اور عوامی خدمت
پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اُن مشکلات کے باوجود، جن میں وفاقی فنڈز کی تاخیر اور قانونی رکاوٹیں شامل تھیں، سندھ کے عوام کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب بڑھایا۔ جب بلاول بھٹّو زرداری نے 2022 ء میں واضح الفاظ میں کہا کہ’’سندھ کو توانائی میں خود کفیل بنانا صرف نعرہ نہیں، ہماری ذمّے داری ہے‘‘تو یہ الفاظ محض سیاسی بیانات نہیں تھے۔ یہ عزم، سندھ حکومت کی توانائی پالیسیز میں نظر آنے لگا۔
حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی، بلاول بھٹّو زرداری نے سندھ حکومت کو واضح ہدایت دی کہ متبادل توانائی کے منصوبے صرف کاغذات تک محدود نہ رہیں، بلکہ اِن کے اثرات عوام تک براہِ راست پہنچیں۔
سندھ سولر انرجی پروگرام2024ء : میں سندھ حکومت نے اسکولز، اسپتالوں، واٹر پمپنگ اسٹیشنز اور سرکاری دفاتر کی سولرائزیشن کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا۔اس منصوبے کے تحت٭2,000سے زائد اسکولز میں سولر پینل کی تنصیب ہوئی٭500 سے زائد اسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا گیا۔٭بلدیاتی اداروں کے دفاتر میں بجلی کا بوجھ کم ہوا۔
تھر کول فیز ٹو: بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی دل چسپی سے تھر کول بلاک- II میں مزید بجلی گھروں کا قیام عمل میں آیا۔ جس کے نتیجے میں٭1320میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی۔٭مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
وِنڈ انرجی کے نئے معاہدے: سندھ حکومت نے گھارو اور جھمپیر وِنڈ کوریڈورز میں300 میگاواٹ کے نئے منصوبے شروع کیے۔
بجلی کے نرخوں میں ریلیف: بلاول بھٹو زرداری کی پالیسی کا ایک بنیادی پہلو یہ تھا کہ متبادل توانائی کا فائدہ صرف حکومت تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری تک بھی اس کے فوائد پہنچیں، تو اِس ضمن میں سولرائزڈ اسکولز اور اسپتالوں میں بجلی کے بلز میں 30 سے40 فی صد تک کمی کی گئی۔
بین الاقوامی سطح پر پذیرائی: عالمی بینک اور اے ڈی بی نے سندھ سولر انرجی پروگرام کو خطّے کے بہترین ماڈلز میں شامل کیا۔
جب محترمہ بے نظیر بھٹّو نے متبادل توانائی کے خواب کی بنیاد رکھی تھی، تو شاید بہت سے لوگوں کو یہ تصوّر محض خیال آرائی لگا ہو، مگر آج سندھ حکومت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں یہ خواب حقیقت بن چُکا ہے۔
سندھ حکومت کی 2025 ء تک کی نمایاں کام یابیاں
سندھ سولر انرجی پروگرام کے اعداد و شمار:٭2,300اسکولز سولر انرجی پر منتقل٭600 سرکاری اسپتالوں کو شمسی توانائی پر چلایا جا رہا ہے٭70 بلدیاتی دفاتر کی سولرائزیشن مکمل۔
تھر کول فیز II کے اثرات:٭1,320میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ٭15,000مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی٭30فی صد مقامی آبادی کے لیے انفراسٹرکچر اَپ گریڈ۔
ونڈ انرجی زونز:٭400میگاواٹ نئے ونڈ انرجی منصوبے٭10,000 گھرانے براہِ راست مستفید۔
عالمی سطح پر اعزازات:٭سندھ حکومت کو عالمی بینک کی جانب سے’’Best Sub-National Energy Policy Award 2025‘‘ سے نوازا گیا٭ایشیائی ترقیاتی بینک کی سالانہ رپورٹ میں سندھ کو رول ماڈل قرار دیا گیا۔
مستقبل کا روڈ میپ
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ توانائی، سیّد ناصر حسین شاہ نے اگلے تین سال کے لیے مختلف اہداف مقرّر کیے ہیں۔ سولر ہاؤسنگ اسکیمز:کم آمدنی والے طبقے کو سبسڈی پر سولر پینلز کی فراہمی۔ گرین انڈسٹریل زونز: کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں متبادل توانائی سے چلنے والے صنعتی زونز کا قیام۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فروغ: مزید سرمایہ کاروں کو سندھ میں متبادل توانائی کے شعبے کی طرف متوجّہ کرنا۔کمیونٹی انرجی پروگرام:دیہی علاقوں میں سولر واٹر پمپس، کمیونٹی اسکولز اور میڈیکل سینٹرز کے لیے خصوصی پروگرام۔
واضح رہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹّو زرداری نے ایک حالیہ اجلاس میں کہا’’ہم نے جو سفر بے نظیر بھٹّو شہید کے ویژن سے شروع کیا تھا، وہ اب پوری قوم کے لیے روشنی کا باعث بن رہا ہے‘‘اور بلاشبہ، توانائی کا یہ انقلاب نہ صرف سندھ، پورے مُلک کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ (مضمون نگار، حکومتِ سندھ کی ترجمان ہیں)