• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کھنڈر نما یونی ورسٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا

وائس چانسلر، بے نظیر بھٹّو شہید یونی ورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر سیّد حسین مہدی سے بات چیت
 وائس چانسلر، بے نظیر بھٹّو شہید یونی ورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر سیّد حسین مہدی سے بات چیت

بات چیت: منور راجپوت

پروفیسر ڈاکٹر سیّد حسین مہدی چند ماہ قبل ایک ایسے موقعے پر بے نظیر بھٹّو شہید یونی ورسٹی، لیاری، کراچی سے بطور وائس چانسلر وابستہ ہوئے، جب یہ ادارہ تقریباً آخری دَموں پر تھا، مگر دن رات کی محنتِ شاقّہ اور بہترین ٹیم ورک کے ساتھ اُنہوں نے اِس تنِ مُردہ میں گویا ایک نئی رُوح پھونک دی۔ 

یہ سب ہم نے سُن رکھا تھا، لیکن خُود دیکھنے کی بھی خواہش تھی۔ سو، گزشتہ دنوں’’بی بی ایس یو ایل‘‘ کے دورے کا قصد کیا، جس کے دَوران ڈاکٹر سیّد حسین مہدی سے تفصیلی بات چیت ہوئی، جو جنگ، ’’سنڈے میگزین‘‘کےقارئین کی نذر ہے۔

س: سب سے پہلے تو اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟

ج: مَیں بنیادی طور پر میڈیکل ڈاکٹر اور ایک سرجن ہوں۔ گزشتہ 18 برسوں سے مختلف انتظامی عُہدوں پر خدمات سرانجام دیتا چلا آر ہا ہوں۔ دس برس جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا پرنسپل رہا۔ دو سال وہیں ڈین، فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز رہا ہوں۔

بعدازاں، ایک معروف نجی یونی ورسٹی کا وائس چانسلر رہا، جو ایک جنرل یونی ورسٹی ہے، یعنی وہاں میڈیکل کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور دیگر شعبے جیسے بزنس ایڈمنسٹریشن وغیرہ بھی ہیں۔

میرا شروع سے فوکس ریسرچ پر رہا ہے۔ مُلکی اور غیر مُلکی جرائد میں میرے کئی تحقیقی مقالے شایع ہوچُکے ہیں۔ سات، آٹھ ماہ قبل بے نظیر بھٹّو شہید یونی ورسٹی، لیاری بطور وائس چانسلر جوائن کی۔

س: کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کے اہداف کیا ہیں؟

ج: یہ یونی ورسٹی 15سال پرانی ہے، مگر کئی وجوہ کی بنا پر وہ کارکردگی نہیں دِکھا سکی، جس کی توقّع اور اُمید کی جا رہی تھی۔ فیکلٹیز نہ ہونے کے برابر ہیں، تو انفرا اسٹرکچر کی حالت بھی بہت بُری تھی۔ جب یہاں آیا تو یہ دیکھ کر دل تھام لیا کہ یہ تو کوئی اجڑا اجڑا سا مقام لگتا ہے۔

چھتیں گری ہوئی تھیں، ہر طرف کچرا، ملبے کے ڈھیر تھے، دیواروں سے پلستر تک اکھڑ چُکا تھا، کلاسز اور راہ داریاں دن کے اوقات میں بھی اندھیرے میں ڈوبی رہتی تھیں کہ پنکھے تھے اور نہ ہی روشنی کا مناسب انتظام۔ 

یہاں تک کہ طلبا و طالبات کو پینے کا پانی تک میسّر نہیں تھا۔کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے، دروازے جُھول رہے تھے۔ کلاسز میں کرسیاں تک نہیں تھیں اور اسٹوڈنٹس زمین پر بیٹھنے پر مجبور تھے۔ 

کینٹین کے نام پر ایک اسٹال سا تھا، جہاں بیٹھنے اور سائے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اِسی طرح کلاسز کا کوئی شیڈول نہیں تھا، کسی کے آنے کا پتا نہ جانے کا علم۔ ڈیجیٹلائزیشن کا تصوّر ہی ناپید تھا۔

آئی ٹی لیب میں محض دس کمپیوٹرز تھے اور وہ بھی ناکارہ۔ واش رومز ناپید اور جو تھے، ناقابلِ استعمال تھے۔ وسائل کا بڑا مسئلہ تھا۔ یونی ورسٹی تقریباً ساٹھ ملین روپے کے خسارے میں تھی اور اب بھی ہے، لیکن ہم معاملات بہترکر رہے ہیں۔تن خواہیں نہیں مل رہی تھیں یا تاخیر کا شکار تھیں۔

میرے لیے یہ سب کچھ ایک بڑا چیلنج تھا۔چوں کہ مَیں نجی شعبے میں کام کرتا ہوا آیا تھا، اِس لیے مجھے تیزی سے کام کی عادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مدد کی، فیکلٹی، فنانس حکّام، رجسٹرار، اسٹوڈنٹس ویلفئیر افسر اور دیگر اسٹاف نے بھرپور تعاون کیا اور طلبا و طالبات نے بھی ساتھ دیا، یوں ایک اچھی ٹیم بن گئی۔

آج آپ دیکھ لیں کہ یونی ورسٹی کا حلیہ بہت حد تک بدل چُکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تبدیلیاں، بہتریاں نظرآئیں گی۔میرا پہلے دن سے یہ ٹاسک رہا کہ کچھ ایسا کام کروں کہ طلبا و طالبات کو یہ یونی ورسٹی لگے اور اللہ کا شُکر ہے کہ اِس مشن میں کام یاب رہا، باقی آپ خُود اکیلے جا کر طلبہ سے پوچھ سکتے ہیں اور وہ جو بتائیں، چھاپ دیں۔ مَیں نے انفرا اسٹرکچر پر حتی الامکان کام کیا ہے۔

نمایندۂ جنگ وائس چانسلر، فیکلٹی اور انتظامی ارکان کے ساتھ  (عکّاسی: زاہد رحمان)
نمایندۂ جنگ وائس چانسلر، فیکلٹی اور انتظامی ارکان کے ساتھ  (عکّاسی: زاہد رحمان)

س: کیا گرانٹ نہیں ملتی تھی؟

ج: اِس یونی ورسٹی کو ملنے والی گرانٹ پہلے بھی کم تھی اور اب بھی کم مل رہی ہے۔ ہم نے ایچ ای سی کو اِس حوالے سے ایک خط بھی لکھا ہے کہ گرانٹ بڑھائی جائے، کیوں کہ ایک تو منہگائی میں اضافہ ہوا ہے، پھر تن خواہوں میں بھی ردّو بدل ہو رہا ہے۔

پھر ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ سہولتوں کے فقدان کے سبب طلبا و طالبات بھی کوئی خاص دل چسپی نہیں لے رہے تھے، یہاں تک کہ اُن کی جانب سے فیسز بھی نہیں مل رہی تھیں۔ اب جب اُنھوں نے کام ہوتے دیکھے، تو اُن کی جانب سے بھی تعاون کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اُمید ہے، سندھ حکومت کی جانب سے جلد گرانٹ مل جائے گی، جس سے صورتِ حال میں مزید بہتری آئے گی۔

طلباء اور طالبات غیر تدریسی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصّہ لیتے ہیں
طلباء اور طالبات غیر تدریسی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصّہ لیتے ہیں

س: یہاں کتنے شعبے ہیں اور طلبا و طالبات کی تعداد کیا ہے اور کیا وہ صرف لیاری سے تعلق رکھتے ہیں؟

ج: یہاں طلبا و طالبات کی تعدا چار ہزار کے لگ بھگ ہے، جن میں سے تقریباً چالیس فی صد کا تعلق لیاری سے ہے، جب کہ باقی پورے شہر سے آتے ہیں۔ جیسے گڈاپ، ملیر، گلشنِ حدید، بلدیہ ٹاؤن، کیماڑی، ہاکس بے وغیرہ۔ 

فی الحال گیارہ ڈیپارٹمنٹس کام کر رہے ہیں۔ دو ابھی شامل کیے ہیں، جب کہ ایک شعبہ جلد فعال ہوجائے گا، یوں اگلے دنوں میں تیرہ شعبے ہو جائیں گے۔تقریباً ساٹھ ملین روپے کے خسارے کا سامنا ہے، وہ کلیئر ہوگا، تب ہی آگے بڑھ سکیں گے۔

یہاں تدریسی عملے کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔جب مَیں نے عُہدہ سنبھالا، تو یہاں صرف اسسٹنٹ پروفیسرز تھے، یعنی یونی ورسٹی کا حال دیکھیں، ایسوسی ایٹ ایک تھا، جب کہ پروفیسر اور ڈین کوئی نہیں تھا۔ اِسے ہمارا ریکارڈ کہہ سکتے ہیں کہ محض چھے ماہ ہی میں تدریسی عملے کی کمی دُور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور جو لوگ یونی ورسٹی میں فیکلٹی کی بھرتی کے معاملات سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کس قدر مشکل کام ہے کہ اِس کے لیے مختلف اداروں سے اجازت کے طویل مراحل طے کرنے پڑتے ہیں، لیکن مَیں یونی ورسٹی بورڈ اور ایچ ای سی سندھ کا شُکر گزار ہوں کہ اُن کی اجازت سے ہم نے سلیکشن بورڈ کیا اور یہ کام اِس یونی ورسٹی میں دس سال بعد ہوا۔

مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ عدالت چلے گئے اور یوں یہ معاملہ وقتی طور پر رُک گیا۔ چوں کہ مَیں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے تھے، اِس لیے ہم عدالت میں بھرپور سامنا کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے، اِس لیے اِس پر زیادہ بات مناسب نہیں، تاہم اُمید ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہوجائے گا اور ہم اساتذہ کی کمی پوری کرکے تدریسی نظام بہتر کر پائیں گے۔ یہاں پرو وائس چانسلر بھی نہیں ہے۔

اِس لیے چپراسی کے کام سے لے کر کینٹین تک کے معاملات مجھے ہی دیکھنے پڑتے ہیں۔ مجھے کام کی پروا نہیں ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ جو وقت انتظامی، تحقیقی اور تدریسی معاملات کی بہتری کے لیے خرچ ہونا چاہیے، وہ دوسرے کاموں میں صَرف ہو جاتا ہے۔

س: کیا آپ کے ہاں بھی فیسز میں اضافہ کیا گیا ہے اور کیا طلبہ کو اسکالرشپس کی سہولت حاصل ہے؟

ج: ہم نے فیسز میں بہت معمولی سی تبدیلیاں کی ہیں، کیوں کہ ہمارے ہاں طلباء و طالبات زیادہ مالی بوجھ برداشت نہیں کرسکتے اور یہ بھی یاد رہے کہ اب بھی تمام سرکاری یونی ورسٹیز میں سب سے کم فیس ہم ہی لے رہے ہیں۔ 

طلبہ کو اسکالرشپس کی سہولت بھی حاصل ہے، اِس ضمن میں یونی ورسٹی سے باہر کے کچھ افراد بھی تعاون کرتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ جس کے پاس پیسے نہیں ہیں، وہ پڑھ نہیں سکتا، اگر ایسا کوئی بچّہ ہے، تو وہ تعلیم ادھوری چھوڑنے کی بجائے ہم سے رابطہ کرے۔

س: حکومت اور متعلقہ اداروں کا کتنا تعاون حاصل ہے؟

ج: سیکریٹری یونی ورسٹی بورڈ بہت تعاون کر رہے ہیں، جب کہ ایچ ای سی کے چیئرمین، ڈاکٹر طارق رفیع کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے۔ دیکھیں، مَیں اکیلا تو کچھ نہیں کرسکتا۔ اِن افراد کو بھی لگ رہا ہے کہ ہم بہتر کام کر رہے ہیں، تو وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ یونی ورسٹی پندرہ سال بعد ایک اسٹرکچرل یونی ورسٹی بن جائے گی۔وسائل کی کمی ہے، یونی ورسٹی بہت زیادہ خسارے میں ہے، جسے ختم کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں، تو اِس سلسلے میں بھی ہم حکومت اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں اور وہ بہت توجّہ سے ہماری بات سُن رہے ہیں۔ اُمید ہے، یہ مسئلہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔

کتب خانے میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں فراہم کی گئی ہیں
کتب خانے میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں فراہم کی گئی ہیں

س: یونی ورسٹی میں باہر کے لوگوں کی مداخلت کا تاثر بہت عام ہے؟

ج: ماضی کا تو کچھ علم نہیں، لیکن اب کسی قسم کی کوئی منفی مداخلت نہیں ہو رہی۔ اگر آپ کا اشارہ سیاسی لوگوں کی طرف ہے، تو علاقے کے منتخب ارکانِ اسمبلی تو یونی ورسٹی کی سینڈیکیٹ کے رُکن ہوتے ہیں۔

ایم پی اے یوسف بلوچ اور نادر گبول ہماری بہت مدد کر رہے ہیں اور یہ اُن کا تعاون ہی ہے، جس کی وجہ سے ہم کئی بڑے کام کر پائے ہیں۔ یہ سب پازیٹیو لوگ ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ وہ اِسی طرح اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ یہ ایک مثالی ادارہ بن سکے۔

س: یہ جامعہ لڑکیوں کے لیے کتنی محفوظ ہے؟

ج: مَیں اپنی بچّی کو یہاں ساتھ لے کر آتا ہوں، اِس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کس قدر محفوظ ہے۔ یہاں 2023ء میں ہراسانی کا ایک کیس ہوا تھا، جس میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہم شخص ملوّث تھا، مگر اُس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا، صرف کمیٹیز پر کمیٹیز بنتی رہیں۔ 

میرے آنے کے بعد پہلے ہی سینڈیکیٹ میں یہ معاملہ زیرِ غور آیا اور سب نے فوری کارروائی پر اتفاق کیا۔ پھر تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد اُس شخص کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

س: کرپشن کا بھی بہت چرچا رہا ہے؟

ج: دیکھیں، پہلے یہاں کوئی ڈائریکٹر فنانس نہیں تھا، لیکن اب یہ عُہدہ بھی پُر کیا گیا ہے، جس کے لیے ایچ ای سی نے انٹرویوز کیے اور پھر وزیرِ اعلیٰ سندھ کے ذریعے صوبے کی دیگر یونی ورسٹیز کی طرح یہاں بھی اِس عُہدے پر تعیّناتی ہوئی۔ 

پہلے معاملات گڑ بڑ تھے، مگر اب ایسا نہیں ہوگا، کیوں کہ اب باقاعدہ ایک نظام بن گیا ہے۔ اب کرپشن کی ایک ہی صُورت ہے کہ مِل جُل کر جعلی بلز بنائے جائیں اور الحمدللہ، مجھے ایسے کسی کام کی کوئی ضرورت نہیں۔ 

اللہ نے مجھے بہت عزّت دی ہے، اُس پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا۔ اگر کسی اہم نجی یونی ورسٹی نے مجھے وائس چانسلر بنائے رکھا، تو کچھ تو مجھ میں ایسا ہوگا ناں۔ مَیں نے انٹرویو میں بھی کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ ایک چیلینجنگ جاب ہے، مشکلات ہوں گی، لیکن اپنے ٹاسک ضرور پورے کروں گا۔

کوئی پرائیویٹ یونی ورسٹی چھوڑ کر نہیں آتا، لیکن میرا شوق تھا کہ کسی سرکاری یونی ورسٹی میں خدمت کا موقع ملے اور ڈیلیور کر کے دِکھاؤں، کیوں کہ مَیں نے سرکاری پیسے سے تعلیم حاصل کی تھی۔

طلبا و طالبات کی بڑی تعداد کینٹین میں موجود ہے
طلبا و طالبات کی بڑی تعداد کینٹین میں موجود ہے

س: آتے ہوئے دیکھا کہ طلبہ بُری طرح پوائنٹس میں بَھرے ہوئے تھے؟

ج: ہمارے پاس پوائنٹس کی تعداد بہت محدود ہے اور پھر اُنھیں چلانے کے لیے ڈیزل بھی چاہیے، تو اِس ضمن میں ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے، ہمیں کم ازکم دو پوائنٹس تو ضرور دیئے جائیں تاکہ بچّوں کو سہولت ہو۔ موجودہ پوائنٹس کی بھی حالت دگرگوں تھی۔

ٹائر خراب تھے، سیٹیں پھٹی ہوئی تھیں اور انجن جواب دے رہے تھے۔مَیں نے یونی ورسٹی کے اندر ہی سروس اسٹیشن بنوا دیا ہے کہ گاڑیوں کو یہیں مینٹین کریں۔

س: کیا کوئی کیمپس بھی ہے، سُنا ہے ہاکس بے میں یونی ورسٹی کو خاصی بڑی اراضی الاٹ کی گئی ہے؟

ج: لیاری ہی میں ایک آئی ٹی کیمپس ہے، جسے مظہر علی ابڑو دیکھتے ہیں۔ وہاں بھی کافی کام ہو رہا ہے۔ جی بالکل، ہاکس بےمیں زمین تو ہے، مگر وہاں کام کے لیے پیسے بھی چاہئیں۔

یہاں ہمارے منصوبوں کے لحاظ سے جگہ کم ہے۔ مَیں نے اپنا وی سی روم، کلاس روم میں تبدیل کردیا اور خود اِس کمرے میں آکر بیٹھ گیا، کیوں کہ ہمارا کام طلبہ کو سہولت دینا ہے۔

س: لیاری یونی ورسٹی کا شہر میں کہیں کوئی خاص ذکر نہیں ہوتا، زیادہ تر افراد تو اِس کے نام تک سے واقف نہیں؟

ج: مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ ان شاء اللہ، یہ یونی ورسٹی آپ کو ہر اُس جگہ نظر آئے گی، جہاں دیگر جامعات موجود ہوں گی۔ ہم میڈیا، ماہرینِ تعلیم اور سماجی ورکز کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور مجھ سے انٹرویوز نہ کریں، صرف طلبا و طالبات سے پوچھیں، وہ بتائیں گے کہ یونی ورسٹی پہلے کہاں تھی اور اب کہاں ہے۔

مَیں نے عہُدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اسٹریٹیجک پلان بنایا تاکہ سب کو پتا تو ہو کہ اگلے پانچ برسوں میں کرنا کیا ہے۔ نیز، یونی ورسٹی کو مارکیٹ یا انڈسٹری سے منسلک کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کر رہے ہیں، اِس سلسے میں اکیڈمک کاؤنسل سے اجازت لی جا چُکی ہے اور جلد اِس سمت میں بھی کام نظر آئے گا۔ یہاں ایچ ای سی کی ریکوائرمینٹس تک پوری نہیں ہو پا رہی تھیں، اب دو ماہ کے اندر اندر ایچ ایس سی کے تمام اہداف حاصل کر لیے گئے یا ہونے والے ہیں۔

انڈسٹریز سے ایم او یوز سائن کیے، نصاب میں انڈسٹری کے تقاضے بھی مدّ ِنظر رکھے جا رہے ہیں۔ جدید لیب بنانے کے لیے انڈسٹری کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن کا تو یہاں نام ہی نہیں تھا۔ طلبہ کا کوئی پورٹل تھا اور نہ کوئی ڈیجیٹل ریکارڈ۔ اب پورا نظام ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے۔ تمام ضروری فارمز طلبہ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

عملے کی آمد و رفت کا نظام بھی بائیو میٹرک ہوگیا ہے تاکہ شفّافیت آسکے۔بگڑی ہوئی چیزوں کو درست کرنے میں وقت تو لگتا ہے۔ صبح خود کلاسز کا چکر لگاتا ہوں، ایک ایک شعبے کو جاکر دیکھتا ہوں اور جہاں کوئی کمی، کوتاہی ہوتی ہے، فوری نوٹس لیتا ہوں۔

طالبات کے لیے نیا ڈیزائن کردہ ریسٹ روم
طالبات کے لیے نیا ڈیزائن کردہ ریسٹ روم

اب بھی کافی کام باقی ہیں…!!

ہمارا پہلی بار دو برس قبل بے نظیر بھٹو شہید یونی ورسٹی جانا ہوا تھا اور سچ پوچھیے، تو یہ دیکھ کر دِل بہت دُکھی ہوا کہ پاکستان کی ایک نام وَر رہنما کے نام پر قائم جامعہ، کسی بُھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھی۔ داخلی دروازے پر کوئی سیکیوریٹی تھی اور نہ ہی اندر کوئی نظم و ضبط۔ ایک راہ داری سے گزرتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ طلبہ آپس میں گتھم گتھا تھے۔

پتا چلا، کلاس سے کرسیاں اُٹھانے پر لڑائی ہوئی ہے، کیوں کہ کرسیوں کی کمی کی وجہ سے طلبہ مختلف کمروں میں کرسیاں ڈھونڈتے پِھرتے ہیں۔ ہم جن صاحب سے ملنے گئے تھے، وہ چائے پلانے کینٹین لے گئے، تو عین دوپہر کے وقت وہاں کوئی سایہ نہیں تھا۔ ایک دیوار کی اوٹ میں بیٹھ کر جلدی جلدی چائے حلق میں انڈیلی۔ 

طلبہ کو گروپس کی شکل میں مختلف مقامات پر بیٹھے دیکھا، تو پتا چلا، کلاسز نہیں ہوتیں۔ مگر چند روز قبل وہاں جانا ہوا، تو منظر ہی الگ تھا۔ یونی ورسٹی کے داخلی دروازے پر چاق چوبند سیکیوریٹی اہل کار موجود تھے اور سب کو خصوصی سیکیوریٹی دروازوں سے گزارا جا رہا تھا۔ آنے جانے والے مہمانوں کا باقاعدہ اندراج ہورہا تھا ہر امر میں ایک خاص نظم و ضبط نظر آیا۔

نئی عمارات تعمیر ہو رہی تھیں، تو پرانی بھی رنگ و روغن سے چمک رہی تھیں۔ راہ داریاں بہت خُوب صُورت، صاف ستھری ہو گئی تھیں۔ طلبا و طالبات کو فراہم کردہ جن جن سہولتوں کا تذکرہ سُنا تھا، اُنھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کیمرے کی آنکھ نے محفوظ بھی کیا۔

یہ اپنے اسٹرکچر کے لحاظ سے ایک’’چھوٹی یونی ورسٹی‘‘ ہے، مگر تیزی سے’’بڑی یونی ورسٹی‘‘ بننے کی جانب سفر جاری ہے۔ طلبا و طالبات نے تعریف بھی کی، مگر کچھ شکوے بھی سامنے آئے، جن کا تذکرہ ضروری ہے۔ 

ایک اہم شکایت یہ کی گئی کہ یونی ورسٹی کے جو مستقل اساتذہ ہیں، وہ باقاعدگی سے کلاسز نہیں لیتے اور اگر لیتے بھی ہیں، تو نہایت بے دلی سے۔ کئی طالبات نے درخواست کی کہ وی سی صاحب تک یہ پیغام ضرور پہنچایا جائے کہ فیسز میں حالیہ اضافہ واپس لیں، کیوں کہ یہاں عام طور پر متوسّط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن کے لیے فیسز میں معمولی اضافہ، خاصا اضافہ ہے۔

اِسی طرح طلبہ، لیب کے ضمن میں بھی فوری توجّہ کے خواہش مند طلب گار ہیں، کیوں کہ اُنھیں تعلیمی ضروریات کے لیے باربار وہاں جانا پڑتا ہے۔ کچھ طالبات نے کینٹین کے ریٹس کی جانب بھی اشارہ کیا کہ وہاں سے مارکیٹ ریٹ ہی کے مطابق اشیاء ملتی ہیں، حالاں کہ طلبہ کو تو ریلیف ملنا چاہیے۔

’’شُکر ہے، کسی کو تو ہمارا خیال آیا‘‘ طلبا و طالبات

وائس چانسلر کے آفس سے باہر نکلے، تو طلباء وطالبات کو اِدھر اُدھر آتے جاتے دیکھا۔ اِس موقعے پر اُن میں سے بعض سے مختصر سی بات چیت بھی ہوئی۔ فضا اکبر، بی ایس ایجوکیشن کی طالبہ ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ’’کینٹین میں بہت تبدیلیاں آئی ہیں، پہلے تو بیٹھنے تک کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔

ایک درخت تھا، سب اُسی کے نیچے جگہ ڈھونڈتے پِھرتے تھے۔‘‘ برابر میں کھڑی مشا ملک نے گرہ لگائی کہ’’ابھی تک جو کام ہوا ہے یا ہو رہا ہے، وہ تو بہت زبردست ہے، مگر کئی بار کلاسز نہیں ہوتیں، تو کئی طلبہ اِدھر اُدھر گھوم رہے ہوتے ہیں اور اُن کی سرگرمیاں دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہیں، اس کی بھی روک تھام ہونی چاہیے۔‘‘

شعبۂ انگریزی کی ملائکہ حنیف سے کینٹین کے باہر بات چیت ہوئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’پہلے طلبہ کا جہاں دل کرتا، کچرا پھینک دیتے، مگر اب کافی سختی ہے، جس سے صفائی ستھرائی کا نظام بہتر ہوگیا ہے اور ایک اچھی بات یہ ہے کہ اب پینے کے صاف پانی کے کولر بھی جگہ جگہ نصب ہیں وگرنہ پہلے تو گھر سے پانی لانا پڑتا تھا۔‘‘وہیں بی ایس، ایجوکیشن کی رخسار ظفراللہ بھی موجود تھیں، جنہوں نے صفائی ستھرائی اور ڈسپلن کی تعریف کرتے ہوئے آئی ٹی لیب میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ 

اُن کا کہنا تھا کہ’’ ہمیں اپنی تعلیمی ضروریات کے لیے آئی ٹی لیب سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں نئی ٹیکنالوجی اور نئے سافٹ ویئرز کے بارے میں بتایا جائے۔‘‘

سیّد احسان اور عثمان کلاس میٹس ہیں۔ اُنھوں نے ایک سوال پر کہا’’ہمیں لگتا ہے کہ چار برسوں میں اب کسی نے یونی ورسٹی کے لیے کام کیا ہے۔ پہلے تو ایسا لگتا تھا، جسے کسی کھنڈر میں آگئے ہوں۔ 

وی سی صاحب، طلباء و طالبات سے پہلے یونی ورسٹی پہنچے ہوتے ہیں اور دن بھر شعبہ جات کا وزٹ کرتے نظر آتے ہیں۔‘‘اِسی طرح شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے دو طلبہ، محمّد فیضان اور احمد رضا سے ہماری بات چیت ہوئی، تو وہ بھی چند مہینوں کے دوران رُونما ہونے والی تبدیلیوں سے خوش نظر آئے۔ 

دیگر طلبہ کی طرح اُنھوں نے بھی کینٹین نظام کی تعریف کی۔اُن کا کہنا تھا کہ’’ نئے وائس چانسلر کے آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کوئی تو ہے، جسے طلباء و طالبات کی مشکلات کا احساس ہے اور مسائل حل کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ طلبہ بہت آسانی سے اُن سے مل سکتے ہیں اور وہ اُن کی بات پوری توجّہ سے سُنتے بھی ہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید